ڈالر کی قدر میں مسلسل دوسرے روز کمی، انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 270 کا ہو گیا
انٹربینک مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان جاری ہے، جمعرات کو ٹریڈنگ کے آغاز پر ڈالر مزید تین روپے 33 پیسے سستا ہو کر 270 روپے کی سطح پر آگیا ہے۔
لائیو کوریج
یہ فیض کی بیساکھیوں پر سیاست کرتے رہے، باجوہ صاحب نے کہا مانتا ہوں ہم سے عمران خان جیسا بلنڈر ہوا: مریم نواز
پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا کہ یہ (عمران خان) فیض کے سر پر سیاست کرتے رہے اور جب بے فیض ہوئے انھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔
ان کے مطابق سابق آرمی چیف ’باجوہ صاحب جب ریٹائر ہوئے تو انھوں نے لوگوں سے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ ہم سے عمران خان جیسا بلنڈر ہوا ہے۔‘
مریم نواز نے کہا کہ یہ پاکستان کے 75 سالوں میں تاریخ کا سب سے بڑا بلنڈر تھا۔ ان کے مطابق صرف بلنڈر کرنے کا اعتراف کافی نہیں بلکہ ۔۔ (عمران خان) کو اٹھا کر سیاست سے باہر پھینکنا پڑے گا۔
ملتان میں مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ قوم گواہ ہے کہ جب جب نواز شریف کی حکومت آئی، تب تب پاکستان نے بلندیوں کا سفر کیا، ہر بار جب نواز شریف کی حکومت آئی تو مہنگائی بھی کم ہوئی۔
مریم نواز کے مطابق نواز شریف کے دور میں پاکستان میں ترقی بھی آئی، بڑے بڑے منصوبے بھی آئے۔ ان کے مطابق ’آج میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان کے 75 سال میں نواز شریف کے نو سال نکالو تو پتا ہے کیا بچتا ہے؟‘ انھوں نے خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’کھنڈرات کے سوا کچھ نہیں بچتا۔‘
مریم نواز نے عمران خان کی جیل بھرو تحریک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جیل بھرنی ہے تو پھر اپنی ضمانتیں منسوخ کرائیں اور اس تحریک کا آغاز اپنے آپ سے کریں۔
کوئٹہ میں بم دھماکے کے واقعے میں کم ازکم تین افراد زخمی, محمد کاظم بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکے کے واقعے میں کم ازکم تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دھماکہ اتوار کو گلستان روڈ پر موسی چیک پوسٹ پر ہوا۔
ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس اظفر مہیسر نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں کم از کم تین افراد معمولی زخمی ہوئے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا دھماکہ خود کش حملے کی وجہ سے نہیں بلکہ
دستی بم حملے کی وجہ سے ہوا۔
سکیورٹی خدشات: پشاور میں دس دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی, عزیز اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ضلع پشاور میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور شفیع اللہ خان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پانچ یا زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ان کے مطابق سکیورٹی نازک صورتحال پر دس دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
،تصویر کا ذریعہDC Peshawar
مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد: شیخ رشید کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم
شیخ رشید کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر آج مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں استغاثہ نے ان کے مزید پانچ روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
سنیچر کی دوپہر شیخ رشید احمد کو سخت سیکورٹی حصار میں جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ہونے والی دھکم پیل کی وجہ سے شیخ رشید لڑکھڑا کر گر پڑے، موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں سہارا دے کر کھڑا کیا۔
عدالت کے روبرو شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ انھیں ہسپتال منتقل کیا جائے کیونکہ اُن کے پیروں اور ہاتھوں زخمی ہیں۔ ’میں اُن سے بھیک نہیں مانگو گا مگر یہ کہوں گا کہ میرے پٹیاں کروا دی جائیں۔ دوران حراست مجھے کرسی سے باندھا کر رکھا گیا جبکہ سنیچر کی صبح تین سے چھ بجے تک میرے ہاتھ پاؤں، پاؤں باندھے گئے جبکہ آنکھوں پر پٹی باندھی گئی۔‘
