کوئٹہ میں وکیل کے قتل کے معاملے پر عمران خان سپریم کورٹ کے سامنے ذاتی حیثیت میں طلب

کوئٹہ میں وکیل کے قتل کے مقدمے میں نامزدگی کے خلاف جمع کروائی گئی درخواست پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل چیئرمین پی ٹی آئی لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ریلیف لینے کے لیے درخواست گزار کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوتا ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. اسلام آباد کی مقامی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت قرار دے دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت قرار دے دیا ہے۔

    سول جج قدرت اللہ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بیس جولائی کیلئے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    عدالت نے گزشتہ روز درخواست گزار محمد حنیف کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    ان کے وکیل رضوان عباسی نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ بشریٰ بی بی کیساتھ چیئرمین پی ٹی آئی کا نکاح دوران عدت ہوا۔

    ان کا موقف تھا کہ نکاح لاہور میں ہوا لیکن دونوں بنی گالا اسلام آباد میں رہائش پذیر تھے۔

    رضوان عباسی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ قانون کے مطابق اسلام آباد اور لاہور میں سے کسی بھی شہر میں درخواست قابل سماعت قرار دی جا سکتی ہے۔

    وکیل رضوان عباسی نے غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت قرار دینے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

  2. آج جانے والے عوام کا سامنا نہیں کرسکیں گے، عوام الیکشن میں اپنے ووٹ سے بدلہ لیں گے: علی امین گنڈا پور

    علی امین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پرویزخٹک کی جانب سے نئی جماعت کے اعلان پر ترجمان پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جاری ردِ عمل میں کہا گیا ہے کہ ’مون سون جاری ہے اور ملک میں ساون کے گھاس کی طرح سیاسی جماعتیں اُگ رہی ہیں اور ملک میں جمہوریت کی کھڑی فصل کو 14 جماعتی ٹڈی دَل سے تباہ کرکے سیاست کو جھاڑ جھنکار سے آباد کرنے کی کوشش جاری ہے۔‘

    ترجمان پاکستان تحریک انصاف کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ پنجاب میں ’استحکام‘ پارٹی کی طرح خیبرپختونخوا میں ’پارلیمنٹیرین‘ نامی پارٹی بھی ناکام ہوجائے گی۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ملکی سیاست طرح طرح کے رنگوں سے نکل کر سیاہ و سفید میں ڈھل چکی ہے‘

    ’قوم یک زبان، ہم آواز اور یکجا ہوکر پوری یکسوئی سے آئین و قانون کی حکمرانی اور حقیقی آزادی کا پرچم تھامنے والے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

    ’آج جانے والے عوام کا سامنا نہیں کرسکیں گے‘

    دوسری جانب تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا کے صدر علی امین گنڈا پور کا پرویز خٹک کی نئی پارٹی کے قیام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پرویز خٹک کی قیادت میں بے ضمیروں کے ٹولے کی عوام میں کوئی حیثیت نہیں۔ ‘

    ان کا کہنا تھا ’تحریک انصاف بھرپور مقابلہ کرے گی اور عوام کی سپورٹ سے الیکشن جیتے گی۔ آج جو لوگ نئی پارٹی کے قیام پر خوشی منا رہے ہیں یہ ان کی وقتی خوشیاں ہیں۔ آنے والا دور تحریک انصاف کا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’تحریک انصاف سے آج بزدلوں کا صفایا ہوگیا۔ آج جانے والے عوام کا سامنا نہیں کرسکیں گے۔ عوام ان کو ائینہ دکھائے گی۔‘

    علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ’آج یہ میڈیا سے چھپ کر آئے الیکشن میں عوام سے چھپیں گے۔ تحریک انصاف چھوڑنے والے اپنے زور بازو پر کونسلر کی سیٹ بھی نہیں جیت سکتے۔‘

    انھوں نہ کہا کہ ’عمران خان کی وجہ سے یہ لوگ اسمبلی پہنچے آج ان لوگوں نے احسان فراموشی کی۔ عوام الیکشن میں اپنے ووٹ سے بدلہ لے گی۔ تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی سیاست میں ایک حقیقت ہے۔ ‘

