آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پیپلز پارٹی کا الیکشن کمیشن سے نئے انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کے اعلان کا مطالبہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات آئین کے اندر دی گئی مدت کے اندر ہونا چاہیئں دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی سزا معطل کر دی ہے۔
لائیو کوریج
ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر: ایمان مزاری اور علی وزیر تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔ تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
21 اگست کی خبریں جاننے لے لیے یہاں کلک کریں
جڑانوالہ: ’ہمارا چرچ جلایا گیا، اب سڑکوں پر ہی عبادت کریں گے‘
جڑانوالہ: ’باجی ہر کوئی فوٹو بنوانے آتا ہے اور چلا جاتا ہے، ہمارے گھروں کا کیا ہو گا‘
بلوچستان کے مینگل قبیلے کے دو گروہوں میں پھر جھڑپوں کا آغاز، چھ روز سے کاروباری مراکز بند, محمد کاظم بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں مینگل قبیلے کے دو متحارب گروہوں میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوبارہ جھڑپوں کے باعث چھ روز سے وڈھ شہر میں تمام کاروباری مراکز بند ہیں۔
علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شہری اقبال مینگل نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ کاروباری مراکز کے بند ہونے سے غذائی قلت پیدا ہونے اور کسی نقصان کے خدشے کے باعث شہر کی آبادی کی اکثریت نقل مکانی پر مجبور ہوئی ہے۔
ایک ہندو تاجر کا کہنا تھا کہ نقل مکانی کرنے والوں میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
وڈھ میں جنگ بندی کا خاتمہ 15 اگست کو ہوا تھا، جس کے بعد سے فریقین کا ایک دوسرے خلاف وقفے وقفے سے چھوٹے اور بڑے اسلحے سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
وڈھ کے تاجر رہنما مجیب مینگل نے بتایا کہ وڈھ کے تاجر اور عوام چاہتے ہیں کہ علاقے میں امن ہو اور وہ اپنی زندگی سکون کے ساتھ گزار سکیں۔
وڈھ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے چھ روز کی جھڑپوں میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ وڈھ شہر میں زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ وڈھ میں حالیہ کشیدہ صورتحال گذشتہ ماہ شروع ہوئی تھی لیکن چیف آف ساراوان نواب اسلم رئیسانی کی کوششوں سے فریقین کے درمیان جنگ بندی ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود 15 اگست سے فریقین کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
رابطہ کرنے پر وڈھ شہر میں ایک ہندو تاجر نے بتایا کہ شہر میں جو صورتحال پیدا ہوگئی ہے اس کے باعث ہندو برادری کے زیادہ تر لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وڈھ شہر میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد تین سو کے لگ بھگ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ خضدار شہر یا حب کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے جبکہ اس وقت ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے صرف سات سے آٹھ خاندان وڈھ میں مقیم ہیں۔
ہندو تاجر نے کہا کہ وڈھ شہر میں کاروباری سرگرمیاں حالیہ کشیدگی کے بعد مجموعی طور پر متاثر ہیں۔
جنگ بندی کے بعد دس سے12 دن تک دکانیں کھل گئی تھیں لیکن جنگ بندی کے خاتمے کے بعد تمام کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔ ہندو تاجر نے بتایا کاروباری مراکز کے بند ہونے سے وہ لوگ زیادہ متاثر ہوئے ہیں جن کا انحصار بازار میں روزانہ اجرت پر تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بازار کھلے تھے تو روزانہ اجرت کرنے والے اپنے خاندانوں کے لیے ایک دو کلو آٹا یا کچھ اور لے جاسکتے تھے لیکن اب وہ اس سے محروم ہوگئے ہیں۔
تاجر رہنما مجیب مینگل نے کہا کہ وڈھ میں حالات خراب ہیں اور یہاں کے تاجر اور عام لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وڈھ میں صورتحال معمول پر آجائے۔
ان کا کہنا تھا کہ وڈھ میں جن وجوہات کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے حکومت اور انتظامیہ کو چائیے کہ وہ ان کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تا کہ لوگ امن سے رہیں۔ اغوا برائے تاوان، بھتوں کی وصولی اور بدامنی کی دیگر وجوہات کی وجہ سے عام لوگ اور تاجر دونوں پریشان تھے۔
