سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل
عبدالرزاق شر کے قتل کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین
عمران خان کو نامزد کر دیا گیا ہے۔
مقدمہ مقتول کے بیٹے ایڈووکیٹ سراج احمد کی جانب سے جمیل کاکڑ پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا۔
مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 302،109 اور 34 کے علاوہ انسداد دہشتگردی
ایکٹ 6 اور7 کے تحت عمران خان کے خلاف درج کیا گیا۔
عبدالرزاق شرایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے وکیل تھے
۔ انھیں منگل کے روز اس وقت عالمو چوک کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے
ہلاک کیا جب وہ گھر سے ہائیکورٹ کی جانب آرہے تھے۔
مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ
عبدالرزاق شر ایک آلٹوکارمیں عدالت کی جانب جارہے تھے۔ اس حملے میں ان کے ڈرائیورمحفوظ رہے تھے۔
ایف آئی آر کے متن میں کیا ہے؟
ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے کہا کہ انھیں
اطلاع ملی کہ ان کے والد عبدالرزاق شر ایڈووکیٹ پرفائرنگ ہوئی ہے اوروہ سول ہسپتال
کوئٹہ میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں فوراً سول ہسپتال
کوئٹہ پہنچا جہاں میرا والد کی خون میں لت پت نعش موجود تھی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے سابق وزیر
اعظم عمران خان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک درخواست
دائر کی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’مجھے
قوی یقین ہے عمران خان اور پی ٹی آئی کے کارکنان نے اسی رنجش کی بنیاد پر ایئرپورٹ روڈ
بالمقابل سوزوکی شوروم میرے والد کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے بوقت نو بجکر20 منٹ آتشی اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ کر کے ناحق قتل کرکے عوام میں خوف و
ہراس اور دہشت پھیلائی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان
جن کے مبینہ ایما پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے میرے والد کو قتل
کیا، ان کے خلاف آئینی درخواست کی پیشی بدھ کو تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس پیشی کی مناسبت سے
والد نے مجھے بتایا تھا کہ اس کیس کے حوالے سے انھیں سنگین دھمکیاں بھی دی جارہی
تھیں۔اس لیے وہ رپورٹ کرتے ہیں تاکہ اس سلسلے میں
قانونی کارروائی کی جائے۔‘
وزیر اعظم کے مشیرعطا تارڑ نے ایف آئی آر سے
پہلے ایسے ہی الزام عائد کیے تھے؟
عبدالرزاق شر کے قتل کا ایف آئی آر درج ہونے
سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر عطاتارڑ نے بھی اس قتل کے حوالے سے عمران خان
پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
تاہم قتل کے بعد جب بی بی سی نے متعلقہ علاقے
کے ایک سینیئر پولیس اہلکار سے قتل کے محرکات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے
ابتدائی تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ اس قتل کا محرک دشمنی ہے۔
بعض وکلاء رہنمائوں نے بھی یہ بتایا کہ
عبدالرزاق شرکی دشمنی تھی جس میں فریقین کے لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
عبدالرزاق شر ایڈووکیٹ کے خلاف آئینی درخواست
میں کیا موقف اختیار کیا گیا ہے؟
واضح رہے کہ مقتول وکیل نے عمران خان کے خلاف
غداری کے مقدمے کے اندراج کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائرکی تھی۔
انھوں نے یہ موقف اخیتارکیا تھا کہ عمران خان
نے قومی اسمبلی کو غیرآئینی طورپرتوڑا تھا۔
مقتول وکیل کا یہ موقف تھا کہ عمران خان کا
یہ عمل غیرآئینی تھا اس لیے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ
درج کیا جائے۔
آئین کی خلاف ورزی پر آئین کے آرٹیکل 6 کی
روشنی میں سنگین غداری کے کیس کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کی گئی تھی جس کی
بدھ کے روز سماعت ہونی تھی۔
مقتول درخواست گزار کے وکیل امان اللہ کنرانی
ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بنچ کی عدم دستیابی کے باعث اس کی سماعت نہیں ہو سکی۔
اس درخواست کی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ
کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں ایک بینچ کررہا تھا۔
چونکہ چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس
میں شرکت کے لیے اسلام آباد گئے تھے جس کے باعث مقتول وکیل کے درخواست کی سماعت
نہیں ہوسکی ۔