  3. آپ غلط روایت ڈال رہے ہیں، جو ریاست کرتی ہے وہ بھگتی بھی ہے: جسٹس علی باقر نجفی

    پرویز الہی

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

    لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کی 30 روز نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس علی باقر نجفی نے مقدمے کی سماعت کی۔

    پرویز الہی کے وکیل عامر سعید راں نے دلائل کا آغاز کتے ہوئے کہا کہ پرویز الہی کے خلاف جتنے بھی مقدمات تھے سب میں ضمانت ہوچکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’بدنیتی کے بنیاد پر پرویز الہی کے نظر بندی کے احکامات جاری کردیے گئے، 14 جولائی کو تمام مقدمات کے ضمانتی مچلکے جمع کرا دیے تھے لیکن اس کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا۔!

    پرویز الہی کے وکیل عامر سعید کا کہنا تھا ’نظری بندی کے احکامات میں لکھا کہ پرویز الہی امن و امان خراب کرسکتے ہیں۔‘

    انھوں نے سوال کیا کہ ’پرویز الہی کی گرفتاری سے آج تک کتنا امن و امان خراب ہوا ہے ۔ پرویز الہی بزرگ ہیں اور بیماری ہیںپھر بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔‘

    جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ کو نہیں پتہ کہ پرویز الہی کو کیوں پکڑا ہے۔‘

    عدالت نے پنجاب حکومت سے وکیل سے استفسار کیا کہ ’ آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اچھا نہیں کر رہے ، آپ غلط روایت ڈال رہے ہیں۔‘

    جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ ’جو ریاست کرتی ہے وہ بھگتی بھی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’الزامات کے علاوہ نظر بند رکھنے کےلیےآپ کے پاس شواہد بھی موجود ہونے چاہیے۔‘

    عدالت نے پرویز الہی کے وکیل سے استفسار کیا کہ ’کیا آپ نے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی ہے‘ ہم پنجاب حکومت کو کہہ دیتے ہیں وہ آپ کی درخواست کو سن کر فیصلہ کردیں۔‘

    عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ’ بتائیے آپ کتنے روز میں ان کی اپیل پر فیصلہ کریں گے۔‘

    سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ ’ہم دس روز میں ان کی درخواست کا فیصلہ کردیں گے‘۔

    اس پر جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا ’یعنی اپنے چوہدری صاحب رگڑا لگانا ہی لگانا ہے۔ ‘

    پرویز الٰہی کے وکیل نے نظر بندی کے خلاف درخواست واپس لے لی۔ جس کے بع د جسٹس علی باقر نجفی نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

  4. پرویز خٹک کی قیادت میں نئی سیاسی جماعت ’پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹرین‘ کا اعلان

    پرویز خٹک

    پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما پرویز خٹک نے پشاور کے ایک نجی شادی ہال میں نئی سیاسی جماعت کا اعلان کیا ہے لیکن اس میں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی جماعت کے لیے پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹرینز کا نام تجویز کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پرویز خٹک کو کوئی 57 سابق اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔

    اس شادی ہال کے باہر موجود صحافیوں کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے تصویریں بھی نہیں بنانے دیں اور انھیں بتایا ہے کہ اس جماعت کی تفصیل اور ویڈیوز تمام میڈیا کو فراہم کر دی جائے گی۔

    وہاں موجود ایک صحافی نے بتایا کہ جن صحافیوں نے شادی ہال کی تصویر بھی بنانے کی کوشش کی ہے تو ان سے موبائل فون لے لیا گیا ہے یا ان سے تصویریں ڈیلیٹ کر ا دی گئی ہیں۔

    پرویز خٹک

    واٹس ایپ پر ٹکرز اور کچھ تصویریں جاری کی گئی ہیں۔ ان ٹکرز میں کہا گیا ہے کہ پرویز خٹک نے ’ پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز‘ کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا اور اس نئی جماعت کے لیے انھیں 57 سابق اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ ‘