ایک شہری اقبال مینگل نے کہا کہ وڈھ شہر میں معمولات زندگی مفلوج ہیں کیونکہ نہ صرف کاروباری مراکز بند ہیں بلکہ چھ روز سے جاری لڑائی سے تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب فائرنگ کا تبادلہ شدید ہوتا ہے تو کوئٹہ اور کراچی کے درمیان شاہراہ بھی بند ہوتی ہے۔ وڈھ میں ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وڈھ میں صورتحال کشیدہ ہے۔
انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ چھ روز کے دوران دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے تاہم انھوں نے بتایا کہ ہلاکتیں اس سے زیادہ ہوسکتی ہیں۔
اس اہلکار کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے چار افراد زخمی بھی ہوئے جن میں شاہراہ سے گزرنے والی ایک گاڑی کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن زخمیوں کی تصدیق ہوئی ہے وہ راہگیر تھے اور اس کا تنازع سے تعلق نہیں تھا۔
رابطہ کرنے پر خضدار میں ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ تاحال ضلعی انتظامیہ کو کھانے پینے کی اشیا کی قلت کے حوالے سے کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا چونکہ وڈھ میں دو نوں گروہوں کے درمیان تنازع ایک قبائلی مسئلہ ہے، جس کو قبائلی سطح پر حل کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔
کیا صدر کے دستخط کے بغیر کوئی بل قانون بن سکتا ہے؟
تحریک انصاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی: زلفی بخاری, فرحت جاوید بی بی سی اردو
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان زلفی بخاری نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی۔
ان کے مطابق ’ایک تو یہ ایکٹ بذات خود ایک آمرانہ قانون ہے جو اگر آج نہیں تو مستقبل میں غلط استعمال ہو گا اور کسی کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ مگر اب تو یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ اس کو قانون بنانے کے لیے قانونی راستہ ہی اختیار نہیں کیا گیا۔‘
ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ہم اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے کہ اسے روکا جائے۔
انھوں نے نگراں وزیر اطلاعات اور وزیر قانون کی پریس کانفرنس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وزارت اطلاعات نے خود تسلیم کیا ہے کہ بل پر صدر کے دستخط نہیں تھے۔
زلفی بخاری، جو عمران خان کے دورِ حکومت میں وفاقی وزیر بھی رہے ہیں، نے پی ٹی آئی کے لیڈران کی گرفتاری سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کی سینیئر قیادت اور کارکنان دونوں کو ہی دھمکیوں کا سامنا ہے، ’ہم سب اس وقت چھپے ہوئے ہیں کیونکہ ہمیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔‘
صدرمملکت کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی: نگراں وزیراطلاعات
نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے نگراں وفاقی وزیرقانون کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت صدر کے دفتر میں جا کر ان کا ریکارڈ قبضے میں نہیں لے سکتے اور ہم قطعاً ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گے۔
ان کے مطابق صدر مملکت کا پورا احترام ہے۔
وزیراطلاعات نے کہا کہ ’صدرمملکت اگر دفتر میں آ جائیں تو پھر ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی ہے۔ انھیں یہ قانونی تحفظ حاصل ہے۔
نگراں وزیرقانون سے جب اس سوال پر تبصرہ کرنے کا کہا گیا تو انھوں نے بتایا کہ وزیراطلاعات نے جو کہا ہے انھیں اس سے اتفاق ہے۔
صدر نے 10 دن کی آئینی مدت میں کوئی راستہ استعمال نہیں کیا، دونوں بلز قانون بن گئے ہیں: نگراں وزیر قانون
نگراں وزیرقانون احمد عرفان اسلم نے پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا ہے آئین کے آرٹیکل 75 میں صدرمملکت کو دس دن کی مدت دی گئی ہے۔ اگر وہ کوئی رستہ نہیں لیتے تو پھر یہ خود بخود قانون عمل میں آ جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اب یہ قانون نوٹیفائی ہو گیا ہے۔‘
نگراں وزیرقانون کے مطابق اگر صدرمملکت کوئی آبزرویشن دیتے تو پھر ایسی صورت میں ان بلز کا پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہوتا۔
نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ صدر مملکت نے جو اعتراض لگایا ہے کہ ان وجوہات کی بنیاد پر انھوں نے یہ بلز واپس بھجوائے ہیں۔ تو اگر یہی اعتراضات ان بلز پر لگا کر واپس بھیج سکتے تھے، جیسا کہ وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں۔
ان کے مطابق دس دن کا قانونی وقت گزرنے کے بعد صدر نے جو ٹویٹ کیا ہے وہ ان کی مرضی ہے۔
صدرمملکت نے پہلی بار دونوں بلز پر کوئی قانونی رستہ اختیار نہیں کیا ہے: نگراں وزیرقانون
نگراں وزیرقانون احمد عرفان اسلم نے نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 جولائی کو آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل سینیٹ سے پاس ہوا اور 31 جولائی کو قومی اسمبلی نے اس کی منظوری دی، جس کے بعد اسے دو اگست کو ایوان صدر کو موصول ہوا۔
نگراں وزیرقانون کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیمی بل یکم اگست کو قومی اسمبلی نے پاس کیا اور پھر سینیٹ نے کچھ آبزرویشن کے ساتھ اسے دوبارہ قومی اسمبلی بھیجا جسے 7 اگست کو دوبارہ پاس کر کے صدر کو بھیج دیا جو انھیں 8 اگست کو موصول ہوا۔
ان کے مطابق صدرمملکت کے پاس دس دن کا عرصہ موجود تھا کہ وہ یا ان بلز کو منظور کرتے یا پھر آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت اپنی آبزرویشن کے ساتھ دوبارہ ان بلز کو پارلیمنٹ بھیج دیتے۔ ان کے مطابق صدرمملکت کے پاس کوئی تیسرا آپشن موجود نہیں ہے۔
نگراں وزیرقانون کے مطابق صدرمملکت کی طرف سے کبھی پہلے ایسا نہیں ہوا کہ صدر کی طرف سے بغیر دستخط یا آبزرویشن کے کسی بل کو واپس بھیجا گیا ہو۔ ان کے مطابق یہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ صدر نے نہ تو ان بلز کی منظوری دی ہے اور ان پر کسی قسم کی کوئی آبزرویشن دی ہے کہ ان پر دوبارہ پارلیمنٹ غور کرتی۔
وزیرقانون نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ نگراں حکومت کا مینڈیٹ سیاسی نہیں ہے اور وہ صدرمملکت کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے ہیں۔
صدر کے ٹویٹ سے کسی قسم کا کوئی بھونچال نہیں آیا ہے: نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی
نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے نگراں وزیرقانون کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کی ٹویٹ سے کسی قسم کا کوئی بھونچال نہیں آیا ہے۔
ان کے مطابق آئین کا آرٹیکل 75 اس حوالے سے بہت واضح ہے۔ ان کے مطابق انھوں نے اس معاملے پر نگراں وزیرقانون احمد عرفان اسلم کو زحمت دی ہے کہ وہ صدر مملکت کے اس ٹویٹ کی وضاحت کریں۔
آئین کی کتاب اور جوشیلے لونڈے: وسعت اللہ خان کا کالم
صدر عارف علوی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار نے صدر عارف علوی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ ’آئین کے مطابق زبانی حکم کو حکم تصور نہیں کیا جاتا۔۔۔ اگر 10 روز میں صدر اعتراضات کے ساتھ بل واپس نہیں بھیجتے تو یہ منظور تصور کیا جاتا ہے۔‘
’علوی صاحب کو اعتراضات کے ساتھ بل واپس بھیجنے کا تحریری یا ریکارڈڈ ثبوت دینا ہوگا۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ’اخلاقی تقاضہ یہی ہے کہ عارف علوی مستعفی ہوں کیونکہ وہ اپنا دفتر چلانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔‘ ان کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد محض حمایت حاصل کرنا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جس صدرکو نہیں پتہ کہ ایوان صدر میں کیا ہو رہا ہے وہ عہدے پر رہنے کا اہل ہی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’صدر بیان دینے، معافی مانگنے کے بجائے بتائیں ان افسروں کے خلاف کیا کارروائی کی۔‘
سابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ وہ (صدرمملکت) یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ناک کے نیچے بلز پرکوئی اور دستخط کرتا ہے؟ صدر کی وضاحت ان کے صدارتی منصب سنبھالنے کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے، اگر ایسا ہی ہے تو صدر کو اس عہدے سے فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے، اگر آپ کا عملہ آپ کے کہنے میں نہیں تو آپ صدارتی منصب چھوڑ دیں۔
