آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سبسڈی اور زرعی قرضوں کی مدد سے حکومت زمینداروں کے نقصانات کا ازالہ کرے گی: وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیر اعلی بلوچستان نے زمیندار ایکشن کمیٹی کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ کہ 'ہم نے صرف متاثرین کی امداد ہی نہیں بلکہ بحالی بھی کرنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کھاد اور زرعی بیجوں پر کسانوں کو سبسڈی فراہم کرے گی اور زرعی قرضے کے لیے وفاقی حکومت سے بات چیت کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. خیرپورناتھن شاہ میں پانی کی سطح کم، لوگ گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    سندھ کے شہر خیرپور ناتھن شاہ میں پانی کی سطح کم ہونے کے بعد لوگوں نے اپنے گھروں کی طرف لوٹنا شروع کردیا ہے۔ شہر میں اس وقت بھی گھروں اور دکانوں میں پانی موجود ہے لیکن اس کی سطح نصف فٹ سے دو فٹ ہے۔

    ایک نوجوان شاہزیب نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ فیملی سمیت حیدرآباد منتقل ہوگئے تھے اب پہلی مرتبہ گھر جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ وہاں بجلی نہیں، صاف پینے کا پانی نہیں، کھانے پینے کی اشیا نہیں لیکن وہ گزارا کرلیں گے، کم از کم اپنے گھر میں تو ہوں گے۔

    انڈس ہائی وے پر ککڑ کے قریب نائچ گاؤں کے باہر پاکستان نیوی اور پی ڈی ایم کا ریسکیو آپریشن بند کر دیا گیا ہے۔ ان کی چند کشتیاں موجود ہیں جبکہ نجی کشتیوں کے ذریعے لوگ خیرپور ناتھن شاہ اور آس پاس کے علاقوں میں جا رہے ہیں۔

  2. سیلاب متاثرین کو ضروری غذائی اجناس کی فراہمی یقینی بنائی جائے: این ایف سی آر

    سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں عوام کے کھانے پینے اور ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر کا ڈپٹی چیئرمین کے زیر صدارت آج اجلاس ہوا، جس میں تمام چیف سیکرٹریز اور فیڈریٹنگ یونٹس نے شرکت کی اور فوڈ سیکیورٹی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں عوام کو غذائی اجناس خصوصاََ ٹماٹر اور پیاز کو فاسٹ ٹریک پر منگوانے کے اقدمات کی ہدایت کی گئی۔

    نیشنل فوڈسیکرٹری نے این ایف آر سی سی کو بتایا کہ لوگوں کو کھانے پینے کی ضروری اشیا، جس میں پیاز اور ٹماٹر شامل ہیں، مہیا کرنے کے لیے ہنگامی سطحوں پراقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    فورم نے ہدایت دی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک میں عوام کے لیے غذائی اجناس کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔

    فورم کو بتایا گیا کہ اس وقت غذائی اجناس کا سٹاک کافی تعداد میں موجود ہے اور اگلی فصل کی کاشت سے پہلے پہلے تک اگر بروقت اقدامات کر لیے جائیں تو انشا اللہ پاکستان میں غذائی قلت نہیں ہو گی۔

    فورم نے ہدایت دی کہ اس سلسلے میں ایک مکمل روڈ میپ تیار کر لیا جائے، جس میں گندم، چاول، دالیں اور دیگر ضروری اشیا کی نہ صرف فراہمی کو یقینی بنایا جائے بلکہ متاثرہ علاقوں میں بھی پہنچانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

    فورم نے خاص طور پر ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کیا جائے اور اس حوالے سے صوبوں کو درخواست کی گئی کہ وہ تمام ذخیرہ اندوز افراد کے خلاف قانونی کارروائی کریں جوکہ ان اشیا کو ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی قلت اور قیمتوں کے بڑھانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

  3. پاکستان میں سیلاب: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 22 ہلاکتیں، کوٹری کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب

    پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، بیشتر علاقوں سے سیلابی ریلے تو گزر چکے ہیں لیکن ان متاثرہ علاقوں میں ڈینگی، ہیضہ سمیت متعدد وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب متاثرہ علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 22 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ جون سے اب تک سیلاب کے باعث مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1508 تک پہنچ گئی ہے۔

    سیلاب سے اب تک 12,758 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ ملک بھر میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں 1,817,550 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک میں 12700 کلومیٹر سے زائد سڑکیں سیلابی ریلوں کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی سکھر کوٹری بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

  4. گلوبل وارمنگ سے پاکستان میں سیلاب کی صورتحال مزید بگڑی, میٹ میک گراتھ، بی بی سی نیوز

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر گلوبل وارمنگ نے پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں کردار ادا کیا ہے۔

    'ورلڈ ویدرایٹریبیوشن' کے محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے بارش کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم نتائج میں بہت سی غیر یقینی صورتحال تھی، اس لیے ٹیم اثرات کے پیمانے کو درست کرنے سے قاصر تھی۔

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ آنے والے سال میں اس طرح کے واقعے کے ہونے کا تقریباً ایک فیصد امکان ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں سیلاب شروع ہونے کے بعد سے دو مہینوں میں، دسیوں ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 1500 کے قریب ہلاک ہو چکے ہیں۔

    موسلا دھار بارشوں کی شدت سے دریائے سندھ کے کنارے پھٹ گئے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب نے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    شروع سے ہی سیاست دانوں نے موسمیاتی تبدیلی کی طرف اشارہ کیا کہ مایوس کن مناظر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن یہ پہلا سائنسی تجزیہ کہتا ہے کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

    یقینی طور پر اس برس کے آغاز میں انڈیا اور پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید گرمی کی لہروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا آسان تھا۔

    محققین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں نے ان لہروں کی وجہ سے ایسا ہونے کے امکان کو 30 گنا زیادہ کر دیا ہے۔ لیکن شدید بارش کے واقعات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

    پاکستان مون سون کے خطے کے کنارے پر واقع ہے، جہاں بارش کا انداز ہر سال انتہائی حیرت انگیز طور پر تبدیل ہوتا ہے۔

    مزید پیچیدگیوں میں بڑے پیمانے پر موسمی واقعات جیسے لا نینا کا اثر شامل ہے، جس نے سنہ 2010 میں پاکستان میں آنے والے آخری بڑے سیلاب میں بھی کردار ادا کیا تھا۔

    اس موسم گرما میں ہونے والی سب سے زیادہ بارشوں کے 60 دن کے دوران سائنسدانوں نے دریائے سندھ کے طاس میں تقریباً 50 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے صوبوں میں سب سے زیادہ پانچ دن کے دورانیے میں تقریباً 75 فیصد بارش ریکارڈ کی گئی۔

    اس کے بعد محققین نے آب و ہوا کے ماڈلز کا استعمال اس بات کا تعین کرنے کے لیے کیا کہ یہ واقعات گرمی کے بغیر دنیا میں ہونے کا کتنا امکان ہے۔ کچھ ماڈلز نے اشارہ کیا کہ بارش کی شدت میں اضافہ انسانوں کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہو سکتا ہے- تاہم نتائج میں کافی غیر یقینی صورتحال تھی۔

    رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک امپیریل کالج لندن سے تعلق رکھنے والے فریڈریک اوٹو نے کہا کہ 'ہمارے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے اس واقعے میں ایک اہم کردار ادا کیا، حالانکہ ہمارا تجزیہ ہمیں یہ اندازہ لگانے کی اجازت نہیں دیتا کہ اس میں کتنا بڑا کردار تھا۔ ہم نے پاکستان میں جو کچھ دیکھا وہ بالکل وہی ہے جس سے متعلق برسوں سے پیش گوئیاں ہو رہی ہیں۔

