سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے: حکومتی جماعتوں کا فیصلہ

وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے حکومتی اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایک ہی دن انتخاب ہونے چاہئیں، یہ غیر جانبدارانہ، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کا بنیادی دستوری تقاضا ہے۔

لائیو کوریج

  1. عدالتی اصلاحات کا بل سینیٹ سے منظور

    سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنےکی اپوزیشن کی تحریک مسترد کر دی گئی اور بل فوری طور پر منظور کرنے کی تحریک منظور کر لی گئی ہے۔

    بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے اور بل کے حق میں 60 اور مخالفت میں 19 ووٹ آئے۔

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل ایوان میں پیش کرنے کی تحریک جمع کروائی تھی۔

  2. سیاست سیاستدانوں کے لیے رہنے دیں: خواجہ آصف

    الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی تحلیل کے بعد سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ سب ٹھیک نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو کچھ ایسے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے جس سے دراڑیں دور ہو سکیں اور سپریم کورٹ آئین کا تحفظ کرتی نظر آئے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ سپریم کورٹ انصاف کا سب سے بڑا ادارہ ہے، تمام ججوں پر لازمی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں اور کنڈکٹ سے ادارے کی عزت کا تحفظ کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں ان کا کردار تاریخ ساز ہو گا اور عدلیہ میں جب اختلاف رائے نظر آنے لگے تو وہ اچھا شگون نہیں۔

    انھوں نے سپریم کورٹ کے ججوں سے درخواست کی کہ وہ ’سیاست سیاستدانوں کے لیے رہنے دیں۔ اسے ان اداروں میں داخل نہ کریں جن کا کام لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے‘۔

    وزیر دفاع نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پلڑے برابر رکھنے کا مطالبہ سیاسی مطالبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک فرض کی یاددہانی ہے۔

  3. الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت کرنے والا بینچ تحلیل

    پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صوبائی الیکشن میں التوا کے معاملے پر سماعت کرنے والا پانچ رکنی بینچ ٹوٹ گیا ہے۔

    بینچ کے رکن جسٹس امین الدین کی جانب سے جمعرات کو معاملے کی سماعت سے انکار کیا گیا جس کے بعد یہ بینچ تحلیل ہو گیا۔

    سماعت کے آغاز پر جسٹس امین الدین کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی جانب سے بدھ کو ازخود نوٹس کے مقدمات کے حوالے سے جو فیصلہ دیا گیا اس کے بعد بھی بینچ کارروائی جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن وہ اس معاملے کی سماعت سے معذرت کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ بدھ کو ایک ازخود نوٹس کے حوالے سے حکم نامہ جاری ہوا جس کا وہ خود حصہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکم نامے میں آئین کے آرٹیکل 184(3) کے مقدمات کی سماعت موخر کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن یہ بینچ چونکہ معاملے کی سماعت جاری رکھنا چاہتا ہے اس لیے وہ خود کو بینچ سے الگ کر رہے ہیں۔

    بدھ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے قواعد و ضوابط میں ترمیم تک از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں ہونا چاہیے اور جب تک بینچوں کی تشکیل سے متعلق چیف جسٹس کے اختیارات میں ترمیم نہیں ہوتی ایسے تمام مقدمات کو ملتوی کردیا جائے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ تین دن سے اس معاملے کی سماعت کر رہا تھا۔ اس بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

    اب الیکشن کے التوا کے معاملے کی سماعت نئے بینچ کی تشکیل کے بعد ہی ممکن ہو گی۔

    بینچ کی تحلیل کے بعد اس کیس میں پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ وہ قیاس آرائیاں نہیں کرنا چاہتے اور چیف جسٹس اور سینیئر جج مل کر جو فیصلہ کریں گے اس کے مطابق وہ پیش ہو جائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایک فیصلہ آ چکا تھا جس پر مختلف ججوں کی مختلف آرا ہیں، بہتر ہے کہ وہ آپس میں مشاورت کر کے خود یہ معاملہ حل کر لیں‘۔

  4. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال کی تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    31 مارچ تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