سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے: حکومتی جماعتوں کا فیصلہ

وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے حکومتی اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایک ہی دن انتخاب ہونے چاہئیں، یہ غیر جانبدارانہ، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کا بنیادی دستوری تقاضا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

  2. بریکنگ, سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے: حکومت میں شامل جماعتوں کا فیصلہ

    پاکستان میں حکمران جماعتوں کے اتحاد نے اعلان کیا ہے انھیں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے۔

    حکومت میں شامل جماعتوں کے اہم مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن کے مطابق حکمران جماعتوں نے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔

    اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق ’سپریم کورٹ کا لارجر بینچ پہلے ہی تین کے مقابلے چار ججوں کی اکثریت سے انتخابی درخواستیں خارج کرچکا ہے چیف جسٹس اکثریتی پر اقلیتی فیصلہ مسلط کرنا چاہتے ہیں پاکستان بار کونسل اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کی آرٹیکل 209 کے تحت دائر ریفرنسز پر کارروائی کی جائے۔‘

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے 184 (3 ) کے تحت زیر سماعت مقدمات پر کارروائی سے روکنے کا کہا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بینچ کے فیصلے کا احترام کرنا بھی سب پر لازم ہے جسٹس اعجازالاحسن کا دوبارہ تین رکنی بینچ میں شامل ہونا غیر منصفانہ ہے۔‘

    ’یہ عمل سپریم کورٹ کے طریقہ کار کی بھی خلاف ورزی ہے سیاستدانوں سے کہاجارہا ہے کہ وہ مل کر بیٹھیں لیکن سپریم کورٹ خود تقسیم ہے ان حالات کا تقاضا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اور تین رکنی بینچ کے دیگر جج صاحبان مقدمے سے دستبردار ہوجائیں۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’اجلاس کا پارلیمنٹ کی حالیہ قانون سازی کی بھرپور تائید اور حمایت کا اعلان قانون سازی سے عوام الناس کے ساتھ یک طرفہ انصاف کی روش کا خاتمہ ہوگا پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے آرٹیکل 184 (3) سے متعلق اپنی رائے واضح کردی ہے۔‘

    اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’پارلیمنٹ بالا دست ہے جس کی رائے کا سب کو احترام کرنا چاہیے ا مید ہے کہ صدر قانون سازی کی راہ میں جماعتی وابستگی کی بنیاد پر رکاوٹ نہیں بنیں گے پاکستان تحریک انصاف کے معاملے میں خصوصی امتیازی رویے کے تاثر کو چیف جسٹس ختم کریں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. پاکستانی سرحد فورسزر پر ’ایرانی دہشگردوں کا حملہ‘ چار اہکار ہلاک

    پاکستانی فوج کے مطابق ’ایران کی طرف سے سرگرم دہشت گردوں کے ایک گروپ نے ضلع کیچ کے جلگئی سیکٹر میں پاک ایران سرحد پر کام کرنے والی پاکستانی سکیورٹی فورسز کے معمول کےسرحدی گشت پر حملہ کیا ہے۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق’ حملے میں چار اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایران سے مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام اور ان کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔

    وزیرداخلہ رانا ثنااللہ خان کی پاک ایران سرحد پر سکیورٹی فورسز پر حملے کی مذمت کی ہے۔

  4. بریکنگ, سپریم کورٹ: صدر عارف علوی کی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس لینےکی درخواست

    پاکستان کے صدر مملکت عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس لینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست کر دی ہے۔

    صدر مملکت کی جانب سے متفرق درخواستیں واپس لینے کی استدعا لی گئی ہے۔

    درخواست کے مطابق وہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق متفرق سول اپیلیں واپس لیتے ہیں۔

    درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ ’انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ریفرنس کی مزید پیروی نہیں چاہتے۔‘

  5. انتخابات کے التوا کا معاملہ: ’کیا کوئی تیسرا راستہ نکل سکتا ہے، مائی لارڈ؟‘

  6. سیاسی جماعتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے: رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی

    SMQ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ آئین پر عمل درآمد ہو۔ پی ٹی آئی نے سیاسی جماعتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور سندھ کی دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے کیے ہیں۔‘

    شاھ محمود قریشی کے مطابق ’تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین کا تحفظ کیا ہے اور اب بھی آئین کے دفاع کے لیے وکلا اور ججز کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمران خان ایک بار پھر اصولی لڑائی لڑنے نکلے ہیں اورہم وکلا برادری سے درخواست کرتے ہیں کہ فی الفور اپنا حصہ اس تحریک میں شامل کریں۔‘

