فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے نتیجے میں قوم کو نو مئی کے واقعات دیکھنا پڑے: سپریم کورٹ

فیض آباد دھرنا عملدرآمد کیس کی گذشتہ سماعت کے تحریری حکمنامے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اس کیس میں فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے اور ذمہ داران کا احتساب نہ ہونے کے نتیجے میں قوم کو نو مئی کے واقعات دیکھنا پڑے۔ دوسری جانب اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سارہ انعام قتل کیس کی سماعت کے دوران مقتولہ کے وکیل نے کہا ہے کہ تمام تر شواہد ثابت کرتے ہیں کہ مرکزی ملزم شاہنواز قتل کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں چنانچہ انھیں سزائے موت سنائی جائے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 17 اکتوبر کی تازہ خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے نتیجے میں قوم کو نو مئی کے واقعات دیکھنا پڑے: سپریم کورٹ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    سپریم کورٹ نے 15 نومبر کو فیض آباد دھرنا کیس پر ہونے والی سماعت کے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ اس کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کا نتیجہ قوم کو نو مئی کے واقعات کی صورت میں دیکھنا پڑا ہے۔

    15 نومبر کو ہونے والی سماعت کا تحریری فیصلہ آج جاری کیا گیا ہے۔ اس حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ 6 فروری 2019کو دیا تھا جس میں ماضی کے پر تشدد واقعات کا حوالہ دے کر مستقبل کے لیے وارننگ دی گئی تھی۔

    تحریری حکمنامے کے مطابق تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود متعدد حکومتوں نے فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا جبکہ اس فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائر ہوئی جنھیں سماعت کے لیے مقرر نہ کیا گیا۔

    تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ نظرثانی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر نہ ہونے کے سبب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا اور اس فیصلے کے تناظر میں نہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور نہ ہی پر تشدد احتجاج پر کسی کا احتساب ہوا نتیجتا قوم کو 9مئی کے واقعات دیکھنے پڑے۔

  3. سندھ حکومت نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کا ٹرائل روکنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سندھ کی نگراں حکومت نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل روکنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ وہ اس ضمن میں دیے گئے اپنے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

    سندھ حکومت نے یہ استدعا بھی کی ہے کہ اس اپیل پر فیصلے تک سپریم کورٹ کا فیصلہ معطل قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ 23 اکتوبر 2023 کو سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عام شہریوں کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں نہیں چلایا جا سکتا۔

    سندھ کی نگراں حکومت نے اپیل میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہی ہونا چاہیے۔

    درخواست میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے قانون اور حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔

    اس اپیل میں آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی ان دفعات کو بھی بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے جنھیں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کالعدم قرار دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار ہونے والے تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار ایک کی اکثریت سے سویلین کے خلاف ٹرائل فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف دائر درخواستوں پر یہ فیصلہ سُنایا تھا۔

    سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آرمی ایکٹ میں موجود شق ٹو ون ڈی کو بھی آئین سے متصادم قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ آرمی ایکٹ کی اس شق کے تحت عام شہریوں کا بھی فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔

    عام شہریوں کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کا اقدام آئین سے متصادم ہے اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

    درحواست گزاروں میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ بھی شامل تھے۔ ان درخواستوں پر مجموعی طور پر 13 سماعتیں ہوئیں۔

    عدالت میں اٹارنی جنرل کی طرف سے پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق نو مئی کو فوجی تنصیابات پر حملوں میں ملوث 102 افراد کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جا رہے تھے۔

  4. سارہ انعام قتل کیس:’چشم دید گواہ جھوٹ بول سکتا ہے لیکن شواہد جھوٹ نہیں بول سکتے‘

    سارہ انعام قتل کیس
    ،تصویر کا کیپشنسارہ قتل کیس میں نامزد ملزم شاہنواز امیر

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں سارہ انعام قتل کیس کی سماعت کے دوسرے دن مقتولہ کے وکیل راؤ عبدالرحیم نے دلائل دیتے ہوئے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو سزائے موت سنانے کی استدعا کر دی ہے۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ناصر جاوید رانا نے اس کیس کی سماعت کی۔ اس کیس کی سماعت گذشتہ روز (بدھ) شروع ہوئی تھی مگر وقت کی کمی کی وجہ سے وکیل راؤ عبدالرحیم اپنے دلائل مکمل نہیں کر سکے تھے۔