    ان میں سابق وزیر اعلی محمود خان شام ہیں۔ان کے علاوہ سابق اراکین میں شوکت علی اشتیاق ارمڑ شامل ہیں ۔ اس اجلاس کی جو تصاویر جاری کی گئی ہیں ان میں چند ایک سابق اراکین اسمبلی نظر آ رہے تھے۔

    ان ٹکرز میں کہا گیا ہے کہ ’سانحہ 9 مئی جیسے واقعات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، پاکستان کے وجود سے ہی ہم سب کا وجود ہے، پرویز خٹک اس اجلاس میں سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، شوکت یوسفزئی، تیمور سلیم جھگڑا، سابق گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نہ تو کہیں نظر آئے ہیں اور ناں ہی ٹکرز میں ان کا ذکر کہیں کیا گیا ہے۔‘

  5. سپریم کورٹ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں کو مسترد کرے: وفاقی حکومت, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    وفاقی حکومت کی سپریم کورٹ میں عام شہریوں (سویلینز) کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے کر انھیں خارج کیا جائے۔

    یاد رہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے مقدمات چلانے کے خلاف درخواستیں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وکیل رہنما اعتزاز احسن نے دائر کی ہیں جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے بھی اس ضمن میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

    وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں اپنا جواب جمع کرواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے آئینی حقوق سلب نہیں ہوتے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ نو مئی کو فوجی املاک اور تنصیبات کو منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا جس کا مقصد ملکی سکیورٹی اور فوج کو کمزور کرنا تھا۔

    وفاقی حکومت کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کور کمانڈر ہاؤس لاہور، جی ایچ کیو اور پی اے ایف بیس میانوالی پر ایک ہی وقت یعنی شام ساڑھے پانچ بجے حملہ کیا گیا اور اسی دوران پنجاب میں تشدد کے 62 واقعات میں 250 افراد زخمی ہوئے۔

    وفاقی حکومت نے استدعا کی ہے کہ ان منظم حملوں میں ملوث افراد کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہی ہونا چاہیے کیونکہ فوجی عدالتوں میں ملوث افراد کے ٹرائل کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ غیر ملکی قوتیں افواج اور ملکی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔

    وفاقی حکومت کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ آئین پاکستان سے پہلے کے موجود ہیں جنھیں آج تک چیلنج نہیں کیا گیا اور آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اٹھائے گئے تمام اقدامات قانون کے مطابق درست ہیں۔

    وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے خلاف کیس فل کورٹ کو سننا چاہیے کیونکہ اس کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جج جسٹس یحیی آفریدی بھی فل کورٹ تشکیل دینے کی رائے دے چکے ہیں۔

  6. بریکنگ, لاہور ہائیکورٹ نے کارپوریٹ فارمنگ کے لیے فوج کو زمین کی منتقلی روکنے کا حکم معطل کر دیا

    LHC

    ،تصویر کا ذریعہLahore High Court

    لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تین اضلاع میں فوج کو کارپوریٹ فارمنگ کے لیے زمین کی منتقلی روکنے کے لاہور ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ کے حکم کو معطل کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے پنجاب کی نگراں حکومت کو تین اضلاع میں فوج کو کارپوریٹ فارمنگ کے لیے زمین 20 سال کی لیز پر دینے سے روک دیا تھا۔

    اپریل میں پنجاب کی نگراں حکومت نے زمین فوج کو دینے کے خلاف حکم امتناع کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

    پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے عدالتی حکم کو کالعدم قرار دینے کی پنجاب حکومت کی درخواست پر سماعت کی۔

    صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق عدالت میں پیش ہوئے۔

    درخواست میں نگراں پنجاب حکومت نے مؤقف اپنایا کہ عدالتی فیصلے میں تضاد ہے اور یہ کہ زرعی پالیسیوں کو ریگولیٹ کرنا عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت کا اراضی کی منتقلی پر روک لگانے کا سابقہ ​​فیصلہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ قانون کے مطابق نگران حکومت سابقہ ​​حکومت کے زیر التوا فیصلے یا پالیسی کو نافذ کرنے یا اسے حتمی شکل دینے کی مجاز ہے۔

    درخواست کے مندرجات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے اس معاملے پر اپنے سابقہ ​​فیصلے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔

    یاد رہے کہ پنجاب کی نگراں حکومت نے مارچ میں ’کارپورٹ ایگریکلچر فارمنگ‘ کے لیے تین اضلاع، بھکر، خوشاب اور ساہیوال میں کم از کم 45,267 ایکڑ زمین فوج کے حوالے کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

    تاہم لاہور ہائیکورٹ نے نگراں حکومت کو اپنے منصوبے پر آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔ یہ فیصلہ جج عابد حسین چٹھہ نے پبلک انٹرسٹ لا ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے احمد رافع عالم کی درخواست پر جاری کیا تھا۔

  7. عمران خان نے توشہ خانہ کیس سے متعلق نیب کو خط لکھ دیا

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے توشہ خانہ کیس سے متعلق نیب کوخط لکھ دیا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے نیب کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہےکہ توشہ خانہ تحقیقات سے متعلق میں آج نیب آفس میں پیش نہیں ہوسکتا، میری جان کو خطرات لاحق ہیں جس کے باعث انکوائری رپورٹ لینے آج نیب دفتر نہیں آسکتا۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ میں نے لاہور سے اسلام آباد آمدورفت کو آج کل محدود کر رکھا ہے، 19 جولائی کو مختلف عدالتوں میں پیش ہونے اسلام آباد آؤں گا اس لیے توشہ خانہ تحقیقات سے متعلق شامل تفتیش ہونےکی تاریخ 19 جولائی مقررکردیں۔

    خط میں مزید کہا گیا ہےکہ نیب آرڈیننس کے مطابق انکوائری رپورٹ ملزم کی جانب سے وصول کرنا ضروری نہیں، میرے وکیل گوہر علی خان کو انکوائری رپورٹ لینےکی اجازت دی جائے، 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کیس کی رپورٹ بھی میرے وکیل نے نیب سے لی جو میں چھوڑ آیا تھا۔

    واضح رہے کہ نیب نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو آج صبح 10 بجے طلب کیا تھا۔

  8. بریکنگ, ‏پرویز الہی نے اپنی نظر بندی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی کے صدر چوہدری پرویز الہی نے تھری ایم پی او کے تحت اپنی نظر بندی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    چوہدری پرویز الہی نے اپنے وکیل عامر سعید راں کے توسط سے درخواست دائر کی ہے۔‏درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کی دہشت گردی کے مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کی۔ ‏عدالت نے کسی بھی غیر ظاہر شدہ مقدمے یا زیر التواء انکوائری میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔

    درخواست میں کہا گیا کہ ‏جیل حکام نے روبکار ملنے کے باوجود رہائی کی بجائے غیر قانونی طور پر حبس بیجا میں رکھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس ‏غیر قانونی اقدام کو قانونی ظاہر کرنے کے لیے ڈی سی لاہور نے نظر بندی کا حکم جاری کیا۔

    عدالتی حکم کے بعد ڈی سی کا نظر بندی نوٹیفیکیشن عدالتی فیصلے پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی لاہور کا پرویز الہی کو نظر بند کرنے کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

  9. توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دینے کے خلاف اپیل پر سماعت آج ہو گی

    توشہ خانہ

    ،تصویر کا ذریعہGovernment of Pakistan

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دینے کے خلاف اپیل پر سماعت آج (پیر) کو ہو گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اپیل کو اعتراضات کے ساتھ سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل پر سماعت کریں گے۔

    یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے آٹھ جولائی کو توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہونے کا فیصلہ دیا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی نے کیس کے ٹرائل پر حکم امتناعی دینے کی بھی استدعا کر رکھی ہے۔

