پنجاب پولیس کے سربراہ ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں مسیحی برادری پر حملہ آور مشتعل مظاہرین پر اس لیے فائرنگ یا آنسو گیس کی شیلنگ نہیں کی گئی کیونکہ ’خدانخواستہ کوئی ہلاکت ہوتی تو ہنگامہ بہت بڑھ سکتا تھا۔‘
بی بی سی سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ایک منظم منصوبے کے تحت جڑانوالہ میں قرآن کی بے حرمتی اور پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی گئی جسے مسلمان برداشت نہیں کرتے۔
انھوں نے کہا کہ توہین مذہب کے دونوں مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مسیحی برادری کے گھروں اور عبادت گاہوں پر حملوں میں ملوث 126 افراد کو واقعے کی رات تک ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
آئی جی پنجاب نے بتایا کہ مبینہ توہین مذہب کے بعد علاقے میں اشتعال انگیزی پیدا ہوئی اور وہاں ’پانچ سے سات ہزار لوگ جمع ہوگئے تھے۔‘
’(اس واقعے سے) جو اثرات پورے پنجاب میں آسکتے تھے، اس سے بہت کم اثرات آئے۔ ہم نے صورتحال پر قابو پایا۔۔۔ حکومت پنجاب ان عمارتوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں جنھیں نقصان پہنچا۔‘
عثمان نوار نے بتایا کہ توہین مذہب کے بعض واقعات ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی طرف سے ہوجاتے ہیں مگر ’اس واقعے میں (نوٹ) بڑی احتیاط سے لکھا گیا، نماز کے اوقات میں اسے لگایا گیا۔ اتفاق سے وہی بندہ وہاں پہنچ جاتا ہے جو ایف آئی آر میں نامزد ہے۔ ہم یہ ساری چیزیں دیکھ رہے ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی نے سازش کی۔‘
نقصان کی تفصیل دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جڑانوالہ کے 17 بڑے گرجا گھروں پر حملے ہوئے جن میں سے تین مرکزی چرچ تھے، کل چوراسی گھر جلے، ان میں چھوٹے ایک، ایک کمروں کے گھر بھی شامل ہیں۔
’مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کرتے تو ہنگامہ بہت بڑھ سکتا تھا‘
اس سوال پر کہ پولیس نے جڑانوالہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے یا انھیں روکنے کی کوشش کیوں نہ کی، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ’ہم نے پانچ، چھ ہزار کا مجمع منتشر کیا۔ ورنہ نقصان بہت بڑھ سکتا تھا۔
’اگر ہم شروع میں ہی فائرنگ کر دیتے اور کوئی فوت ہوجاتا، یا ان کی طرف سے پُرتشدد کارروائیاں بڑھتیں تو آگ بہت پھیل جاتی۔ ہم نے پہلی رات ہی 126 افراد کو گرفتار کیا۔ آنسو گیس وہاں چلایا جہاں قبرستانوں پر حملے ہو رہے تھے، دیواروں کو توڑا جا رہا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ پولیس مقامی مذہبی رہنماؤں کی مدد سے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ’اگر اسی وقت لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جاتی اور خدانخواستہ کوئی ہلاکت ہوتی تو ہنگامہ بہت بڑھ سکتا تھا۔‘
عثمان انور نے کہا کہ جڑانوالہ میں جہاں ایک طرف چھوٹی چھوٹی گلیوں میں حملے چل رہے تھی وہیں پولیس ’(علما کے) گروہ سے مذاکرات کر رہی تھی جنھوں نے لوگوں کو سمجھانے کا وعدہ کیا۔‘
ان کی رائے میں پولیس وہاں ڈیو ایکشن نہیں لے سکتے تھی اور سیاق و سباق میں یہ بات سمجھی جا سکتی ہے۔
اس سوال پر کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نقصان کم رکھنے کے لیے اس ہنگامہ آرائی کی پیشگوئی کیوں نہ کر سکے، عثمان انور نے کہا یہ واقعہ صبح ہوا جس کی پیشگوئی ممکن نہ تھی۔
’قرآن کے اوراق صبح برآمد ہوئے۔ لوگ صبح اکٹھے ہوئے۔ دوپہر 12 بجے تک پنجاب کے ضلع بھر کی ایکشن کمیٹیاں حرکت میں آچکی تھیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’دو بجے تک تمام انٹیلیجنس ادارے اپنے اجلاس کر چکے تھے۔ ساڑھے 12 بجے تک ہم پنجاب بھر کے گرجا گھروں کو تحفظ فراہم کر چکے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ملتان میں چرچ اور پادری پر حملہ روکا گیا جبکہ راولپنڈی میں بھی ایک حملہ روکا گیا۔ ’اگر دو، تین دن پرانا واقعہ ہوتا تو آپ یہ کہہ سکتے تھے۔‘
عثمان انور نے ان اسلامی علما کو سراہا جنھوں نے مشتعل مظاہرین کو روکنے میں مدد کی۔ ’مذہبی رہنماؤں نے لاہور اور دیگر اضلاع میں ہمارا ساتھ دیا، جڑانوالہ میں بھی وہ ہمارے ساتھ ملے اور لوگوں کو سمجھایا۔
’جب مشتعل ہجوم اکٹھا ہوتا ہے تو اس کی طاقت پانچ ہزار بندے کی ہوتی ہے اور دماغ ایک بندے کا ہوتا ہے۔ اس ایک بندے نے ہمارا ساتھ دیا۔ ٹولیاں نکل پڑتی ہیں، ان کے پاس وائر لیس نہیں ہوتے کہ انھیں احکامات دیے جاسکیں۔ ہمارے علما نے ہماری ہی کوششوں کی مدد سے اپنا کردار ادا کیا اور یہ پھیلا نہیں۔‘
’ماضی میں کوئی واقعہ سات، آٹھ لاشوں کے بغیر نہیں رُکتا تھا۔ (اس واقعے میں) ایک بھی بندہ زخمی ہوا؟ ایک لاش گری؟ نہیں نا۔ اس لیے کہ ادارے متحرک تھے۔‘
تو کیا ایسی کوئی حکمت عملی بنائی جاسکتی کہ مستقبل میں ایسے واقعات روکے جاسکیں؟ عثمان انور نے کہا کہ پولیس تمام سازش کو بے نقاب کرے گی اور لوگوں کو علما کی مدد سے سمجھائے گی کہ ’یہ ہمارے بھائی ہیں۔ ہم پر ان کی حفاظت فرض ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ ’سوشل میڈیا کا دور ہے، مساجد میں بعد میں اعلان ہوتا ہے، پہلے چیز سوشل میڈیا پر آجاتی ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے آپ پتھر پھینکیں اور لہریں بنتی جائیں۔‘