آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تاحیات نا اہلی کیس کی سماعت ’جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟‘

ارکان پارلیمنٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے سماعت کی، دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کرتے ہوئے احتساب عدالت کی سزا کو کالعدم قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    پاکستان سے تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  2. ڈیزل کی قیمت میں سات روپے فی لیٹر کمی، پیٹرول کی پرانی قیمت برقرار

  3. بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق سماعت: ’کسی ایجنسی کو استثنٰی نہیں کہ وہ لوگوں کو اٹھائے اور پھر تھانہ آبپارہ کے حوالے کر دے‘

  4. نواز شریف کے ایون فیلڈ کیس میں بری ہونے پر سوشل میڈیا ردِ عمل کیا رہا؟

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بدھ 29 نومبر کی شب ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو بری کر دیا۔

    تاہم ابھی ایک اور مقدمہ ایسا ہے کہ جس میں نواز شریف تاحال بری نہیں ہو سکے اور وہ ہے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس۔

    بدھ کے روز جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ میں شامل جسٹس عامر فاروق نے سابق وزیر اعظم کو اس ریفرنس سے بری کرنے کا فیصلہ سُنایا تو اس پر سوشل میڈیا پر بھی ردِ عمل دیکھنے اور پڑھنے کو ملا۔

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور مُلک کے سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر لکھا ’الحمد اللہ آج حق و سچائی اور صبر و استقامت کی ایک بار پھر جیت ہوئی اور نواز شریف کے خلاف جھوٹ، جبر اور زیادتی کا ایک اور کیس اپنے انجام کو پہنچا۔

    ’ایون فیلڈ کیس میں بھی عوام کے ہر دل عزیز قائد قانون کی نظروں میں سرخرو ہوئے۔ اگرچہ بہت تاخیر ہوئی مگر آج ایک بار پھر نواز شریف کے بے گناہ ہونے کی تصدیق ہو گئی۔ میں اس بریت پر اپنے قائد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ انصاف اور عوام کی فتح ہے۔‘

    میاں نواز شریف کے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں بری ہونے کی خبر آنے کے بعد سابق وزیر قانون بابر اعوان نے ایک پر اپنے ایک بیان میں لکھا ’ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی نواز شریف کو این آر او نے سرخرو کیا۔ مقدمہ واپس لینے کی بنا پر کُھلی کرپشن کے ثبوتوں پر بحث نہیں ہوئی۔ نواز شریف سپریم کورٹ کے 5 رُکنی بنچ کے فیصلے کی روشنی میں تاحیات نااہل، اور یہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ برقرار ہے۔‘

    ن لیگی رہنماؤں کی جانب سے میاں نواز شریف کے بری ہونے پر مبارک بادوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی نے ایکس پر لکھا ’سازش کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹنے لگی ہے۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کالعدم ہونا میاں نوازشریف کی بے گناہی ثابت ہونے کے سفر کا ایک اور سنگ میل۔‘

    ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں بری ہونے پر بات کرتے ہوئے صحافی اقرار الحسن نے ایکس پر لکھا ’آپ نواز شریف صاحب کو نا اہل کرنے والے عدالتی نظام پر اعتماد کرتے ہیں یا انھیں باعزت بری کرنے والے عدالتی نظام پر؟ آپ کے خیال میں عدلیہ اُس وقت آزاد تھی یا عدلیہ آج آزاد ہے؟ یا عدلیہ اُس وقت آزاد تھی جب آپ کی مرضی کا فیصلہ ہوا یا اور اب غلام ہے جب فیصلہ آپ کی منشاء کے خلاف ہے؟‘

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بدھ 29 نومبر کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں بری کرتے ہوئے احتساب عدالت کی سزا کو کالعدم قرار دیا۔

  5. الیکشن سے قبل عمران خان کو تحریک انصاف کا نیا سربراہ نامزد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

  6. سعودی عرب نے پاکستان کے پاس تین ارب ڈالر ڈیپازٹ کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی, تنویر ملک، صحافی

    سعودی عرب نے پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سعودی فنڈ برائے ڈویلپمنٹ (ایس ایف ڈی) نے سعودی عرب کی جانب سے 05 دسمبر 2023 کو مدت مکمل کرنے والے 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کردی ہے۔ یہ رقم سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) میں جمع ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق، ڈیپازٹ کی مدت میں توسیع مملکتِ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی معاونت کا تسلسل ہے جس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے اور ملک کی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔

