پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے دو الگ آپریشنز میں مجموعی طور پر 12 اہلکاروں اور سات دہشتگردوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ ضلع ژوب میں کینٹ کے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل ہوچکا ہے جس میں پانچ دہشتگردوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ جبکہ دہشت گردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے میں نو فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے ژوب گیریژن میں گھسنے کی کوشش کی جہاں ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے دہشتگردوں کی اس کوشش کو روکا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ’دہشت گردوں نے علی الصبح ژوب چھاؤنی میں شدید فائرنگ کی، فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گردوں کی تنصیبات میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔‘
دوسری طرف آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے جس دوران سیکورٹی فورسز کے تین اہلکار اور دو عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق یہ آپریشن سوئی ٹاؤن کے قریب عسکریت پسندوں کی موجودگی پر کیا گیا اور اس میں سکیورٹی فورسز اور بھاری اسلحے سے لیس عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ باقی عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں کلیئرینس آپریشن جاری ہے۔
پاکستانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز بلوچستان اور پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کی ایسی تمام گھناؤنی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
درایں اثنا ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر سرفراز بگٹی نے فون پر بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ ڈیرہ بگٹی میں شرپسندوں کی جانب سے بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے واقعات پیش آ رہے تھے جس پر فرنٹیئر کور نے علاقے میں پیٹرولنگ شروع کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف سی کی پیٹرولنگ کے باعث شرپسندوں کا گھیرا تنگ ہو رہا تھا جس پر انھوں نے ایف سی پر حملہ کیا۔
انھوں نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایف سی کی قربانیوں سے نہ صرف ڈیرہ بگٹی بلکہ پورا بلوچستان امن کا گہوارہ بنے گا۔