پنجاب پولیس نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے کنٹینر پر حملے کی ایف آئی آر درج کر دی ہے، جس میں ملزم نوید کا نام شامل کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر تھانہ سٹی وزیر آباد کے سب انسپکٹر عامر شہزاد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے، جس میں عمران خان کی طرف سے لیے جانے والے تین ناموں کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، وزیرداخلہ رانا ثنااللہ اور آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور ان کا نام ایف آئی آر میں درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیر کے روز اس مقدمے کی سماعت ہوئی تھی، جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس ایف آئی آر کی اندراج کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا تھا اور کہا تھا کہ بصورت دیگر وہ اس معاملے پر از خود نوٹس لیں گے۔
آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے عدالت کو بتایا کہ انھیں ایف آئی آر کے اندراج سے وزیراعلیٰ پنجاب نے روکا تھا، جب سوشل میڈیا پر پرویز الٰہی کے کردار سے متعلق ٹویٹس کیے گئے تو ان کے بیٹے مونس الٰہی نے وضاحتی ٹویٹ میں لکھا کہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج سے روکا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی عمران خان سے لاہور میں دو ملاقاتیں ہوئیں اور اس ایف آئی آر کے بارے میں امور پر مشاورت کی گئی۔ ان ملاقاتوں میں پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس بھی شریک رہے۔
تاہم ان ملاقاتوں کے بعد جو ایف آئی آر اب درج کی گئی ہے، تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس پر شدید ردعمل دیا ہے۔
تحریک انصاف کے سینیئررہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایف آئی آر مدعی کی مرضی پر درج ہوتی ہے جبکہ یہ بعد کی بات ہے کہ تفتیش کے دوران کیا ثابت ہوتا ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ’ایف آئی آر میں تحریک انصاف اپنا موقف دے چکی ہے، ہمارے نامزد تین نام شامل نہیں تو ایف آئی آر قبول نہیں ہے، ہمارے لیے ایسی ایف آئی آر کاغذ کا ایک بے وقعت ٹکڑا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما مسرت جمشید چیمہ نے بھی کہا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی درج ہونے والی ایف آئی آر مسترد کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ نامزد ملزمان کے علاوہ کسی اور پر ایف آئی آر وقت کا ضیاع ہے۔
مسرت جمشید چیمہ نے مزید کہا کہ ایف آئی آر نامزد ملزمان کے علاوہ درج کرنا کیس الجھانے کے مترادف ہے۔
پولیس نے یہ ایف آئی آر تو درج کر دی ہے، جس میں یہ تفصیلات درج ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان دیگر قائدین کے ساتھ کنٹینرپراللہ والاچوک سے وزیرآباد آرہے تھے تو تقریباً شام 4 بجے کے قریب ملزم نوید ولد بشیر نے کنٹینر کے بائیں جانب سے پستول سے فائرنگ کر دی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق فائرنگ سےجلوس میں شامل معظم گولی لگنےسے ہلاک ہو گیا جبکہ کنٹینر پر موجود سابق وزیراعظم عمران خان زخمی ہو گئے۔
اس ایف آئی آر میں 302، 224، 440 سمیت دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔
ایف آئی آر میں محمد احمد چٹھہ، حمزہ الطاف سمیت 11 معلوم اور کچھ نامعلوم زخمیوں کا ذکر ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ جلوس میں شامل ایک کارکن حسن ابتسام نے فائرنگ کرنےوالےکوپکڑنےکی کوشش کی، اس کی وجہ سے فائرنگ کرنے والا مزید فائرنگ نہ کر سکا جبکہ عمران خان ابتدائی طبی امداد کے بعد لاہور چلے گئے۔
پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے؟
وکیل اور قانونی ماہر عابد ساقی کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق قانون یہ ہے کہ کوئی بھی شخص کسی قابلِ سماعت جرم کی اطلاع دے کر ایف آئی آر یا فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کروا سکتا ہے۔
ان کے خیال میں اس کا متاثرہ شخص سے کسی قسم کا تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔ࣿ اس صورت میں وہ پولیس کا اہلکار جس نے یہ واقعہ دیکھا ہو یا اسے اس کا علم ہو تو وہ ایف آئی آر کروا سکتا ہے۔
تاہم عابد ساقی کا کہنا تھا کہ اس صورت میں بھی پولیس اگر چاہے تو اس درخواست کا بھی ایف آئی آر میں شامل کر سکتی جو متاثرہ فریق نے دے رکھی ہے۔