    واضح رہے کہ 3 ارب ڈالر کے اِس ڈیپازٹ معاہدے پر ابتدائی طور پر سال 2021 میں ایس ایف ڈی کے ذریعے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ دستخط کیے گئے تھے اور پھر 2022 میں اس کو رول اوور کر کے اس کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی گئی تھی جس کے بعد اور اب دوبارہ اس کی مدت میں توسیع کر دی گئی ہے۔

  7. مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے لیے آئینی ترمیم لانے پر اتفاق

    پاکستان مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مقامی حکومتوں کو مضبوط اور موثر بنانے کے لیے آئینی ترمیم لانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال اور ایم کیو ایم پاکستان کی رہنما فاروق ستار نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی۔

    احسن اقبال نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام کے مسائل کے حل کے لیے لوکل گورنمنٹ سے موثر کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مقامی حکومتوں کو اختیارات سے متعلق آئینی ترمیم منظور کرائیں گے۔‘

    مُلک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات سے متعلق بات کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’انتخابات میں ایم کیو ایم اور ن لیگ ایک دوسرے سے تعاون کرے گی، مسائل کے حل کے لیے ایم کو ایم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔‘

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ’مقامی حکومتوں کو صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔‘

    ن لیگی رہنما احسن اقبال کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’آئینی ترمیم کا مسودہ ن لیگ کے ساتھیوں کو پیش کر دیا ہے، اس کے علاوہ ہماری کچھ تجاویز تھیں کے کیسے مُلک کو مشکل معاشی حالات سے نکالا جا سکتا ہے، وہ ہم نے ن لیگ کے رہنماؤں کے سامنے رکھیں ہیں اور اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مل کر ملکی معاشی استحکام کے لیے کام کریں گی۔‘

    اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’مقامی حکومتوں سے متعلق آئینی ترمیم کے معاملے پر ن لیگ سے متفق ہے، مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔‘

  8. العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس: وہ مقدمہ جس میں نواز شریف تاحال بری نہیں ہو سکے

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دسمبر 2018 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    نواز شریف کو احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ دیا تھا اور ساتھ ساتھ تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    مقدمے کی تفصیلات میں جائیں تو بظاہر العزیزیہ سٹیل ملز نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے 2001 میں سعودی عرب میں قائم کی تھی جس کے انتظامی امور نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز چلا رہے تھے۔

    شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ سٹیل مل لگانے کے لیے کچھ سرمایہ سعودی حکومت سے لیا گیا تھا۔

    البتہ نیب کے وکلا کا کہنا تھا کہ شریفوں کے دعوے کسی بھی دستاویزی ثبوت سے بغیر ہیں اور یہ علم نہیں کہ اس مل کے لیے رقم کہاں سے آئی۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ شریف خاندان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقم حاصل کر کے اس مل کے لیے سرمایا لگایا۔

    حسین نواز کا کہنا تھا کہ انھیں اپنے دادا سے پچاس لاکھ ڈالر سے اوپر رقم دی گئی تھی جس کی مدد سے انھوں نے العزیزیہ سٹیل ملز قائم کی۔ ان کے مطابق اس مل کے لیے زیادہ تر سرمایہ قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے محمد شریف کی درخواست پر دیا گیا تھا۔

    اس ریفرنس کی تفتیش کرنے کے لیے قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز کا اصل مالک نواز شریف خود تھے۔

    نیب حکام کا نواز شریف کے خلاف دعوی تھا کہ انھوں نے حسین نواز کی کمپنیوں سے بڑا منافع حاصل کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مالک وہ تھے، نہ کہ ان کے بیٹے۔

    واضح رہے کہ اس ریفرنس کی سماعتوں کے دوران نیب اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہی تھی۔

  9. ایون فیلڈ ریفرنس کیا تھا؟

    سنہ 2016 میں پانامہ پیپرز کی مدد سے سامنے آنے والی ایون فیلڈ پراپرٹی لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فئیر اور پارک لین کے نزدیک واقع چار اپارٹمنٹ ہیں جو کہ نوے کی دہائی سے شریف خاندان کے زیر استعمال ہے۔

    یہ ریفرنس اس وقت سامنے آیا تھا جب 20 اپریل 2017 کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں چھ رکنی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔

    شریف خاندان پر الزام تھا کہ انھوں نے اس پراپرٹی کو غیر قانونی ذرائع کی مدد سے حاصل کی گئی رقم سے خریدا ہے۔

    تاہم شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ ایون فیلڈ پراپرٹی 1993 سے لے کر 2006 تک قطر کے شاہی خاندان کی ملکیت تھی لیکن شریفوں نے وہاں رہائش اختیار کی تھی جس کے لیے وہ وہاں کے کرائے اور دوسرے اخراجات خود اٹھاتے تھے۔