    جمعرات کی صبح ہونے والی سماعت کے دوران مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو بھی عدالت پیش کیا گیا جبکہ اس موقع پر سارہ انعام کے والد انعام الرحیم اور شریک ملزمہ سمینہ شاہ (شاہنواز کی والدہ) بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔

    سارہ انعام کے وکیل راؤ عبدالرحیم نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ فرانزک رپورٹ کے مطابق ملزم کے موبائل سے 2 تصاویر ملیں جن میں سے ایک تصویر مقتولہ کی تھی، اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقتولہ کی چادر میں لپٹی لاش کمرے میں پڑی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آلہ قتل یعنی ’ڈمبل‘ بھی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    راؤ عبدالرحیم نے کہا کہ چشم دید گواہ جھوٹ بول سکتا ہے لیکن دستاویزات جھوٹ نہیں بولتیں۔

    انھوں نے کہا کہ سارہ انعام جب ملزم شاہنواز کے گھر پہنچیں تو جھگڑا ہوا جس کے دوران سارہ انعام کا موبائل توڑا گیا۔ ’وہ ملزمان کے رحم و کرم پر تھی، سارہ انعام کا موبائل لان میں سے ٹوٹی ہوئی حالت میں ملا جبکہ سارہ انعام کے جسم پر زخموں کے نشانات تھے۔ ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، جب بچی کو اس تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو وہ تڑپی ہو گی، کیسے ممکن ہے کہ ملزمہ سمینہ شاہ نے (گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی) کچھ نہیں سُنا۔ پوسٹ مارٹم کے مطابق تمام زخم موت واقع ہونے سے پہلے کے ہیں۔‘

    دورانِ سماعت کمرہ عدالت مں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مدعی کے وکیل راؤ عبدالرحیم کو تصاویر دکھانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

    اپنے دلائل کے اختتام پر راؤ عبدالرحیم نے شواہد کی روشنی میں مرکزی ملزم شاہنواز میر کو سزائے موت دینے کی استدعا کی۔ انھوں نے کہا کہ ’تمام تر شہادتوں اور ثبوتوں کے مطابق یہ جرم ثابت ہوتا ہے، پاکستان میں اس نوعیت کا یہ دوسرا کیس ہے، اس سے پہلے نور مقدم کا کیس موجود ہے۔‘

    پراسیکیوٹر رانا حسن نے اپنے دلائل کے دوران کہا کہ وقوعے کے روز ملزم سے موبائل فون برآمد ہوئے جن کے تجزیے یہ پتہ چلا کہ 18 ستمبر کو سارہ انعام کی کال آئی۔ اس موقع پر رانا حسن نے سارہ انعام اور ملزم شاہنواز کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ٹرانسکرپٹ بھی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

    یہ دلائل جاری تھے جب سیشنز جج ناصر جاوید نے کہا کہ انھیں ایک میٹنگ میں جانا ہے جس کے بعد سماعت 20 نومبر (پیر) تک ملتوی کر دی گئی۔

    سارہ انعام

    ،تصویر کا ذریعہSTEPHEN NASH

    سارہ انعام قتل کیس کیا ہے؟

    پولیس کے مطابق سارہ انعام کے قتل کا واقعہ 23 ستمبر 2022 کو صبح 10 سے 11 بجے کے درمیان پیش آیا تھا۔

    اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق قتل کی اس واردات کی اطلاع مرکزی ملزم شاہنواز کی والدہ ثمینہ شاہ نے پولیس کو دی تھی۔

    اطلاع ملنے پر پولیس چک شہزاد میں واقع فارم ہاؤس پہنچی تو ملزم نے پولیس کو دیکھتے ہی خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا تاہم پولیس نے کمرہ کھلوانے کے بعد ملزم کو قابو میں کر لیا تھا۔

    ایف آئی آر کے مطابق جب ملزم کو کمرے سے نکالا گیا تو اُن کے کپڑوں پر خون کے دھبے موجود تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے ابتدائی تفتیش میں پولیس کو بتایا کہ انھوں نے لڑائی کے دوران اپنی اہلیہ سارہ انعام کے سر پر ڈمبل مارا اور بعدازاں ان کی لاش کو واش روم میں چھپا دیا۔

    ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ ملزم نے آلہ قتل یعنی ڈمبل بھی خود برآمد کروایا جس پر انسانی خون اور بال لگے ہوئے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے ڈمبل کے متعدد وار کر کے اپنی اہلیہ کا قتل کیا۔

  5. ’سائفر کیس میں درخواست گزار (عمران خان) کو سزائے موت ہو سکتی ہے‘: امید کی جا سکتی ہے کہ ایسا نہ ہو، اٹارنی جنرل, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

    آج سماعت کے مکمل ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر مقدمے کی جیل میں سماعت روکنے سے متعلق اپنے حکم امتناع میں چار روز کی توسیع بھی کر دی ہے۔

    اس بینچ کے سربراہ جسٹس میاں گل حسن نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ ’موجودہ کیس میں ہم ایسی صورتحال میں ہیں جہاں درخواست گزار(عمران خان) کو سزائے موت ہو سکتی ہے یا وہ ساری زندگی جیل میں گزار سکتے ہیں۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’امید کی جا سکتی ہے کہ ایسا نہ ہو۔‘

    اس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’یہ اچھے آدمی ہیں، خود کہہ رہے پراسیکیوشن اس کیس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

    جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی دو رکنی ڈویژن بینچ میں شامل عدالت نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل پر آج تک حکم امتناع جاری کر رکھا تھا جس میں آج مزید توسیع کر دی گئی ہے۔

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ’میں بتانا چاہتا ہوں کہ گذشتہ سماعت پر آرڈر کے بعد کیا ہوا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں فوری اڈیالہ جیل پہنچا، جہاں جیل ٹرائل جاری تھا، مجھے کافی دیر انتظار کے بعد اندر جانے کی اجازت ملی اور ایک گواہ کا بیان بھی ہو چکا تھا۔‘

    ان کے مطابق ’ٹرائل کورٹ نے حکم امتناع کے بعد بھی ساڑھے تین بجے تک سماعت جاری رکھی۔‘

    اس مقدمے کے پراسیکوٹر رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ جب عدالت کو سٹے آرڈر کا بتایا گیا تو ٹرائل روک دیا گیا تھا۔

    اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کے وکیل نے اپنے دلائل دے دیے ہیں، اب عدالت کو سوالات پر مطمئن کرنے کی کوشش کروں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ پہلے تو اس درخواست کے قابل سماعت ہونے کے معاملے پر عدالت کی معاونت کروں گا۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس عامر فاروق نے شاہ محمود قریشی کا سائفر کیس میں درخواست ضمانت مسترد کی تھی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ ’کہا گیا کہ جیل میں کورٹ دس بائے دس کے کمرے میں لگائی گئی۔‘

    اس مقدمے کے سپیشل پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ’جیل میں جو پہلے کورٹ روم تھا وہاں صرف پندرہ سے سولہ افراد کی گنجائش تھی۔‘

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’سائفر کیس میں جیل ٹرائل اوپن ٹرائل ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کورٹ روم چھوٹا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کم افراد کی گنجائش کے باعث وہ کلوز ٹرائل ہے، اب جیل میں کورٹ پروسیڈنگ اور ٹرائل کے لیے پہلے کی نسبت بڑا کمرہ مل گیا ہے۔‘

  6. بشریٰ بی بی کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر عدم اعتماد کا اظہار

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    بشری بی بی نے عمران خان سے جیل میں تنہائی میں ملاقات کی درخواست کسی اور بینچ کے روبرو مقرر کرنے کی استدعا کی ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ہمارے جتنے بھی کیسز آپ کے روبرو مقرر ہوئے، ان میں ایک طرح کے فیصلے آ رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہماری استدعا ہے کہ ہمارے جتنے مقدمات اس بینچ میں ہیں، انھیں کسی اور کو منتقل کیا جائے۔‘

    چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بالکل نامناسب بات کر رہے ہیں، ایسے نہ کریں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’چلیں پھر اس کو دیکھ لیتے ہیں۔‘

    بشری بی بی کی استدعا پر عدالت نے بار کونسلز کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

  7. پاکستان سٹاک ایکسچینج پہلی بار 57000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گئی ، ڈالر کی قیمت میں سترہ کاروباری دنوں کے بعد کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جاری ہے اور انڈیکس پہلی بار 57000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں اب تک 420 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس 57100 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ کئی ہفتوں سے تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق جمعرات کے روز کاروبار میں تیزی کی وجہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے جائزے پر ہونے والی ڈیل ہے، جس کے بعد پاکستان کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی، جس کے پاکستانی کے بیرونی اکاؤنٹ کے شعبے میں بہتری پیدا ہو گی۔

    آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی ڈیل کے بعد ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے اور کاروباری کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں 1.14 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ایک ڈالر کی قیمت 287 روپے کی سطح تک گر گئی۔

    واضح رہے امپورٹ ادائیگیوں کی وجہ سے روپے کی قدر میں گذشتہ ایک مہینے میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم 17 روز تک کاروباری دنوں میں قدر میں کمی کے بعد جمعرات کے روز روپے کی قیمت میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

  8. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں قریب نو روپے تک کی کمی کا اعلان کیا ہے۔

    وزارت خزانہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق پیٹرول کی قیمت دو روپے چار پیسے کمی کے ساتھ 283 روپے 38 پیسے سے کم ہو کر 281 روپے 34 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل 9 روپے 1 پیسے کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد لائٹ ڈیزل آئل 189 روپے 46 پیسے سے کم ہو کر 180 روپے 45 پیسے ہو گئی ہے۔

    اسی طرح مٹی کا تیل 6 روپے 5 پیسے کمی کے بعد 211 روپے 3 پیسے سے کم ہو کر 204 روپے 98 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 6 روپے 47 پیسے کی کمی کے بعد 303 روپے 18 پیسے سے کم ہو کر 296 روپے 71 پیسے ہو گئی ہے۔

  9. سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت آج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت آج ہو گی۔

    اپیل میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی بھی کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل پر آج تک حکمِ امتناعی جاری کر رکھا ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز عمران خان کی اپیل پر سماعت کریں گے۔

    عدالت نے اٹارنی جنرل سے جیل ٹرائل کی وجوہات پر مشتمل تمام ریکارڈ طلب کر رکھا ہے۔

    عدالت نے عمران خان کے سائفر کیس میں اب تک ہو چکے ٹرائل پر بھی سوال اٹھا رکھا ہے اور کہا ہے کہ مان لیں کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد جیل ٹرائل کی تمام قانونی ضروریات پوری ہو گئیں لیکن اس کے باوجود یہ تعین پھر بھی ہونا ہے کہ پہلے ہو چکا ٹرائل غلط تھا یا محض بےضابطگی قرار دی جائے گی۔

    عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی اپنے شوہر سے جیل میں علحیدگی میں ملاقات کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت بھی آج ہائی کورٹ میں ہوگی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے بشریٰ بی بی کی اس درخواست پر اعتراضات عائد کیے تھے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق ان اعتراضات سمیت بشری بی بی کی درخواست کی سماعت کریں گے۔

  10. بریکنگ, آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا, تنویر ملک، صحافی

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان نو مہینوں پر محیط اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے پہلے جائزے پر سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ پر اتفاق ہو گیا ہے جسے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ منظوری کے بعد 70 کروڑ ڈالر کی رقم پاکستان کو جاری کی جائے گی۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے تمام معاشی اہداف حاصل کر لیے ہیں، آئندہ چند ماہمیں مہنگائی میں کمی کا امکان ہے، مارکیٹ بنیاد پر ایکسچینجریٹ پر عمل جاری رکھنےکا وعدہ کیا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایکسچینج مارکیٹ پر دباؤ کم ہو رہا ہے، سرمایہ کاری اورپاکستان کی حکومت نے روزگار کے مواقعپیدا کرنے کے لیے اصلاحات کا بھی وعدہ کیا ہے۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حکومتی اداروں میں بھی اصلاحات کا وعدہ کیا ہے،پاکستان نے سماجی مدد کے پروگرامبہتر کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور غیر ملکی زرمبادلہ سے معیشت پر بیرونی دباؤ میں کمی آئی۔

    آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان بیرونی خطرات سے متاثر ہو سکتا ہے، جیو پولیٹیکل کشیدگی اوراجناس کی قیمت میں اضافے سے ابھرنے کی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے، سخت عالمی مالی حالات کی وجہ سے ابھرنے کے لیے بھی کوشش جاری رکھنے کی ضرورت ہے، میکرو اکنامک پائیدار ی کو مضبوط اور متوازن شرح نمو میں اضافہ بنیادی ترجیحات ہیں،مالی استحکام کے لیے پبلک قرض کم کرنا بھی ترجیح ہے۔