    دوسری جانب اسلام ڈسٹرکٹ کورٹس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت آج ہو گی۔

    مقامی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور مقدمے کی سماعت کریں گے۔

    عدالت نے آج الیکشن کمیشن کی درخواست پر دلائل طلب کر رکھے ہیں۔الیکشن کمیشن نے پانچ نئے گواہ طلب کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

  10. بریکنگ, سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ 3 ایم پی او کے تحت نظر بند

    Pervaiz Elahi

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہی کو پنجاب حکومت نے ایک ماہ کے لیے 3 ایم پی او کے تحت نظر بند کر دیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق چوہدری پرویز الہی کو ایک ماہ کے لیے تین ایم پی او کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن میں تھانہقلعہ گجر سنگھ میں درج دو مقدمات اور غالب مارکیٹ میں درج مقدمے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ‏جس کے مطابق آئندہ ایک ماہ کے لیے چوہدری پرویز الہی کیمپ جیل میں رہیں گے۔

    ‏نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الہی کے خلاف تین مقدمات درج ہیں اور وہ پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما ہیں۔ وہ دنوں مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہیں اور ان کے خلاف کارروائی بھی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے امن امان کو نقصان پیدا ہو سکتی ہے لہذا ان کو نظر بند رکھا جائے۔

    سی سی پی او لاہور کی جانب سے پرویز الہٰی کی نظر بندی کے لیے ڈپٹی کمشنر کو مراسلہ لکھا گیا تھا۔

  11. ہم مدت پوری ہونے سے پہلے جائیں گے، دوبارہ موقع ملا تو ملک کا نقشہ بدل دیں گے: شہباز شریف

    sharif

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم مدت پوری ہونے سے پہلے چلے جائیں گے اور اس کے بعد نگران حکومت آئے گی۔

    انھوں نے یہ بات گذشتہ روز دو مختلف تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت اگلے ماہ اپنی مدت مکمل کرے گی لیکن ہم مدت پوری ہونے سے پہلے جائیں گے اور پھر نگران حکومت ہماری جگہ لے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں دوبارہ موقع ملا تو نوازشریف کی قیادت میں ہم ملک کا نقشہ بدل دیں گے۔

  12. الیکشن پرانی مردم شماری پر ہی ہوں گے: وفاقی وزیر داخلہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نئی مردم شماری کو نوٹیفائی نہیں کرے گی اور آئندہ الیکشن پرانی مردم شماری پر ہی ہوں گے۔

    جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اگست میں اسمبلی کی مدت پوری ہو جائے گی اور اس کے بعد نگران حکومت آئےگی۔

    ’نگران حکومت آ کر آئین کے مطابق 60 یا 90 دن میں الیکشن کروائے گی۔‘

    رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ’نئی مردم شماری میں کچھ مسائل پیدا ہو گئے ہیں اس لیے نوٹیفائی نہیں ہو رہی، اس حوالے سے ایم کیو ایم بھی نئی مردم شماری کے نتائج سے غیر مطمئن ہے اور انھیں تسلیم نہیں کرتی، بلوچستان میں جو نتائج آئے ہیں ان پر بھی بڑے اعتراضات ہیں۔

    ’اس لیے نئی مردم شماری پر سب کا اتفاق ضروری ہے کیونکہ مردم شماری پر فوری فیصلہ ملک میں متنازع صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔‘

  13. پانچ روز کے دوران ژوب چھاؤنی پر دوسرا حملہ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان کے شہر ژوب میں گذشتہ شب ایک مرتبہ پھر چھائونی پرحملہ ہوا ہے لیکن حملہ آور چھائونی میں داخل نہیں ہوسکے۔

    انتظامیہ کے سینئراہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ ایئرپورٹ روڈ کی جانب سے کیا گیا۔ اہلکار کا کہنا تھا رات گئے ہونے والے حملے کے باعث سکیورٹی فورسزاور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ علی الصبح تک جاری رہا۔