    تقریباً نو ماہ اور 107 سماعتوں پر محیط احتساب عدالت میں جاری اس مقدمے کا فیصلہ اس سال چھ جولائی کو آیا جب نواز شریف اپنی بیمار اہلیہ کے ساتھ مریم نواز کے ہمراہ لندن میں مقیم تھے۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق نواز شریف پر یہ الزام ثابت نہ ہو سکا کہ انھوں نے دوران حکومت اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی رقم بنائی لیکن نیب قوانین کے تحت انھیں معلوم ذرائع سے زیادہ آمدن رکھنے کے جرم میں دس سال جیل ہوئی جبکہ ایک سال جیل نیب حکام سے تعاون نہ کرنے پر ہوئی۔ اس کے علاوہ ان پر اسی لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

    ایون فیلڈ ریفرنس میں جرم ثابت ہونے پر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سنہ 2018 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں تین افراد کو سزا سنائی تھی، جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر شامل تھے۔

    اس کے علاوہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کا آغاز کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سنہ 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کو سات سال قید اور 20 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    ان میں سے ایون فیلڈ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا ہوئی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں ان کو احتساب عدالت نے بری کر دیا تھا۔

  10. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں بری کر دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بری کر دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے آج سابق وزیرِ اعظم کی جانب سے دائر کی جانے والی اس اپیل کی سماعت کی۔

    دوسری جانب نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل واپس لے لی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کی اپیل واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی ہے۔

    اس سے قبل سماعت کے دوران میان نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی بریت کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

    انہوں نے کہا کہ ’عدالت نے لکھا پراسیکیوشن کے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ایک ڈاکومنٹ موجود نہیں۔‘

    جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے کہ ’اس عدالت نے ایک فیصلہ دیا کہ بے نامی کیلئے 4 مندرجات کا ثابت ہونا ضروری ہے، انھوں نے کہا کہ ان چاروں میں سے ایک بھی ثابت نہیں ہوتا تو وہ بے نامی کے زمرے میں نہیں آئے گا۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے میاں نواز شریف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ جن عدالتی فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں وہ ہم پر بائنڈنگ ہیں؟‘

    جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ’جی آپ پر بائنڈنگ ہیں اس پر جسٹس میاں گل حسن کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہی ہے تو ہم یہاں کیا کر رہے ہیں؟

    نیب کے پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث ریفرنسز دائر کیے گئے تھے، جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ریفرنس دائر کرنا آپ کی مجبوری تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم سمجھ رہے ہیں ریفرنس دائر کرنا نیب کی مجبوری تھی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ریفرنس دائر ہو گیا سزا بھی ہو گئی اور مریم نواز کی بریت کے فیصلے کیخلاف نیب نے اس وقت اپیل نہیں کی، نیب پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ اب وہ فیصلہ حتمی ہے اس پر ہم دلائل نہیں دے سکتے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ پھر کیا ہم اس اپیل کو بھی منظور کر لیں؟

    نیب پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ ہم فلیگ شپ ریفرنس میں بھی نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل واپس لے رہے ہیں۔

  11. گوہر علی خان: عمران خان کی جانب سے پی ٹی آئی کے نگران چیئرمین کے لیے نامزد وکیل کون ہیں؟

  12. ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ اس اپیل کی سماعت کر رہا ہے۔

    ایون فیلڈ ریفرینس کیس میں نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے شریک ملزمان مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو اپیل منظور کر کے بری کیا گیا، شریک ملزمان پر اعانت جرم کا الزام تھا۔‘

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ سے شریک ملزمان کی بریت کا فیصلہ حتمی صورت اختیار کر چکا ہے۔‘ اس دوران امجد پرویز کی جانب سے نیب آرڈیننس کے مخلتف سیکشنز کا حوالہ بھی دیا گیا۔ جس کے ساتھ اُن کا کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس میں بے نامی دار کی تعریف کی گئی ہے۔‘

    اس پر جسٹس گُل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ’میرے خیال میں سزا معطلی بھی اسی بنیاد پر ہوئی تھی، سزا معطلی کے فیصلے میں ہم نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا سہارا لیا تھا، اور سزا معطلی کے فیصلے سے تاثر ملتا تھا کہ جیسے اپیل منظور کر لی گئی ہے، لیکن بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں مزید وضاحت کی ہے اس پر ہماری معاونت کریں۔‘

