آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سبسڈی اور زرعی قرضوں کی مدد سے حکومت زمینداروں کے نقصانات کا ازالہ کرے گی: وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیر اعلی بلوچستان نے زمیندار ایکشن کمیٹی کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ کہ 'ہم نے صرف متاثرین کی امداد ہی نہیں بلکہ بحالی بھی کرنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کھاد اور زرعی بیجوں پر کسانوں کو سبسڈی فراہم کرے گی اور زرعی قرضے کے لیے وفاقی حکومت سے بات چیت کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. سیلاب متاثرہ نصیر آباد ڈویژن میں وبائی امراض کا پھیلاؤ خطرناک قرار, محمد کاظم، بی بی سی نامہ نگار

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا ہے کہ نصیر آباد ڈویژن میں مختلف وبائی امراض کا پھیلاؤ ایک خطرناک شکل اختیار کر رہا ہے ۔

    کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ جب ہم پہلے نصیر آباد گئے تو ملیریا کا مرض پھیل چکا تھا۔ ہم نے حکومت اور ملیریا سے بچاﺅ کی جتنی تنظیمیں تھیں ان کو اس حوالے سے آگاہ کیا تھا۔ ہم نے محکمہ صحت سمیت دیگر تنظیموں کو کہا کہ جو لوگ ابھی تک ملیریا سے متاثر نہیں ہیں ان کو فوری طور پر ملیریا سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے حکام کو خبردار کیا تھا کہ اگر لوگ بڑے پیمانے پر ملیریا سے متاثر ہوئے تو نصیر آباد ڈویژن میں صحت کی سہولیات ناکافی ہوں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب نصیر آباد میں وبائی امراض کے پھیلاؤ نے ایک خطرناک شکل اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں زیادہ ہلاکتیں بچوں کی ہیں۔

    ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا کہ ہم نے حکومت کو نصیرآباد ڈویژن میں زیادہ سے زیادہ سے فیلڈ ہسپتالوں کے قیام کا مشورہ دیا تاکہ یہ وہاں کے ہسپتالوں کے لیے معاون ثابت ہو سکیں۔

    انھوں نے بتایا کہ نصیرآباد ڈویژن میں زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہے اس لیے جن ڈاکٹروں کو ایڈہاک پر لیا گیا ہے ان کی سمری کی فوری طور پر منظوری دیکر ان کو لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے نصیرآباد بھیجا جائے۔

    انھوں نے حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا کہ نصیر آباد ڈویژن میں جتنی بھی تنظیمیں صحت کے شعبے میں کام کر رہی ہیں ان کے کام کو مربوط کیا جائے تاکہ ادویات کا ضیاع نہ ہو۔ انھوں نے بتایا کہ دیگر امراض کے ساتھ ساتھ وہاں ہیپاٹائیٹس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  2. بریکنگ, سیلاب اور سخت پالیسی کی وجہ سے ملکی سالانہ معاشی شرح نمو 3.5 فیصد تک گرنے کا امکان: ایشیائی ترقیاتی بینک

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے موجودہ مالی سال میں پاکستان کی سالانہ معاشی شرح نمو 3.5 فیصد تک گرنے کے امکان کا اظہارکیا ہے۔

    بینک کے اعلامیے کے مطابق معیشت میں سست روی کی وجہ سیلاب اور حکومت کی جانب سے مالیاتی عدم توازن پر قابو پانے کے اقدامات ہیں۔

    گزشتہ مالی سال میں ملک کی معاشی گروتھ چھ فیصد تھی

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا کہ سیلاب کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے کاموں کے ساتھ معاشی اصلاحات کی وجہ سے بین الاقوامی مالی امداد کے آنے کی توقع ہے جس کے معاشی گروتھ میں اضافے میں مدد ملے گی تو اس کے ساتھ معاشرے کے کمزور طبقات پر زیادہ خرچ کیا جائے گا۔

    بینک کی جانب سے ایک ریلیف، بحالی اور تعمیر نو کا پیکج تیار کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے پاکستان میں بسنے والے افراد، ان کے روزگار اور انفراسٹرکچر کو فوری اور طویل مدتی بنیادوں پر سپورٹ کیا جا سکے۔

  3. پاکستان میں تعمیر نو کے لیے فرانس ’بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا‘