  7. حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس آج، سپریم کورٹ میں درپیش صورتحال پر مشاورت ہوگی

    حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس آج منعقد ہوگا جس میں سپریم کورٹ میں پیدا شدہ صورتحال پر مشاورت ہوگی جبکہ وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نزیر تارڑ اجلاس کو بریفنگ دیں گے۔

    حکام کے مطابق اجلاس میں مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جائے گی جبکہ ملک کی مجموعی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

    حکام کے مطابق وزیراعظم لاہور سے وڈیو لنک سے اجلاس کی صدارت کریں گے جبکہ اجلاس میں دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین اور رہنما بھی شریک ہوں گے۔

  8. موجودہ بینچ ایسے فیصلے پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کر رہا ہے جو ہے ہی نہیں: رانا ثنا اللہ

    rana sana ullah

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’چار ججز نے انتخابات سے متعلق از خود نوٹس کو خارج کر دیا ہے اب اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے، موجودہ بینچ ایسے فیصلے کو عمل درآمد کروانے کی کوشش کر رہا ہے جو ہے ہی نہیں۔‘

    جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ پروگرام میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے مزید کہا ’سپریم کورٹ کے سات میں سے تین ججز ایک بات کر رہے ہیں۔ چار ججز کھل کے ایک بات کہہ رہے ہیں اور ان ججز نے از خود نوٹس کو خارج کر دیا ہے اب اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’ چار ججز کے فیصلے کے بعد یہ کیس آگے نہیں بڑھایا جا سکتا اور آئینی پوزیشن بھی یہی ہے۔‘

    انتخابات میں پرامن رہنے کے حوالے سے تحریک انصاف کے بیان حلفی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے دعوی کیا کہ ’عمران خان نہ کبھی پرامن رہیں گے نہ کبھی مذاکرات میں ہمارے ساتھ بیٹھیں گے۔‘

    ان کے مطابق ملک کے بحران صرف ایک شخص کی منشا تھی اور وہ (عمران خان) اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

  9. چمن اور نواحی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے: تین بچے ہلاک، پانچ افراد زخمی, محمد کاظم، کوئٹہ

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں زلزلے کے باعث کچے مکانات کی چھت گرنے سے تین بچے ہلاک جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق گذشتہ شب چمن اور نواحی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 3.5 تھی۔

    زلزلے کے باعث دو مقامات پر کچے مکانات گرنے سے تین بچے ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔

    بلال زئِی کے علاقے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں 8 سے 12 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

    زلزلے سے پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے تین کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔

    PDMA

    ،تصویر کا ذریعہPDMA

  10. راشن کی لائنوں میں شہری جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور سمجھ نہیں آرہی کہ اس بحران سے کس طرح نکلنا ہے، فواد چوہدری

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ی ٹی آئی کی کورکمیٹی نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں راشن کی لائنوں میں شہری جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور سمجھ نہیں آرہی کہ اس بحران سے کس طرح نکلنا ہے۔

    فواد چوہدری کے مطابق آج لاہور میں پی ٹی آئی نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صرف 10 دنوں میں 20 لوگ راشن کی لائنوں میں لگ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے پاکستان میں خوراک کے حصول کے لیے ہنگاموں کی ابتدا ہو چکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 20 لوگوں کا راشن کے لیے ایسے قطاروں میں لگ کر مرنا ایک المیہ ہے، ایسے حالات پاکستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمتوں میں ایک روپے بھی کمی نہیں کی گئی، ہم نے اپنی دو اسمبلیاں اس لیے توڑی کہ الیکشن ہوں۔

  11. بلوچستان: کابینہ کا 30 ارب روپے کی ادائیگی نہ ہونے پر پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے رویے پر تحفظات کا اظہار, محمد کاظم، کوئٹہ

    بلوچستان کابینہ نے 30 ارب روپے کی ادائیگی نہ ہونے پر پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    کابینہ کا اجلاس وزیر اعلی میر عبدالقدوس بزنجو کی صدارت میں ہوا۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق کابینہ نے کہا ہے کہ نہ تو بلوچستان کو پوری گیس فراہم کی جارہی ہے اور نہ ہی پی پی ایل کے ذمہ اربوں روپے کے واجبات کی ادائیگی ہو رہی ہے۔

    وزیر اعلی قدوس بزنجو نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی پی ایل کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی کے غلام نہیں اپنے وسائل پر مکمل حق حاکمیت رکھتے ہیں۔

    وزیر اعلی قدوس بزنجو نے کہا کہ کمپنیاں 75 سالوں سے بلوچستان کا استحصال کر رہی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وسائل پر کسی کو عیاشی نہیں کرنے دیں گے۔