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کا کہنات تھا کہ ’ظاہر کردہ آمدن کے ساتھ یہ بتانا تھا کہ اثاثے بناتے وقت اس کی قیمت کیا تھی؟ انھوں نے کہا کہ نیب کو آمدن اور اثاثوں کی مالیت کے حوالے سے تقابل پیش کرنا تھا، اس کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ اثاثوں کی مالیت آمدن سے زائد ہے یا نہیں، انھوں نے کہا کہ اس تقابلی جائزے کے بغیر تو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا جرم ہی نہیں بنتا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہ پراپرٹیز مختلف اوقات میں ایکوائر کی گئیں،‘ جس پر وکیل نواز شریف امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’میں ان کی ڈیٹس آپ کو بتا دیتا ہوں، 1993 سے 1996 کے دوران یہ پراپرٹیز بنائی گئیں، ان پراپرٹیز کے حوالے سے اپیل کنندہ کا کوئی تعلق نہیں، پراسیکیوشن نے ریفرنس میں نہیں بتایا کہ ان پراپرٹیز سے کیا تعلق ہے۔‘

  13. بریکنگ, عمران خان نے بیرسٹر گوہر علی خان کو پی ٹی آئی کا نگران چیئرمین نامزد کر دیا، انٹرا پارٹی الیکشن دو دسمبر کو ہوں گے

    پی ٹی آئی سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے اعلان کیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان کو پی ٹی آئی کا نگران چیئرمین بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن آئندہ سنیچر یعنی دو دسمبر کو ہوں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ ان کی عمران خان سے گذشتہ روز جیل میں ملاقات ہوئی تو انھوں نے یہ سوال پوچھے کہ کیا وہ یہ الیکشن قانونی طور پر لڑ سکتے ہیں؟ اور کیا خطرات ہیں کہ اگر وہ اس میں حصہ لیں گے تو الیکشن کمیشن اس الیکشن کو کالعدم قرار دے؟

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’ہمارے مطابق عمران خان کے خلاف صرف توشہ خانہ کیس میں فیصلہ ہوا ہے اور اس میں دی گئی سزا غیر قانونی ہے۔ جس قسم کا الزام لگایا ہوا ہے وہ کالعدم ہو سکتا ہے اس لیے عمران خان انٹرا پارٹی الیکشن لڑ سکتے ہیں۔‘

    ’دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا خطرات ہیں کہ الیکشن کمیشن غیر قانونی فیصلہ کرتے ہوئے اس پارٹی الیکشن کو غیر قانونی قرار دے دیا؟ تو یہ خطرہ بالکل تھا، یہ معاملات جب ہم نے مشاورت کی تو ہم نے یہ سوچا کہ اس حوالے سے خطرہ ہے اور ہم کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے اور نہ ہی الیکشن کمیشن کو کسی قسم کا کوئی بہانہ دینا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں ںے اعلان کیا کہ ’انٹرا پارٹی الیکشن عارضی طور پر عمران خان نہیں لڑیں گے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب تیسرا سوال آیا کہ عمران خان کا نامزد کردہ نگران چیئرمین کون ہوں گے؟ ہمیں کوئی ایسا چیئرمین چاہیے تھا جو مستقل پارٹی عہدے پر نہ ہوں۔ پی ٹی آئی عمران خان ہیں اور عمران خان پی ٹی آئی ہیں، مستقل لیڈر اور چیئرمین عمران خان ہی ہیں۔

    ’تاہم انھوں نے عمران خان نے بیرسٹر گوہر کو پی ٹی آئی کا نگران چیئرمین نامزد کیا ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر کا اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’میرے پاس الفاظ نہیں ہیں عمران خان کا شکریہ ادا کرنے کا، لیکن میں عمران کے نمائندہ، نامزد اور جانشین کے طور پر اس وقت تک رہوں گا جب تک عمران خان اس سیٹ پر واپس نہیں آئیں گے۔ پی ٹی آئی کا نظریہ، جدوجہد وہی ہے۔‘

  14. ’پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران حان ہی ہیں باقی سب غلط فہمیاں ہیں‘ لطیف کھوسہ

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ ’عمران خان نے مائنس ون کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔‘

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’جو چیئرمین ہیں وہی رہیں گے، مطلب یہ کہ عمران خان پی ٹی آئی کے چیئرمین تھے ہیں اور رہیں گے، اگر اس بات سے کر ہٹ کسی نے کوئی بات کی ہے تو اُنھوں نے کسی غلط فہمی کی بنیاد پر یہ بات کی ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان ہی پی ٹی آئی ہیں اور پی ٹی آئی عمران خان سے ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جنھوں نے بھی یہ بیانات دیے ہیں وہ بھی محترم ہیں اُن کی پارٹی کے لیے خدمات ہیں اور عمران خان کی نظر میں وہ محترم ہیں۔‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’پارٹی چیئرمین کی تبدیلی سے متعلق نا تو کوئی فیصلہ ہوا ہے اور نا ہو سکتا ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان نے بڑے واضح انداز میں پیغام دیا ہے کہ وہ ہی پارٹی چیئرمین ہیں۔‘

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’عمران خان مجھے پہلے بھی پارٹی میں شمولیت کا کہتے رہے ہیں اور آج تو انھوں نے اس بات پر بہت اسرار کیا ہے کہ میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو جاؤں پارٹی کو میری ضرورت ہے، مُلک اور قوم کو آپ کی بہت ضرورت ہے، جس پر میں نے عمران خان کو کہا ہے کہ میں اپنی فیملی سے اور اپنے دوستوں سے بات کرنے کے بعد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کروں گا۔‘

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ کہ کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے ترجمان اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات سے متعلق میں بس اتنا کہوں گا کہ وہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہیں، یہ ایک بڑی غلط فہمی ہوئی ہے عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، عمران خان ہی چیئرمین پی ٹی آئی ہیں۔‘

  15. اگلی سماعت تک لاپتہ بلوچ طلبہ بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم، وزیر داخلہ اور سیکریٹری دفاع کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے گا: اسلام آباد ہائیکورٹ, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    بلوچ طلبہ بازیابی کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کا کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کیس کی سماعت کی اور ریمارکس دیے ’اگلی سماعت تک لاپتہ بلوچ طلبہ بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم، وزیر داخلہ اور سیکریٹری دفاع کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے گا۔‘

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ درخواست گزار کی وکیل ایڈووکیٹ ایمان مزاری عدالت میں پیش ہوئیں۔

    عدالت کے سامنے لاپتہ بلوچ افراد کی فیملیز بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی، نگران وزیر انسانی حقوق خلیل جارج بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 22 بلوچ طلبہ کو بازیاب کروا لیا گیا اور وہ گھر پہنچ چکے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 28 بلوچ لاپتہ افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔

    ان کے مطابق 28 طلبہ کی شناختی کارڈز کی تفصیل نہ ہونے کے باعث وہ تاحال لاپتہ ہیں۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو مزید بتایا کہ وزیراعظم اس وقت بیرون ملک ہیں جس وجہ سے وہ عدالت کے سامنے پیش نہیں ہو سکے ہیں۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’میں یقین دہانی کراتا ہوں تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوششیں کریں گے۔‘

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’کمیشن کی ریورٹ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی گئی تھی اور اس پر وفاقی کابینہ کی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کو یہ معاملہ بھیجا گیا۔

    اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن کو آرڈر دیا تھا کہ ایکشن سے متعلق تجاویز دیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ سادہ سی بات ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، سارے لاپتہ یونیورسٹی سٹوڈنٹس ہیں، کیا وہ پاکستانی شہری نہیں؟

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’تمام الزام سکیورٹی ایجنسیوں پر ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ یہ رپورٹ بادی النظر میں ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں کوئی لا اینڈ آرڈر نہیں ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’جس کا جو جی میں آئے وہ کہے جا رہا ہے۔ جج کے مطابق ’یہ ہمارے شہری ہیں ان کی مائیں بہنیں بھائی رو رہی ہیں۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وہ بلوچستان سے چلتے ہیں یہاں کمیشن کے سامنے آکر پیش ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کوئی قصور وار ہے تو قانونی کارروائی کریں مگر کسی ایجنسی کو استثنا نہیں کہ جس کو مرضی ہے برسوں کے لیے اٹھا کر لے جائیں اور پھر وہ تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او کے حوالے کر دیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ کام ہوتے ہیں، جو بھی لاپتہ شخص بازیاب ہوتا ہے وہ آکر کہتا ہے میں کیس کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتا۔ انھوں نے کہا کہ ’عدالت کو بند کمروں میں کہانی نہ سنائیں گے نہ ہی بند کمروں میں میں کسی کی سنوں گا۔ ‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ’جو کہنا ہے اوپن کورٹ میں کہیں۔

    عدالت نے وزیرداخلہ سے کہا کہ آج 22 ویں سماعت ہے آپ نے ساری ایجنسیز کو بلا کر پوچھنا تھا۔

    نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’کمیشن نے بہت سی چیزوں کو نہیں دیکھا، بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ یہاں سے لوگ افغانستان چلے گئے ہیں۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’جبری گمشدگی والے کیسز میں لوگ آپ کے اپنے اداروں کے پاس ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایک طرف مخصوص ادارے پر الزام ہے، انویسٹیگیشن بھی انھوں نے کرنی ہے۔

    عدالت نے کہا کہ ’سیکریٹری دفاع ذمہ دار ہیں کہ ان کے ادارے کسی ایسے کام میں ملوث نا ہوں۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’آج تک کسی ریاستی ادارے کو ذمہ دار ٹھہرا کر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟

    نگران وزیر داخلہ نے کہا کہ بہت سارے کیسز ایسے بھی ہیں جن میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے مارے گئے۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے وزیرداخلہ سے کہا کہ اگر یہ لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو آپ اور وزیر اعظم کے خلاف ایف آئی آر کا آرڈر کروں گا۔

    جسٹس کیانی نے کہا کہ عدالت بڑے صاف الفاظ میں یہ بات سمجھا رہی ہے کہ سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ بھی ذمہ دار ہوں گے۔

    عدالت نے کہا نگراں وزیر داخلہ دو ہفتے میں ان بلوچ فیملیز کو ملیں اور جو بلوچستان میں ہیں وہاں جا کر ملیں۔ عدالت کی وزیر داخلہ کو ہدایت آپ سیکرٹری دفاع کو ہدایات جاری کریں اپنے ماتحت اداروں کو بلا کر ان سے پوچھیں۔ عدالت عدالت نے 10 جنوری تک کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’اگر اگلی تاریخ پر لاپتہ طلبہ برآمد نہ ہوئے تو میں وزیر داخلہ، وزیر اعظم اور سیکریٹری دفاع و داخلہ کے خلاف پرچہ کاٹنے کا حکم دوں گا۔ اور آپ سب کو گھر جانا ہو گا۔

  16. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان ، انڈیکس پہلی بار 61000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری تیزی کے رجحان کا تسلسل بدھ کے روز بھی جاری ہے اور مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر انڈیکس میں چار سو پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    مارکیٹ کا انڈیکس اس اضافے کے بعد پہلی بار 61000 پوائنٹس کی سطح عبور کر کے اس 61100 کی سطح سے اوپر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ نے گذشتہ روز 60000 پوائنٹس کی سطح عبور کی تھی۔

    سٹاک مارکیٹ میں اکتوبر کے وسط سے تیزی دیکھی جا رہی ہے جب انڈیکس نے 50000 پوائنٹس کی سطح عبور کی تھی۔

    ڈیڑھ مہینے میں سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 11000 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ انڈیکس میں تیزی کی وجہ ملک کے معاشی فرنٹ پر ہونے والی کچھ بہتری ہے، جس میں پاکستان اور یو اے ای کے درمیان کئی ارب ڈالر کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط نے مزید تیزی پیدا کی۔

  17. توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کا جیل ٹرائل ہو گا: وزارت قانون

    توشہ خانہ اور190ملین پاؤنڈ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کے جیل ٹرائل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزارت قانون و انصاف نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ’احتساب عدالت اڈیالہ جیل میں ان کیسز کی سماعت کرے گی۔‘

  18. 55 لاپتہ بلوچ طلبہ کے کیس پر سماعت آج، وزیراعظم سمیت اہم عہدیدار بھی طلب, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں 55 بلوچ طلبہ کی عدم بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت آج ہوگی۔ جسٹس محسن اختر کیانی اس درخواست کی سماعت کریں گے۔

    گذشتہ سماعت پر عدالت نے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ اگر ایک ہفتے میں جبری طور پر گمشدہ بلوچ طلبہ بازیاب نہیں ہوتے تو وزیر اعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوں۔

    واضح رہے کہ نگراں وزیرعظم ان دنوں مشرق وسطیٰ کے سرکاری دورے پر ہیں عدالت نے سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری دفاع، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو بھی آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس درخواست کی گذشتہ سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے تھے کہ وزیراعظم اور وزیرداخلہ کا تعلق بلوچستان سے ہے، انھیں احساس ہونا چاہیے تھا کہ یہ بلوچ طلبہ کا معاملہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کیا ہم یہ معاملہ اقوام متحدہ کو بھیجیں، کیا اپنے ملک کی بے عزتی کروائیں؟ سماعت کے دوران جبری گمشدگی سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی اور عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم وزرا کمیٹی کی رپورٹ مسترد کر دی تھی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ عدالت کتنے فیصلے دے چکی ہے، لاپتہ افراد کمیشن نے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ انھوں نے کا کہ یہ بہت بڑا المیہ ہے، یہ کمیشن صرف عدالتوں کے فیصلوں کو بائی پاس کرنے کے لیے بنا ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا اس کیس کی ابھی تک اکیس سماعتیں ہوچکی ہیں اور اس سے قبل جسٹس اطہرمن اللہ جو چیف جسٹس تھے ان کے پاس یہ کیس تھا جن کے حکم پر ایک کمیشن بنا، جبری گمشدگیوں کا معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ صرف ایک کا نہیں 55 بلوچ طلبہ کا معاملہ تھا جو وزیر اعظم کو بھجوایا گیا ہے اور انھیں احساس ہونا چاہیے تھا، ہم سمجھے وہ آکرکہیں گے یہ ہمارے بچے ہیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے اگر ان پر کوئی الزام تھا تو مقدمہ درج کرتے۔

    اس ہائیکورٹ نے پہلے بھی وزیراعظم کو بلایا تھا اس سب کے باوجود کوئی پیش رفت کیوں نہیں ہوئی؟ انھوں نے کا کہ ہم سمجھے تھے آہستہ آہستہ چیزیں تبدیل ہوں گی اورلوگ واپس آجائیں گے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے اور تھی کہ ریاست کہتی کہ اب وہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہیں۔

    ان کے مطابق ہم اس کیس میں وزیراعظم، وزیرداخلہ اور وزیردفاع کو طلب کریں گے۔ عدالت کے مطابق یہ کام ’ایگزیکٹو‘ کا تھا لیکن وہ کام عدالت کررہی ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وزیراعظم اور وزرا کو طلب نہ کرنے کی استدعا کی، جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا اس سے بڑھ کر اور کیا توہین ہوگی اس ملک کے لوگوں کے ساتھ کہ جب لوگ لاپتہ ہورہے ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ سات دنوں کا وقت ہے کمیشن کی سفارشات کے مطابق 55 لاپتہ بلوچ طلبہ پیش کریں ورنہ وزیراعظم خود پیش ہوں۔ درخواست گزاروں کی طرف سے ایمان مزاری عدالت میں پیش ہوں گی۔

  19. عمران خان نے نئے چیئرمین تحریک انصاف کے لیے نام کی منظوری دے دی ہے: علی ظفر

    چیئرمین تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر علی ظفر نے بتایا ہے کہ عمران خان نے انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے تحریک انصاف کے نئے چئیرمین کے لیے ایک نام کی منظوری دے دی ہے، جس کا اعلان جمعرات یعنی آج کر دیا جائے گا۔

    ان کے مطابق عمران خان نے خود چیئرمین کا انتخابات نہ لڑنے کا فیصلہ توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے فیصلے کے تناظر میں کیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ روز جب وکیل شیر افضل مروت میڈیا کے سامنے آئے تو انھوں نے بتایا کہ وہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کر کے آئے ہیں اور یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ ’عمران خان نااہلی کی وجہ سے آئینی اور قانونی طور پر پارٹی کے چیئرمین کا الیکشن نہیں لڑ سکتے ہیں۔ لہٰذا خان صاحب نے خود فیصلہ کیا ہے کہ وہ خود چیئرمین تحریک انصاف کے لیے نہیں لڑیں گے اور اتفاق رائے سے یہ فیصلہ ہوا ہے کہ جونہی عدالت کی طرف سے نااہلی کا فیصلہ ختم ہوگا تو پھر انھیں چیئرمین کے لیے لایا جائے گا۔‘

    جب شیر افضل مروت کا یہ بیان سامنے آیا تو تھوڑی دیر بعد تحریک انصاف نے ان خبروں کی تردید کر دی۔ تحریک انصاف کی طرف سے جاری وضاحت میں کہا گیا کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ عمران خان چیئرمین تحریک انصاف نہیں ہوں گے۔

    اس کے بعد شیر افضل نے میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے پی ٹی آئی آفیشل کے جاری کردہ تضاد کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے مطابق ’میں نے اپنے میڈیا ٹاک میں انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق جو بھی کہا ہے وہ درست بیان ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ چیئرمین تحریک انصاف نے گوہر علی خان، عمیر نیازی، بیرسٹر علی ظفر اور میری موجودگی میں کیے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں یہ سمجھنے میں ناکام ہوں کہ تضاد کے پیچھے کون ہے اور یہ گمراہ کن بیان کیوں جاری کیا گیا۔‘

