سنا ہے مذاکرات ہو رہے ہیں، ہم سپورٹ کے لیے موجود ہیں بصورتِ دیگر ہمارا فیصلہ موجود ہے: چیف جسٹس بندیال

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا ہے کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ہمیں اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہم ان کی سپورٹ کے لیے موجود ہیں اور دوسری صورت میں ہمارا فیصلہ موجود ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. ’اسلام آباد پولیس سے کسی ریلی کی اجازت نہیں لی گئی‘

    اسلام آباد

    اسلام آباد پولیس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت شہر میں جلسے، جلوسوں اور ریلیاں نکالنے پر پابندی ہے۔

    ایک بیان میں اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے ’کسی ریلی کی اجازت نہیں لی گئی۔ بغیر اجازت ریلیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کل شہریوں کو رستوں کی بندش کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ شہری سفر کرنے سے پہلے راستوں کے متعلق معلومات حاصل کرلیں۔ اسلام آباد پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس انتظامات کرے گی۔ شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق پکار 15 پر اطلاع دے کراپنا قومی فریضہ نبھائیں۔‘

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ سے اظہار یکجہتی کے لیے لاہور، پشاور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں آج ریلیاں نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

  2. عمران خان کا کل لاہور، اسلام آباد، پشاور اور راولپنڈی میں ریلیاں نکالنے کا اعلان

    IK

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ہفتے کے روز لاہور سمیت چار شہروں میں سپریم کورٹ سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’کل لاہور میں ریلی کی قیادت میں خود کروں گا، جبکہ پشاور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی ریلیز منعقد ہوں گی۔ پوری قوم کل شام باہر نکل کر سپریم کورٹ سے اظہار یک جہتی کرے۔‘

    عمران خان نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’جب یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں جنگل کا قانون ہوگا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عمران خان نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ’ حکومت آپ کی رائے سے نہیں بنے گی بلکہ جب انھیں لگے گا کہ یہ جیت سکیں گے تب یہ انتخابات کروائیں گے۔‘

    عمران خان کے مطابق’ طاقتور جو چاہے گا وہ کرسکے گا، عام لوگوں کے کوئی حقوق نہیں ہوں گے۔ اس لیے ہمیں سپریم کورٹ اور آئین کے ساتھ کھڑے ہونا ہے تاکہ ملک کو بچا سکیں۔‘

  3. انڈیا کی سرزمین پر پاکستان کا مقدمہ لڑا ہے: بلاول بھٹو

    Bilawal

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو ذرداری نے کہا ہے کہ انڈیا کی سرزمین پر پاکستان کا مقدمہ لڑا ہے۔

    انڈیا کے شہر گوا سے واپس پاکستان پہنچنے پر کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’بی جے پی میں نفرت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ مجھے بھی دہشت گرد قرار دینا چاہتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کا شہری بھی دہشت گردی کا شکار ہو تو اس کا درد محسوس ہوتا ہے۔ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ کوئی انڈین یا پاکستانی دہشت گردی کا شکار ہو۔

    وزیر خارجہ کے مطابق ’دہشت گردی اور کشمیر پر کیوں کے پاکستان کے نمائندے بات کرتے ہیں اس لیے انڈین وزیر خارجہ اپنی پریس کانفرنس میں اتنا جذباتی لگ رہے تھے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’انڈیا میں بی جے پی حکومت نفرت کو پروان چڑھا رہی ہے۔ گوا میں ایس سی او کانفرنس میں جس سے بھی ملاقات ہوئی اس نے سی پیک منصوبے کی تعریف کی ہےسوائے انڈیا کے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ سینٹرل ایشیا کے ممالک سی پیک کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

  4. بریکنگ, دہشت گردی سے متاثرہ فریق دہشت گردی کرنے والے کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے:انڈین وزیر خارجہ جے شنکر

    bilawal

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دہشت گردی کو سفارتی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کیے جانے کی بات پر انڈین وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے دہشت گردی کرنے والوں کے ساتھ نہیں بیٹھا کرتے بلکہ ان کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔

    گوا میں ہونے والے اایس سی او اجلاس کے بعد میڈیا کے سوالوں کے جواب میں انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نےکہا کہ ’دہشت گردی کو فروغ دینے والے ، اسکا جواز دینے والے اور(معذرت کے ساتھ) دہشت گردی کی صنعت کے ترجمان ملک پاکستان کو اس کی پوزیشن کا جواب دیا گیا ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ فریق ، دہشت گردی کرنے والے کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔‘

    بلاول بھٹو اور پاکستان سے متعلق کے حوالے سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں انھوں نے مزید کہا کہ ’بلاول بھٹو کے ساتھ ایس سی او کانفرنس میں وہی سلوک کیا گیا جو دہشت گردی کی صنعت کو فروغ دینے والے ملک کے ترجمان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

    جے شنکر کے مطابق ‘دہشت گردی سے متاثرہ خود کا دفاع کرتے ہیں اور دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہیں، یہی ہو رہا ہے۔‘

    جے شنکر نے کہا ’ان کا یہاں آکر ایسے منافقانہ بیان دینا کہ جیسے ہم ایک کشتی کے سوار ہیں۔ وہ دہشت گردی کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے حوالے سے موقف واضح رکھیں۔

    انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ چین پاکستان کی راہدادی کے حوالے سے ایس سی او اجلاس میں واضح کیا گیا کہ رابطے ترقی کے لیے اچھے ہیں لیکن رابطے علاقائی خودمختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔‘

    جے شنکر کے مطابق سی پیک انڈیا کی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

  5. بلاول بھٹو: کشمیر اور انڈیا سے دوطرفہ بات چیت پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی

  6. انڈیا کو بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہو گا: وزیر خارجہ بلاول بھٹو

    Bilawal

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’ انڈیا کو بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہو گا۔ انڈیا بین الاقوامی قوانین اوردو طرفہ تعلقات کی خلاف ورزی کر سکتا ہے تو بات چیت کا مستقبل کیا ہو گا؟ پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ انڈیا کو کشمیر سے متعلق 4 اگست 2019 کی پوزیشن پر واپس آنا ہوگا۔‘

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے انڈیا کے شہر گوا میں پاکستانی صحافیوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ ’جہاں تک انڈیا پاکستان کے تعلقات ہیں تو ہمارا موقف ہمیشہ سے رہا کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق چاہتے ہیں۔ نئی صورت حال میں اگست 2019 کے فیصلے میں جب انڈیا نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی بلکہ اپنے دو طرفہ مذاکرات کو بھی متاثر کیا۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ انڈیا نے 2019 اگست میں جو یکطرفہ قدم اٹھایا اس سے صورت حال مشکل ہوتی گئی تاہم کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’انھوں نے اپنے ملک کا موقف سامنے رکھا ہے اور ہم نے اپنا موقف سامنے رکھا ہے۔ انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر نے فورم کی میزبانی کے فرائض اچھی طرح انجام دیئے اور انھوں نے مجھے کسی موقع پر یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ انڈیا پاکستان کے دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کا فورم پر اثر ہو۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ’ انڈیا کے عوام اور ان کے میڈیا کا جو بھی موقف رہا ہو پاکستان تعلقات میں بہتری چاہتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا ’انڈیا اور پاکستان دونوں کے عوام امن چاہتے ہیں۔ پاکستانی دہشت گردی سے سب سے ذیادہ متاثر ہوئے اس لیے ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘

    ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’امید ہے انڈیا کھیلوں کے معاملے پر کوئی برا فیصلہ نہیں کرے گا۔ کھیلوں کو سفارتی تعلقات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔‘

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا ’جس طرح میری آمد کو کور کیا گیا ہے اس سے محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی اہمیت بہت ذیادہ ہے۔‘