    یہ تاریخی ریکارڈ کے مطابق بھی ہے کہ اس خطے میں زبردست بارشوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے جب سے انسانوں نے فضا میں بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج شروع کیا ہے۔

    تجزیہ یہ بھی واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ گرمی میں مزید اضافہ ان شدید بارشوں کے واقعات کو مزید شدید بنا دے گا۔ لہٰذا جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے کردار کے لیے درست اعداد و شمار کا تعین کرنا مشکل ہے، گلوبل وارمنگ کے فنگر پرنٹس یعنی اثرات بڑے واضح ہیں۔

    محققین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس سال جتنی شدید بارشیں برداشت کی گئیں اب اس کے کسی بھی سال میں دوبارہ ہونے کا امکان تقریباً ایک فیصد ہے، حالانکہ یہ تخمینہ بڑی حد تک غیر یقینی صورتحال کے ساتھ بھی آتا ہے۔

  5. پاکستان کا موسمیاتی تباہی سے دوچار ممالک کے نقصان کے ازالے کے لیے بین الاقوامی فنڈ کے قیام کا مطالبہ

    ایشیا پیسفک کی پارلیمان کے سیمینار کے کامیاب انعقاد کے بعد سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی ہدایت پر قومی اسمبلی پاکستان نے انٹر پارلیمانی یونین کو باضابطہ درخواست دے دی ہے کہ یونین روانڈا کے دارالحکومت کیگالی میں اگلے ماہ ہونے والے اپنے اجلاس میں یہ ہنگامی قرارداد منظوری کے لیے پیش کرے جس میں ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث ترقی پزیر ممالک کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے ایک بین الاقوامی فنڈ قائم کریں۔

    یہ درخواست آئی پی یو کے سیکریٹری جنرل کے نام سیکریٹری نیشنل اسمبلی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کیا گیا ہے۔

    خط کے ہمراہ مجوزہ قرارداد کا متن بھی لف کیا گیا ہے جس میں عالمی برادری کی توجہ حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کی جانب مبذول کروائی گئی ہے۔

    قرارداد کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کے بارانی علاقوں میں تباہ کن بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث پندرہ سو ہلاکتیں ہوئیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے جبکہ پاکستانی معیشت کو ہونے والے نقصان کا اب تک کا تخمینہ بیس ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

    ایشیا پیسفک ممالک کے حالیہ سیمینار میں اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی عمارت ترقی پزیر ممالک کی تباہی پر استوار نہیں ہوسکتی۔

    یاد رہے کہ کاربن کے بین القوامی اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن اس کا شمار ماحولیاتی آلودگی سے متاثرہ سر فہرست پانچ ممالک میں ہوتا ہے۔

    پاکستان کی اس تجویز کو جہاں ایشا پیسفک کے ممالک کی حمایت حاصل ہے وہیں آی پی ہو کے صدر دواندرے پچیہو بھی اس قرارداد کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔

  6. قلیوں سے کیا گیا وعدہ وفا، دس دس ہزار روپے کی امداد

    وفاقی وزیر ریلوے کی جانب سے قلیوں کی مالی امداد کے وعدے پر عمل در آماد عور ہو گیا ہے اور قلیوں کو دس ہزار ورپے فی کس تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

    کراچی سٹی، لانڈھی، حیدرآباد، درغ روڈ اور لاہور اسٹیشنز پر چار سو قلیوں میں دس ہزار فی کس تقسیم اس رقم کی ادائیگی اخوت فاؤنڈیشن اور خواجہ رفیق شہید فاؤنڈیشن کی طرف سے کی گئی۔

    ادا کی جانے والی رقم میں ریلوے افسران کی ایک روز کی تنخواہ بھی شامل ہے۔

    کوئٹہ اور دیگر متاثرہ ڈویژنوں میں بھی وفاقی وزیر ریلوے کے وعدے کے مطابق قلیوں کی مالی معاونت کی جا رہی ہے۔

    وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ’ہمارے قلی ریلوے نظام میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔‘

  7. جرمنی کا سیلاب متاثرین کے لیے اضافی دس ملین یوروز امداد دینے کا اعلان

    جرمنی نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے اضافی دس ملین یوروز دینے کا اعلان کیا ہے۔

    پاکستان میں جرمنی نے سفیر الفریڈ گرانس نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا ہے۔

    انھوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’مجھے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ جرمنی، پاکستان کو حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے اصافی دس ملین یوروز امداد فراہم کرے گا۔ ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے گے۔‘

  8. پاکستان میں سیلاب: گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید پانچ ہلاکتیں، مجموعی تعداد 1486 ہو گئی

    پاکستان میں حالیہ مون سون کی بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور وفاقی حکومت کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جبکہ سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1486 تک پہنچ گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک لاکھ 27 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    سیلاب سے ملک میں 12 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکیں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ایک لاکھ 76 ہزار سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحال کے لیے پانچ برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

  9. بریکنگ, سندھ میں سیلاب کے بعد ڈینگی، ملیریا سے نیا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    پاکستانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں حالیہ سیلاب کی تباہی کے بعد صحت کا بحران جنم لے سکتا ہے۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین کی ریسکیو کی کوششوں کے دوران طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین ڈینگی، ملیریا اور پیٹ کی بیماریوں میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ کئی افراد کھڑے پانی کے پاس رہائش پزیر ہیں اور ایسے میں ڈینگی کی وجہ سے کئی ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں جس کے کیسز میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں ڈینگی کے 3830 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ اب تک کم از کم افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    تاہم خدشہ ہے کہ یہ اعداد و شمار اصل صورت حال سے کم ہیں۔

    پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سندھ میں صورت حال بہت خراب ہے۔ ہم پورے صوبے میں میڈیکل کیمپ لگا رہے ہیں۔ زیادہ تر کیسز ڈینگی کے ہیں، ملیریا دوسرے نمبر پر زیادہ پھیلنے والی بیماری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ڈینگی کی وجہ سے پورے صوبے میں ہی دباؤ ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جب ہم نے لیبارٹریوں سے معلوم کیا تو مشتبہ کیسز ٹیسٹوں کے مقابلے میں تقریبا 80 فیصد ہیں۔‘

    ڈاکٹر خالد کھوسہ بھی سندھ میں ڈینگی کے پھیلاو پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ صورت حال سے پریشان ہیں۔

    ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہر کسی تک پہنچیں لیکن ہمارے پاس سب کی مدد کرنے کی صلاحیت نہیں۔‘

    ’ہم روزانہ سینکڑوں مریض دیکھ رہے ہیں لیکن بہت سے ایسے ہیں جن کو ہم نہیں دیکھ پاتے۔ ایسا نہیں کہ صرف ہمارے ساتھ اس طرح ہو رہا ہے۔ پورے صوبے میں یہی حال ہے۔‘

    ’ہم پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ ہم ایک انسانی تباہی کو جنم لیتے دیکھ رہے ہیں۔ ڈینگی، ملیریا اور پیٹ کی بیماریوں سے اتنے لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور ہم سب کی مدد نہیں کر سکتے۔‘

    ’تو پھر کیا ہو گا؟ ظاہر ہے کہ اموات ہوں گی۔ ہمیں ان کو بچانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔`

  10. انڈیا میں بارشوں سے پنجاب کے دریاؤں کے علاقے متاثر ہونے کا خدشہ: پی ڈی ایم اے

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے کےادارے نے خبردار کیا ہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق مدھیہ پردیش میں ہونے والی بارشیں دریائے راوی،چناب اور ستلج کے بالائی کچے کے علاقوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے دریاؤں سے جڑے ندی نالوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی،ستلج اور چناب سے منسلک اضلاع نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔ اور متعلقہ ادارے جانی و مالی نقصان سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی کنٹرول روم سمیت تمام ادارے مکمل الرٹ ہیں۔ اور تمام ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں ابھی تک پانی کی سطح اور بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

