خدیجہ شاہ کے کیس میں پاکستانی حکام سے قونصلر رسائی مانگی ہے: امریکی محکمۂ خارجہ
ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ نو مئی کو کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر جیلاؤ گھیراؤ کے بعد گرفتار ہونے والی فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کے کیس پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی حکام سے ان تک قونصلررسائی مانگی گئی ہے۔
چھ جون کی پریس بریفنگ پر ترجمان ویدنت پٹیل سے پوچھا گیا کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے امریکی سازش کے دعوے کو دہرایا ہے اور وہ سابق پاکستانی سفیر (حسین حقانی) اور آرمی چیف جنرل باجوہ پر الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے ہی امریکہ سے کہا کہ عمران خان امریکی مخالف ہیں۔
اس پر مسٹر پٹیل نے کہا کہ یہ الزامات سراسر جھوٹ ہیں، صرف پاکستان کے عوام ملک کی سیاست سے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ’امریکہ پاکستان کے ساتھ طویل عرصے سے جاری تعاون کی قدر کرتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ خوشحال اور جمہوری پاکستان کو امریکی مفاد میں پایا ہے۔‘
اس سوال پر کہ آیا نو مئی کے واقعات پر گرفتار کیے گئے امریکی شہریوں سے امریکی حکومت نے کوئی رابطہ کیا ہے تو ان کا جواب تھا کہ وہ رازداری کے خدشے کے باعث انفرادی کیس کے بارے میں تفصیل نہیں دے سکتے مگر جب بھی کبھی امریکی شہری کو بیرون ملک گرفتار کیا جائے تو ’ہم مدد فراہم کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ پاکستانی حکام فری اینڈ فیئر ٹرائل کو یقینی بنائیں گے۔‘
مسٹر پٹیل سے پوچھا گیا کہ فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ امریکی شہری ہیں جنھیں اطلاعات کے مطابق فوج پر تنقیدی ٹویٹ پر گرفتار کیا گیا تو کیا امریکہ اس کیس کی پیروی کر رہا ہے؟
ان کا جواب تھا کہ ’ہم خدیجہ شاہ کے کیس پر نظر رکھ رہے ہیں اور ہم نے پاکستانی حکام سے ان تک قونصلر رسائی مانگی ہے۔ ہم ہمیشہ غیر ملکی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں زیر حراست امریکی شہریوں تک رسائی دیں۔
’خدیجہ شاہ دہری شہریت کی حامل ہیں اس لیے ہم اس معاملے میں حکومت پاکستان سے براہ راست بات چیت جاری رکھیں گے۔‘
خدیجہ سوشل میڈیا پر خود کو عمران خان اور تحریکِ انصاف کی حامی کے طور پر پیش کرتی تھیں اور نو مئی کو لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر دھاوا بولنے کے واقعے کی ویڈیوز بھی ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پوسٹ کی گئیں تھیں۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اب ڈی ایکٹیویٹ ہوگئے ہیں۔
خدیجہ شاہ کی گرفتاری کے لیے پولیس کئی دن سے سرگرم تھی اور انھوں نے مئی میں ہی اس واقعے کے چند ہفتے بعد خود کو قانون کے حوالے کر دیا تھا۔