  7. بلاول بھٹو کا انڈین وزیر خارجہ کے ’نمستے‘ کا جواب: سفارتی تعلقات میں باڈی لینگوئج کی اہمیت کیا ہے؟

  8. توشہ خانہ کیس میں فردِ جرم کے لیے عمران خان دس مئی کو طلب

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس میں فردِ جرم عائد کرنے کے لیے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کو دس مئی کو طلب کر لیا ہے۔

    سیشن کورٹ نے عمران خان کی جانب سے عدالت کے دائرہ اختیار اور الیکشن کمیشن کی درخواست کے ناقابل سماعت ہونے سے متعلق درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے تحریکِ انصاف کے سربراہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ جمعے کو سنایا۔

    سماعت کے آغاز میں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل میں کہا ’توشہ خانہ کیس کے قابلِ سماعت ہونے کے خلاف درخواست الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190اے کے تحت دائر کی گئی، سیشن عدالت توشہ خانہ کیس کی براہ راست سماعت نہیں کرسکتی۔‘

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کے روبرو کہا ’میرا تو اعتراض ہے کہ عمران خان کی دونوں درخواستیں بھی قابل سماعت ہیں بھی یا نہیں،عمران خان نے جان بوجھ کر اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیںتسیشن عدالت اپنا فیصلہ واپس نہیں کرسکتی، عمران خان کو ٹرائل کا سامنا کرناپڑے گا۔‘

    دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے عمران خان کو 10 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان پر فرد جرم بدھ دس مئی کو عائد کی جائے گی۔

    عدالت نے اس عمل کے لیے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔

  9. بلاول بھٹو کے دورۂ انڈیا میں باہمی تعلقات پر پیشرفت کی توقع کیوں نہیں؟

    بلاول بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    بلاول بھٹو زرداری اور ان کے انڈین ہم منصب ایس جے شنکر کے درمیان کوئی دو طرفہ ملاقات متوقع نہیں اور شاید یہ حیرت کی بات نہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کے گوا کے دورے سے توقعات کافی کم ہیں۔

  10. دہشتگردی کو سفارتی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے: بلاول بھٹو

    bilawal

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے انڈیا کے شہر گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ ’دہشتگردی کو سفارتی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔‘

    انھوں نے اس بات کو ایک بار پھر دہرایا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کی علاقائی اور عالمی کوششوں کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ایس سی او اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی میرے لیے اعزازکی بات ہے اور پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو اہم علاقائی پلیٹ فارم سمجھتا ہے، اس کا مظاہرہ اس سے بہتر نہیں ہو سکتا کہ آج میں یہاں موجود ہوں۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’جب عظیم طاقتیں ثالث کا کردار ادا کرتی ہیں تو خطے میں باہمی تعاون اور امن کی راہیں بحال ہوتی ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سب ممالک دیرینہ، تاریخی، ثقافتی، تہذیبی اور جغرافیائی رشتوں میں بندھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’

    پاکستان اصل شنگھائی اسپرٹ میں موجود مشترکہ ترقی پر پختہ یقین رکھتا ہے اور مشترکہ ترقی کا اصول علاقائی، اقتصادی روابط اور تعاون پاکستان کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔

    یوریشین کنیکٹیوٹی کا وژن اگلی سطح تک لے جانےکے لیے یہ اہم پلیٹ فارم ہو سکتا ہے۔ ہم ستمبر سنہ 2023 میں علاقائی خوشحالی کے لیے ٹرانسپورٹ کنیکٹیوٹی کانفرنس کی میزبانی کے منتظر ہیں۔

    سمرقند اعلامیے نے خطے میں موثر راہداریوں اور قابل اعتماد سپلائی چینزکا مطالبہ کیا تھا، مشترکہ اقتصادی وژن آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی رابطے میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’سی پیک سینٹرل ایشیائی ریاستوں کو راہداری تجارت کے لیے بہترین موقع دیتا ہے۔ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کی علاقائی اور عالمی کوششوں کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہے، معیشتوں میں رابطےکی کمی علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔‘

  11. بجٹ تو مئی میں بھی پیش ہوتے رہے ہیں، لازمی تو نہیں کہ بجٹ جون میں ہی پیش کیا جائے: چیف جسٹس, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’بڑی بڑی جنگوں کے دوران بھی الیکشن ہوتے رہے ہیں۔ ترکی میں زلزلے کے دوران بھی الیکشن ہو رہے ہیں۔

    ’آپ کی باتوں سے لگتا ہے آئین نہیں توڑنا چاہتے۔ پنجاب کی جو بات کی گئی ہے سیاسی ہے لیکن عدالت کو لکھ کر نہیں دی گئی۔‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’عدالت کے سامنے صرف فنڈز اور سیکورٹی کا معاملہ اٹھایا گیا۔ کم ازکم فنڈز تو جاری ہو سکتے تھے۔

    ’نیک نیتی دکھانے کے لیے اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔ سکیورٹی پر عدالت کو ان کیمرہ بریفنگ دی گئی۔ اکتوبر تک سیکورٹی ٹھیک ہونے کی کیا گارنٹی تھی۔‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’صرف مفروضوں پر الیکشن کی تاریخ دی گئی ہے۔12 اگست کو اسمبلی تحلیل ہوتی ہے تو بارہ اکتوبر تک الیکشن ہوں گے۔‘

    ’بجٹ تو مئی میں بھی پیش ہوتے رہے ہیں۔ لازمی تو نہیں کہ بجٹ جون میں ہی پیش کیا جائے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آپ چاہتے ہیں عدالت سوموٹو نکات اٹھائے۔ ہم نے سوموٹو لینے چھوڑ دیے ہیں۔‘

    سپریم کورٹ میں آج کی سماعت مکمل ہو گئی ہے اور چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ عدالت اس کارروائی سے متعلق مناسب حکم جاری کرے گی۔

  12. میری تجویز ہے کہ مذاکرات جاری رکھنے چاہییں، ملک کی قیمت پر الیکشن نہیں چاہتے: سعد رفیق, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سماعت کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق روسٹرم پر آئےاور حکومت کا مؤقف عدالت کے سامنے رکھا۔

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی اداروں میں تصادم نہیں چاہتا۔عوام کو صاف پانی نہیں دے سکتے تو اداروں میں تصادم کے متحمل کیسے ہو سکتے ہیں۔‘

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے دوران بہت کچھ سننا پڑا۔ مذاکرات کے ذریعے ہی سیاسی بحران نکالا جا سکتا ہے۔ ’آئین 90 دن کے ساتھ شفافیت کا بھی تقاضہ کرتا ہے۔ پنجاب پر الزام لگتا ہے کہ یہی حکومت کا فیصلہ کرتا ہے۔‘

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’الیکشن نتائج تسلیم نہ کرنے پر پہلے بھی ملک ٹوٹ چکا ہے۔ آئین کے تقاضوں کو ملا کر ایک ہی دن الیکشن ہوں۔ صرف ایک صوبے میں الیکشن ہوا تو تباہی لائے گا۔‘

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’سیلاب اور محترمہ بینظیر کی شہادت پر انتخابات میں تاخیر ہوئی۔ اگر حکومت نے کوئی قانونی نقطہ نہیں اٹھایا تو عدالت اذخود ان پر غور کرے۔‘

    ’کئی ماہ سے 63 اے والا نظرثانی کیس زیر التواء ہے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’63 اے والی نظرثانی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہو رہی ہے۔ اٹارنی جنرل کو اس حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

    ’چاہتے ہیں شفاف الیکشن ہوں اور سب ان نتائج کو تسلیم کریں۔‘

    خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات میں طے ہوا ہے کہ یہ لوگ نتائج تسلیم کریں گے،سندھ اور بلوچستان میں اسمبلیاں بہت حساس ہیں۔

    دونوں اسمبلیوں کو پنجاب کے لیے وقت سے پہلے تحلیل کرنا مشکل کام ہے۔ پی ٹی آئی نے کھلے دل سے مذاکرات کیے اس پر ان کا شکر گزار ہوں۔

