پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس کے ہمراہ پہلے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد سے متعلق منعقدہ جنیوا کانفرنس کی مشترکہ میزبانی کی اور اس کانفرنس کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کا تخمینہ 30 ارب ڈالرز سے زائد ہے اور پاکستان کو فوری طور پر تعمیر نو اور بحالی کے لیے 16 اعشاریہ 3 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا سیلاب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، پاکستان میں سیلاب نے متاثرین کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے، آج ہم تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں، گذشتہ برس ستمبر میں یو این سیکرٹری جنرل کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، پاکستان کے عوام یو این سیکرٹری جنرل کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
انھوں نے کہا کہ وہ عالمی برادری کے بھی تعاون پر مشکور ہیں، مشکل وقت میں مدد کرنے والے ممالک کو پاکستان نہیں بھولے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے کاشتکاری کو شدید نقصان پہنچا جس سے غذائی قلت نے جنم لیا، تعمیر نو کے ساتھ ملکی معیشت کی بحالی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، سیلاب سے نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 8 فیصد ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب سے 33 ملین لوگ متاثر ہوئے جبکہ انفرا سٹرکچر کی تباہی سے معیشت بُری طرح متاثر ہوئی، سیلاب سے مکانات، تعلیمی ادارے، زراعت کے شعبے کو نقصان پہنچا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں تاحال سیلاب کا پانی موجود ہے، سیلاب متاثرین کو دوبارہ بحال کر کے اچھا مستقبل دینا ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے فریم ورک تیار کیا ہے، فریم ورک پر کام کرنے کے لیے 16.3 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔
ایک صحافی کے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حاصل ہونے والے فنڈز کی شفافیت کو یقینی بنائیں گے۔
خیال رہے کہ اس کانفرنس میں متعدد ممالک نے پاکستان کے لیے امداد کے اعلانات کیے ہیں۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے تین برس میں چار اعشاریہ دو بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ ورلڈ بینک نے دو ارب ڈالر کا اعلان کیا ہے۔