    یاد رہے کہ 70 کروڑڈالر مزید ملنے سے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کوجاری کردہ رقم 1.9 ارب ڈالر ہو جائے گی۔ پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان 3ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی معاہدہ طے پایا تھا۔

  11. ٹانک میں فوج کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، سات ہلاک

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 14 اور 15 نومبرکی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی مبینہ موجودگی کی اطلاع پر ضلع ٹانک کے علاقے کیری مچھن خیل میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا۔

    آپریشن کے دوران دہشت گردوں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں سات دہشت گرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا بھی سراغ لگایا گیا جہاں بعد میں کاروائی ہوئی۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا جو ٹانک اور آس پاس کے علاقوں میں پولیس کی حالیہ ٹارگٹ کلنگ سمیت متعدد دہشت گردی کی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

    آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’علاقے میں اس حالیہ کاروائی کے بعد سرچ آپریشن جاری ہے۔‘

  12. آفیشل سیکرٹ ایکٹ: خصوصی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ کے ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کو چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی۔

    عدالت نے شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی جبکہ فرد جرم عائد کرنے کی عدالتی کارروائی اور جیل ٹرائل کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ جیل ٹرائل کا مطلب ان کیمرہ سماعت نہیں بلکہ اوپن ٹرائل ہی ہے۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اس مقدمے کا اوپن اور شفاف ٹرائل کیلئے انتظامات یقینی بنائے جائیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سائفر کیس میں شریک ملزم شاہ محمود قریشی کی ضمانت درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن کے مطابق بنی گالہ اجلاس میں سائفر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی سازش تیار ہوئی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پٹیشنر نے مرکزی ملزم عمران خان کی اس جرم میں معاونت کی جس کی سزا موت ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست ضمانت میرٹ پر نہیں بنتی اس لیے مسترد کی جاتی ہے۔ عدالت نے جیل ٹرائل کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے لکھا کہ کوئی پروسیڈنگ صرف اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہوسکتی کہ وہ غلط جگہ پر ہوئی ہے جب تک انصاف کی فراہمی میں ناکامی ظاہر نہ ہو وہ کارروائی کالعدم نہیں ہوسکتی ہے۔

    جیل سپرٹنڈنٹ یقینی بنائیں کہ ملزمان کی عزت اور وقار پر کوئی حرف نہ آئے۔ جیل حکام اور حکومت سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ افراد کو عدالتی کارروائی دیکھنے کو یقینی بنائیں اور ٹرائل ہر حوالے سے اوپن اور شفاف ہو۔

    عدالت نے مزید لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنا کا اس کیس میں اطلاق نہیں ہوتا۔ آفیشل فرائض کی انجام دہی کے دوران لگائے گئے کریمنل الزامات پر آرٹیکل 248 کا اطلاق ہوتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں جن کی سیکورٹی کی وجہ سے جیل ٹرائل ہو رہا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ مرکزی ملزم کی فیملی اس سے قبل ان کے حوالے سے سیکورٹی خدشات کا اظہار کر چکی ہے اور ہر سماعت پر جیل سے عدالت لانا چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے سیکورٹی خدشات پیدا کر سکتا ہے۔

  13. سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں درخواستِ ضمانت مسترد

    سائفر

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی سائفر کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ملزم شاہ محمود قریشی کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواست پر 8 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کہ بدھ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سنایا۔

    اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ اس مقدمے کے مرکزی ملزم اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔ عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے تاہم سپریم کورٹ میں ابھی تک یہ درخواست سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئی۔

    واضح رہے کہ اٹھ نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے کہا تھا کہ ’سائفر کیس میں مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا اورچالان کی کاپیاں بھی احتجاج پر دی گئیں۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ ’ان کے موکل سابق وزیر خارجہ ہیں اور وزیر خارجہ کی ذمہ داری ہے کہ جو چیز آئے اسے وزیر اعظم کے سامنے رکھے۔‘ سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’پٹیشنر پر جرم میں معاونت کا الزام ہے اور وہ دو مرتبہ وزیر خارجہ رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ ’شاہ محمود قریشی کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں اس کی سیکریسی کا علم تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’دنیا بھر میں کہیں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی نے سائفر کی معلومات یوں پبلک کی ہوں۔‘