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات جاری رکھنے چاہییں، یہ میری تجویز ہے۔عدالت کو سیاسی معاملات میں الجھانے سے پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اپنی مدت سے حکومت ایک گھنٹہ بھی زیادہ نہیں رہنا چاہتی۔ ملک کی قیمت پر الیکشن نہیں چاہتے۔‘

  13. عدالت کے تحمل کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے، قانون پر عملدرآمد کے لیے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے: چیف جسٹس, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس کا مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سکیورٹی ملنے کا کہا تھا۔

    چیف جسٹس نے اتحادی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ نظرثانی اپیل تک حکومت نے دائر نہیں کی۔

    ’حکومت قانون کی بات نہیں سیاست کرنا چاہتی ہے۔ پہلے بھی کہا تھا سیاست عدالتی کارروائی میں گھس چکی ہے۔ ہم سیاست کا جواب نہیں دیں گے۔ ہم نے اللہ کے سامنے آئین کے دفاع کا حلف لیا ہے۔‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’معاشی، سیاسی، معاشرتی، سکیورٹی بحرانوں کے ساتھ ساتھ آئینی بحران بھی ہے۔ کل بھی آٹھ لوگ شہید ہوئے۔ حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدہ ہونا ہو گا۔

    ’معاملہ سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیں تو کیا قانون پر عملدرآمد نہ کروائیں۔

    ’کیا عدالت عوامی مفاد سے آنکھیں چرا لے؟ سپریم صرف اللہ کی ذات ہے۔ حکومت عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہے۔

    ’عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ قانون پر عملدرآمد کے لیے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے۔‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔

    تحریکِ انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف نے ایک دن الیکشن کروانے پر اتفاق کیا ہے۔ شرط رکھی کہ اسمبلیاں 14 مئی تک تحلیل کی جائیں۔

    ’دوسری شرط تھی کہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں الیکشن کروائے جائیں۔ تیسری شرط تھی کہ انتخابات میں تاخیر کو آئینی ترمیم کے ذریعے قانونی شکل دی جائے۔‘

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف نے 14 مٸی کو انتخابات کے حکم پرعملدرآمد کی استدعا کر دی ہے۔ عدالت اپنے حکم پر عملدرآمد کرواتے ہوئے فیصلہ نمٹا دے۔

    ’حکومت نے 14 مٸی انتخابات کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست داٸر نہیں کی۔ فاروق ناٸیک نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ غیر متعلقہ ہیں۔ آٸین سے باہر نہیں جایا جا سکتا۔‘

  14. آپ چار تین کی بحث میں لگے رہے، کبھی فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی: چیف جسٹس, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا سماعت کے دوران یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہماری اور اسمبلی میں ہونے والی گفتگو کا جائزہ لیں، جو بات یہاں ہورہی ہے اس کا لیول دیکھیں۔‘

    ادھر فاروق ایچ نائیک کا کہنا ’عدالت کو 90 روز میں انتخابات والے معاملے کا جائزہ لینا ہو گا۔ انتخابات کے لیے نگران حکومتوں کا ہونا ضروری ہے۔ منتخب حکومتوں کے ہوتے ہوئے الیکشن کوئی قبول نہیں کرے گا۔ یہ نظریہ ضرورت نہیں ہے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’23 فروری کا معاملہ شروع ہوا تو آپ نے انگلیاں اٹھائیں۔ یہ سارے نکات اس وقت نہیں اٹھائے گئے اور آئینی کارروائی کو حکومت نے سنجیدہ نہیں لیا۔

    فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ ’ہمیں تو عدالت نے سنا ہی نہیں تھا۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’دوسرے راؤنڈ میں آپ نے بائی کاٹ کیا تھا۔ کبھی فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ آپ چار تین کی بحث میں لگے رہے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’جسٹس اطہر من اللہ نے اسمبلیاں بحال کرنے کا نقطہ اٹھایا تھا، حکومت کی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ آج کی گفتگو ہی دیکھ لیں، کوئی فیصلے یا قانون کی بات ہی نہیں کر رہا۔‘

