فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بینچ ٹوٹ گیا ہے۔
پیر کے روز اس کیس کی سماعت کا آغاز چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے کیا۔ سماعت کے آغاز پر ہی وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے جسٹس منصور علی شاہ سے بینچ سے علیحدہ ہونے کی درخواست کی۔
سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے روسٹرم پر آ کر بینچ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی ہدایات سے آگاہ کیا اور کہا کہ اس کیس میں ایک درخواست گزار جسٹس منصور علی شاہ کے رشتہ دار ہیں جس کے باعث مذکورہ جج کے کنڈکٹ پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ (اٹارنی جنرل) کی خواہش پر بینچ نہیں بن سکتے،آپ کس بات پر اس عدالت کے معزز جج پر اعتراض اٹھا رہے ہیں؟ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کس بنیاد پر اعتراض کر رہے ہیں، مفادات کا ٹکراؤ یا جاںبداری کی بنیاد پر اعتراض کر رہے ہیں۔ آپ ہمیں ہم خیال ججز کا طعنہ دیتے ہیں ،ہم نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، ہم نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کو سزا نہیں سنائی،ہم سمجھتے ہیں یہ وقت ایک قدم پیچھے ہٹنے کا ہے۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ (اٹارنی جنرل) ایک بہت اچھے کردار اور اچھی ساکھ کے مالک وکیل ہیں۔ ایک پوری سیریز ہے جس میں بینچ میں بار بار اعتراض اٹھایا جا رہا ہے۔ پہلے یہ بحث رہی کہ پنجاب الیکشن کا فیصلہ 3 ججوں کا تھا یا 4 کا،آپ ایک مرتبہ پھر بینچ کو متنازع بنا رہے ہیں۔‘
اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’میرا ذاتی طور پر کوئی اعتراض نہیں۔‘
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’درخواست گزار جواد ایس خواجہ ایک درویش صفت انسان ہیں اور جسٹس منصور علی شاہ ان کو کیا فائدہ دیں گے؟‘
اس دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’میں نے تو پہلے ہی دن آ کر کہا تھا کہ کسی کو اعتراض ہے تو بتا دیں۔‘
اس گفتگو کے بعد جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس اعتراض کے بعد وہ یہ کیس نہیں سن سکتے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’بینچ ٹوٹنے کے بعد ابھی ہم اٹھ رہے ہیں اور مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے تحمل کا مظاہرہ کیا اور یہ کہ سپریم کورٹ کے پاس چھڑی نہیں ہے تو دیگر افراد کیوں چھڑی کا کیوں استعمال کر رہے ہیں؟
یاد رہے کہ اس بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی،جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل تھیں۔