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے پیش نظرفرانس اور پاکستان نے معیشت کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    اس کا اظہار وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے موقع پر دو طرفہ ملاقات میں کیا گیا۔

    اسلام آباد اور پیرس سے ایک ساتھ جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں اس کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر بحال کرنے اور اس کی تعمیر نو میں مدد کے لیے پاکستان کے لیے بین الاقوامی حمایت کو متحرک کرنے پر اتفاق اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    فرانس سال کے اختتام سے قبل متعلقہ بین الاقوامی مالیاتی شراکت داروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس کا مقصد پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو میں حصہ ڈالنا ہے اور پائیدار تعمیر نو سے متعلق فنانسنگ اور قابل تجدید توانائی کی منتقلی کو تیز کرنے کے لیے اس کی مدد کرنا ہے۔

  4. امریکی اداکارہ انجلینا جولی سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پاکستان پہنچ گئیں

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی نمائندہ خصوصی اور امریکی اداکارہ انجلینا جولی سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے پاکستان پہنچ چکی ہیں۔

    انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) کے مطابق انجلینا جولی سیلاب سے متاثرہ افراد سے ملاقات کریں گی اور مستقبل میں ایسی تباہی سے بچنے کے لیے درکار اقدامات پر بات بھی کریں گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سنہ 2010 میں آنے والے سیلاب اور سنہ 2005 کے زلزلے کے بعد بھی انجلینا جولی پاکستان آئی تھیں۔

  5. ’سیلاب سے جتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اس سے نمٹنا کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں‘ احسن اقبال

    وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ فوج سمیت پاکستان کے تمام ادارے اپنی صلاحیت سے بڑھ کر متاثرین کی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں لیکن حالیہ سیلاب سے جتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے کہ اس سے نمٹنا کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں۔

    وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز، کوآرڈینیٹر این ایف ار سی سی میجر جنرل ظفر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مصیبت جتنی بھی بڑی ہے پاکستانی قوم کی صلاحیت سے زیادہ بڑی نہیں۔

    انھوں نے دو تہائی خشک پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لوگ جو سیلاب سے محفوظ رہ گئے ہیں، جن کے کاروبار معمول کے مطابق چل رہے ہیں اور جن کی فصلیں لہلا رہی ہیں، میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ جن لوگوں کا سب کچھ سیلاب کی نظر ہو گیا ہے، ان کی مدد کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہمارا آخری ہم وطن پاکستانی اپنے گھر میں بس نہیں جاتا، ہم پر قرض ہے کہ ہم ان کی جتنی مدد کر سکیں، کریں۔

    انھوں نے علمائے کرام سے بھی اپیل کی کہ اپنے خطبوں میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد پر زور دیں۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‏یہ مصیبت جتنی بڑی ہے وسائل اتنے ہی کم ہیں، سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے تجویز دی کہ 25 لاکھ طلبا اورطالبات کو ٹاسک دیا جائے کہ وہ متاثرین کے لیے خود عطیات دیں یا جمع کریں، ‏طلبا اورطالبات مدر اینڈ چائلڈ بنیادی ضروریات پیک بنائیں اور متاثرین میں تقسیم کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ نقصانات کا سامنا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد لوگوں کی زندگی بحال کر سکیں۔

  6. پاکستان میں سیلاب: گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں مزید 15 ہلاکتیں، مجموعی تعداد 1559 ہو گئی

    پاکستان میں حالیہ مون سون کی بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور وفاقی حکومت کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جبکہ سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1559 تک پہنچ گئی ہے۔

    یہ 15 افراد سندھ میں ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں 12 مرد، تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔

    این ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    سیلاب سے ملک میں 12 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکیں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 374 پل تباہ اور ایک لاکھ 97 ہزار سے زائد مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

  7. ’پاکستان کے سیلاب کی کہانی دنیا کو سنانے کے لیے‘ شہباز شریف نیویارک میں

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ دنیا کو پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کی کہانی سنانے کے لیے امریکہ پہنچے ہیں۔

    ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے نتیجے میں جنم لینے والے بڑے انسانی المیے کی کہانی دنیا کے لیے جاننا ضروری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب اور اس موقع پر ہونے والی ملاقاتوں میں ان معاملات پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے جن پر اقوامِ عالم کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