  15. آئین کے مطابق اپنے فیصلے پر عمل کروانے کے لیے آئین استعمال کر سکتے ہیں: چیف جسٹس, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ملک میں ایک روز انتخابات کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کیا بجٹ آئی ایم ایف کے پیکج کے تحت بنتا ہے؟ اخبارات کے مطابق دوست ممالک بھی قرضہ آئی ایم ایف پیکج کے بعد دیں گے۔ کیا پی ٹی آئی نے بجٹ کی اہمیت کو قبول کیا یا رد کیا؟‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’آئین میں انتخابات کے لیے 90 دن کی حد سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور اس حوالے سے عدالت اپنا فیصلہ دے چکی ہے۔ یہ قومی اور عوامی اہمیت کے ساتھ آئین پر عملداری کا معاملہ ہے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’کل رات ٹی وی پر دونوں فریقین کا مؤقف سنا۔ مذاکرات ناکام ہوئے تو عدالت 14 مئی کے فیصلے کو لے کر بیٹھی نہیں رہے گی۔

    ’عدالت نے اپنے فیصلے پر آئین کے مطابق عمل کرنا ہے۔ آئین کے مطابق اپنے فیصلے پر عمل کروانے کے لیے آئین استعمال کر سکتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’عدالت صرف اپنا فرض ادا کرنا چاہتی ہے۔ کہا گیا ماضی میں عدالت نے آئین کا احترام نہیں کیا اور راستہ نکالا۔ عدالت نے احترام میں کسی بات کا جواب نہیں دیا۔

    ’غصے میں فیصلے درست نہیں ہوتے اس لئے ہم غصہ نہیں کرتے۔‘

  16. یقین ہے کہ مداخلت کے بغیر معاملات حل کیے جاسکتے ہیں مگر مزید وقت درکار ہے: فاروق نائیک, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ آج ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کے حوالے سے سماعت کر رہا ہے جس کے آغاز میں پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک نے صبح جمع کروایا گیا اتحادی حکومت کا جواب عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

    جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’قرضوں میں 78 فیصد، سرکولر ڈیٹ میں 125 فیصد اضافہ ہو چکا۔ سیلاب کے باعث 31 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور اسمبلی تحلیل سے پہلے بجٹ، آئی ایم ایف معائدہ اور تجارتی پالیسی کی منظوری لازمی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیول پلیئنگ فیلڈ اور ایک دن انتخابات پر اتفاق ہوا ہے۔ اسمبلی تحلیل کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہو سکا لیکن ملکی مفاد میں مذاکرات کا عمل بحال کرنے کو حکومت تیار ہے۔ ہر حال میں اسی سال ایک دن الیکشن ہونے چاہییں۔ سندھ اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت تحلیل پر آمادہ نہیں۔

    ’ہر فریق کو مذاکرات میں لچک دکھانی پڑتی ہے اور مذاکرات میں کامیابی چند روز میں نہیں ہو سکتی، اس کے لیے مزید وقت درکار ہے۔‘

    فاروق ایچ نائیک کا مزید کہنا تھا کہ ’ملکی مودجودہ معاشی صورتحال کو پی ٹی ائی بھی تسلیم کرتی ہے۔ مذاکرات میں ایک ہی دن انتخابات کروانے پر اتفاق ہوا ہے۔

    اس پر چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ’سیاسی مسئلہ کو سیاسی قیادت حل کرے، لیکن موجودہ درخواست ایک حل پر پہنچنے کی ہے۔

    ’آئی ایم ایف سے مذاکرات اور وفاقی بجٹ اس وقت بہت اہم ہیں۔‘

  17. سینیٹ میں سپریم کورٹ کے آرڈرز اور فیصلوں پر نظرِ ثانی بل منظور

    senate

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان کی سینیٹ کی جانب سے سپریم کورٹ کے آرڈرز اور فیصلوں پر نظرثانی کے حوالے سے بل منظور کر لیا گیا ہے۔