    انتظامیہ کے سینئر اہلکار نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی بروقت کاروائی کی وجہ سے حملہ آور چھائونی کے اندرداخل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پانچ روز کے دوران ژوب چھائونی پریہ دوسرا حملہ تھا۔

    گذشتہ شب ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم گزشتہ بدھ کوہونے والے حملے کی ذمہ داری تحریک جہاد پاکستان نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔

    بدھ کو ہونے والے حملے میں 9 سکیورٹی اہلکارمارے گئے تھے جبکہ جوابی کاروائی میں پانچ حملہ آوربھی ہلاک ہوئے تھے۔ایک خاتون سمیت چار عام شہری بھی اس حملے میں زخمی ہوئے تھے۔

    ژوب کہاں واقع ہے؟

    ژوب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً ساڑھے 320 کلومیٹر کے فاصلے پرشمال مشرق میں واقع ہے۔

    یہ ایک سرحدی ضلع ہے جس کی سرحدیں خیبرپشتونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان کے علاوہ افغانستان سے بھی لگتی ہیں۔

    اس ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پرمشتمل ہے۔ ژوب میں کینٹ پر ہونے والا یہ تیسراحملہ ہے۔

    ان دو حملوں سے قبل 2016ء میں ژوب کینٹ کے گیٹ کے قریب ایک خود کش حملہ ہوا تھا۔ خود کش حملہ آور کو روکنے کی کوشش کے دوران چند سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

    رواں سال مئی کے مہینے میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیرسراج الحق کے قافلے پربھی ژوب شہر کے قریب ایک خود کش حملہ ہوا تھا جس میں چار افراد زخمی ہوئے تھے۔ نہ صرف ژوب میں ماضی میں بدامنی کے اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں بلکہ دو جولائی کو ژوب سے 50کلومیٹر دورضلع شیرانی کے علاقے دھانہ سر کے علاقے میں پولیس اور ایف سی کی چیک پوسٹوں پر بھی حملے ہوئے تھے۔

    ان حملوں میں ایف سی کا ایک اور پولیس کے تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے ۔ جبکہ اس سے قبل مئی کے مہینے میں ژوب سے متصل بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں مسلم باغ کے علاقے میں فرنٹیئرکور کے کیمپ پر بھی حملہ ہوا تھا۔

    ماضی میں ژوب اور اس سے متصل دیگرعلاقوں میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

  14. لورالائی: مسجد میں آتشزدگی، مظاہرین کا ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہPeer Muhammad Kakar

    بلوچستان کے شہرلورالائی میں ایک مسجد میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں قرآن مجید کے نسخے بھی جزوی طورپرجل گئے۔ اس واقعے کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا ہے۔

    لورالائی پولیس کے ڈی ایس پی عبدالکریم مندوخیل نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ صبح 7 بجے اطلاع ملی تھی کی سبزی منڈی میں واقع عارضی مسجدمیں آگ لگی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آگ سے مسجد کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا۔ لورالائی سے تعلق رکھنے والے سینئرصحافی پیرمحمد کاکڑ نے بتایا کہ اس واقعے کے خلاف شہر میں تجارتی مراکز بند رہے جبکہ لوگوں نے بطوراحتجاج لورالائی ڈیرہ غازی خان شاہراہ کو بھی بند کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ مظاہرین کا یہ مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے سزا دی جائے۔’

    ڈی ایس پی پولیس نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے تحقیقات کا آغازکردیا گیا ہے۔

    ایک سوال پران کا کہنا تھا کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد یہ بتایا جاسکے گا کہ مسجد میں آگ لگادی گئی ہے یا یہ کوئی حادثہ تھا۔

  15. پاکستان کی تازہ ترین صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    pak

    پاکستان کی تازہ ترین صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید!

    اس سے پہلے ہونے والے واقعات پر نظر ڈالنے کے لیے یہاں کلک کریں۔