عدالت کے حکم پر شیخ رشید کی ہتھکڑیاں کھول کی گئی۔ اس موقع پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے انھیں رینجرز کی سکیورٹی دی جائے۔
مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے استغاثہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے شیخ رشید کا فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کروانا ہے۔
اس موقع پر شیخ رشید نے دوبارہ بات کرنے کی کوشش کی تو جج نے انھیں خاموش رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے پولیس کو سننے دیں پھر آپ کی سنے گیں۔‘
شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’دو دن پہلے اسی کیس میں تفتیش کے لیے دو دن کا ریمانڈ دیا تھا۔ اب مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔‘
سردار عبدرازق نے کہا کہ شیخ رشید پر جو دفعات لگیں وہ نہیں بنتیں۔ شیخ رشید پر رات کے وقت تشدد کیا گیا۔ وہ سیینئر سیاستدان ہیں، پولیس کس طرح انھیں ہینڈل کر رہی ہے۔‘
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ تفتیش کے لیے دیا گیا تھا لیکن پولیس نے ٹارچر کیا۔ شیخ رشید کے انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں تو عام شہری کا کیا حال ہوتا ہو گا۔
سردار عبدالرازق کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے بیان دیا کہ عمران خان کے پاس قتل کرنے کے شواہد ہیں جبکہ پراسیکیوشن کے پاس شیخ رشید کے بیان کی ویڈیو موجود ہے، وہ اپنے بیان کا اقرار کر رہے ہیں اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا بے سود ہے۔
اس موقع پر عدالت نے شیخ رشید سے استفسار کیا کہ آپ مجھے خون دیکھا دیں گے کیونکہ مجھے آپ کے ہاتھ پر تو خون ہی نہیں نظر آ رہا۔ اس پر شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ وہ خون انھوں نے صاف کر دیا ہے۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’میں نے عمران خان کا بیان کوٹ کیا ہے اور اس پر کھڑا ہوں۔
شیخ رشید نے کہا کہ دوران تفتیش ان سے سیاسی سوالات پوچھے گئے کہ اگر عمران خان نا اہل ہو گیا تو ان کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان سے ان کے کیس سے متعلق کوئی تفتیش نہیں کی گئی۔
پشاور واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف کے دور میں دہشتگردی کا گراف نیچے گرا: عمران خان
سابق وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں پولیس لائنز کی مسجد میں دہشتگردی کے حملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف جب سنہ 2013 میں خیبرپختونخوا میں حکومت میں آئی تو اس کے بعد سے دہشتگردی کا گراف نیچے گرا ہے۔ ان کے مطابق پختونخوا میں سنہ 2013 میں جب ہماری حکومت آئی تھی تو 700 پولیس والے مارے جا چکے تھے۔
سابق وزیراعظم کے مطابق قبائلی علاقے اور اس کے بعد پختونخوا کے لوگوں نے سب سے زیادہ قربانی دی ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ وہ اس وجہ سے کل اتنی بڑی تعداد میں نکلے ہیں کہ پھر کہیں کوئی آپریشن شروع نہ ہو۔
عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں چھ سو ارب روپے سکیورٹی پر خرچ کیے گئے۔ جب تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو صوبے میں پولیس کی تربیت کے لیے صرف ایک سکول تھا جبکہ تحریک انصاف نے چار نئے ٹریننگ سکول بنائے۔
ان کے مطابق ’نوشہرہ میں ایلیٹ ٹریننگ سکول بنایا گیا جبکہ سنہ 2017 میں خیبرمیڈیکل کالج میں فارنزک لیبارٹری بنائی گئی۔‘
عمران خان کے مطابق پشاور واقعے کے بعد سے ایسے دعوے اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جس وجہ سے وہ اعدادوشمار سامنے رکھ رہے ہیں۔
تاہم انھوں نے یہ کہا ہے کہ فاٹا ضم ہونے کے بعد این ایف سی سے صرف دو صوبوں پختونخوا اور پنجاب نے پیسے دیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب سے پی ڈی ایم کی حکومت آئی ہے تو صرف پانچ بلین دیے گئے ہیں۔
عمران خان نے وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے کل جماعتی کانفرنس بلانے اور اس میں شرکت سے متعلق کوئی بات نہیں کی ہے۔
