چیف جسٹس کا مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سکیورٹی ملنے کا کہا تھا۔
چیف جسٹس نے اتحادی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ نظرثانی اپیل تک حکومت نے دائر نہیں کی۔
’حکومت قانون کی بات نہیں سیاست کرنا چاہتی ہے۔ پہلے بھی کہا تھا سیاست عدالتی کارروائی میں گھس چکی ہے۔ ہم سیاست کا جواب نہیں دیں گے۔ ہم نے اللہ کے سامنے آئین کے دفاع کا حلف لیا ہے۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’معاشی، سیاسی، معاشرتی، سکیورٹی بحرانوں کے ساتھ ساتھ آئینی بحران بھی ہے۔ کل بھی آٹھ لوگ شہید ہوئے۔ حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدہ ہونا ہو گا۔
’معاملہ سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیں تو کیا قانون پر عملدرآمد نہ کروائیں۔
’کیا عدالت عوامی مفاد سے آنکھیں چرا لے؟ سپریم صرف اللہ کی ذات ہے۔ حکومت عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہے۔
’عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ قانون پر عملدرآمد کے لیے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔
تحریکِ انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف نے ایک دن الیکشن کروانے پر اتفاق کیا ہے۔ شرط رکھی کہ اسمبلیاں 14 مئی تک تحلیل کی جائیں۔
’دوسری شرط تھی کہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں الیکشن کروائے جائیں۔ تیسری شرط تھی کہ انتخابات میں تاخیر کو آئینی ترمیم کے ذریعے قانونی شکل دی جائے۔‘
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف نے 14 مٸی کو انتخابات کے حکم پرعملدرآمد کی استدعا کر دی ہے۔ عدالت اپنے حکم پر عملدرآمد کرواتے ہوئے فیصلہ نمٹا دے۔
’حکومت نے 14 مٸی انتخابات کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست داٸر نہیں کی۔ فاروق ناٸیک نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ غیر متعلقہ ہیں۔ آٸین سے باہر نہیں جایا جا سکتا۔‘