آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکی سفارت خانے کی درخواست پر خدیجہ شاہ کو قونصلر رسائی دینے کی منظوری

وزارت داخلہ نے امریکی سفارتخانے کی درخواست پر نو مئی کے پرتشدد واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باعث گرفتار ہونے والی معروف ڈیزائنر خدیجہ شاہ کو قونصلر رسائی دینے کی منظوری دے دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. خدیجہ شاہ کے کیس میں پاکستانی حکام سے قونصلر رسائی مانگی ہے: امریکی محکمۂ خارجہ

    ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ نو مئی کو کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر جیلاؤ گھیراؤ کے بعد گرفتار ہونے والی فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کے کیس پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی حکام سے ان تک قونصلررسائی مانگی گئی ہے۔

    چھ جون کی پریس بریفنگ پر ترجمان ویدنت پٹیل سے پوچھا گیا کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے امریکی سازش کے دعوے کو دہرایا ہے اور وہ سابق پاکستانی سفیر (حسین حقانی) اور آرمی چیف جنرل باجوہ پر الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے ہی امریکہ سے کہا کہ عمران خان امریکی مخالف ہیں۔

    اس پر مسٹر پٹیل نے کہا کہ یہ الزامات سراسر جھوٹ ہیں، صرف پاکستان کے عوام ملک کی سیاست سے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ’امریکہ پاکستان کے ساتھ طویل عرصے سے جاری تعاون کی قدر کرتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ خوشحال اور جمہوری پاکستان کو امریکی مفاد میں پایا ہے۔‘

    اس سوال پر کہ آیا نو مئی کے واقعات پر گرفتار کیے گئے امریکی شہریوں سے امریکی حکومت نے کوئی رابطہ کیا ہے تو ان کا جواب تھا کہ وہ رازداری کے خدشے کے باعث انفرادی کیس کے بارے میں تفصیل نہیں دے سکتے مگر جب بھی کبھی امریکی شہری کو بیرون ملک گرفتار کیا جائے تو ’ہم مدد فراہم کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ پاکستانی حکام فری اینڈ فیئر ٹرائل کو یقینی بنائیں گے۔‘

    مسٹر پٹیل سے پوچھا گیا کہ فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ امریکی شہری ہیں جنھیں اطلاعات کے مطابق فوج پر تنقیدی ٹویٹ پر گرفتار کیا گیا تو کیا امریکہ اس کیس کی پیروی کر رہا ہے؟

    ان کا جواب تھا کہ ’ہم خدیجہ شاہ کے کیس پر نظر رکھ رہے ہیں اور ہم نے پاکستانی حکام سے ان تک قونصلر رسائی مانگی ہے۔ ہم ہمیشہ غیر ملکی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں زیر حراست امریکی شہریوں تک رسائی دیں۔

    ’خدیجہ شاہ دہری شہریت کی حامل ہیں اس لیے ہم اس معاملے میں حکومت پاکستان سے براہ راست بات چیت جاری رکھیں گے۔‘

    خدیجہ سوشل میڈیا پر خود کو عمران خان اور تحریکِ انصاف کی حامی کے طور پر پیش کرتی تھیں اور نو مئی کو لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر دھاوا بولنے کے واقعے کی ویڈیوز بھی ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پوسٹ کی گئیں تھیں۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اب ڈی ایکٹیویٹ ہوگئے ہیں۔

    خدیجہ شاہ کی گرفتاری کے لیے پولیس کئی دن سے سرگرم تھی اور انھوں نے مئی میں ہی اس واقعے کے چند ہفتے بعد خود کو قانون کے حوالے کر دیا تھا۔

  2. انڈیا میں ’مقدس‘ سمجھا جانے والا لنگور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ظالمانہ تفریح کا ذریعہ

  3. چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کےخلاف درخواست پر اعتراضات عائد

    سپریم کورٹ میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کے خلاف درخواست پر اعتراضات عائد کردیے گئے۔

    سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست اعتراضات عائد کر کے واپس کردی۔

    رجسٹرار آفس کے اعتراض کے مطابق ’درخواست گزار نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا، درخواست گزار نے نہیں بتایا کہ کون سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔‘

    رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا کہ آرٹیکل 184 تین کا اختیار استعمال کرنے کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں۔

    درخواست پر یہ بھی اعتراض عائد کیا گیا کہ آرٹیکل 248 کے تحت وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ کو فریق نہیں بنایا جاسکتا۔ رجسٹرار آفس سپریم کورٹ کے مطابق ایک درخواست کے اندر ایک سے زائد استدعائیں کی گئیں ہیں۔

  4. بریکنگ, آج بھی انصاف کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہے: شاہ محمود قریشی

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو عدالتی حکم کے بعد جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

    اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’میں اس تحریک کا حصہ ہوں جو حقیقی طور پر آزاد اور خود مختار پاکستان دیکھنا چاہتی ہے۔‘

    شاہ محمود قریشی نے کہا ’پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ آج بھی انصاف کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہے۔ ‘

    شاہ محمود نے کہا کہ ’میں ایک ماہ تک قید تنہائی میں رہا۔ میری اس قید میں میرے بچوں نے بہت ساتھ دیا اور کہا کہ ہماری وجہ سے کسی دباؤ میں مت آئیے گا، اللہ ہماری حفاظت کرے گا اور اللہ نے ان کی حفاظت کی ہے۔‘

    شاہ محمود قریشی نے کہا ’تحریک انصاف کے کارکنوں سے کہنا چاہتا ہوں آزمائش کا وقت ہے ہمت نہ ہاریں۔ جیلوں میں قید بے گناہ کارکنوں کو رہا کیا جانا چاہیے‘

  5. توانائی بچانے کے لیے ملک بھر میں دکانیں رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ: احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام کمرشل ایریاز رات آٹھ بجے بند ہوں گے۔

    احسن اقبال نے کہا کہ امریکہ یورپ سمیت بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں کمرشل ایریاز چھ سے رات آٹھ بجے بند کر دیئے جاتے ہیں ۔کوئی ہماری طرح غیر زمہ دارانہ لائف سٹائل نہیں گزارتا جس میں رات ایک دو بجے تک تجارتی مراکز کھلے رکھ کر اپنے ملک کی زر مبادلہ بجلی کے بلبوں کی صورت میں جلائیں۔ ہم قیمتی زر مبادلہ بچانے کے لیے اس پر عمل کریں گے۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ گرین انرجی کو فروغ دیا جائے گا۔ ان اقدامات سے سالانہ ایک ارب ڈالر تک کی بچت کر سکتے ہیں۔

  6. عبدالرزاق شرایڈوکیٹ کی ہلاکت کے خلاف بلوچستان بھرمیں عدالتوں کی کارروائی کا بائیکاٹ, محمد کاظم، کوئٹہ

    بلوچستان کے وکلاء نے سینیئروکیل عبدالرزاق شرکی ہلاکت کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان بھرمیں عدالتوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

    وکلاء تنظیموں نے اس واقعے کے خلاف سات جولائی کے لیے بھی عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

    عبدالرزاق شرایڈووکیٹ کو نامعلوم افراد نے کوئٹہ شہرمیں کلی عالمو کے علاقے میں اس وقت گولیوں نشانہ بنایا جب وہ ایک آلٹو کار میں ہائیکورٹ کی جانب آرہے تھے۔

    مقامی پولیس کے ایس ایچ او گل محمد نے اس حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ مقتول کوسات گولیاں لگیں تاہم اس حملے میں ان کے ڈرائیورمحفوظ رہے۔

    ایس ایچ او نے ابتدائی تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ ان کی ہلاکت کا محرک دشمنی ہے ۔ عبدالرزاق شرایڈووکیٹ نے گزشتہ ماہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست دائرکی تھی۔