تاہم پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما فرحت اللہ بابر نے صدرمملکت عارف علوی کے مؤقف کو دلیرانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 100 لفظوں سے بھی کم لکھ کر صدر مملکت نے جوہری دھماکہ کر دیا ہے جس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔
صدرمملکت نے قانونی عمل میں جان بوجھ کر تاخیر کی، انھیں اپنے کیے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے: وفاقی وزارت قانون
وزارت قانون نے صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ٹویٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایک پریس ریلیز میں وزارت نے کہا ہے کہ جب کوئی بل صدر مملکت کو بھیجا جاتا ہے تو آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت ان کے پاس دو آپشن موجود ہوتے ہیں۔ یا تو وہ اس بل کو منظور کر دیں یا پھر اسے اپنی آبزرویشن کے ساتھ پارلیمنٹ کو واپس بھیج دیں۔
وزارت کے مطابق آئین کے آرٹیکل 75 میں کسی تیسرے آپشن کی بات نہیں کی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق اس معاملے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ صدر مملکت نے جان بوجھ کر ان بلز کو منظور کرنے میں بامقصد تاخیر کی۔
ان بلز کو بغیر آبزرویشن کے ہی پارلیمنٹ واپس بھیجنے کا آئین میں کوئی جواز نہیں دیا گیا ہے۔
وزارت قانون کے مطابق اگر صدر کی کوئی آبزرویشن ہوتیں تو وہ ان بلز کو اپنی آبزرویشنز کے ساتھ پارلیمنٹ کو واپس بھیج سکتے تھے، جس طرح وہ ماضی میں کرتے آئے ہیں۔ وزارت کے مطابق صدر مملکت اس متعلق پریس ریلیز بھی جاری کر سکتے تھے۔
وزارت قانون کے مطابق یہ تشویشناک پہلو ہے کہ صدر مملکت نے اپنے ہی حکام کی ساکھ کو مجروح کرنے کا رستہ چنا۔ وزارت قانون کے مطابق صدر مملکت کو اپنے کیے کی ذمہ داری خود ہی قبول کر لینی چائیے۔
ایمان مزاری اور علی وزیر کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا
وکیل اور سماجی رہنما ایمان مزاری کو اتوار کی صبح اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔
ایمان مزاری اور سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کی دوسری ایف آئی آر بھی عدالت کے سامنے پیش کی گئی، جس پر عدالت نے علی وزیر اور ایمان مزاری کو دوبارہ عدالت پیش کرنے کی ہدایت کی۔
دوسرے مقدمے پر سماعت کے بعد عدالت نے ایمان مزاری اور علی وزیر کے خلاف درج دوسری ایف آئی آر میں بھی فیصلہ محفوظ کرلیا۔
دوران سماعت جج نے ایمان مزاری کے وکیل سے استفسار کیا کہ ’آپ دوسری ایف آئی آر سے متعلق کیا کہیں گے۔‘
وکیل نے جواب دیا کہ ’ایک الزام میں دو مقدمے درج کیے گئے ہیں، ہمیں پتہ ہے کونسی سٹیج چل رہی ہے۔ اس مقدمے میں سرکاری وکیل نے کہا کہ انھوں (ایمان مزاری) نے سٹیج پر کھڑے ہوکر اداروں کے خلاف بیانات دیے ہیں۔
ایمان مزاری اور علی وزیر کا جسمانی ریمانڈ ہو گا یا نہیں ؟عدالت کے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
عدالت کی شیریں مزاری اور ان کے گارڈ کا موبائل واپس کرنے کی ہدایت
جب ایمان مزاری کو عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کی والدہ اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری بھی ان کے ساتھ موجود تھیں۔ وہ جج کے سامنے روسٹرم پر آئیں اور کہا کہ ’میں مقدمے میں نامزد نہیں ہوں، میرا موبائل بھی چھینا گیا۔‘
شیریں مزاری نے عدالت کو مزید بتایا کہ ’میرے گھر کے سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے گئے ہیں۔ میں اس کے بعد خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہوں۔
جج نے شیریں مزاری سے کہا کہ ’آپ متعلقہ فورم پر رجوع کریں۔ اس کے بعد جج نے پولیس اہلکار سے کہا کہ ’تفتیشی صاحب اگر آپ کو ضرورت نہیں ہے تو ان کے موبائل واپس کریں۔‘
بریکنگ, ’میرا عملہ میرے حکم کے خلاف گیا‘ صدر کی آرمی ایکٹ، آفیشل سیکرٹس ایکٹ ترامیم پر دستخط کرنے کی تردید
صدر عارف علوی نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط کرنے کی تردید کی ہے۔
ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’میں اللّٰہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔ میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انھیں غیر مؤثر بنایا جا سکے۔
’میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس جا چکے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ وہ جا چکے ہیں۔ تاہم مجھے آج پتہ چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا۔ اللہ سب جانتا ہے، وہ انشا اللہ معاف کر دے گا۔ لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے۔‘
پاکستان کے سینیٹ اور قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ 1952 میں کی گئی ترامیم پر مبنی بِل کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا جس میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ کوئی بھی شخص سرکاری حیثیت میں حاصل کی گئی ایسی معلومات، جو ملکی مفاد اور سلامتی کے لیے نقصان دہ بن سکتی ہوں، کو ظاہر کرتا ہے یا اسے ظاہر کرنے کا سبب بنتا ہے، اسے پانچ سال تک قید بامشقت کی سزا دی جا سکے گی۔
اس میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ جو فوجی افسر دوران سروس ایسے عہدے پر فائز رہا ہو جو آرمی ایکٹ کے تحت آتا ہو اور جسے ’حساس‘ قرار دیا گیا ہے وہ اپنی ریٹائرمنٹ، یا مستعفی ہونے، یا پھر برطرفی کے پانچ سال مکمل ہونے تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔
دوسری طرف آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل بھی دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر کو بھجوایا گیا تھا۔ اُس وقت کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ اس بل میں انٹیلیجنس اداروں کی جانب سے شہریوں کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے کی شق حذف کر دی گئی ہے۔
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے کہا ہے کہ صدرِ مملکت کی ٹویٹ ’ہر لحاظ سے غیرمعمولی، تشویشناک اور ناقابلِ تصوّر ہے جس سے ’پوری قوم میں بے چینی اور اضطراب کی سنگین لہر نے جنم لیا ہے۔
پارٹی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’صدرِمملکت کی ٹویٹ نے ریاستی نظم میں اوپر سے لے کر نیچے تک پھیلے مہلک ترین انفیکشن کو قوم کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ صدرِمملکت کی ٹویٹ کے مندرجات کا ہر زاویے اور ہر پہلو سے جائزہ لے رہے ہیں۔۔۔ مفصل جائزے کے بعد اپنا ردعمل قوم کے سامنے رکھیں گے۔‘
بریکنگ, شاہ محمود قریشی ایک دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں
اسلام آباد کے ڈیوٹی مجسٹریٹ نے سائفر سے متعلق مقدمے میں سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ایک دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا ہے۔
عدالت نے ایف آئی اے حکام سے کہا ہے کہ وہ کل ملزم کو متعلقہ عدالت میں پیش کریں۔ اتوار کو پاکستان تحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز میں ڈیوٹی جج احتشام عالم کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
شاہ محمود قریشی کو گذشتہ روز اسلام آباد میں سائفر گمشدگی کے معاملے پر درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ایف آئی آر 15 اگست کو درج کی گئی تھی اور اس کے متن کے مطابق انھوں نے ’سائفر میں موجود اطلاعات غیر مجاز افراد تک پہنچائیں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔‘
ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ ’عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے مذموم مقاصد اور ذاتی فائدے کے لیے حقائق کو مسخ کیا اور دونوں نے ریاست کے مفادات کو خطرے میں ڈالا اور مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے سائفر کے مندرجات کے غلط استعمال کی سازش کی گئی۔‘
پنڈی بھٹیاں بس حادثہ: ’بھتیجی کی کال آئی حادثہ ہو گیا، جب وہاں پہنچا تو آگ ہی آگ تھی، ایک قیامت تھی‘
بریکنگ, سائفر گمشدگی کا معاملہ: پی ٹی آئی کا اسد عمر کی گرفتاری کا دعویٰ، ایف آئی اے کی تردید
پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی سائفر گمشدگی کے معاملے میں اسلام آباد سے گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایف آئی اے نے انھیں گرفتار کرنے کی تردید کی ہے۔
پی ٹی آئی نے اسد عمر کو اسلام آباد سے گرفتار کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایف آئی اے ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے اسد عمر کی گرفتاری کی تردید کی ہے۔
یاد رہے گذشتہ روز پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جنھیں آج مقامی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