    بل کے تحت ’ایسے متاثرہ شخص کو نظر ثانی درخواست دائر کرنے کا حق ہو گا جس کے خلاف اس قانون سے قبل آرٹیکل 184 تھری کے تحت فیصلہ دیا گیا ہو۔‘

    بل کے مطابق ’سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست فیصلہ سنانے والے بنچ سے بڑا بنچ سنے گا۔ نظر ثانی دائر کرنے والے درخواست گزار کو اپنی مرضی کا وکیل مقرر کرنے کا حق ہو گا۔‘

    بل کے مطابق ’نظر ثانی درخواست اس قانون کے آغاز کے 60 دن کے اندر دائر کی جائے گی۔‘

    رائے شماری کی تحریک کے حق میں 32 جبکہ مخالفت میں 21 ووٹ آئے۔ بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن اراکین نے سپیکر کے روسٹرم کا گھیراؤ کر لیا۔ اس دوران اپوزیشن نے توہین عدالت نامنظور کے نعرے لگائے اور چئیرمین ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر نعرے بازی کی۔

  18. سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے مرکزی بینک کے پاس ایک ہفتے کے دوران زرمبادلہ میں ساٹھ لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد زرمبادلہ ذخائر 4.45 ارب ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

    ملک کے تجارتی بینکوں کے پاس زرمبادلہ ذخائر کے 5.58 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔ ملک کے پاس مجموعی زرمبادلہ ذخائر کا حجم دس ارب ڈالر ہے۔ ملک کے زرمبادلہ میں گذشتہ دو ہفتوں میں کچھ بہتری نظر آئی تھی جب چین کے کمرشل بینک کی جانب سے پاکستان کو قرض فراہم کیا تھا۔

    تاہم زرمبادلہ ذخائر میں گذشتہ کئی مہینوں میں کوئی بڑا اضافہ نہیں دیکھا گیا، جس کی وجہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کی معطلی ہے۔

  19. تحریک انصاف نے ایک تاریخ کو الیکشن کروانے پر اتفاق کیا ہے: اسحاق ڈار نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیا

    ishaq

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک تاریخ پر ملک بھر میں الیکشن کے حوالے سے جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔

    اسحاق ڈار نے جواب اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں جمع کروایا ہے اور اس میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’حکومتی اتحادی اور اپوزیشن ملک بھر میں ایک تاریخ پر الیکشن کروانے پر متفق ہیں۔

    ’ملکی کے بہترین مفاد میں حکومت مذاکرات کا عمل بحال کرنے کو تیار ہے۔ تحریک انصاف نے ایک تارہخ کو الیکشن کروانے پر اتفاق کیا ہے۔‘

    سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’الیکشن کے معاملہ پر فریقین میں مذاکرات پر مثبت پیشرفت ہوئی ہے جبکہ قومی اسمبلی اور باقی صوبائی اسمبلیاں کب تحلیل ہوں گی اس بات پر تارہخ پر اتفاق نہیں ہو سکا۔‘

    ’حکومتی اتحادیوں نے مذاکرات میں لچک دکھائی اور اسمبلیوں کو وقت سے پہلے تحلیل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ حکومت انتخابات پر مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔‘

  20. الیکشن کیس: چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ آج سماعت کرے گا

    supreme court

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ میں ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کروانے کے کیس کی سماعت آج ساڑھے 11 بجے ہو گی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔ بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے گذشتہ روز 27 اپریل کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ’4 اپریل کے فیصلے کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کا حکم برقرار ہے۔

    حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے سیاسی مذاکرات کے لیے کوئی حکم یا ہدایت نہیں دی تھی۔

    یاد رہے کہ مذاکرات سے متعلق تحریک انصاف جواب جمع کروا چکی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے بھی مذاکرات سے متعلق جواب آج جمع کروا دیا ہے۔