    وزیراعلی نے کہا کہ سردیوں میں گیس نہیں ملتی، فصلوں کے سیزن اور گرمیوں میں بجلی نہیں ملتی۔ وزیر اعلی نے استفسار کیا کہ کیا بلوچستان وفاق کی اکائی نہیں ہے۔

    کابینہ نے پی پی ایل سے واجبات کی وصولی کے لیے آئین اور قانون کے مطابق تمام ذرائع برؤے کار لانے کا فیصلہ کرتے ہوئےصوبائی وزرا سید احسان شاہ، زمرک خان اچکزئی، صوبائی مشیر نوابزادہ گہرام خان بگٹی اور پارلیمانی سیکریٹری توانائی میر عمر خان جمالی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق کمیٹی وزیراعظم اور پی پی ایل حکام سے ملاقات کرے گی۔ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ مقررہ مدت میں واجبات ادا نہ کرنے کی صورت میں آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

  12. بریکنگ, حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

    پیٹرول اور ڈیزل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    حکومت پاکستان نے پیٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان قیمتوں کا اطلاق یکم سے 15 اپریل تک ہو گا۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 272 جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 293 روپے برقرار رہے گی تاہم مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل میں فی لیٹر 10 روپے کمی کی جا رہی ہے۔

  13. بریکنگ, سب کہہ رہے ہیں میرے ساتھ غلط ہوا لیکن اس پر عدلیہ از خود نوٹس نہیں لے رہی: نواز شریف

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آج ہر بندہ کہہ رہا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ غلط ہوا لیکن اس پر عدلیہ از خود نوٹس نہیں لے رہی۔

    لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’تین رکنی بینچ میں کیا مصلحت ہے۔ ہمیں فل کورٹ پر پورا اعتماد ہے لیکن الیکشن التوا کیس میں شامل دو جج وہ ہیں جنھوں نے میرے خلاف فیصلہ دیا۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن التوا کا کیس زیر سماعت ہے۔ اس کیس میں سیاسی جماعتوں اور اٹارنی جنرل کے بار بار مطالبے کے باوجود سپریم کورٹ نے فل کورٹ کی استدعا مسترد کر دی۔

    نواز شریف نے مزید کہا کہ ’کیا سارے فیصلےعمران خان کے لیے کرنے ہیں۔ ثاقب نثار اور دیگر ریٹائر جج بتائیں کہ مجھے کیوں نا اہل کیا گیا؟‘

    نواز شریف نے کہا کہ ’سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی وہ آڈیو موجود ہے، جس میں انھوں نے کہا مریم شریف اور نواز شریف کو سزا دینی ہے اور عمران خان کو لانا ہے۔ اس آڈیو کی بھی تحقیق ہونی چاہیے۔‘

  14. سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کے ارکان اسمبلی کے بارے میں ریمارکس کی وضاحت جاری کردی

    سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کے ارکان اسمبلی کے بارے میں ریمارکس کی وضاحت جاری کردی ہے۔

    ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس کے کچھ ریمارکس میڈیا پر درست انداز میں رپورٹ نہیں ہوئے۔

    وضاحت کے مطابق ’چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین ہمارے لیے، اس قوم اور معاشرے کے لیے لازمی ہے جو وفاق کو جوڑے رکھتا ہے، آئین جمہوریت کو زندہ رکھتا ہے۔‘

    ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا تھا کہ آپ پارلیمنٹ جائیں تو آپ کو خطاب کرتے ایسے لوگ ملتے ہیں جو کل تک قید تھے، غدار قرار دیے گئے تھے لیکن اب وہ لوگ وہاں بات کررہے ہیں اور ان کو عزت دی جارہی ہے کیونکہ وہ عوام کے نمائندے ہیں۔

  15. تحریک انصاف کی انتخابات کے دوران پر امن رہنے کی یقین دہانی

    تحریک انصاف نے انتخابات کے دوران پر امن رہنے اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی یقین دہانی سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔

    تحریری یقین دہانی میں کہا گیا ہے کہ ’جمہوریت کی بقا کے لیے عدالت کو یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ تحریک انصاف پرامن رہے گی اگر تمام سیاسی جماعتیں الیکشن مہم کے دوران اور الیکشن دن پر پرامن رہیں۔‘

    تحریری یقین دہانی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی پرامن رہے گی اگر انتخابات میں کوئی خلاف قانون کام نہیں کیا جاتا۔

    پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا ہے کہ صرف ان جگہوں پر جلسے اور ریلیاں نکالی جائیں گی، جہاں سکیورٹی کی یقین دہانی ہو گی۔