  8. ’بلوچستان میں امراض کا پھیلاؤ نہ روکا گیا تو بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے‘, محمد کاظم، بی بی سی، کوئٹہ

    بلوچستان اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین نے سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں پر تشویش کا اظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وبائی امراض کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

    پیر کو اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اراکین کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں پانی کھڑا ہے وہاں وبائی امراض سے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔

    حکومتی رکن میر ظہور بلیدی نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن، کچھی اور لسبیلہ میں سب کچھ تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دو سے تین سو ارب روپے کا نقصان ہوا لیکن یہ امر افسوسناک ہے تاحال بلوچستان کو نقصان کے مقابلے میں اتنی امداد فراہم نہیں کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ لوگ ملیریا اور دیگر بیماریوں سے متاثر ہورہے ہیں۔ ظہور بلیدی نے کہا کہ اگر نصیر آباد، کچھی اور لسبیلہ کی جانب بھرپور توجہ نہ دی گئی تو ان علاقوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوں گی۔

    ادھر حزب اختلاف کے رکن نصراللہ زیرے نے کہا کہ 34 اضلاع میں سے ایک دو کو چھوڑ کر باقی تمام اضلاع تباہی سے دوچار ہیں۔

    سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے صحبت پور سے حکومتی رکن سلیم کھوسہ نے کہا کہ پورا ضلع تباہی سے دوچار ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پورے نصیرآباد میں پانی کھڑا ہے جس کی وجہ سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں اور اس سے بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ کتنی افسوس کی بات ہے کہ وہاں لوگوں کو ملیریا سے بچاﺅ کی ادویات نہیں مل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک حکومت کی جانب سے لوگوں کو جو امداد فراہم کی گئی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پینے کے پانی کا بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ صحبت پور کی آبادی دو لاکھ بیس ہزار ہے لیکن وہاں صرف دس ٹینکروں کے ذریعے لوگوں کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ لوگوں کو اب تک نہ مناسب راشن فراہم کیا گیا اور نہ ہی خیمے فراہم کیے گئے۔

    انھوں نے صحبت پور اور نصیر آباد ڈویژن کے دیگر اضلاع کے ڈوبنے کی ایک بڑی وجہ ایریگیشن ڈپارٹمنٹ کی ’ناقص کارکردگی‘ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کیا جائے۔

    مشیر برائے داخلہ و پی ڈی ایم اے میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ حکومت کے پاس جو بھی دستیاب وسائل ہیں وہ لوگوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دیگر اضلاع کی طرح صحبت پور میں سیلاب متاثرین کو امداد فراہم کی جارہی ہے۔

  9. وزیرِ اعلیٰ سندھ کی چیئرمین نادرا سے ملاقات، امدادی سرگرمیوں کے لیے ڈیٹابیس بنانے پر زور

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چیئرمین نادرا طارق ملک سے ملاقات میں ان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی حکومت کے لیے ایک ڈیٹا بیس تیار کریں تاکہ امدادی سامان کی تقسیم اور متاثرہ افراد میں نقد رقم کی شفاف منتقلی ممکن ہو سکے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امدادی سامان کی تقسیم اتنے ہموار اور شفاف طریقے سے کی جائے تاکہ ہر متاثرہ خاندان مستفید ہو سکے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں چیف سیکرٹری سہیل راجپوت، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ اور نادرا کے کرنل انیس نے شرکت کی۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ شدید بارشوں/سیلاب سے تقریباً 15 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور 30 لاکھ مکانات منہدم ہوئے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس وقت چھ لاکھ سے زیادہ آبادی کیمپوں میں مقیم ہے جبکہ اتنی ہی متاثرین کی تعداد عارضی طور پر سڑکوں اور شاہراہوں کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نادرا متاثرہ افراد کا ایک یونین کونسل کی بنیاد پر ڈیٹا بیس تیار کریں جس میں اُنھیں فراہم کیے جانے والے امدادی سامان کی انٹری کا انتظام کیا جائے تاکہ اس کی تصدیق ہو سکے جبکہ سامان وصول کرنے والے اور ڈونر/انتظامیہ کی ڈیجیٹل تفصیلات ہونی چاہییں۔

    چیئرمین نادرا طارق ملک نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ان کا ادارہ ڈیٹا بیس تیار کرے گا تاکہ عطیات مستحق افراد تک پہنچ سکیں اور اس کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

