سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’آج میں اپنی فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے اپنے بیان سے فیصلہ کر دیا کہ ہم ہی بغاوت کر رہے ہیں۔ ایک میرا موقف بھی ہے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ اب بیچ میں جج ہو جو انصاف سے اس کا فیصلہ دے۔‘
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’کل آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بات کی کہ پاکستان کے خلاف بغاوت کی گئی اور سارا اشارہ تحریک انصاف کی طرف تھاکہ ہم نے بغاوت کی ہے اور یہ کہ پہلے سے اس کا پلان بن رہا تھا کہ ہم نے پہلے سے بغاوت کی تیاری کی ہوئی تھی اور ہم نے یہ سارا اپنی فوج کے خلاف کیا۔‘
عمران خان نے دعویٰ کیا ’جس طرح انھوں نے بات کی مجھے بہت تکلیف محسوس ہوئی۔
اب آئی ایس پی آر اور سٹیبلشمنٹ کا یہ موقف آ گیا کہ پی ٹی آئی نے بغاوت ہے ۔
ہمارا موقف ہے کہ ہمارے خلاف سازش کی گئی اور ہماری حکومت گرائی گئی۔‘
عمران خان نے کہا کہ’25 مئی کو جو ہمارے ساتھ ہوا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی کو روکا ہو یا کسی کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی ہو ۔ ہمارے اوپر پورا ایک اٹیک کیا گیا اور ہمارے ہی خلاف پرچے کٹے۔ ‘
عمران خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے گھر پر 24 گھنٹے تک حملہ کیا گیا جس کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا، ایسا کبھی کسی لیڈر کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔‘
عمران خان کے مطابق ’جیوڈیشل کمپلیکس میں مجھے قتل کرنے کی پوری تیاری تھی۔
سازش یہ ہو رہی تھی کہ جو جماعت الیکشن جیتنے جا رہی تھی اس کے خلاف سازش کر کے پارٹی کو ختم کرنا تھا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کا سارا وقت ایک عدالت سے دوسری عدالت کے چکر لگاتے گزرتا ہے۔
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ سب سے بڑی پارٹی کو باہر رکھنے سے بڑی سازش اور کیا ہو سکتی ہے۔
’مجھے پتہ تھا کہ یہ نو مئی کو مجھے پکڑنا چاہتے تھے تو میں نے وڈیو بیان ریکارڈ کروایا۔ مجھے غیر قانونی طور پر پکڑا تو کیا یہ بھی سازش کا حصہ تھا۔ اس سے لوگوں کو اشتعال آنا تھا ۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ پورا پلان کر کے ایک کریک ڈاون کیا گیا ۔ ہو ہی نہیں سکتا کہ پہلے سے پلان کے بغیر دو دن میں 10 ہزار کارکن جیل میں ڈال دیں۔‘
عمران خان کے مطابق ’آئی ایس پی آر کا موقف ہے کہ ان کے خلاف بغاوت ہے اور ہمارا موقف ہے کہ ہمارے خلاف پارٹی کو ختم کرنے کی سازش ہوئی ۔ ‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ملٹری کورٹس بھی اس لیے ہیں کہ سارے بوگس کیسز ہیں جن سے مجھے سزا نہیں ہو سکتی اس لیے مجھے باہر کرنے کے اور نا اہل کرنے کے لیے یہ کورٹس ہیں۔‘
عمران خان نے کہا ’آج میں اپنی فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے بہت عزت سے کہنا چاہتا ہوں کہ عدالت میں کیس چلے اور اوپن ٹرائل ہو اگر یہ ملک کے خلاف بغاوت ہے تو اوپن ٹرائل ہونا چاہیے چھپ کر نہیں۔‘
عمران خان نے کہا’جو آپ کے پاس ثبوت ہے وہ آپ لائیں جو ہمارے پاس ہیں وہ ہم لاتے ہیں۔ اگر مجھے غدار کہا جا رہا ہے تو مجھے سب کے سامنے موقع ملے کہ میں اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرسکوں۔‘