عمران خان کا کارکنان کو جیل بھرو تحریک کے لیے تیار رہنے کی ہدایت
سابق وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ہم سب جیل بھرو تحریک کی تیاری شروع کر دیں تاکہ ان کا شوق پورا ہو جائے جیل بھرنے کا۔
عمران خان نے کہا کہ میں قوم کو کال دوں گا اور سب گرفتاریاں دیں گے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ سڑکوں پر آنے سے بہتر ہے کہ گرفتاریاں دے دیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ جیلوں میں کتنی گنجائش ہے۔
عمران خان نے کہا کہ جس طرح گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں اس سے بہتر ہے کہ جیل بھرو تحریک شروع کر دیتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف کے گرفتار کیے جانے والے رہنماؤں کے ہمارا نظام انصاف بنیادی حقوق کو یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے۔
حکمران اتحاد الیکشن سے ڈرا ہوا ہے، یہ ملک کو تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں: عمران خان
سابق وزریراعظم عمران خان نے کہا کہ حکمران اتحاد الیکشن سے ڈرا ہوا ہے اور یہ ملک کو تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق سیاسی استحکام کے بغیر حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔
عمران خان نے کہا کہ ’دونوں صوبائی حکومتوں کو تحلیل کرنے کے پیچھے قومی مفاد تھا۔ میں نے ملک کے آئین کو مدنظر رکھ کر اسمبلیاں تحلیل کیں۔‘
ان کے مطابق ابھی تک 18 دن ہو گئے ہیں، دونوں صوبائی گورنروں نے الیکشن کی تاریخ نہیں دی ہے۔ 90 دن کے بعد ہر کسی پر آرٹیکل چھ لگے گا۔ عمران خان نے کہا کہ جو بھی یہ کوشش کر رہا ہے۔۔۔ اور ہمیں پتا ہے کہ یہ کون کوشش کر رہا ہے ۔۔۔ یہ خوفزدہ ہیں الیکشن سے۔
عمران خان نے کہا کہ پوری قوم تماشا دیکھ رہی ہے کہ 90 دن میں الیکشن ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا ہے۔ عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبوں میں نگران حکومتیں نیوٹرل نہیں ہیں بلکہ تحریک انصاف مخالف ہیں۔
میرے دور میں ڈالر 55 روپے جبکہ عدم اعتماد کے بعد ڈالر 100 روپے مہنگا ہو چکا ہے: عمران خان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹی وی خطاب میں کہا ہے کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد سے اب تک نو ماہ میں ڈالر سو روپے مہنگا ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ایک ہفتے کے اندر 50 روپے ڈالر مہنگا ہوا ہے۔
عمران خان کے مطابق ان کے ساڑھے تین برس کے دور حکومت میں ڈالر صرف 55 روپے مہنگا ہوا تھا۔ اب ڈالر زیادہ مہنگا ہونے کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں ہوا ہے اور مزید مہنگائی ہو گی۔
ان کے مطابق ایسی کون سی قیامت آئی تھی کہ پاکستان کی میعشیت کو اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ’ایک سازش کے تحت ملک کے مجرموں کی حکومت ہم پر مسلط کی گئی۔‘
دس ملین بیرون ملک پاکستانی ہماری طاقت ہیں۔ ان میں سے 15 سے 20 لاکھ بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا شروع کر دیں تو ہمیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
ان کے مطابق تحریک انصاف کے دور میں جو بیرون ملک مقیم پاکستانی یہاں آئے بھی تھے تو اب وہ واپسی کا سوچ رہے ہیں۔
عمران خان کے مطابق امپورٹڈ حکومت کے وزیرخزانہ پہلے دھمکیاں دیتے تھے اب گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔
کراچی میں مقدمہ اختیارات سے تجاوز قرار دیا جائے یا اسلام آباد منتقل کیا جائے، شیخ رشید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد اُنھیں آج جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ شیخ رشید نے آصف علی زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش کا الزام لگایا تھا جس پر اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر کے شیخ رشید کو گرفتار کیا تھا۔ عدالت نے پولیس سے تفتیشی رپورٹ طلب کررکھی ہے۔
اس کے علاوہ شیخ رشید نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے مزید مقدمات کے اندراج اور کراچی منتقلی روکنے کی استدعا کر دی ہے۔
اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ پہلے سے درج مقدمات کو کالعدم اور نئے مقدمات کے اندراج سے روکا جائے۔
اپنے وکیل کے ذریعے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ میرے خلاف مقدمات میں مدعی متاثرہ فریق نہیں، چنانچہ سیاسی بیان بازی کی بنا پر مزید مقدمات درج کرنے سے روکا جائے۔
شیخ رشید نے عدالت سے درخواست کی کہ کراچی کا مقدمہ اختیار سے تجاوز قرار دیا جائے یا اسلام آباد منتقل کیا جائے۔ اس درخواست میں اسلام آباد، سندھ اور پنجاب کے آئی جیز سمیت سیکریٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔
شاہ محمود قریشی: دہشتگردی کی ذمہ دار پی ٹی آئی نہیں، طالبان سے بات چیت نواز شریف نے شروع کی
پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے سے پہلے نواز شریف فیصلہ کریں کہ الزام لگانا ہے، سیاسی انتقام لینا ہے یا شرکت کی دعوت دینی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس سب کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے خلاف ’جھوٹے مقدمے، کردار کشی، کارکنوں کو دھمکانا‘ بھی جاری رہے۔
لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں وزیرِ اعظم کی بے حسی نظر آ رہی ہے جبکہ پورا صوبہ اور پوری قوم حالتِ سوگ میں ہے۔
’میں سوال کرتا ہوں شہباز شریف سے، ہم حساب دینے کے لیے تیار ہیں، کیا آپ بھی تیار ہیں؟
آپ کے دور میں پنجاب میں جو ماورائے عدالت قتل ہوئے ان کا حساب دینے کے لیے تیار ہیں؟‘
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب سے ’سازش اور مداخلت کے ذریعے‘ ان کی حکومت کو رخصت کیا گیا ہے، تب سے اُن کے حساب کے مطابق دہشتگردی کے واقعات میں 52 سے 53 فیصد اضافہ ہوا ہے۔‘
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ یہ اس لیے ہوا کہ ’آپ کی توجہ اور ترجیحات‘ میں تبدیلی آئی ہے۔
’قوم کی ترجیح میں دہشتگردی کا مقابلہ اور معیشت کی بحالی تھی اور ہے مگر آپ کا ایجنڈا ذاتی ہے۔‘
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لوگ اس کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہرا رہے ہیں مگر اُنھوں نے کہا کہ کیا نواز شریف نے 2013 میں سب سے پہلے ٹی ٹی پی سے بات کرنے کی شروعات نہیں کی تھی جن کے ناکام ہونے کے بعد ضربِ عضب شروع کیا گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تصور میں کبھی نہیں آیا کہ جو قانونی مراحل ہیں ان سے پہلوتہی کی جائے گی یا یہ کہ پاکستان کی آئین کی جو شقیں ہیں انھیں بالائے طاق رکھ کر جنگجوؤں سے گفتگو کی جائے گی۔
آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت: عمران خان نے سینیئر رہنماوں کو مشاورت کے لیے بلا لیا, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
تحریک انصاف چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی کے سینیئر رہنماوں کو حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت پر مشاورت کے لیے طلب کیا ہے۔
ایک بیان کے مطابق عمران خان پارٹی رہنماوں سے پنجاب اور کے پی کے میں الیکشن کی تاریخ اور قومی اسمبلی میں ضمنی انتخابات کے حوالے سے بھی مشاورت کریں گے۔
اس اجلاس میں تحریک انصاف آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی جس کے بعد عمران خان دوپہر تین بجے کے بعد خطاب بھی کریں گے۔
شیخ رشید کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل، آج عدالت میں پیش کیا جائے گا
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور سربراہ پاکستان عوامی لیگ شیخ رشید احمد کو آج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق بیان پر درج مقدمہ میں پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مقامی عدالت نے شیخ رشید کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا جو آج ختم ہو رہا ہے۔
اسلام آباد پولیس نے شیخ رشید کو جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں پیش کرنے سے قبل عدالت کی بلڈنگ کے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جبکہ ایف سی کے جوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی عدالت کی بلڈنگ کے باہر موجود ہے۔