    درخواست میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ سابق وزیراعظم نے قومی اسمبلی کو غیرآئینی طور پرتوڑ کا آئین سے غداری کا ارتکاب تھا ۔ انھوں نے ہائیکورٹ سے عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرانے کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے سینیئروکیل کے قتل کا نوٹس لیتے قاتلوں کو فوری طورپرگرفتارکرنے کی ہدایت کی ہے۔

  7. صحافی زبیر انجم کو 24 گھنٹوں میں بازیاب کروایا جائے: سندھ جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    سندھ جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن نے صحافی زبیر انجم کو بازیاب کرنے کا حکم دیتے ہوئے واقعے سے متعلق رپورٹ 36 گھنٹوں میں کمیشن میں پیش کرنےکی ہدایت کر دی۔

    سندھ جرنلسٹس اینڈ میڈیا پریکٹشنرز کمیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس کمیشن کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی کی صدرات میں ہوا۔

    اجلاس جیو نیوز کے سینئر پروڈیوسر زبیر انجم کو نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کرکے لاپتہ کیے جانے کے واقعے پر ایک نکاتی ایجنڈے پر طلب کیا گیا تھا۔

    کمیشن کے چیئرمین جسٹس رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ چونکہ زبیر انجم کسی مقدمے میں مطلوب نہیں تھے اس لیے یہ واضح طور پر اغوا کا واقعہ ہے اور یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان و مال اور آزادی کا تحفظ کرے۔

    ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ زبیر انجم کا اغوا اور لاپتہ کیا جانا آئین کے آرٹیکل 9 اور 10 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    کمیشن کے چیئرمین نے سیکریٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ کو ہدایت کی ہے کہ 24 گھنٹے میں زبیر انجم کو بازیاب کرایا جائے اور واقعے سے متعلق رپورٹ 36 گھنٹوں میں کمیشن میں پیش کی جائے۔

    کمیشن کے چیئرمین نے سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سندھ کو اس سلسلے میں تحریری ہدایات جاری کردی ہیں۔

  8. عمران خان اور چیف جسٹس کو سازش میں ملوث کرنے والے شخص کو پکڑا جائے: اعتزاز احسن

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کے حوالے سے ایک وڈیو وائرل ہے جس میں ایک صاحب الزام لگا رہے ہیں کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال ،عمران خان اور اعتزاز احسن ایک تحریک چلانا چاہتے ہیں جس کے لیے عمران خان روزآنہ ایک کروڑ روپے بھی بانٹ رہے ہیں۔

    اعتزاز احسن کے مطابق ’اگر چیف جسٹس ،عمران خان اور میں پیسے بانٹ رہے ہیں تو سب سے پہلے میڈیا اور ایجنسیز کو پتہ ہونا چاہیئے تھا۔‘

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ تقریباً چار ماہ سے چیف جسٹس کی عدالت میں نہیں گئے اورنہ ان سے کافی عرصے سے کوئی ملاقات ہوئی ہے۔

    اعتزاز احسن نے کہا ’توقع کرتا ہوں یہ شخص جس نے چیف جسٹس ،سابق وزیر اعظم چئیرمن تحریک انصاف کو ایک جھوٹی سازش میں ملوث کیا گیا اس بندے کو پکڑکے سائبر کرائم کے تحت کارروائی کی جائے۔ آئی جی پنجاب سے توقع ہے کہ وہ اس شخص کو پکڑیں‘

    اعتزاز احسن نے آئی جی پنجاب کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’اتنے بڑے واقعات ہوگئے کہیں پولیس نہیں پہنچی۔ میانوالی میں ایم ایم عالم کا جہاز جل گیا کسی کو پتہ ہی نہیں چلا۔ آپ نے اتنی مانیٹرنگ کی آپ کیوں نہیں پہنچے کس نے روکا تھا اتنا کچھ ہوگیا اور آئی جی کا ابھی تک تبادلہ نہیں کیا گیا۔‘

