سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر گلوبل وارمنگ نے پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں کردار ادا کیا ہے۔
'ورلڈ ویدرایٹریبیوشن' کے محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے بارش کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔
تاہم نتائج میں بہت سی غیر یقینی صورتحال تھی، اس لیے ٹیم اثرات کے پیمانے کو درست کرنے سے قاصر تھی۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ آنے والے سال میں اس طرح کے واقعے کے ہونے کا تقریباً ایک فیصد امکان ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سیلاب شروع ہونے کے بعد سے دو مہینوں میں، دسیوں ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 1500 کے قریب ہلاک ہو چکے ہیں۔
موسلا دھار بارشوں کی شدت سے دریائے سندھ کے کنارے پھٹ گئے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب نے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
شروع سے ہی سیاست دانوں نے موسمیاتی تبدیلی کی طرف اشارہ کیا کہ مایوس کن مناظر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
لیکن یہ پہلا سائنسی تجزیہ کہتا ہے کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
یقینی طور پر اس برس کے آغاز میں انڈیا اور پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید گرمی کی لہروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا آسان تھا۔
محققین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں نے ان لہروں کی وجہ سے ایسا ہونے کے امکان کو 30 گنا زیادہ کر دیا ہے۔
لیکن شدید بارش کے واقعات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
پاکستان مون سون کے خطے کے کنارے پر واقع ہے، جہاں بارش کا انداز ہر سال انتہائی حیرت انگیز طور پر تبدیل ہوتا ہے۔
مزید پیچیدگیوں میں بڑے پیمانے پر موسمی واقعات جیسے لا نینا کا اثر شامل ہے، جس نے سنہ 2010 میں پاکستان میں آنے والے آخری بڑے سیلاب میں بھی کردار ادا کیا تھا۔
اس موسم گرما میں ہونے والی سب سے زیادہ بارشوں کے 60 دن کے دوران سائنسدانوں نے دریائے سندھ کے طاس میں تقریباً 50 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے صوبوں میں سب سے زیادہ پانچ دن کے دورانیے میں تقریباً 75 فیصد بارش ریکارڈ کی گئی۔
اس کے بعد محققین نے آب و ہوا کے ماڈلز کا استعمال اس بات کا تعین کرنے کے لیے کیا کہ یہ واقعات گرمی کے بغیر دنیا میں ہونے کا کتنا امکان ہے۔ کچھ ماڈلز نے اشارہ کیا کہ بارش کی شدت میں اضافہ انسانوں کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہو سکتا ہے- تاہم نتائج میں کافی غیر یقینی صورتحال تھی۔
رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک امپیریل کالج لندن سے تعلق رکھنے والے فریڈریک اوٹو نے کہا کہ 'ہمارے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے اس واقعے میں ایک اہم کردار ادا کیا، حالانکہ ہمارا تجزیہ ہمیں یہ اندازہ لگانے کی اجازت نہیں دیتا کہ اس میں کتنا بڑا کردار تھا۔ ہم نے پاکستان میں جو کچھ دیکھا وہ بالکل وہی ہے جس سے متعلق برسوں سے پیش گوئیاں ہو رہی ہیں۔
یہ تاریخی ریکارڈ کے مطابق بھی ہے کہ اس خطے میں زبردست بارشوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے جب سے انسانوں نے فضا میں بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج شروع کیا ہے۔
تجزیہ یہ بھی واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ گرمی میں مزید اضافہ ان شدید بارشوں کے واقعات کو مزید شدید بنا دے گا۔ لہٰذا جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے کردار کے لیے درست اعداد و شمار کا تعین کرنا مشکل ہے، گلوبل وارمنگ کے فنگر پرنٹس یعنی اثرات بڑے واضح ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس سال جتنی شدید بارشیں برداشت کی گئیں اب اس کے کسی بھی سال میں دوبارہ ہونے کا امکان تقریباً ایک فیصد ہے، حالانکہ یہ تخمینہ بڑی حد تک غیر یقینی صورتحال کے ساتھ بھی آتا ہے۔