    شیر افضل مروت کی یہ مشکل سینیٹر علی ظفر نے آسان کر دی۔

    منگل کی رات علی ظفر نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے شیر افضل کے بیان کو درست قرار دیا۔

    علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق کوئی کسی قسم کی کنفیوژن نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان سے منگل کو اڈیالہ جیل کے اندر ملاقات ہوئی ہے۔ علی ظفر کے مطابق اس ’ملاقات میں عمران خان نے الیکشن کمیشن کے آرڈر کے بارے میں پوچھا اور میں نے اپیل کرنے کی رائے دی۔ اب یہ فیصلہ ہوا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا جائے گا۔‘

    ان کے مطابق دوسری مشاورت یہ ہوئی کہ انٹرا پارٹی الیکشن کرا دینا چاہیے۔ علی ظفر نے کہا کہ انھوں نے عمران خان کو بتایا کہ ’الیکشن کمیشن یہ کوشش کر رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح بلے کا نشان ہم سے چھین لیا جائے۔‘

    علی ظفر کے مطابق عمران خان نے ان کی بات سے اتفاق کیا اور اس کے بعد پھر ’انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے پینلز سے متعلق مشاورت ہوئی اور اس پر تفصیلی بحث ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ’عمران خان کے چیئرمین تحریک انصاف انتخابات سے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔‘

    علی ظفر نے بتایا کہ یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ’اگر یہ قانونی رائے آتی ہے کہ الیکشن کمیشن عمران خان کے نااہلی کے باوجود چیئرمین منتخب ہونے پر پھر سے ان انتخابات پر اعتراض عائد کر سکتا ہے تو پھر بے شک عمران خان ان انٹرا پارٹی میں حصہ نہ لیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ عمران خان نے چیئرمین تحریک انصاف کا انتخابات لڑنا ہے یا نہیں۔‘

    علی ظفر نے کہا کہ ’اگر عمران خان کسی کو نامزد کرتے ہیں تو اس کے مطابق الیکشن ہوں گے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں علی ظفر نے بتایا کہ ’عمران خان نے رائے دی کہ اگر میں انتخابات میں حصہ نہ لے سکا تو پھر اس نام کو چیئرمین کے لیے الیکشن لڑا دیں۔‘ ان کے مطابق آج تحریک انصاف کے چیئرمین کے لیے نامزد شخص کے نام کا اعلان کر دیا جائے گا۔‘

    علی ظفر کے مطابق توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔ وہ پارٹی کے چیئرمین بھی نہیں بن سکتے۔ اگر عمران خان الیکشن نہیں لڑ سکتے تو پھر عمران خان نے نام بتا دیا ہے کہ کسے چیئرمین کا الیکشن لڑانا ہے۔

    علی ظفر کے مطابق عمران خان کے فیصلے سے متعلق انھیں سب پتا ہے اور انھوں نے اس فیصلے سے متلعق متعلقہ لوگوں کو بتا دیا ہے۔

    ان کے مطابق توشہ خانہ کا فیصلہ ختم نہیں ہوتا تو اس وقت تک ہماری یہی پوزیشن رہے گی۔ علی ظفر نے کہا کہ ’اپنے آئین اور قانون کے مطابق ہم الیکشن لڑیں گے، یہ ایک عارضی فیز ہے۔‘

    علی ظفر نے یہ بھی وضاحت کی کہ ’عمران خان پارٹی کے سربراہ رہیں گے۔ وہ پارٹی کے سربراہ ہیں، وہی تحریک انصاف کی سرپرستی کرتے رہیں گے، پی ٹی آئی ان کے سوا کچھ نہیں۔ نامزد نام کے ذریعے تکنیکی مرحلہ پورا کر رہے ہیں۔‘

    علی ظفر نے کہا کہ ’ہم نے یہ ایک حکمت عملی بنائی ہے۔ یہ ایک پلان بی ہے۔ اسے ہم نے کافی دیر سے اختیار کیا ہوا ہے اور اس حوالے سے کوئی کنفیوژن نہیں ہے۔‘

    انھوں نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ سنیچر یا اتوار کو تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو 20 دن کے اندر نئے انٹرا پارٹی انتخـابات کرانے کا حکم دیا تھا اور اب تحریک انصاف کے پاس صرف 13 دن باقی ہیں۔

  20. کوہستان میں نام نہاد غیرت کے نام پر لڑکی کا قتل، تصاویر وائرل کرنے والے ملزم کی تلاش کے لیے ایف آئی اے سے مدد طلب