  9. ’بغاوت اور سرکشی کو سیاسی احتجاج کا نام دے کر معاف نہیں کیا جا سکتا‘

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نو مئی کو فوج اور ریاست پر حملہ کیا گیا، بغاوت اور سرکشی کو سیاسی احتجاج کا نام دے کر معاف نہیں کیا جا سکتا۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں منعقد تقریب سے خطاب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’ نومئی کو جناح ہاوس پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی گئی۔ حساس تنصیبات جلائی گئیں اور کمپیوٹر تک اٹھا لیے گئے۔ اور اب کہا جا رہا ہے کہ ہمارا سیاسی احتجاج ہے۔ یہ سیاسی احتجاج نہیں بلکہ سرکشی اور بغاوت تھی۔‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دعویٰ کیا کہ ’ایک آدمی کی ایما پر منصوبہ بندی سے پورے ملک میں آگ لگائی گئی۔ انھوں نے آرمی کی دفاعی تنصیبات پر حملے کیے توکیا فوج اس سلسلے میں آرمی ایکٹ کو بروئے کار نہیں لائے گی؟ ان کی ریکوری آرمی ایکٹ کے تحت ہو گی نہ کہ ٹریفک قوانین کے تحت۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ ایسے سیاسی احتجاج 75 سالوں میں پاکستان میں کبھی نہیں ہوئے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی۔

  10. بریکنگ, آڈیو لیکس پر سماعت مکمل، بینچ پر اعتراض سے متعلق فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر سماعت کے مکمل ہونے پر بینچ پر اعتراض سے متعلق حکومتی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کام سے روکنے کے حکم امتناع میں توسیع کردی۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے چیف جسٹس سمیت تین ججز پر اعتراض کرتے ہوئے بنچ سے الگ ہونے کی استدعا کررکھی ہے۔

    آج کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور حیات اور تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین نے اپنے دلائل مکمل کیے، جس کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی ہے۔

  11. ’کالز کیسے ریکارڈ کی گئیں، کمیشن تمام عوامل کا جائزہ لے گا:‘ اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل

    پاکستان کے اٹارنی جنرل منصور حیات نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کو بتایا کہ ’کالز کیسے ریکارڈ کی گئیں، کمیشن کے زریعے تمام عوامل کا جائزہ لیا جائے گا۔‘ ان کے مطابق ابھی تو یہ معاملہ انتہائی ابتدا کی سطح پر ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق یہ آڈیوز مبینہ آڈیوز ہیں۔ وفاقی حکومت کا یہی بیان دیکھا جانا چاہیے۔ کابینہ کے علاوہ کسی وزیر کا ذاتی بیان حکومت کا بیان نہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ اگر وزیر خزانہ کچھ بیان دے تو وہ بھی حکومت کا نہ سمجھا جائے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’کوئی معاملہ اگر سپریم کورٹ کے تمام ججز سے متعلق نکل آئے پھر یہ نظریہ ضرورت پر عمل ہوسکتا ہے۔ اگر تمام ججز پر سوال ہو پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ اب کسی نے تو سننا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بینظیر کیس میں بینچ پر اعتراض نہیں ہوا۔ کیا اس کیس میں ججز نے ٹھیک فیصلہ نہیں کیا جن کی کالز ٹیپ ہوئیں؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’وفاقی حکومت کا کیس تعصب کا نہیں مفادات کے ٹکراو کا ہے۔‘ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا یہ اعتراض صرف جوڈیشل کارروائی پر بنتا ہے یا انتظامی امور کی انجام دہی پر بھی ہے؟