  11. عمران خان کے سیلاب متاثرین کے لیے ٹیلی تھون میں 3.84 ملین ڈالرز کی امداد وصول ہونے کا دعویٰ

    پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور پنجاب حکومت کے احساس پروگرام کی سربراہ ثانیہ نشتر نے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے عمران خان کی ٹیلیتھون کے ذریعے 3.84 ملین ڈالرز وصول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 29 اگست سے جب پہلی مرتبہ عمران خان کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے ٹیلی تھون کی گئی سے اب تک ہمیں 3.8846 ملین ڈالرز بذریعہ کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشن وصول ہو چکے۔ تاہم 17.87ملین ڈالرز مالیت کی کریڈٹ کارڈ ادائیگیاں ناکام ہوئی ہیں اور سٹیٹ بینک آف پاکستان اس مسئلے کو دیکھے کیونکہ یہ خطرناک ہے۔

  12. اپیل پر مثبت رد عمل لیکن ابھی صرف 38.5 ملین ڈالر موصول ہوئے: جولین ہارنس

    پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر جولین ہارنس نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی مشترکہ فلیش اپیل پر عالمی برادری کی جانب سے مثبت جواب ملا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک نے اپیل کے جواب میں اچھے اعلانات کیے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایمرجنسی ریلیف فنڈ نے 10 ملین ڈالر کا اعلان کیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کر رہے ہیں کہ پاکستان اقوام متحدہ کے نظام سے زیادہ سے زیادہ عطیات کیسے حاصل کر سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ پہلے ہی پاکستان کے سیلاب زدگان اور بحالی کے مقصد کے لیے 161 ملین ڈالر کی فلیش اپیل شروع کر چکا ہے، اس فنڈنگ ​​سے بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں تقریباً 10 لاکھ افراد کو خوراک اور نقد امداد فراہم کی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں 161 ملین ڈالر امدادی سرگرمیوں کے لیے کافی نہیں ہوں گے کیونکہ انھوں نے دوبارہ عالمی برادری سے مزید فنڈز دینے کی اپیل کی ہے۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مالی احتساب اور شفافیت کو برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مختلف ممالک سے 150 ملین ڈالر کے اعلان کردہ عطیات میں سے اب تک صرف 38.5 ملین ڈالر موصول ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کارروائیوں کو تیز کرتے کے لیے مزید فنڈز کی ضرورت ہے۔

  13. پنجاب میں وبائی امراض کی بروقت روک تھام کے لیے سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول کے قیام کی منظوری

    پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالہ میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس کے دوران صوبے میں ڈینگی کی صورتحال اورمرض پر قابو پانے کے لیے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    انھوں نے مریضوں کی تعداد میں اضافے اورمرض کی روک تھام کے لیے بروقت اقدامات نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے وبائی امراض کی بروقت روک تھام کے لیے سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول کے قیام کی منظوری دی۔

    انھوں نے کہا کہ ’محکمہ صحت،ریسکیو1122 اور متعلقہ ادارے مشاورت سے وبائی امراض کی روک تھام کے لیے سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول کے قیام کے لیے ایکٹ کو حتمی شکل دیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’پنجاب حکومت وبائی امراض کی روک تھام کے لیے سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول کے قیام کے لیے ایکٹ کو پنجاب اسمبلی سے منظور کرائے گی۔‘

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے صوبے میں ڈینگی، کورونا، ہیضہ، ٹائیفائڈ اور دیگر وبائی امراض کی روک تھام میں مدد ملے گی۔‘

    ان کے بقول سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول کے قیام سے وبائی امراض پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹنگ نہیں کرنا پڑے گی۔

    وزیراعلیٰ کامتعلقہ حکام سے استفسار کیا کہ جب غیر معمولی بارشوں کی پیشگوئی تھی تو اس وقت انسدادڈینگی کے لیے پیشگی اقدامات کیوں نہ اٹھائے گئے۔