    چیئرمین نادرا نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ اُنھوں نے اپنے موبائل یونٹس ان علاقوں میں لگانے شروع کر دیے ہیں جہاں نادرا کے دفاتر گر گئے ہیں۔

    اس پر وزیر اعلیٰ نے ان پر زور دیا کہ وہ ان لوگوں کو ترجیح دیں جن کے شناختی کارڈز کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ 31 دسمبر 2022 تک تمام میعاد ختم ہونے والے شناختی کارڈز کی تصدیق کر دی گئی ہے،اس کا مطلب ہے کہ تمام زائد المیعاد CNICs دسمبر 2022 کے آخر تک کارآمد ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ افراد کو نقد رقم کی منتقلی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور نادرا چیف نے تجویز دی کہ متاثرہ افراد کو صرف ان کے شناختی کارڈ پر بینک اکاؤنٹس کھولنے کی سہولت دی جائے گی۔

    انھوں نے مشورہ دیا کہ یہ اکاؤنٹس موبائل بینک یونٹس میں کھولے جا سکتے ہیں جو کہ پارٹنر بینکوں کے ذریعہ ریلیف کیمپوں/متاثرہ دیہاتوں میں رکھے جائیں۔

  10. خیبر پختونخوا: متاثرہ گھروں کے سروے کے لیے موبائل ایپ تیار

    خیبر پختونخوا کی حکومت نے بتایا ہے کہ اُنھوں نے سیلاب سے متاثرہ مکانات کے سروے کے لیے موبائل ایپلیکیشن آئی ٹی بورڈ کے تعاون سے تیار کر لی ہے۔

    پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ گھروں کا معاوضہ دینے کے لیے 15 ستمبر سے ایک مشترکہ سروے کا آغاز کیا گیا ہے جس میں ضلعی انتظامیہ، سی اینڈ ڈبلیو، ایریگیشن، پاکستان آرمی، متعلقہ تحصیلدار، ایجوکیشن مونیٹرنگ اتھارٹی، آئی ایم یو/محکمہ صحت کے نمائندے شامل ہیں۔

    ادارے کے مطابق سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف سرگرمیاں یقینی بنانے کے لیے متاثرہ اور دور دراز علاقوں تک کا سروے عمل جاری ہے، اور متاثرہ گھروں کو معاوضے بینک آف خیبر کے ذریعے اے ٹی ایم اور چیک بکس کے ذریعے ادا کیے جائیں گے۔

    ادارے نے بتایا کہ جہاں بینک آف خیبر کی برانچ موجود نہیں وہاں اضافی برانچ اور عملہ تعینات کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    صوبائی حکومت کی جانب سے اس مون سون کے دوران سپیشل پیکج کے تحت مکمل تباہ شدہ گھروں کے مالکان کو چار لاکھ روپے دیے جائیں گے جبکہ جزوی نقصان کی صورت میں ایک لاکھ 60 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

  11. خیرپورناتھن شاہ میں پانی اترنے کے بعد چھ لاشیں ملی ہیں، مرنے والے سامان کی حفاظت کے لیے گھروں میں رکے تھے

    صوبہ سندھ کے ضلع دادو کی پولیس کے مطابق تحصیل خیرپور ناتھن شاہ میں پانی کم ہونے کے بعد تین روز کے دوران مختلف گھروں سے چھ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ افراد سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے بعد اپنے گھروں میں سامان کی حفاظت کے لیے رک گے تھے۔

    پولیس کے مطابق لاشیں اہل خانہ نے دریافت کرکے پولیس کو اطلاع کی تھی، جس پر ابتدائی تفتیش کے بعد تمام لاشیں اہل خانہ کو واپس کردی گئی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق اہل خانہ بھی اس واقعات پر کسی قسم کی کارروائی اور تفتیش نہیں چاہتے ہیں۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد متوسط اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

  12. 'پاکستان میں سیلاب کے لیے اس سے زیادہ بُرا وقت کوئی نہیں ہو سکتا', سرانجانا تیواری، بی بی سی نیوز

