وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے لاہور میں تجاوزات ہٹانے اور پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں کے لیے کیے گئے زمان پارک آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پولیس اور دیگر لا انفورسنگ ایجنسیز نے زمان پارک سے نو گو ایریا ختم کرا لیا ہے۔‘
گذشتہ شب اپنی پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’سرچ آپریشن کے دوران عمران خان کے گھر کے باہر کے حصے سے ناجائز اسلحہ برآمد ہوا ہے۔
’غلیلیں، پیٹرول بم بنانے کا سامان برآمد ہوا ہے اور یہ ساری چیزیں لا انفورسنگ ایجنسیز کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’زمان پارک سے جو کچھ ملا ہے اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ کسی تنظیم کو دہشتگردی کی بنیاد یا ان حرکتوں کی بنیاد پر جو اس کی سامنے آئی ہیں کالعدم قرار دلوانے کے لیے پراسس ہے وہ ایک عدلیہ کا پراسس ہے۔
’ہماری لیگل ٹیم اور حکومت کو دیکھنا ہوگا اس پراسس میں کامیابی کے کیا امکانات ہیں۔ کیا وہ ریفرنس بھجوانے کے لیے کافی ہیں۔‘
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’سرچ وارنٹ پر عمران خان کے گھر کے بیرونی حصے کی تلاشی لی گئی۔‘
’پولیس سرچ وارنٹ ہونے کے باوجود رہائشی پورشن جہاں ان کی اہلیہ محترمہ موجود تھیں اس ایریا میں داخل نہیں ہوئی۔ جو گھر کے اندر کے لیے سرچ وارنٹ موجود ہے اس پر بھی تعمیل کی جائے گی اور اس ایریا کو بھی سرچ کرائیں کیونکہ ہمیں شبہ ہے کہ وہاں پر بھی ناجائز اسلحہ اور ممنوعہ استعمال کی چیزوں کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔‘
ان کا الزام تھا کہ عمران خان کے گرد ’جو لوگ جمع ہیں ان کو خود نہیں پتہ کون کہاں سے آیا ہے اور یہ خود بھی دہشتگردوں کو گھر پر رکھتے ہیں۔‘
’عمران خان کو آج بھی غیر معمولی ریلیف مل رہا ہے‘
انھوں نے طنز کیا کہ ’یہ لا انفورسنگ ایجنسیز پر پتھر برسا رہا ہے لیکن اسے تھوک کے حساب سے ضمانت قبل از گرفتاری کا ریلیف دیا جا رہا ہے۔‘
’میں جن جنات پر یقین نہیں رکھتا لیکن عمران خان کو غیر معمولی ریلیف ملتا رہا ہے اور آج بھی ملا ہے، یقین دلاتا ہوں اس کو غیر معمولی ریلیف ملنا بند ہوجائے یہ ہفتے میں نہیں دنوں میں سیدھا ہو جائے گا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ بزدل انسان ہے، تحریک چلاتا ہے جیل بھرو کی لیکن خود جیل سے اتنا خوفزدہ ہے جس دن گرفتار ہوا مجھے لگتا ہے اسی وقت اسے اٹیک ہو جائے گا۔‘