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بینظیر بھٹو کیس سننے والے سات میں سے چار ججز کے فون ٹیپنگ کی گئی تھی۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’اس کیس میں صدر کے اختیارات کا سوال تھا۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’کوئی بھی شخص اپنے کاذ کا خود جج نہیں ہوسکتا۔ ہماری اس سارے معاملہ پر کوئی بدنیتی نہیں ہے اور بینچ تبدیل ہونے سے کمیشن کے خلاف عدالت آئے درخواست گزاروں کا حق متاثر نہیں ہوگا۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ استدعا ہے کہ بینچ تبدیلی کی درخواست کو زیر غور لائیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ کا اعتراض دو اور ججز پر بھی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’ہماری درخواست کا متن آپ کے سامنے ہے اس کا جائزہ لے لیں۔‘ بینچ تبدیلی کی حکومتی درخواست پر اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔

  12. سوال یہ ہے کہ یہ آڈیوز کس نے پلانٹ کی ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ ’کیا حکومت نے اپنے وسائل استعمال کر کے پتا کیا کہ آڈیوز ریکارڈ کہاں سے اور کیسے ہو رہی ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ’کون یہ سب کر رہا ہے؟ آپ عدالتی فیصلوں کے حوالے پڑھنے سے پہلے قانون کو سمجھیں۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’میں پہلے بینچ کی تشکیل پر دلائل دوں گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ اس پوائنٹ پر جا رہے ہیں کہ ہم میں سے تین ججز متنازع ہیں؟ اگر اس پر جاتے ہیں تو آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ نے کس بنیاد پر فرض کر لیا کہ ہم میں سے تین کا مفاد کا ٹکراؤ ہے۔

    چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’میں چاہوں گا آپ دوسروں سے زیادہ اہم ایشو پر فوکس کریں۔ دوسرا اور اہم ایشو عدلیہ کی آزادی کا ہے۔ اٹارنی جنرل نے آڈیو لیکس کمیشن کے ٹی او آرز پڑھ کر سنانے کے بعد کہا کہ لیک آڈیوز میں سے ایک چیف جسٹس کی ساس سے متعلق ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کیا آپ کا اس وقت کیس یہ ہے کہ آڈیوز بادی النظر میں درست ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وفاقی حکومت نے اس معاملہ پر ابھی صرف کمیشن بنایا ہے، حقائق جاننے کے لیے ہی تو کمیشن بنایا گیا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وفاق کو علم نہیں کہ آڈیوز مصدقہ ہیں یا نہیں؟

    جسٹس منیب نے مزید ریمارکس دیے کہ سینیئر کابینہ ممبر نے تو اس پر پریس کانفرنس بھی کر دی۔ کیا یہ درست نہیں کہ وزیر داخلہ ان آڈیوز پر پریس کانفرنس کر چکے ہیں اور پریس کانفرنس میں کچھ آڈیوز چلا بھی دی گئی ہیں۔ کیا قانونی طور پر درست ہے جسے آڈیوز کی حقیقت کا نہیں پتہ وہ بنچ پر اعتراض اٹھائے۔اس کے بعد جسٹس منیب نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ میں آپ کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کیوں کی، کیا ایسی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے؟ ایسے بیان کے بعد تو اس وزیر کو ہٹا دیا جاتا یا وہ مستعفی ہوجاتا۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا ایک وزیر کا بیان پوری حکومت کا بیان تصور کیا سکتا ہے؟ انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے علم میں نہیں اگر پریس کانفرنس کسی نے کی۔‘

    جسٹس منیب نے کہا کہ اتنے اہم ایشو پر کابینہ کا اجتماعی زمہ داری سامنے آنی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق وزیر اگر چائے پینے کا کہے تو الگ بات، یہاں بیان اہم ایشو پر دیا گیا۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت یہ دیکھے کہ وزیر داخلہ کا بیان 19 مئی سے پہلے کا ہے یا بعد کا۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ’واہ کیا خوبصورت طریقہ ہے اور عدلیہ کے ساتھ کیا انصاف کیا ہے، پہلے ان آڈیوز پر ججز کی تضحیک کی پھر کہا اب ان آڈیوز کے سچے ہونے کی تحقیق کروا لیتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ اس ٹوئٹر ہینڈل کا پتا کریں کہ وہ ملک یا بیرون ملک سے آپریٹ ہو رہا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ’یہ تو بڑا آسان ہو جائے گا کسی بھی جج کو کیس سے ہٹانا ہے تو اس کے نام لے کر آڈیو بنا دو۔ کیس سے الگ ہونے کے پیچھے قانونی جواز ہوتے ہیں، یہ آپشن اس لیے نہیں ہوتا کہ کوئی بھی آ کر کہہ دے، جج صاحب فلاں فلاں کیس نہ سنیں۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت اسی لیے اس معاملے کو انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔

  13. لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کا شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چئیر مین شاہ محمود قریشی کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    جسٹس چوہدری عبدالعزیر کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے اپنے حکمنامے میں کہا کہ شاہ محمود قریشی کو کسی اور ایم پی او آرڈر کے تحت گرفتار نہ کیا گیا جائے۔

    حکومت کی جانب سے مقدمے میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عابد عزیز راجوری جبکہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے ان کے وکیل تیمور ملک اور بیٹی گوہر بانو قریشی عدالت میں پیش ہوئے۔

    عدالت نے ڈی سی راولپنڈی کے تھری ایم پی او آرڈر بھی کالعدم قرار دے دیے۔

  14. بغاوت پر اکسانے کا الزام: شہباز گل کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’ملزم کے پاس دو آپشن ہیں۔‘

    جج طاہر عباس سپرا کا کہنا تھا کہ ’ملزم یا تو عدالت کے روبرو پیش ہو جائے تو وارنٹ منسوخ ہو جائیں گے یا ملزم کی جانب سے اگر آرڈر کو چیلنج کیا جاتا ہے۔‘

    عدالت کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ’گل صاحب کب آرہے ہیں‘ تو شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ شہباز گل کی اہلیہ کی سرجری ہونی ہے ابھی کنفرم نہیں۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 26 جون تک ملتوی کر دی۔

  15. عمران ریاض کی بازیابی سے متعلق ہم سب ایک صفحے پر ہیں: وزارت دفاع کا عدالت میں بیان

    لاہور ہائیکورٹ ‏صحافی عمران ریاض کی بازیابی کیس کی سماعت شروع ہو چکی ہے۔ ‏ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر بتایا کہ ‏عمران ریاض کی بازیابی کی کوشیش جاری ہیں۔

    ‏ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ’آئی جی پنجاب نے مجھے معاونت کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ عمران ریاض کے والد کو ورکنگ کمیٹی میں شامل ہونے کا بھی کہا گیا ہے۔‘

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا’‏اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عمران ریاض پاکستان کے نامور صحافی ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ‏وزارت دفاع کے پاس معلومات ہیں جو وہ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

    وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ’‏ہم سب ایک صفحے پر ہیں اور ان کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیں‘۔

    دوران سماعت عمران ریاض کے وکیل نے کہا کہ ’‏ہمارا صبر جواب دے رہا ہے۔‘

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ’مجھے کسی کا خوف نہیں ہے، ‏میں اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔‘ ‏

    جسٹس ‏چیف نے عمران ریاض کے وکیل سے مکالمے میں مزید کہا کہ ’آپ میرے لیے اپنی دکان نہ چمکائیں۔ ‏آپ نے جو باتیں کرنی ہیں کریں، میری فکر آپ چھوڑ دیں۔‘

    ‏وکیل عمران ریاض نے سوال اٹھایا کہ آئی جی جیل خانہ جات کو کس نے کہا تھا کہ عمران ریاض کو اس وقت رہا کریں۔

    عمران ریاض کے وکیل کے اعتراض پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ ’‏ہم چاہتے ہیں کہ آپ ورکنگ گروپ میں شامل ہوں تا کہ آپ کوعلم ہو کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔‘

  16. آڈیو لیکس کا معاملہ: سپریم کورٹ کا لارجر بینچ کچھ دیر میں سماعت کرے گا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرے گا۔ یہ درخواستیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی طرف سے دائر کی گئی ہیں۔

