سعودی شہزادے کی حماس، اسرائیل اور مغربی ممالک کی مذمت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی شاہی خاندان کے ایک سینیئر رہنما شہزادہ ترکی الفیصل نے اس ہفتے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع پر غیر معمولی تقریر کی ہے۔
یہ تقریر اس بات کا واضح دلیل ہے کہ سعودی عرب کی قیادت اس وقت پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے بارے میں کس قسم کے خیالات رکھتی ہے۔
شہزادہ ترکی سعودی عرب کی بہت معزز سمجھی جانے والی بزرگ شخصیات میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر حماس اور اسرائیل کی سرعام مذمت کی ہے۔
انھوں نے جاری تنازع سے متعلق کہا کہ اس میں کوئی ’ہیرو‘ نہیں ہے صرف ’متاثرین‘ ہی ہیں۔
ہیوسٹن میں واقع امریکہ کی رائس یونیورسٹی سے اپنے خظاب میں شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ گروپ (حماس) کی کارروائیاں اسلام کے منافی ہیں کیونکہ اسلام میں تو عام شہریوں نہ نقصان نہ پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔
شہزادہ ترکی نے حماس کے بعد اسرائیل کی بھی غزہ میں عام فلسطینیوں پر بمباری اور ویسٹ بینک میں فلسطینی بچوں اور خواتین کی گرفتاری کی مذمت کی۔
سعودی شہزادے نے امریکی میڈیا کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ جب امریکی صحافی نے ان سے پوچھا کہ وہ 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے کیے جانے والے بلا اشتعال (یکطرفہ) حملے سے متعلق کیا کہیں گے۔ اس کے جواب میں سعودی شہزادے نے کہا کہ جو اسرائیل نے 75 برس میں فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہے تو اس پر مزید کیا کسی اشتعال کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ فوج کے قبضے سے آزادی کے لیے جدوجہد تمام لوگوں کا حق ہے۔
پرنس ترکی الفیصل نے مغربی سیاستدانوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انھوں نے کہا کہ جب فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلیوں کا قتل ہوتا ہے تو وہ روتے ہیں مگر جب اسرائیل فلسطینیوں کو مارتا ہے تو ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔



