آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز آج وزیر آباد سے ہو گا، عمران خان کا ایک اور فوجی افسر پر بھی قتل کی منصوبہ بندی کا الزام

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کے حقیقی آزادی مارچ کا دوبارہ آغاز آج وزیر آباد سے ہو گا۔ وزیرآباد پنجاب کا وہ شہر ہے جہاں تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر فائرنگ کی گئی تھی۔ سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ اس دوسرے افسر کا نام بھی لیں گے جو (حملے والے دن) مبینہ طور پر میجر جنرل فیصل کے ساتھ کنٹرول روم میں بیٹھ کر اس منصوبے پر عملدرآمد کی نگرانی کر رہے تھے۔

لائیو کوریج

  1. ’عمران خان نے تینوں صحافیوں کا نام لے کر ان کی زندگی خطرے میں ڈالی‘

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے عمران خان کی جانب سے سینئر صحافیوں حامد میر، مرتضیٰ سولنگی اور وقار ستی کو سانحہ وزیرآباد میں ملوث کرنے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان ’سیاست کریں، فساد، فتنہ اور انتشار نہ پھیلائیں، حکومت میں رہ کر انھوں نے صحافیوں پر حملے کئے اور اب صحافیوں پر مقدمے بنا رہے ہیں، عمران خان سیاست کریں، صحافیوں کی جان خطرے میں نہ ڈالیں۔‘

    منگل کو اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’لاشوں پر سیاست، صحافت پر سیاست، عمران خان کو سیاسی مخالفین کے ساتھ سیاسی جنگ لڑنی ہی نہیں آتی، سیاسی مخالفین کے ساتھ سیاسی مخالفت کریں، ملک دشمنی تو نہ کریں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’جو آپ کے خلاف بات کرے، وہ آپ کا دشمن، عمران خان نے تینوں صحافیوں کا نام لے کر ان کی زندگی خطرے میں ڈالی جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’پورا پاکستان فارن فنڈڈ فتنہ کے جھوٹ، بہتان اور فساد کا شکار ہے، اقتدار میں آنے کے لئے پورے ملک کو آگ لگانا چاہتے ہیں، عمران خان ملک کو آگ لگا کر، خون بہا کر اور لاشیں گرا کر کیا کرنا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’صحافی سوال پوچھیں تو دشمن، ایف آئی اے، الیکشن کمیشن اور عدالت سوال پوچھے تو دشمن۔ فارن فنڈڈ فتنہ آج تک اپنے خلاف کسی قانونی کیس میں پیش نہیں ہوئے۔‘

  2. گورنر ہاؤس پنجاب میں رینجرز تعینات

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گورنر ہاؤس پنجاب لاہور میں رینجرز تعینات کر دیے گئے ہیں۔

    گورنر ہاؤس حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ رینجرز نے گورنر ہاؤس کے اندر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

    تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہروں کی روشنی میں حکام کی جانب سے پنجاب حکومت اور ڈی جی رینجرز کو خط لکھا گیا تھا۔

  3. چند فرد نہیں بلکہ پورا نظام برہنہ ہو گیا: اسد عمر

    رہنما تحریک انصاف اسد عمر کہتے ہیں کہ ’ملک میں قائم نظام کی حقیقت عوام کے سامنے کھل کر آ گئی۔ چند فرد نہیں بلکہ پورا نظام برہنہ ہو گیا قوم کے سامنے۔‘

  4. ’لانگ مارچ کمزور جمہوریت کو مزید کمزور کر رہا ہے‘

    وفاقی وزرا کی جانب سے عمران خان کی لانگ مارچ میں پیغامات دیے گئے ہیں۔

    خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ ’لانگ مارچ کمزور جمہوریت کو مزید کمزور کر رہا ہے۔ انتخابات دور ہوجائیں گے۔‘

    میاں جاوید لطیف کے مطابق ’ایسا احتجاج پہلی بار دیکھا جا رہا ہے جس میں موٹرویز اور شاہراہیں عوام کی بجائے سرکاری وسائل، حکومتی مشینری کا استعمال کرتے ہوئے بند کی جائیں۔‘

  5. ہمیں کوئی طاقت اسلام آباد جانے سے نہیں روک سکتی: شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کو کوئی طاقت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جانے سے نہیں روک سکتی۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’یہ چاہتے ہیں عوام اور اداروں کی لڑائی ہو اور یہ الیکشن کی مدت بڑھائیں۔ وہ لوگ بھی آج عمران خان کے ساتھ ہوگئے ہیں جو پہلے اس کے ساتھ نہیں تھے۔ پہلے حکومت کی پالیسیوں سے نفرت تھی، اب لوگ ان کے چہروں سے بھی نفرت کرتے ہیں۔‘

  6. ’پی ٹی آئی کارکنان آج ٹیکسلا پہنچیں گے‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور احتجاج کے لیے آج پشاور سے کارکن ٹیکسلا پہنچیں گے جہاں وہ مقامی قیادت کے ساتھ مل کر احتجاج میں شامل ہوں گے۔

    صوبائی وزیر سپورٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی عاطف خان نے تصدیق کی ہے کہ پشاور، چارسدہ، مردان اور صوابی سے قافلے ٹیکسلا جائیں گے جہاں وہ مقامی قائدین اور کارکنوں کے ساتھ مل کر احتجاج کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے پشاور کے رہنما عرفان سلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ آج صوبائی اسمبلی کے حقلہ پی کے 66 سے کارکن سہہ پہر 4 بجے ٹیکسلا کے لیے روانہ ہوں گے اور یہ تعداد کوئی ایک سو کے لگ بھگ ہوگی جس میں مقامی ایم پی اے محمود خان اور انصاف سٹوڈنٹس اور انصاف یوتھ کے علاوہ جماعت کے دیگر کارکن شامل ہوں گے۔

    یہ قافلے موٹر وے سے ٹیکسلا جائیں گے جہاں وہ جاری احتجاج میں شریک ہوں گے۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ اس احتجاج میں ٹیکسلا سے اسلام آباد جانے والی شاہراہ کو بند کیا جا سکتا ہے اور اس احتجاج کے لیے کارکنوں کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

  7. ایف آئی آر کا معاملہ: عمران خان نے زمان پارک میں اجلاس طلب کر لیا

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ زمان پارک میں پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں چیئرمین تحریک انصاف نے پارٹی رہنماؤں اور لیگل ٹیم کو بھی طلب کیا ہے اور یہاں ایف آئی آر کے معاملے پر مشاورت ہو گی۔ اجلاس میں لانگ مارچ کی سکیورٹی اور تیاریوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    دوسری طرف عمران خان کا دوسرے روز بھی طبی معائنہ ہوگا۔ شوکت خانم ہسپتال سے میڈیکل ٹیم عمران خان کا طبی معائنہ کرے گی۔

  8. بریکنگ, اسلام آباد ایئرپورٹ کے راستے کلیئر کرانے کی اجازت طلب

    اسلام آباد پولیس نے سیکریٹری داخلہ اور چیف کمشنر سے اسلام آباد ایئرپورٹ جانے والے راستوں، بشمول لاہور پشاور موٹروے، کلیئر کرنے کی اجازت مانگ لی ہے۔

    ایک خط میں آئی جی اسلام آباد نے ایئرپورٹ جانے والے راستوں اور تین ٹول پلازے کو کلیئر کروانے کے لیے فورس کے استعمال کی اجازت مانگی ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ اور اس کے راستے انتظامی طور پر پنجاب کی حدود میں ہیں تاہم سفارتکار اور غیر ملکی شخصیات اسے وفاقی دارالحکومت تک رسائی کے لیے استعمال کرتے ہیں لہذا یہ معاملہ اہمیت کا حامل ہے۔

    آئی جی کے مطابق ایئرپورٹ پر ناخوشگوار واقعہ ملک کے لیے بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔ ’ٹھلیاں اور پشاور موٹروے پر رکاوٹیں بین الاقوامی مصائب کا شکار ہوسکتی ہیں۔‘

    خط کے متن کے مطابق اسلام آباد پولیس کو مکمل اختیارات دے کر راستے خالی کرانے کا اختیار دیا جائے اور تمام صوبوں کو واضح ہدایات دی کر ٹول پلازوں تک رسائی دی جائے۔

  9. شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے جس میں سرکاری بیان کے مطابق ’دونوں برادر ممالک کے درمیان کثیر الجہتی شراکت داری کو مزید تقویت دینے کے عزم کا اظہار‘ کیا گیا۔

  10. پنجاب پولیس نے لانگ مارچ پر فائرنگ کی ایف آئی آر کا سپریم کورٹ کو بتا دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پنجاب پولیس نے وزیر آباد کے قریب عمران خان پر حملے کے مقدمے کے بارے میں سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کو 24 گھنٹوں میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے مقدمے کے اندراج کے بعد رپورٹ طلب کی تھی۔

    سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ہی کئی روز کی تاخیر کے بعد عمران خان پر حملے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    اس میں اقدام دفعہ 302، 324 کے ساتھ دہشتگردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

    مقدمہ وزیر آباد کے سٹی پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا اور رپورٹ آئی جی پنجاب نے لاہور رجسٹری میں رپورٹ جمع کرائی۔

  11. سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی معطلی کے نوٹیفیکیشن پر حکم امتناعی کی استدعا مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی معطلی کے نوٹیفیکیشن پر حکم امتناعی کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

    سی سی پی او لاہور کی معطلی کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے غلام محمود ڈوگر کی درخواست نمٹاتے ہوئے انھیں متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اس موقع پر عدالت کے ریمارکس تھے کہ ’یہ معاملہ وفاق اور صوبے کا ہے، عدالت کا اس معاملے میں کیا کام ہے؟‘

    ’سپریم کورٹ کا فیصلہ خاص نوعیت کا تھا، کسی عمومی معاملے پر نہیں تھا۔‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ ’پولیس سروس ملک بھر کے لیے ہے۔ اسے کسی صوبے تک محدود نہیں کیاجاسکتا۔ سروس معاملات دیکھنا سروس ٹربیونل کا اختیار ہے، درخواست غیر مؤثر ہے۔‘

    عاون وزیراعظم عطا تارڑ کا مؤقف تھا کہ سی سی پی او اپنی معطلی کی درخواست مسترد ہونے پر چارج چھوڑ دیں۔

  12. پاکستان میں کس سے بات کریں، نریندر مودی کی بات کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا: فواد چوہدری

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’اداروں کو عوام کے حقوق ماننا ہوں گے اس معاملے کا حل ہونا ضروری ہے، عوام یہ تسلیم نہیں کرے گی کہ ایک گروہ قانون سے بالاتر رہے۔‘

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں فوج ایک مسلمہ طاقت ہے لیکن عوام اب عمران خان کی قیادت میں ایک منظم قوت ہیں، اداروں کو عوام کے حقوق ماننا ہوں گے اس معاملے کا حل ہونا ضروری ہے، عوام یہ تسلیم نہیں کرے گی کہ ایک گروہ قانون سے بالاتر رہے۔ ارشد شریف، اعظم سواتی اور وزیر آباد حملہ ان معاملات میں انصاف ہو گا۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’وزیر آباد سانحہ کا پرچہ درج نہیں ہو سکا کیونکہ ملک میں رول آف لا نہیں۔ طاقتور گروہ ملک کے سیاسی اور عدالتی نظام کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ اس لیے جب نریندر مودی پاکستان کے لیے کہتا ہے کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی بات کس سے کرنی ہے تو ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔‘

  13. لانگ مارچ جمعرات سے دوبارہ شروع ہوگا: تحریک انصاف

    تحریک انصاف نے ٹوئٹر پر اعلان کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ 10 نومبر (جمعرات) سے دوبارہ شروع ہوگا۔

    ’حقیقی آزادی مارچ کا دوبارہ آغاز 10 نومبر جمعرات کو وزیرآباد سے ہوگا۔‘

  14. ’ریڈ زون میں کسی احتجاج کے داخلے کی اجازت نہیں‘

    کلرک ایسوسی ایشنز کے احتجاج کے معاملے پر اسلام آباد پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریڈ زون میں کسی احتجاج کے داخلے کی اجازت نہیں اور نہ ہی مظاہرے میں شرکت کے لیے باہر سے آنے والے کسی شخص کو ریڈ زون داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

    ’احتجاج شہریوں کا حق ہے لیکن سڑکیں بند کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ پرتشدد سرگرمیاں کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اسلام آباد میں قیام امن اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔‘

  15. ایوب چوک سے رکاوٹ ہٹا دی گئی: اسلام آباد پولیس

  16. اسلام آباد ایئرپورٹ پنجاب میں ہے تو چیف کمشنر کیسے یہ کرسکتے ہیں؟ شیریں مزاری کا سوال

  17. ایوب چوک پر متبادل راستہ، ریڈ زون کے لیے ایکسپریس چوک اور نادرا بند: اسلام آباد پولیس

  18. ’ایف آئی آر مسترد‘، تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ٹویٹ

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر کو مسترد کیا جا رہا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے وزیر برائے صحت تیمور جھگڑا لکھتے ہیں کہ ’ایک سابق وزیر اعظم کو گولی لگی، جہاں ان کی پارٹی کی حکومت ہے وہاں وہ پولیس سے اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج نہیں کروا پا رہے۔‘

    جبکہ سینیٹر شہزاد وسیم کہتے ہیں کہ ’یہ ایف آئی آر نہیں بلکہ ایک بھونڈا مذاق ہے اور قانون سے کھلواڑ ہے۔‘

  19. اسلام آباد اور راولپنڈی کی بعض سڑکوں پر رکاوٹیں اور متبادل راستے

    اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹر پر ایک فہرست جاری کی ہے جس کے تحت ریڈ زون، سرینگر ہائیوے، اسلام آباد ایکسپریس وے، مری روڈ اور جی ٹی روڈ پر کچھ رکاوٹیں لگائی گئی ہیں اور متبادل راستے دیے گئے ہیں۔

    گذشتہ شب پولیس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’اسلام آباد کے اندر آمد و رفت کے تمام راستے کھلے ہیں۔ جبکہ بین الاضلاعی آنے اور جانے کے راستے مظاہرین نے مسدود کر دیے ہیں۔۔۔ رینجرز اور ایف سی کے اہلکار گشت پر ہیں۔‘

  20. عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج، تحریک انصاف کے رہنماؤں کا شدید ردعمل, عمر دراز ننگیانہ، بی سی اردو

    پنجاب پولیس نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے کنٹینر پر حملے کی ایف آئی آر درج کر دی ہے، جس میں ملزم نوید کا نام شامل کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر تھانہ سٹی وزیر آباد کے سب انسپکٹر عامر شہزاد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے، جس میں عمران خان کی طرف سے لیے جانے والے تین ناموں کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، وزیرداخلہ رانا ثنااللہ اور آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور ان کا نام ایف آئی آر میں درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیر کے روز اس مقدمے کی سماعت ہوئی تھی، جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس ایف آئی آر کی اندراج کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا تھا اور کہا تھا کہ بصورت دیگر وہ اس معاملے پر از خود نوٹس لیں گے۔

    آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے عدالت کو بتایا کہ انھیں ایف آئی آر کے اندراج سے وزیراعلیٰ پنجاب نے روکا تھا، جب سوشل میڈیا پر پرویز الٰہی کے کردار سے متعلق ٹویٹس کیے گئے تو ان کے بیٹے مونس الٰہی نے وضاحتی ٹویٹ میں لکھا کہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج سے روکا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی عمران خان سے لاہور میں دو ملاقاتیں ہوئیں اور اس ایف آئی آر کے بارے میں امور پر مشاورت کی گئی۔ ان ملاقاتوں میں پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس بھی شریک رہے۔

    تاہم ان ملاقاتوں کے بعد جو ایف آئی آر اب درج کی گئی ہے، تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس پر شدید ردعمل دیا ہے۔

    تحریک انصاف کے سینیئررہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایف آئی آر مدعی کی مرضی پر درج ہوتی ہے جبکہ یہ بعد کی بات ہے کہ تفتیش کے دوران کیا ثابت ہوتا ہے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’ایف آئی آر میں تحریک انصاف اپنا موقف دے چکی ہے، ہمارے نامزد تین نام شامل نہیں تو ایف آئی آر قبول نہیں ہے، ہمارے لیے ایسی ایف آئی آر کاغذ کا ایک بے وقعت ٹکڑا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما مسرت جمشید چیمہ نے بھی کہا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی درج ہونے والی ایف آئی آر مسترد کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ نامزد ملزمان کے علاوہ کسی اور پر ایف آئی آر وقت کا ضیاع ہے۔

    مسرت جمشید چیمہ نے مزید کہا کہ ایف آئی آر نامزد ملزمان کے علاوہ درج کرنا کیس الجھانے کے مترادف ہے۔

    پولیس نے یہ ایف آئی آر تو درج کر دی ہے، جس میں یہ تفصیلات درج ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان دیگر قائدین کے ساتھ کنٹینرپراللہ والاچوک سے وزیرآباد آرہے تھے تو تقریباً شام 4 بجے کے قریب ملزم نوید ولد بشیر نے کنٹینر کے بائیں جانب سے پستول سے فائرنگ کر دی۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق فائرنگ سےجلوس میں شامل معظم گولی لگنےسے ہلاک ہو گیا جبکہ کنٹینر پر موجود سابق وزیراعظم عمران خان زخمی ہو گئے۔

    اس ایف آئی آر میں 302، 224، 440 سمیت دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔

    ایف آئی آر میں محمد احمد چٹھہ، حمزہ الطاف سمیت 11 معلوم اور کچھ نامعلوم زخمیوں کا ذکر ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ جلوس میں شامل ایک کارکن حسن ابتسام نے فائرنگ کرنےوالےکوپکڑنےکی کوشش کی، اس کی وجہ سے فائرنگ کرنے والا مزید فائرنگ نہ کر سکا جبکہ عمران خان ابتدائی طبی امداد کے بعد لاہور چلے گئے۔

    پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے؟

    وکیل اور قانونی ماہر عابد ساقی کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔

    ان کے مطابق قانون یہ ہے کہ کوئی بھی شخص کسی قابلِ سماعت جرم کی اطلاع دے کر ایف آئی آر یا فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کروا سکتا ہے۔

    ان کے خیال میں اس کا متاثرہ شخص سے کسی قسم کا تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔ࣿ اس صورت میں وہ پولیس کا اہلکار جس نے یہ واقعہ دیکھا ہو یا اسے اس کا علم ہو تو وہ ایف آئی آر کروا سکتا ہے۔

    تاہم عابد ساقی کا کہنا تھا کہ اس صورت میں بھی پولیس اگر چاہے تو اس درخواست کا بھی ایف آئی آر میں شامل کر سکتی جو متاثرہ فریق نے دے رکھی ہے۔