  14. عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی جانب سے اپنے شوہر سے تنہائی میں ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے جیل میں اپنے شوہر سے تنہائی میں ملاقات کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    بشری بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے شوہر سابق وزیراعظم ہیں جو 5 اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’ہر منگل کو ان کی جیل میں شوہر سے ملاقات کی اجازت ہے تاہم وہ ملاقات کے دوران جیل حکام کی موجودگی کے باعث خاندانی معاملات پر بات نہیں کر سکتیں۔‘

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’چونکہ وہ جیل ملاقات کے دوران اپنے شوہر سے پرسنل، پرائیویٹ اور فیملی سے متعلقہ امور پر بات چیت نہیں کر پا رہیں اس لیے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو شوہر سے تنہائی میں ملاقات کرانے کے احکامات جاری کئے جائیں۔‘

  15. عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں عدم حاضری پر احتساب عدالت سے ضمانت خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم، ضمانت کی درخواست بحال

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ IMRAN KHAN

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ نیب کیس میں عدم حاضری پر احتساب عدالت سے ضمانت خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ضمانت کی درخواست بحال کر دی۔

    عدالت نے کہا کہ احتساب عدالت دوبارہ کیس سن کے میرٹ پر فیصلہ کرے۔ 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں گرفتاری کی وجہ سے ضمانت بحالی کی درخواست غیر موثر قرار دے دی گئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی 2 نیب کیسز میں ضمانت کی درخواستیں بحال کرنے کی درخواستوں پر دلائل سننے کے بعد گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    عدالت نے توشہ خانہ نیب کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بحال کر دی جو احتساب عدالت نے پٹیشنر کے عدالت میں موجود نہ ہونے کے باعث خارج کر دی تھی۔

    عدالت نے کہا کہ ملزم عمران خانُ کی توشہ خانہ کیس میں ضمانت بحال تصور ہو گی، احتساب عدالت دوبارہ کیس سن کے میرٹ پر فیصلہ کرے۔

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کی وجہ سے ضمانت بحالی کی درخواست کو غیر موثر قرار دے دیا۔

    عمران خان نے ضمانت درخواستوں کی بحالی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

  16. فیض آباد دھرنا کے ذمہ داران کے تعین کے لیے تین رکنی کمیشن تشکیل، تحقیقات دو ماہ میں مکمل کرنا ہوں گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    SC

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کے ذمہ داران کے تعین کے لیے تین رکنی کمیشن تشکیل دے دیا ہے جو دو ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گا۔

    وفاقی حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا یہ کمیشن پبلک آفس ہولڈرز، خفیہ اداروں، سرکاری ملازمین یا دیگر افراد کے اس دھرنے میں ملوث ہونے کے حوالے سے حقائق کا تعین کرے گا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ یہ کمیشن اس دھرنے کے وقت ملک کے وزیر اعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کے عہدوں پر فائز افراد کو بھی طلب کرسکتا ہے۔

    اٹارنی جنرل آف پاکستان نے بدھ کو فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس پر عمل درآمد سے متعلق سماعت کے دوران کمیشن کی تشکیل کا اعلامیہ پیش کیا، جس کے مطابق یہ کمیشن، کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت تشکیل دیا گیا ہے اور دو ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گا اور مستقبل میں ایسے ممکنہ دھرنوں سے نمٹنے سے متعلق تجاویز بھی وفاقی حکومت کو دے گا۔

    سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر شاہ اس تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ ہوں گے جبکہ اس میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کے علاوہ سابق آئی جی اسلام آباد طاہر عالم خان بھی شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ اکتوبر 2023 میں میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنے کے ذمہ داران کے تعین کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی تھی تاہم عدالت نے اس کمیٹی کے اختیارات کے حوالے سے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

    بدھ کو سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ یہ کمیشن عوام کی انکھوں میں دھول بھی جھونک سکتا ہے اور ملک میں نیا ٹرینڈ بھی قائم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی تفتیشی چاہے تو ملزم سے سچ اگلوا سکتا ہے اور اگر سچ سامنے نہ لانا ہو تو آئی جی بھی تفتیش کرلے تو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔‘

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کیا گیا یہ کمیشن اس وقت کے وزیر اعظم، آرمی چیف اور اس وقت کے چیف جسٹس کو بھی طلب کر سکتا ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ کمیشن ان افراد کو بھی بلانے کا اختیار رکھتا ہے جن کے نام پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم نے اپنے بیان میں دیے تھے۔

    ابصار عالم نے سپریم کورٹ میں دیے گئے بیان میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا بھی نام لیا تھا۔

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کمیشن جسے چاہے طلب کرسکتا ہے اور اس بارے میں کسی کو استثنیٰ نہیں دیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق تحقیقاتی کمیشن اس بات کا تعین کرے گا کہ کوئی پبلک آفس ہولڈر قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب تو نہیں ہوا اور یہ کہ کیا خفیہ اداروں کے اہلکار، سرکاری ملازم یا دیگر اشخاص دھرنے میں ملوث تھے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد پل پر مذہبی جماعت تحریکِ لبیک نے نومبر 2017 میں ارکان پارلیمان کے حلف میں مبینہ ترمیم کے خلاف دھرنا دیا تھا۔ پرامن طور پر دھرنے کے خاتمے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد کا علاقہ خالی کروانے کے حکم کے بعد حکومت نے آپریشن کیا تھا، جس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے تاہم دھرنا جاری رہا تھا۔

    بعدازاں 27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، جس میں آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

    سپریم کورٹ نے ایک دیگر مقدمے کی سماعت کے دوران فیض آباد کے دھرنے کا معاملہ زیر بحث آنے پر اس پر نوٹس لیا تھا۔

  17. شیخ رشید نے فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی کی درخواست واپس لے لی، ’کسی کا دباؤ نہیں تھا‘

    Sh Rasheed

    فیض آباد دھرنے سے متعلق از خونوٹس فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اپیل کنندہ شیخ رشید احمد نے بھی اپنی درخواست واپس لے لی ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ جب انھوں نے درخواست واپس ہی لینی تھی تو پھر دائر ہی کیوں کی جس پر شیخ رشید نے جواب دیا کچھ غلط فہمیاں ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ نہیں ہو گا کہ اوپر سے حکم آیا ہے تو نظر ثانی دائر کر دی۔۔۔سچ سب کو پتا ہے بولتا کوئی نہیں، کوئی ہمت نہیں کرتا‘۔

    اس پر شیخ رشید کے وکیل کا کہنا تھا کہ آج کل تو سچ بولنا اور ہمت کرنا کچھ زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ چیف جسٹس نے شیخ رشید کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کی بات نہ کریں ہم اس وقت کی بات کر رہے ہیں۔

    چیف جسٹس نے سماعت کے دوران یہ بھی استفسار کیا کہ نظر ثانی درخواستیں اتنا عرصہ کیوں مقرر نہیں ہوئیں، یہ سوال ہم پر بھی اٹھتا ہے اور کیا سپریم کورٹ کو اس وقت کوئی عدالت سے باہر کی قوتیں کنٹرول کر رہی تھی؟

    انھوں نے کہا کہ ’سب سے پہلے ہم خود قابل احتساب ہیں۔۔۔نظر ثانی کی درخواست آ جاتی ہے پھر کئی سال تک لگتی ہی نہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ فیصلے پر عمل نہیں کیا جا رہا کیونکہ نظر ثانی زیر التوا ہے‘۔

    چیف جسٹس نے شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ اب بھی یہ سچ نہیں بولیں گے کہ کس نے نظر ثانی کا کہا تھا، جس پر اپیل کنندہ کا کہنا تھا کہ انھیں نظر ثانی درخواست دائر کرنے کے لیے کسی نے نہیں کہا تھا۔‘

  18. پاکستان سے ریویو معاہدے پر اس ہفتے کے آخر تک اتفاق ہو جائے گا: سربراہ آئی ایم ایف

    جارجیوا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    معاشی اور اقتصادی امور پر رپورٹ کرنے والے خبر رساں ادارے بلومبرگ کے ساتھ انٹرویو میں آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹلینا جیورجیوا کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے ساتھ مذاکرات حتمی مراحل پر پہنچنے کے قریب ہیں۔

    ان کے مطابق ’مجھے امید ہے کہ ریویو معاہدے پر اس ہفتے کے آخر تک اتفاق ہو جائے گا یعنی اب کسی بھی دن ایسا ہو سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستانی حکام اور وزیرِ خزانہ کو اس بات کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے انتہائی مشکل حالات میں اس معاہدے کی پاسداری کی۔‘

