حماس نے 210 افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے، اسرائیل: غزہ پہنچنے والے 20 امدادی سامان کے ٹرکوں میں سے ’ایک تابوتوں سے بھرا ہے‘

مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد رفح کراسنگ کھول دی گئی ہے۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مصر کی سرحد سے امدادی سامان ٹرک لے کر غزہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ سرحد کتنی دیر تک کھلی رہے گی۔ ابھی اسرائیل نے صرف 20 ٹرکوں کو غزہ تک جانے کی اجازت دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. سعودی شہزادے کی حماس، اسرائیل اور مغربی ممالک کی مذمت

    Prince Turkey

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی شاہی خاندان کے ایک سینیئر رہنما شہزادہ ترکی الفیصل نے اس ہفتے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع پر غیر معمولی تقریر کی ہے۔

    یہ تقریر اس بات کا واضح دلیل ہے کہ سعودی عرب کی قیادت اس وقت پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے بارے میں کس قسم کے خیالات رکھتی ہے۔

    شہزادہ ترکی سعودی عرب کی بہت معزز سمجھی جانے والی بزرگ شخصیات میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر حماس اور اسرائیل کی سرعام مذمت کی ہے۔

    انھوں نے جاری تنازع سے متعلق کہا کہ اس میں کوئی ’ہیرو‘ نہیں ہے صرف ’متاثرین‘ ہی ہیں۔

    ہیوسٹن میں واقع امریکہ کی رائس یونیورسٹی سے اپنے خظاب میں شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ گروپ (حماس) کی کارروائیاں اسلام کے منافی ہیں کیونکہ اسلام میں تو عام شہریوں نہ نقصان نہ پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔

    شہزادہ ترکی نے حماس کے بعد اسرائیل کی بھی غزہ میں عام فلسطینیوں پر بمباری اور ویسٹ بینک میں فلسطینی بچوں اور خواتین کی گرفتاری کی مذمت کی۔

    سعودی شہزادے نے امریکی میڈیا کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ جب امریکی صحافی نے ان سے پوچھا کہ وہ 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے کیے جانے والے بلا اشتعال (یکطرفہ) حملے سے متعلق کیا کہیں گے۔ اس کے جواب میں سعودی شہزادے نے کہا کہ جو اسرائیل نے 75 برس میں فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہے تو اس پر مزید کیا کسی اشتعال کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ فوج کے قبضے سے آزادی کے لیے جدوجہد تمام لوگوں کا حق ہے۔

    پرنس ترکی الفیصل نے مغربی سیاستدانوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انھوں نے کہا کہ جب فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلیوں کا قتل ہوتا ہے تو وہ روتے ہیں مگر جب اسرائیل فلسطینیوں کو مارتا ہے تو ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

  2. برطانوی وزیراعظم کی فلسطینی صدر عباس سے ملاقات

    Palestine

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اطلاعات ہیں کہ برطانوی وزیرِ اعظم رشی سونک نے آج مصر کے دورے کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی ہے۔

    سونک کے دفتر نے کہا کہ وزیر اعظم نے ’غزہ میں شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس‘ کا اظہار کیا اور غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سرحد کھولنے کی یقین دہانی کروائی۔

    دونوں رہنماؤں نے حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کی مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ حماس فلسطینی عوام کی نمائندگی نہیں کرتی۔

    تاہم بعد ازاں بی بی سی عربی سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم رشی سونک کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں متعدد رہنماؤں کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کے بعد غزہ میں رفح کراسنگ کا کھول دیا جانا اب ’ناگزیر‘ ہے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت اولین ترجیح‘ غزہ کے لوگوں کو انسانی امداد فراہم کرنا ہے۔

  3. ’حالات نا قابلِ برداشت ہیں مگر ہم پُر اُمید ہیں‘ غزہ سے ایک نوجوان باپ کی کہانی

    Gaza

    38 سالہ ایمن مغامس اپنی اہلیہ اور دو چھوٹے بچوں کے ساتھ شمال میں واقع اپنا گھر چھوڑ کر وسطی غزہ کے علاقے نصرات میں اپنے ایک دوست کے ہاں پناہ لیے ہوئے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شمال مغربی غزہ شہر کے المخبارات میں واقع ان کا گھر ’مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے‘، جس کے بعد سے اب ہر روز خوراک اور صاف پانی کے حصول کے لیے جدوجہد کی جا رہی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ناقابل برداشت ہے، یہ ناقابل برداشت ہے. صورت حال واقعی مشکل ہے۔‘

    لیکن ان سب مُشکلات کے باوجود آج اُن کے پاس ایک خوشی کی خبر ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’میری بیوی بہت اچھی ہیں۔ ہمیں کل پتہ چلا کہ وہ اُمید سے ہیں (حاملہ) ہیں اور ہمیں اُمید ہے کہ ہم آنے والے دنوں کے لیے بہتر انتظام کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مجھے امید ہے کہ یہ ایک بہتر مستقبل کی علامت ہوسکتی ہے۔۔۔ مجھے امید ہے کہ سب اچھا ہوگا۔‘

    جس گھر میں وہ منتقل ہوئے ہیں وہاں تقریبا 70 دیگر لوگ بھی پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہیں۔ وہ سب ایک دوسرے کو زندہ رہنے میں مدد کر رہے ہیں۔

    ایمن کہتے ہیں کہ ’ہم سب ایک ٹیم کے طور پر مل کر کام کر رہے ہیں، کچھ روٹی کے لیے، کچھ پانی کے لیے، کچھ جنریٹر کے لیے، کچھ ایندھن کے لیے، کچھ بجلی کے لیے۔‘

    رات کے وقت ایمن کے بچے اکثر دھماکوں کی آواز سے بیدار ہو جاتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ رات ’بہت خوفناک‘ تھی جس میں ’رات بھر میزائل اور دھماکے‘ ہوتے رہے۔

  4. حماس نے دو امریکی یرغمالی رہا کر دیے، اسرائیلی حکام کی تصدیق

    USA

    ،تصویر کا ذریعہRaanan Family

    اسرائیلی حکام نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دو امریکی یرغمالیوں جیوڈتھ اور نٹالی رانان کو حماس کی جانب سے رہا کر دیا گیا ہے۔

    سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل سے یرغمال بنائی جانے والی ماں بیٹی کیبوتز نہل اوز میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آئی ہوئی تھیں۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فوج کے ایک بریگیڈیئر جنرل نے دیگر سکیورٹی فورسز کے ساتھ انھیں سرحد پر خوش آمدید کہا اور اس وقت وہ ملک کے وسط میں ایک فوجی اڈے پر اپنے خاندان کے لوگوں سے ملنے جا رہی ہیں۔

    خیال رہے کہ تاحال 200 کے قریب افراد حماس کی قید میں ہیں۔