    ابتدائی سماعت کے دوران عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم ہونے والے جوڈیشل کمیشن کو کارروائی سے روک دیا تھا۔

    وفاقی حکومت کی طرف سے بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھایا گیا ہے اور حکومت کا موقف ہے کہ آڈیو لیکس کا معاملہ چیف جسٹس سمیت اس بینچ میں موجود کچھ ججز سے متعلق ہے لہٰذا چیف جسٹس اور دیگر دو ججز جن میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں، وہ اس بینچ سے الگ ہو جائیں یہ پانچ رکنی لارجر بینچ حکومت کے اعتراضات کو بھی سنے گا۔

    اس کے علاوہ ایک درخواست گزار حنیف راہی نے سپریم کورٹ کی طرف سے حکم امتناع جاری ہونے کے باوجود جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی جانب سے کارروائی جاری رکھنے کے خلاف جوڈیشل کمیشن کے ارکان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست بھی دی ہے۔

    واضح رہے کہ درخواست گزار حنیف راہی نے اس سے قبل سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف بھی سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی۔ تاہم کچھ عرصے کے بعد انھوں نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی جو سپریم کورٹ نے مسترد کر دی تھی۔

  17. کراچی میں صحافی لاپتہ، ایف آئی آر درج نہ ہو سکی

    کراچی میں گذشتہ رات سے جیو نیوز سے وابستہ صحافی زیبرانجم لاپتہ ہیں۔

    زبیر انجم کے بھائی سعادت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی جیو نیوز میں ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر ذمہ اداریاں ادا کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق رات ایک بجے ان کے گھر چند نامعلوم افراد آئے، جن میں سے کچھ نے پولیس کا یونیفارم پہن رکھا تھا جبکہ دیگر مسلح افراد نقاب پوش تھے۔

    سعادت علی کے مطابق مسلح افراد نے آواز لگائی کہ زبیر کے لیے کسی نے پیسے بھیجے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت ان کے بھائی سو چکے تھے کیونکہ انھوں نے صبح سویرے ڈیوٹی پر جانا ہوتا ہے جبکہ باقی گھر والے جاگ رہے تھے۔

    سعادت کے مطابق اس واقعے کی رپورٹ ڈسٹرکٹ کورنگی تھانے میں کرا دی گئی ہے۔ ان کے مطابق پولیس نے اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ان کے تھانے سے کسی نے بھی زبیر انجم کو گرفتار نہیں کیا ہے۔

    سعادت علی کے مطابق پولیس نے انھیں یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کل تک کا انتظار کر لیتے ہیں البتہ اس واقعے کی ایک ابتدائی رپورٹ انھوں نے تیار کر لی ہے۔

  18. عمران ریاض بازیابی کیس: آئی جی پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں پیش، سماعت کچھ دیر میں

    اینکر اور یوٹیوبر عمران ریاض کی بازیابی کے مقدمے میں انسپکٹر جنرل پولیس عثمان انور لائی کورٹ میں پیش ہو گئے ہیں۔ اس مقدمے کی کارروائی کچھ دیر تک ہونی ہے۔

    واضح رہے کہ عمران ریاض کے ’لاپتہ‘ ہونے کے بعد ان کے والد کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں اُن کی بازیابی کے لیے درخواست فائل کی گئی تھی۔

    عمران ریاض کو گذشتہ ماہ سیالکوٹ ایئرپورٹ سے پولیس نے اس وقت حراست میں لیا تھا جب حکام کے مطابق وہ مبینہ طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

    حراست میں لیے جانے کے بعد ابتدا میں انھیں سیالکوٹ کے کینٹ پولیس سٹیشن میں رکھا گیا اور بعدازاں ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا۔

    جیل حکام کے مطابق اسی رات ان کا ایم پی او آرڈر منسوخ کر دیا گیا اور انھیں رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ رات 11 بج کر پانچ منٹ پر جیل سے باہر نکلے، جہاں سے انھیں سیاہ ڈبل کیبن میں بٹھایا گیا جس کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔

    اس واقعے کے کچھ دن بعد یعنی 16 مئی کو آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے بی بی سی کو آسیہ انصر کو بتایا تھا کہ ’عمران ریاض کو کچھ دن قبل گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا جہاں انھوں نے تحریری بیان میں اچھے رویے کی یقین دہانی کروائی جو عدالت میں بھی پیش کر دی گئی ہے۔‘ آئی جی کا کہنا تھا کہ اس یقین دہانی کے بعد ’ایم پی او واپس لے لیا گیا اور وہ آزاد ہو گئے تھے۔‘

    عمران ریاض کی گمشدگی کے بارے میں تحقیقات میں شامل ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن پنجاب شہزادہ سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے مقدمات میں تفتیش کسی سراغ کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور بدقسمتی سے اب تک عمران ریاض سے متعلق ایک بھی ایسا سراغ نہ مل سکا جو ان تک لے جاتا۔

  19. ظل شاہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان زمان پارک سے عدالت کے لیے روانہ, ترہب اصغر

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان پی ٹی آئی کے ہلاک ہونے والے کارکن ظل شاہ کے مقدمے میں پیش ہونے کے لیے اپنی رہائش گاہ زمان پارک سے لاہور ہائی کورٹ کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق پوسٹ مارٹم میں پولیس کی جانب سے تشدد ظاہر ہوتا ہے تاہم آئی جی پنجاب کے مطابق پوسٹ مارٹم میں ’بلنٹ ٹراما اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بہت زوردار ٹکر تھی۔ یہ اس طرح نہیں جو عام طور پر پولیس کے لاٹھی یا ڈنڈے سے مخصوص اعضا پر کیا گیا تشدد ہو۔‘

    تاہم پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی اور آئی جی عثمان انور نے تحریک انصاف کے کارکن احمد بلال عرف ’ظل شاہ‘ کی موت کو حادثاتی قرار دیا تھا۔

    ’ظل شاہ‘ کہلائے جانے والے علی بلال کون تھے؟

    علی بلال عرف ظلِ شاہ تحریک انصاف کے کارکن تھے۔ علی بلال نے سوگواران میں والدین کے علاوہ دو بھائی اور دو بہنیں چھوڑی ہیں۔

    علی بلال کے والد لیاقت علی بتاتے ہیں کہ ’میرا بیٹا بہت معصوم تھا۔ وہ کسی کو تکلیف نہیں پہچاتا تھا۔ اس کا قصور اتنا تھا کہ بس وہ عمران خان کا دیوانہ تھا۔ اتنا دیوانہ کے صبح ہو یا شام، بس عمران خان کا ذکر کرتا تھا۔ کہتا تھا کہ خان کہے گا تو وہ جان بھی دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جب بھی کارکنوں کے لیے کوئی کال آتی تو وہ زمان پارک پہنچنے والوں میں سب سے آگے ہوتا تھا۔ اس کو نہ کھانے کا ہوش ہوتا اور نہ ہی سونے کا۔‘

    علی بلال کے والد نے بتایا کہ ’جب بھی عمران خان کی کال آتی تو وہ شاید پہلا بندہ ہوتا جو سب سے پہلے نکلتا تھا۔‘

    ’آج کل تو وہ زیادہ وقت زمان پارک کیمپ میں ہی ہوتا تھا۔ رات کو دیر سے (گھر) آتا اور صبح جلدی چلا جاتا تھا۔ اس کی والدہ اس کے لیے رات کو دیر تک جاگتی رہتی تھیں اور صبح جلدی اٹھتیں تاکہ اپنے بیٹے کو رات کا کھانا اور صبح کا ناشتہ دے سکیں۔‘

  20. ہائبرڈ سے ہاف پلیٹ جمہوری نظام؟ عاصمہ شیرازی کا کالم