    ان سے جب میزبان نے پوچھا کہ پاکستان میں وہ کون سا مسئلہ ہے جو معاہدے کو حتمی شکل دینے میں رکاوٹ بنتا ہے تو انھوں نے کہا کہ ’سب سے بڑا مسئلہ ٹیکس جمع کرنے کا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب 12 فیصد ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اسے کم سے کم 15 فیصد ہونا چاہیے تاکہ آپ اپنی آمدنی کو برقرار رکھ سکیں اور اپنی معیشت کو چلا سکیں۔ اس لیے پاکستان میں جو افراد ٹیکس دے سکتے ہیں، ان سے ٹیکس لینا ضروری ہے۔‘

    آئی ایم ایف کی سربراہ کون ہے؟

    سنہ 2019 سے کرسٹالینا جیورجیوا آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔

    وہ اسسے قبل عالمی بینک کی چیف ایگزیکٹیو تھیں جنھوں نے آئی ایم ایف میں کرسٹینا لیگارڈ کی جگہ لی جو خود اب مرکزی یورپین بینک کی صدر ہیں۔

    کرسٹالینا جیورجیوا بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی پہلی آئی ایم ایف سربراہ ہیں جو یورپی یونین کا سب سے غریب ملک ہے۔

    آئی ایم ایف کے آغاز کے بعد سے عمومی طور پر ادارے کا سربراہ یورپی ہوتا ہے جبکہ عالمی بینک کی صدارت امریکی شہری کے پاس رہتی ہے۔

    دو ہزار انیس میں بطور آئی ایم ایف سربراہ اپنی پہلی سالانہ کانفرنس سے قبل کرسٹالینا جیورجیوا نے خبردار کیا تھا کہ بریگزٹ یورپ اور برطانیہ دونوں کے لیے تکلیف دہ ہو گا۔

  19. لوگ جائیداد بیچ کر بجلی کا بل ادا کر رہے ہیں: نواز شریف کا کوئٹہ میں خطاب

    MNS

    ،تصویر کا ذریعہ@SaniaaAshiq

    پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے ہمشہ ملک کی ترقی کے لیے کام کیا اور گذشتہ پانچ سال میں جو ہوا اس سے ان کا نہیں بلکہ ملک کا نقصان ہوا۔

    کوئٹہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں جس تیزی سے مہنگائی بڑھی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

    ’عوام کے لیے بجلی کا بل دینا مشکل ہوگیا ہے۔ لوگ جائیداد بیچ کر بجلی کا بل ادا کر رہے ہیں‘۔ عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’بے گناہوں کو قتل کر دیا گیا اور وزیراعظم کوئٹہ نہیں آیا اور اپنے پیاروں کی لاشوں سے لپٹ کر رونے والوں کے لیے کہا گیا کہ وہ بلیک میل کر رہے ہیں‘۔

  20. بادی النظر میں چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل کو اوپن ٹرائل نہیں کہا جا سکتا ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف مقدمے کی کارروائی جیل میں چلانے کا عمل روکنے کے بارے میں تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ڈویژن بینچ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل کو اوپن ٹرائل نہیں کہا جا سکتا ہے۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جیل ٹرائل کے لیے پیشگی شرائط پوری کرنے کی کوئی دستاویز ریکارڈ پر نہیں لائی گئی اور اگر ایسی کوئی دستاویز موجود ہے تو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کی جائے۔

    عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اس جیل ٹرائل کی منظوری دی ہے تاہم وہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کی نقل عدالت کے سامنے پیش نہ کر سکے اور وہ سمری بھی نہ دکھا سکے، جس کی بنیاد پر کابینہ نے فیصلہ کیا کہ عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت جیل میں ہو گی۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کیس کے انصاف پر مبنی فیصلے کے لیے مطلوبہ دستاویزات ریکارڈ پر لانا لازم ہے اور انھی دستاویزات کی روشنی میں اپیل کنندہ کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کے قانونی نکتے پر بھی فیصلہ ہونا ہے۔

    عدالت نے حکم نامے میں سائفر مقدمے کی کارروائی پر آئندہ سماعت تک حکم امتناعی جاری کرنے کا بھی کہا ہے۔