اسلام آباد کہچری میں شیخ رشید کی پیشی کے باعث سکیورٹی مجموعی طور پر بھی سخت کر دی گئی ہے۔
جنھوں نے معصوم شہریوں کو ہدف بنایا ہے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا: وزیراعظم شہباز شریف کا ٹویٹ
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ایک ٹوئٹر تھریڈ میں کہا ہے کہ ’آج ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سول اور ملٹری لیڈرشپ نے پاکستان کے عوام کی ہر قیمت پر حفاظت کے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جنھوں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ہم دہشتگردی کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ناکامی میں نہیں تبدیل ہونے دیں گے۔
وزیراعظم کے مطابق اجلاس نے ’سکیورٹی لینڈ سکیپ‘ کا جائزہ لیا اور صوبوں اور وفاق کی ایک ہی پالیسی اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق اس اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان میں تبدیلی کی تجاویز پر غور کیا اور تحقیق، فارنزنگ اور سی ٹی ڈی کے کام میں تبدیلیاں متعارف کرانے سے متعلق غور کیا گیا۔
اجلاس نے فیصلوں پر عملدرآمد کے میکنزم پر اتفاق کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
قومی اور صوبائی اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بلدیاتی عہدیداران معطل کر دیے
الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں قومی اور صوبائی اسمبلی انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے تمام بلدیاتی عہدیداران کو معطل کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے یہ ہدایات آئین کے آرٹیکل (3)218 اور الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 3اور8 کے تحت جاری کیں۔
پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے: ایپکس کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری
،تصویر کا ذریعہPID
وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے پشاور میں آج ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بارے میں پریس ریلیز جاری کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اپیکس کمیٹی کا پشاور میں اجلاس وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس جمعہ کو پشاور میں گورنرہاﺅس میں منعقد ہوا۔
اجلاس نے دہشت گردی کے واقعات خاص طورپر 30 جنوری 2023 کو پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں ہونے والے خود کش حملے اور اس کے بعد کی صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا۔
اس اجلاس میں وفاقی وزرا، سیاسی رہنماؤں اور بیوروکریسی کے علاوہ آرمی چیف عاصم منیر سمیت حساس اداروں کے افسران بھی شریک تھے۔
حساس اداروں کے نمائندوں نے سکیورٹی کی مجموعی صورتحال، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر اجلاس کو بریفنگ دی جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل معظم جاہ انصاری نے پولیس لائنز کی مسجد میں خود کش حملے کی اب تک کی تحقیقات اور ہونے والی پیش رفت سے اجلاس کو آگاہ کیا۔
انھوں نے اجلاس کو بتایا کیا کہ حملہ آور کی آمد کے طریقہ کار اور جس راستے سے وہ آیا، ویڈیوز کے ذریعے اِس کی نشان دہی کر لی گئی ہے۔
اجلاس میں پشاور پولیس لائنز کے شہدا کے درجات کی بلندی، اہل خانہ کے لیے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی۔
اجلاس نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے انھیں یقین دلایا کہ اُن کے پیاروں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا، حکومت اور قوم شہدا کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔
اجلاس نے قوم کو یقین دلایا کہ پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے، معصوم پاکستانیوں پر حملہ کرنے والے ہر صورت سزا پائیں گے۔ ’اجلاس پختہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ ہر قیمت پر قوم کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔ اس کی امیدوں اور اعتماد پر پورا اتریں گے۔‘