    انھوں نےکہا کہ صورتحال کا بروقت ادارک کرکے ہنگامی طورپر حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے تھی۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے صوبے بھر میں خصوصاً ہائی رسک اضلاع میں جنگی بنیادوں پر انسداد ڈینگی کے اقدامات کرنے کا حکم دیا۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے انسداد ڈینگی کے لیے رکھے گئے عارضی عملے کو مستقل کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔

    انھوں نے ضلع کی سطح پر ڈپٹی کمشنرز کو روزانہ کی بنیاد پر خود صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ جس کی رپورٹ رپورٹ وزیراعلیٰ آفس بھجوائی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اتوار اور دیگرتعطیلات کے دوران بھی انسداد ڈینگی کے لیے کام جا ری رکھا جائے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں پر پوری توجہ دی جائے اورانہیں تمام ضروری طبی سہولتیں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    وزیراعلیٰ نے پنجاب بھر خصوصاً راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالہ میں موثر انڈور اور آؤٹ ڈور سرویلنس کا حکم بھی دیا۔

  14. پنجاب حکومت نے سندھ کے سیلاب متاثرین کا امدادی سامان قبضے میں لے لیا: شرجیل میمن

    پاکستان کے صوبے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب نے جھوٹا الزام عائد کر کے سندھ کے سیلاب متاثرین کے لیے خریدا ہوا آٹا قبضے میں لے لیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم اے نے سندھ کے سیلاب متاثرین کے لیے پنجاب سے آٹا خریدا تھا جسے آج پی ٹی آئی کی حکومت نے پنجاب کی سرحد پر ٹرک روک کر قبضے میں لے لیا ہے اور ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ ‘

    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ان کا مزید کہنا تھا ’پی ٹی آئی ایک بار پھر تمام حدود پھلانگ رہی ہے۔ اس سے پہلے انھوں نے ایک جعلی مہم چلائی اور اب امدادی سامان کو روک رہےہیں۔ ‘

    شرجیل میمن کا کہنا تھا ’ان کے پاس اس عمل کی کوئی توجیہہ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے ٹویٹ کے ہمراہ ایف آئی آر کی کاپی اور تصاویر بھی پوسٹ کیں جن میں ان کے بقول حکومت پنجاب کا افسر امدادی سامان قبضے میں لے رہا ہے۔

    انھوں نے سوال ’کیا کہ تباہی کے اس وقت میں کیا پی ٹی آئی کی حکومت امدادی سامان کو روک رہی ہے؟‘

    نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق رحیم یار خان کے کوٹ سبزل تھانے پر دائر مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ 10 کلو کے 4500 تھیلے شیخوپورہ سے خریدے گئے تھے جو ذخیرہ اندوزی کے لیے کراچی پہنچائے جارہے تھے۔

    دوسری جانب سندھ کے محکمہ آفات کے اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 638 ہوچکی ہے، جن میں 274 بچے اور 118 خواتین ہیں۔

  15. بریکنگ, سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 300 یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو اور کمرشل صارفین کے بل معاف

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 300 یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو اور کمرشل صارفین سے بجلی کے بل نہیں لیے جائیں گے۔

    یہ اعلان وزیر اعظم شہباز شریف نے صحبت پور میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران کیا۔

    وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ’پورے پاکستان سے 300 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین سے ہم نے 35 ارب روپے تک کی وصولی ختم کردی تھی اب ستمبر کے مہینے میں بھی 2 کروڑ 10 لاکھ صارفین کو فیول ایڈجسٹمنٹ کی. مد میں 14 ارب کا فوری ریلیف دیا جارہا ہے۔ ‘

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نہ صرف 300 یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو اور کمرشل صارفین کے ستمبر کے بل معاف کیے جائیں گے بلکہ اگر انھوں نے اگست کے بل بھی جمع نہیں کروائے تو ان سے اضافی سر چارج نہیں لیا جائے گا۔