    پاکستان کو فوری طور پر بدترین سیلاب کے بعد کئی برس تک مدد کی اشد ضرورت ہے۔

    اقوام متحدہ اور برطانیہ میں پاکستان کی سابق مندوب ملیحہ لودھی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ موسمیاتی آفت کا اس سے زیادہ خراب وقت کوئی نہیں ہو سکتا، جب پاکستان کی معیشت پہلے ہی ادائیگیوں کے توازن کے بحران، بڑھتے ہوئے قرضوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نبرد آزما تھی'۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر ملک کو قرضوں میں ریلیف نہیں ملتا ہے تو معاشی بحران یعنی دیوالیہ پن کا خطرہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک تباہ کن بارشوں سے ملک کا بڑا حصہ پہلے ہی زیرِ آب ہے، جس سے تقریباً 1500 افراد ہلاک اور تقریباً 33 ملین متاثر ہوئے ہیں۔

    گھر، سڑکیں، ریلوے، فصلیں، مویشی اور ذریعہ معاش شدید موسمی تبدیلی کی نظر ہو گیا۔ پاکستان کی معیشت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ زراعت سے منسلک ہے تو ایسے میں حکام اب کہتے ہیں کہ غیر معمولی سیلاب کی وجہ سے ہونے والا نقصان 35 سے 40 بلین ڈالر تک ہو سکتا ہے۔

    ملک بھر میں ایک اندازے کے مطابق آٹھ لاکھ مویشی، جو دیہی آبادی کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں، سیلاب میں ضائع ہو گئے ہیں۔ جن کسانوں کےمویشی بچ گئے ہیں انھیں اب ان کے لیے چارہ پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ممکنہ طور پر خوراک کے بحران کی وجہ سے آگے مزید تکلیف ہوگی۔

    پاکستان کی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کے مطابق چاول اور مکئی کے ساتھ پیاز کی تقریباً 70 فیصد فصل تباہ ہو چکی ہے۔ پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے بڑا چاول برآمد کرنے والا ملک ہے جو یہ افریقہ اور چین کو بھی بیچتا ہے۔

    پاکستان کے تقریباً تمام گھرانوں کا انحصار گندم پر ہے۔ لیکن اتنی زیادہ زرعی زمین کو نقصان پہنچنے سے گندم کی فصل بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

    وبائی امراض کے بعد اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔ یوکرین میں جنگ کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں پہلے ہی بڑھوتری ہو چکی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق سیلاب سے پہلے پاکستان میں افراط زر کی شرح 24 فیصد سے زیادہ تھی اور بعض اخراجات 500 فیصد تک بڑھ چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے خوراک اور صنعت کے لیے خام مال درآمد کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، لیکن ملک کے غیر ملکی ذخائر بحران سے پہلے ہی کم ہو رہے تھے۔

    پاکستان بھی کپاس پیدا کرنے والا ملک ہے، جو ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں استعمال ہوتی ہے۔ اب اسے اس کمی کا بھی سامنا ہے جبکہ یہ صنعت ملازمتوں کے حوالے سے بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔

    اتوار کو پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک سیلاب کے باوجود اپنے قرضوں کی ادائیگی میں 'بالکل ڈیفالٹ' نہیں کرے گا۔ مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ بیرونی مالیاتی ذرائع کو محفوظ بنا دیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق پاکستان نے ایشین ڈویلپمنٹ بنک، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک اور ورلڈ بنک سے بھی چار بلین ڈالر سے زیادہ قرضے یقینی بنائے گئے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے تقریباً پانچ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری رواں مالی سال میں کی جائے گی۔

    اسی وقت پاکستان کے مرکزی بینک نے اعلان کیا کہ سعودی عرب کی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے تین بلین ڈالر کے ڈپازٹ میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے، جو دسمبر میں ادائیگی کے لیے واجب الادا تھے۔ اتوار کو بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا کہ وہ پاکستان کی امداد اور تعمیر نو کی کوششوں میں مدد کے لیے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

  13. بلوچستان: سیلاب کے بعد جلدی امراض میں اضافہ

    حکومت بلوچستان کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف علاقوں سے جلدی امراض کے 10 ہزار 902 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ سیلابی صورتحال اور کئی مقامات پر پانی کھڑا رہنے کے باعث ملک کے کئی حصوں میں جلدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    بلوچستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے اور یہاں بھی پانی سے پھیلنے والی دیگر بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

    صوبے میں جلدی انفیکشنز کے بعد دوسرے نمبر پر اسہال کے نو ہزار 904 کیس رپورٹ ہوئے، تیسرے نمبر پر سانس کی بیماریوں کی مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی جن کی تعداد نو ہزار 680 تھی۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے ملیریا کے دو ہزار 767 کیس رپورٹ ہوئے۔

    گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف علاقوں سے سانپوں کے ڈسنے کے 137 جبکہ کتے کے کاٹنے کے 15 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    سماجی کارکن حمیدہ نور کا کہنا ہے کہ جہاں اب تک پانی کھڑا ہے ان علاقوں میں سانپ اور کتے بھی ان خشک مقامات کا رخ کر رہے ہیں جہاں متاثرین نے پناہ لے رکھی ہے۔

  14. بلوچستان میں سیلاب سے 3000 سکول تباہ، تین لاکھ سے زائد طلبہ کی تعلیم متاثر, جعفر خان کاکڑ، صحافی

    بلوچستان میں حالیہ مون سون کی تباہ کن بارشوں نے دیگر شعبوں کی طرح تعلیمی اداروں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بلوچستان کے تمام متاثرہ اضلاع میں سکول اور کالجز کئی مقامات پر مکمل تباہ ہو گئے ہیں جبکہ کئی کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

    سیکرٹری ایجوکیشن عبدالرؤف بلوچ کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں طوفانی بارشوں نے 3000 پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں کو نقصان پہنچایا ہے اور چھ ہزار سے زائد سکول کمرے منہدم ہو گئے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مخدوش صورتحال سے صوبے میں تین لاکھ سے زائد طلباء و طالبات کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ضلع لسبیلہ ہے جس میں 341 سکولوں کو نقصان پہنچا جبکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 204 سکول تباہ ہوئے۔

    اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم یونیسف کی جانب سے صوبے کے متاثرہ اضلاع میں عارضی سکول کے مراکز قائم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    ضلع لسبیلہ، جھل مگسی، صحبت پور، نصیر آباد اور جعفر آباد میں یونیسف نے عارضی سکول کے 22 مراکز قائم کیے۔

    یونیسف پروجیکٹ پروگرام منیجر نقیب اللہ خلجی کا کہنا ہے کہ عارض سکولوں کے مراکز میں اس وقت 2220 بچے زیر تعلیم ہیں جس میں 1420 طلباء جبکہ 796 طالبات شامل ہیں۔

  15. سیلاب میں جن لوگوں کے گھر تباہ ہوئے انھیں نئے گھر بنا کر دیں گے: شرجیل میمن

    پاکستان میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے سندھ کے صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے اس سیلاب میں گھر تباہ ہوئے ہیں انھیں حکومت نئے گھر بنا کر دے گی۔

    ان کے مطابق دیگر نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ مرنے والوں کی کوئی قیمت تو نہیں ہوتی مگر ان کے لواحقین کو دس دس لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں۔

    شرجیل میمن کے مطابق حیدر آباد میں انتظامیہ نے سیلاب میں مرنے والوں کے لواحقین کو دس دس لاکھ کے چیک دیے بھی ہیں۔ ان کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 25 ہزار ہر مستحق گھرانے کو دیے جا رہے ہیں۔ شرجیل میمن کے مطابق اس وقت اچھی خبر یہ ہے کہ پانی کم ہونا شروع ہو گیا ہے اور یہ سیلاب کا پانی اب سمندر میں جا رہا ہے۔

    ان کے مطابق اب حکومت کی ترجیح صحت کا نظام ہے کیونکہ اب جس طرح کی امراض پھیل رہی ہیں ایسے میں لوگوں کو علاج کی اور صحت کی سہولیات کی ضرورت ہے۔

  16. سندھ میں ڈیڑھ کروڑ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں: شرجیل میمن

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن نے حیدر آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں اس سیلاب سے ڈیڑھ کروڑ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

    صوبائی وزیر کے مطابق اس سے پہلے صحیح اعداد و شمار میسر نہیں تھے کیونکہ سیلاب کی وجہ سے بجلی کا نظام بھی منقطع تھا اور لوگوں کے موبائل تک چارج نہیں تھے۔ ان کے مطابق اب جو رابطے ہو رہے ہیں اور جس طرح کی اطلاعات مل رہی رہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کتنی بڑی آبادی اس موجودہ سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔

    شرجیل میمن کے مطابق متاثرین کی بحالی تک ریلیف آپریشن نہیں رکے گا۔ ان کے مطابق متاثرین کی بہترین سہولیات پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    صوبائی وزیر کے مطابق اب جہاں جہاں سے پانی نکل رہا ہے وہاں سے لوگوں کو ضروری امدادی سامان جیسے ٹیننٹ اور راشن دے کر ان کے آبائی علاقوں کی طرف واپس بھیجا جا رہا ہے۔

  17. وزیراعظم شہباز شریف کا ہیلی کاپٹر موسم کی خرابی کی وجہ سے میانوالی سے واپس

    وزیراعظم شہباز شریف موسم کی خرابی کے سبب میانوالی اور ٹانک نہ جاسکے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا ہیلی کاپٹر موسم کی خرابی کی وجہ سے میانوالی سے واپس ہو گیا ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے سلسلے میں پہلے میانوالی اور پھر ٹانک جانا تھا۔ وزیراعظم نے ٹانک میں تعمیر شدہ 100 گھروں کا افتتاح کرنا تھا۔

    وزیراعظم نے اپنے ٹانک کے گذشتہ دورے میں متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے حکام نے وزیراعظم کو واپس اسلام آباد لے جانے کا فیصلہ کیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے نور خان ائیر بیس راولپنڈی پر سیلاب سے متعلق جائزہ اجلاس طلب کر لیا۔ وزیر اعظم ریسکیو اور ریلیف کے کاموں سے متلعق تازہ ترین معلومات حاصل کریں گے وزیراعظم ائیر بیس پر سیلاب سے متعلقہ اجلاس کے بعد لندن روانہ ہوں گے۔

  18. بین الاقوامی رہنماؤں نے ملاقاتوں میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی: وزیردفاع خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بین الاقوامی رہنماؤں نے پاکستان کو مشکل کی اس گھڑی میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔

    ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو اس دورے میں متعدد کامیابیاں ملی ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی دس سربراہان کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے، جس میں عالمی رہنماؤں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ جیسا کہ تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف کا بھرپور خیر مقدم کیا۔

    ان کے مطابق چین کے صدر شی چن پنگ نے شہباز شریف کوملاقات میں کہا کہ آپ بہت حقیقت پسند اور عملی رہنما ہیں۔ انھوں نے پھر سے سی پیک پر کام بھرپور طریقے سے شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق ریل سمیت متعدد منصوبوں پر دونوں رہنماؤں کی بات ہوئی۔

    وزیردفاع کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں گندم اور گیس دینے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ تمام ممالک کے سربراہان نے نواز شریف کو سلام دیا اور انھیں یاد کیا۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے پروگرامز بھی دوبارہ شروع ہوئے ہیں اور اب آہستہ آہستہ مختلف اشیا کی قیمتوں میں بھی ریلیف ملے گا۔

  19. گذشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب سے مزید 37 ہلاکتیں، مجموعی تعداد 1545 ہو گئی

    پاکستان میں سیلاب سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 37 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1545 تک پہنچ گئی ہے۔ اس عرصے میں 92 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ اب تک سیلاب میں کل زخمیوں کی تعداد 12850 بنتی ہے۔

    گذشتہ ایک دن میں 50 کلومیٹرتک کی سڑکیں تباہ ہوئی ہیں جبکہ ابھی تک 104072 کلومیٹر تک سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔

  20. بریکنگ, ’اتنی بڑی تباہی زندگی میں نہیں دیکھی‘، شہباز شریف کی شنگھائی تعاون تنظیم سے مدد کی اپیل

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب میں ملک میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اتنی بڑی تباہی زندگی میں نہیں دیکھی۔‘

    ازبکستان کے شہر سمر قند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ہو رہے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی زندگی میں اتنی بڑی تباہی نہیں دیکھی‘، جہاں کروڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں، لاکھوں بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے موجود ہیں۔ اور ہزاروں ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث آیا ہے اور اس نے پاکستان کو ایک کھڑے پانی کا سمندر بنا دیا ہے۔ جہاں لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور کھڑے پانی کے باعث وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیلاب سے اتنی تباہی نہیں آئی جتنی پاکستان میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں آئی ہے۔

    انھوں نے شنگھائی تعاون تنظیم سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاری سے نمٹنے میں مدد کرے تاکہ بے سرو سامان افراد کی جلد از جلد بحالی کو ممکن بنایا جا سکے۔