اعلامیے کے مطابق ’اجلاس نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر افواج پاکستان، رینجرز، ایف سی، سی ٹی ڈی، پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سلام پیش کیا اور اس دوران جام شہادت نوش کرنے والے افسران اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔‘
اجلاس نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا اور درپیش موجودہ حالات کے مطابق اس میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لیا۔ اجلاس نے نیکٹا، سی ٹی ڈی اور پولیس کی اپ گریڈیشن، تربیت، اسلحہ، ٹیکنالوجی اور دیگر ضروری سازوسامان کی فراہمی کے حوالے سے تجاویز کی اصولی منظوری دی۔
خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹر کی تعمیر کی جائے گی
اعلامیے کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں فوری طور پر 'سی-ٹی-ڈی' ہیڈ کوارٹر تعمیر اور صوبہ پنجاب کی طرز پر صوبہ خیبر پختونخوا میں جدید فارنزک لیبارٹری قائم کی جائے۔
خیبرپختونخوا میں اسلام آباد اور لاہور کی طرح سیف سٹی منصوبہ شروع ہوگا جبکہ پولیس، سی ٹی ڈی کی تربیت، استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا، جدید اور آلات فراہم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں بارڈر مینجمنٹ کنٹرول اور امیگریشن کے نظام کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔
دہشت گردوں کے خلاف تحقیقات، پراسیکیوشن اور سزا دلانے کے مراحل پر بھی غور کیاگیا۔ اس امر سے اتفاق کیاگیا کہ دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے ریاست کے تمام اعضا کو کامل یکسوئی، اشتراک عمل اور مشترکہ قومی اہداف کے حصول کے جذبے سے کام کرنا ہوگا۔
اس ضمن میں ضرورت کے مطابق قانون سازی کی جائے گی۔
اجلاس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک سوچ، ایک حکمت عملی اپنانے پر اصولی اتفاق کیا اور اس ضمن میں مؤثر حکمت عملی کی تیاری کی ہدایت کی۔
اجلاس نے ملک کے اندر دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے تمام ذرائع ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا اور اس ضمن میں سکریننگ کی موثر کارروائی کی ہدایت کی۔
اجلاس نے یہ بھی طے کیا کہ دہشت گردی کی ہر قسم اور ہر شکل کے لیے زیروٹالرنس کا رویہ قومی نصب العین ہوگا۔
قومی اتفاق رائے سے ان فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس نے وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے'اے پی سی' بلانے کے فیصلے کی تحسین کی اور توقع ظاہر کی کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام قومی سیاسی قیادت ایک میز پر بیٹھے گی اور قومی اتفاق رائے کے ذریعے اقدامات کا فیصلہ کرے گی۔
اجلاس نے علمائےکرام، مشائخ عظام اور دینی ومذہبی قائدین سے بھی اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ممبر و محراب کا فورم استعمال کریں۔ پیغام پاکستان اور دین میں رہنمائی کرنے والے دیگر معتبر اداروں کے واضح اعلانات سے عوام کو آگاہ کریں کہ ایسے حملے قطعاً حرام اور خلاف قرآن وسنت ہیں۔ بے گناہوں کا خون بہانے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر 276 اعشاریہ 58 روپے کا ہو گیا
بینک دولت پاکستان کے مطابق گذشتہ روز 271 اعشاریہ 36 روپے کے مقابلے میں ڈالر آج مہنگا ہو کر 276 اعشاریہ 58 روپے تک پہنچ گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
الیکشن کمیشن کی ’صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کی تاریخوں سے متعلق مشاورت‘
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ نو فروری کو سیاسی پارٹیوں کے ساتھ میٹنگ ہوگی جس میں مجوزہ ضابطہ اخلاق، صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے پُرامن انعقاد اور دیگر آئینی اور قانونی امور پر مشاورت کی جائے گی۔
ایک بیان میں کمیشن نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن، سیکرٹری الیکشن کمیشن اوردیگر سینیئر افسران نے شرکت کی۔ ’سیکرٹری الیکشن کمیشن نے صوبائی اسمبلیوں پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر 86 نیشنل اسمبلی کی جنرل نشستوں کے انتخابات کے انعقاد اور اب تک کے انتظامات پر بریفنگ دی۔
’انھوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد صوبائی اسمبلیوں کے لیے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے رجسٹرار ہائیکورٹ پنجاب اور خیبر پختونخوا کو جوڈیشنل افسران کی خدمات فراہم کرنے کے لیے درخواست کر دی گئی ہے۔ اور اس ضمن میں مراسلہ بھی تحریر کر دیا گیا ہے۔‘
’اجلاس میں کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ الیکشن کمیشن کی میٹنگ بروز منگل مورخہ 7 فروری 2023 کو ہوگی جس میں چیف سیکرٹری پنجاب، خیبر پختونخواہ اور آئی جی پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن کو صوبائی اسمبلیوں کے آئندہ عام انتخابات، نیشنل اسمبلی کے ضمنی انتخابات، امن وامان کی صورتحال اور انتخابات سے متعلق دیگر امور پر بریفنگ دیں گے۔
’کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ضابطہ اخلاق پر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مشاورتی میٹنگ مورخہ 9 فروری 2023 کو ہوگی جس میں سیاسی پارٹیوں سے ڈرافٹ ضابطہ اخلاق سےمتعلق رائے (Feed Back) لی جائے گی۔ مزید صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے پُرامن انعقاد اور دیگرآئینی اور قانونی امور پر بھی مشاورت کی جائے گی تاکہ الیکشن کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔
الیکشن کمیشن نے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد کی تاریخوں سے متعلق بھی مشاورت کی۔‘
سابق آرمی چیف کے خاندان کا ڈیٹا لیک ہونے کا کیس: عدالت کا تفتیشی کو چالان جمع کرانے کی ہدایت
آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید کی فیملی کا ڈیٹا لیک ہونے کے کیس میں اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے تفتیشی کو چالان جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ ’چالان جمع کروایا جائے تاکہ کیس کا ٹرائل شروع ہو سکے۔‘
مجسٹریٹ عمر شبیر نے کیس کی سماعت کی جس کے دوران ایف بی آر ملازمین شہزاد نیاز، ارشد علی اور عدیل اشرف عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 17 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن ونگ نے تینوں ملزمان کے خلاف مقدمہ قائم رکھا ہے۔ تینوں ایف بی آر ملازمین کی ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں۔
آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت پر مشاورت کریں گے: شاہ محمود قریشی
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے مگر اس حوالے سے ’ہم پارٹی میں مشاورت کریں گے۔‘
اے آر وائے نیوز سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’ایک طرف ہمیں دعوت دے رہے ہیں، دوسری طرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’مشاورت ہوگی کہ اس کا ایجنڈا کیا ہے۔۔۔ گرفتاری، پرچے، دھمکیاں جاری ہیں اور نااہلی کی تلوار لٹکائی ہوئی ہے۔ ان کے ہاتھ سے چیزیں اتنی نکل چکی ہیں کہ اب یہ رجوع کر رہے ہیں۔‘
عمران خان اے پی سی میں شرکت نہیں کریں گے: اسد عمر
رہنما تحریک انصاف اسد عمر نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اے پی سی میں شرکت نہیں کریں گے۔
لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ عمران خان آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ’ہمارے رہنماؤں پر جھوٹے مقدمات درج کیے جارہے ہیں تو کیسے ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔‘
انھوں نے سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا کہ ’آج کی عدالت کی کارروائی سے تقریباً واضح ہو گیا ہے کے پنجاب اسمبلی کے الیکشن اپریل کے دوسرے ہفتے میں ہوں گے۔ تمام تحریک انصاف کے امیدوار حلقوں میں تیاری پکڑیں۔‘
ادھر پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی حیدر زیدی نے کہا کہ ’یہ اے پی سی میں ایسی کیا بات کریں گے جس پر اسمبلی میں بحث نہیں ہو سکتی؟ اے پی سی بلانا اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ آج پاکستان میں عمران خان کے بغیر کوئی بھی سیاسی فیصلہ کرنا ناممکن ہے۔ اے پی سی چھوڑو، الیکشن کرواؤ!‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