اسلام
آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف چھ مقدمات
میں ضمانت میں توسیع کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
منگل
کو اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج محمد سہیل نے عمران خان کی جانب سے دائر چھ
مقدمات میں ضمانت میں توسیع کی درخواست کی سماعت کی۔
پی
ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے
تو تفتیشی افسران نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان چند مقدمات میں شامل تفتیش نہیں
ہوئے۔
اس
پر عمران خان کے وکیل نے پراسیکیورٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کافی جلدی
ہے بات کرنے کی۔ اس
موقع پر مقامی عدالت کے جج محمد سہیل نے تفتیشی افسران سے استفسار کیا کہ کیا ملزم
عمران خان شامل تفتیش ہوئے ہیں؟
جس
پر پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان مجرم ہیں، جیل میں قید ہیں۔اس پر
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ عمران خان عدالت میں کوئی جان بوجھ کر نہیں غیر حاضر، وہ
اٹک جیل میں موجود قید ہے۔
جج
محمد سہیل نے ریمارکس دیے کہ عمران خان صرف ایک مقدمے میں شامل تفتیش ہوئے دیگر پانچ
میں نہیں ہوئے۔
عمران
خان کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل پر تمام چھ مقدمات میں ایک
ہی نوعیت کا الزام ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے پراسیکیوشن کی گذشتہ سماعت پر شکایت
لگائی تھی۔
انھوں
نے کہا کہ پراسیکیوشن سے شامل تفتیش ہونے کے لیے رابطہ کیا، لیکن کوئی جواب نہیں دیا
گیا۔
انھوں
نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 71 سال تک کوئی کریمینل
ریکارڈ نہیں،ان سے سیاسی انتقام لیا جا رہا۔ سلمان
صفدر کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر چیئرمین تحریک انصاف ضمانتوں کے لیے
عدالتوں کے چکر لگاتے تھے۔
انھوں
نے کہا کہ پولیس جان بوجھ کر عمران خان کو شامل تفتیش نہیں کر رہی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے بعد پندرہ منٹ میں عمران خان کو گرفتار
کر لیا گیا۔
جج
نے استفسار کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف شامل تفتیش نہیں ہوئے، کیا جواب دیں گے؟ اس
پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف جان بوجھ پر آج عدالت سے غیر
حاضر نہیں ہیں۔ انھوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کر دی۔
جس
پر جج محمد سہیل نے ریمارکس دیے بس ٹھیک ہے، یعنی چیرمین پی ٹی آئی اٹک جیل میں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’وکیل صفائی کے مطابق غیر معمولی حالات کے باعث چیرمین تحریک
انصاف آج پیش نہیں ہو سکتے۔‘
سماعت
کے دوران جج محمد سہیل نے استفسار کیا کہ اس مقدمے کی شریک ملزم بشریٰ بی بی شاملِ
تفتیش ہو چکی ہیں؟
انھوں
نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو شاملِ تفتیش ہونے کا آخری موقع دیا جا رہا ہے۔ جس
پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بشریٰ بی بی کمرۂ عدالت میں ہی شاملِ تفتیش ہونے کو
تیار ہیں۔
اس
پر جج نے تفتیشی افسران کو بشریٰ بی بی کو شامل تفتیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا
کہ تفتیشی افسر کدھر ہیں؟ آئی جی اسلام آباد کے نوٹس میں لائیں تفتیشی افسر عدالت
میں نہیں ہیں۔
عدالت
نے پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھا سے استفسار کیا کہ بشریٰ بی بی کو شاملِ تفتیش
ہونے کا نوٹس بھیجا؟ جس پر وکیل نعیم پنجوتھا کا کہنا تھا کہ انھیں واٹس ایپ پر دو
ہفتے قبل نوٹس بھیجا تھا۔
جج
نے ریمارکس دیے کہ ’دو ہفتے قبل بھیجا، دو ہفتے تو کافی وقت ہوتا ہے، بشریٰ بی بی
شاملِ تفتیش ہو جائیں، اچھا نہیں لگتا ضمانتین خارج کردی جائیں۔
اس
پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بشریٰ بی بی پردہ نشیں خاتون ہیں، تفتیشی افسر ابھی
شاملِ تفتیش کر لیں۔ عدالت
نے کہا کہ تفتیشی افسر کے ساتھ رابطہ کر لیں، شاملِ تفتیش ہو جائیں۔
اس
کے بعد بشری بی بی کی جانب سے شامل تفتیش ہونے کی یقین دہانی کے بعد عدالت نے
تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں بشریٰ بی بی کی ضمانت میں سات ستمبر تک توسیع کر دی۔