  16. الیکشن التوا کیس: سماعت تین رکنی بینچ کرے گا تو کیا سیاسی استحکام کے معاملات حل ہو سکیں گے؟ اعظم نذیر تارڑ

    پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر الیکشن التوا کے کیس کی سماعت تین رکنی بینچ کرے گا تو کیا سیاسی استحکام کے معاملات حل ہو سکیں گے۔

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چیف جسٹس نے اپنی صوابدید میں سمجھا کہ وہ تین رکنی بینچ کے ساتھ ہی سماعت کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا اس سے سیاسی استحکام کے معاملات حل ہو سکیں گے؟

    انھوں نے کہا کہ ’اگر اقلتیی فیصلے صادر کیے جائیں گے تو بحران شدید ہو گا۔ توقع کر رہے ہیں کہ چیف جسٹس باقی ججز کو بھی اعتماد میں لیں گے۔‘

    انھوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو سیاستدانوں کو کہتے ہیں وہ اصول اپنے ادارے پر بھی لاگو کریں۔

    اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ تمام اداروں کا فرض ہے کہ وہ اجتماعی سوچ کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بیٹھیں۔

  17. بریکنگ, پی ٹی آئی کے لاپتہ کارکن اظہر مشوانی گھر پہنچ گئے

    ایک ہفتہ قبل لاپتہ ہونے والے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے سوشل میڈیا کے لیے فوکل پرسن اظہر مشوانی لاہور میں اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

    انھوں نے اپنی بخیریت واپسی کی اطلاع ٹوئٹر پر اپنے اکاوئنٹ سے کی گئی ایک ٹویٹ کے ذریعے کی۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی گمشدگی کے عرصے میں جس طرح ان کا ساتھ دیا گیا اس کے لیے وہ سب کے شکرگزار ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. کے پی اور پنجاب میں الیکشن نہ ہوئے تو باقی ملک میں بھی نہیں ہوں گے: فواد چوہدری

    تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن نہ ہوئے تو پورے ملک میں بھی الیکشن نہیں ہو سکیں گے۔

    سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہا کہ اس صورت میں ملک کو درپیش مسائل میں اضافہ ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ اگر آپ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن نہیں کراتے تو پھر آپ اسے مارشل لا کہیں یا کچھ اور ملک ایک غیرآئینی حکومت کے نیچے چلا جائے گا۔

    فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو حکومت چیف جسٹس کے فیصلے پر عمل نہیں کرے گی اسے گھر جانا پڑے گا۔

  19. پاکستان کے عوام قانون کی حکمرانی، آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر آنے کو تیار رہیں: عمران خان

    تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ایک بار پھر سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کو دھمکا رہی ہے اور اس کی وجہ ان کا الیکشن سے خوفزدہ ہونا ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کے عوام ضرورت پڑنے پر قانون کی حکمرانی، آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر آنے کو تیار رہیں۔‘

    عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ان تمام جماعتوں سے بات کریں گے جو اس ’سازش‘ کے خلاف کھڑے ہونے کو تیار ہیں۔ انھوں نے وکلا برادری سے درخواست کی کہ وہ 2007 کی طرح ایک بار پھر اس تحریک کی قیادت کریں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. الیکشن کے معاملے پر ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہیں، فواد چوہدری

    تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سپریم کورٹ کو تحریری یقین دہانی کروانے کو تیار ہے کہ الیکشن کے معاملے پر ہر قسم کا تعاون کیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ’الیکشن کی تاریخ اور کوڈ آف کنڈکٹ پر سپریم کورٹ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں آپس میں طے کر لیں تو بہت اچھا ہو گا۔‘

    ’حکومت کہتی ہے الیکشن کے لیے پیسہ نہیں، آج اسلام آباد کے لیے 35 ارب روپے کی سکمیں منظور کی گئیں۔ حکومت الیکشن کرائےگی ورنہ گھر جائے گی۔‘

    تحریک انصاف رہنما اسد عمر نے اس موقع پر کہا کہ ’امید ہے سپریم کورٹ کے فیصلے میں تاریخ کا تعین ہو گا بلکہ اداروں کو باندھا جائے گا کہ آئین کے مطابق کو ماحول ہونا چاہیے، وہ ماحول فراہم کیا جائے گا۔‘

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’جو بنچ سماعت کر رہا ہے وہ مذید تاخیری حربوں کی اجازت نہیں دے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ حکومتی ادارے چیف جسٹس کے سوالات کا سوموار کو مکمل جواب دیں گے تاکہ الیکشن کا انعقاد ہو سکے۔‘