سیلاب متاثرہ نصیر آباد ڈویژن میں وبائی امراض کا پھیلاؤ خطرناک قرار, محمد کاظم، بی بی سی نامہ نگار
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا ہے کہ نصیر آباد ڈویژن میں مختلف وبائی امراض کا پھیلاؤ ایک خطرناک شکل اختیار کر رہا ہے ۔
کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ جب ہم پہلے نصیر آباد گئے تو ملیریا کا مرض پھیل چکا تھا۔ ہم نے حکومت اور ملیریا سے بچاﺅ کی جتنی تنظیمیں تھیں ان کو اس حوالے سے آگاہ کیا تھا۔ ہم نے محکمہ صحت سمیت دیگر تنظیموں کو کہا کہ جو لوگ ابھی تک ملیریا سے متاثر نہیں ہیں ان کو فوری طور پر ملیریا سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے حکام کو خبردار کیا تھا کہ اگر لوگ بڑے پیمانے پر ملیریا سے متاثر ہوئے تو نصیر آباد ڈویژن میں صحت کی سہولیات ناکافی ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب نصیر آباد میں وبائی امراض کے پھیلاؤ نے ایک خطرناک شکل اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں زیادہ ہلاکتیں بچوں کی ہیں۔
ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا کہ ہم نے حکومت کو نصیرآباد ڈویژن میں زیادہ سے زیادہ سے فیلڈ ہسپتالوں کے قیام کا مشورہ دیا تاکہ یہ وہاں کے ہسپتالوں کے لیے معاون ثابت ہو سکیں۔
انھوں نے بتایا کہ نصیرآباد ڈویژن میں زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہے اس لیے جن ڈاکٹروں کو ایڈہاک پر لیا گیا ہے ان کی سمری کی فوری طور پر منظوری دیکر ان کو لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے نصیرآباد بھیجا جائے۔
انھوں نے حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا کہ نصیر آباد ڈویژن میں جتنی بھی تنظیمیں صحت کے شعبے میں کام کر رہی ہیں ان کے کام کو مربوط کیا جائے تاکہ ادویات کا ضیاع نہ ہو۔ انھوں نے بتایا کہ دیگر امراض کے ساتھ ساتھ وہاں ہیپاٹائیٹس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