  16. انتظامیہ، رینجرز اور فوج کی مدد سے پانی کے انخلا اور ریلوے ٹریک کی بحالی کا منصوبہ بنائیں گے: سعد رفیق

    وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے نواب شاہ میں متاثرہ ریلوے ٹریک کا معائنہ کیا ہے۔

    ریلوے، رینجز اور ضلعی انتظامیہ کے افسران ان کے ہمراہ تھے۔

    اس موقعے پر ان کا کہنا تھا پانی کے انخلا کے لیے ضلعی انتظامیہ، رینجرز اور فوج کی مدد سے مشترکہ پلان بنایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’کم سے کم وقت میں ٹریک اور علاقے سے پانی کے انخلا کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جائیں۔‘

  17. سیلاب سے نمٹنے کے فیصلوں پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، وزیر اعلی سندھ

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے فیصلہ سازی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

    مراد علی شاہ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بات کر رہے تھے جہاں انھوں نے پانی کی نکاسی اور شگاف ڈالنے کے فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ’دریا کے قریب علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے پمپ کرنا پڑے گا۔ صرف رائٹ بینک پر سات سے آٹھ لاکھ ایکڑ فٹ پانی موجود ہے لیکن اس میں کمی آئی ہے۔ مختلف شہروں میں پانی کھڑا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پانی نکالنے کا، کٹ لگانے کا فیصلہ محکمہ اریگیشن کرتا ہے، کوئی اور نہیں۔‘

    وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ ’غیر دانستہ غلطی ہو سکتی ہے لیکن کوئی سندھ حکومت پر انگلی نہیں اٹھا سکتا کہ ہم نے غلط فیصلے کیے۔‘

    ’ہر فیصلہ فوجی انجینیئرز اور اریگیشن محکمے سے مل کر لیا گیا۔ ایک بار فیصلہ کیا گیا تو اس پر عمل کرنے میں پورا دن بھی نہیں لگا۔ ہماری دعا ہے اور برسات نہ ہو۔ ہماری کوشش ہے کہ کوئی نیا علاقہ نہ ڈوبے۔‘

  18. سیلاب فنڈز کے استعمال پر مشترکہ منصوبہ بندی چاہتے تھے، فواد چوہدری

    تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سیلاب زدگان کے لیے جمع کردہ فنڈز کے استعمال کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ بندی کی خواہش مند تھی۔

    تاہم انھوں نے شکایت کی کہ اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے عدم دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے اور کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

    انھوں نے بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان آج سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کیلئے پنجاب میں تونسہ جائیں گے۔

  19. پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا میں مون سون بارشوں کی وجہ سے پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر مخصوص علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے وسطی حصوں میں مون سون 17 ستمبر سے بالائی کیچمنٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔

    بیان کے مطابق مون سون سے دریائے راوی،چناب اور ستلج کے بالائی کیچمنٹ ایریاز متاثر ہو سکتے ہیں اور ان دریاؤں کے ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ دریاؤں سے منسلک ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے سیلاب آ سکتا ہے اس لیے راوی، ستلج اور چناب سے منسلک اضلاع ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کریں۔

    پی ڈی ایم اے نے تاکید کی ہے کہ دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے مناسب انتظامات کیے جائیں۔

  20. پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں

    پاکستان میں سیلابی صورتحال اور اس سے ہونے والی نقصانات پر بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔

    پاکستان میں 2022 کا مون سون غیر معمولی حد تک طویل اور تباہ کن رہا ہے جس نے ملک کے طول و عرض میں سیلابی کیفیت پیدا کی ہے۔ ملک کے شمال میں گلگت بلتستان سے لے کر جنوب میں کراچی تک ہلاکتوں اور تباہی کا سلسلہ اب تک نہیں رکا ہے اور حکومت کو اس سے ہونے والے مالی نقصان کا مکمل تخمینہ لگانے میں مشکلات ہیں۔