آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

فیصلوں پر سیاسی جماعتوں کے سخت ردعمل کے باوجود عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا: چیف جسٹس عمر عطا بندیال

گلگت بلتستان سپریم ایپلیٹ کورٹ کے سابق چیف جج رانا شمیم اپنے بیان حلفی سے منحرف ہو گئے اور انھوں نے اب اپنا نیا بیان حلفی جمع کروایا ہے، جس میں انھوں نے لکھا کہ پہلے بیان حلفی میں عدالت کے ایک جج کا نام غلط فہمی سے شامل ہو گیا تھا۔

لائیو کوریج

  1. توہین عدالت کیس: فوجداری توہین پر صرف نظر نہیں کر سکتے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو بنچ کے سربراہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان کے وکیل حامد خان کو دلائل دینے کی دعوت دی۔

    حامد خان نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان کے نئے جواب کی روشنی میں توہین عدالت کا مقدمہ بند کر دیا جائے۔

    حامد خان نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے سپریم کورٹ کے توہین عدالت کیسز کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ طلال چوہدری اور دانیال عزیز کیسز عمران خان کیس سے بہت مختلف ہیں۔

    حامد خان نے کہا کہ ہم اس معاملے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے حامد خان کو دلائل سے روک کر کہا کہ یہ کریمینل توہین ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ توہین عدالت تین طرح کی ہوتی ہے۔ دانیال عزیز اور طلال چودھری کے خلاف کریمنل توہین عدالت کی کارروائی نہیں تھی، ان کے خلاف عدالت کو سکینڈلائز کرنے کا معاملہ تھا۔

    چیف جستس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کی کریمنل توہین ہے۔ آپ کا جواب پڑھ لیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے ہم پر بائنڈنگ ہیں۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ فوجداری توہین پر صرف نظر نہیں کر سکتے، فوجداری توہین بڑی سنگین ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماتحت عدلیہ کا وقار ضروری ہے، مجروح کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ کریمنل توہین بہت حساس معاملہ ہوتا ہے، اس میں آپ کوئی توجیہ پیش نہیں کرسکتے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ہم اظہار رائےکی آزادی کے محافظ ہیں لیکن اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

  2. جیل جا کر اور خطرناک ہو جاؤں گا، عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ’میں جیل جا کر اور خطرناک ہو جاؤں گا۔‘

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کمرہ عدالت کی جانب جاتے ہوئے صحافیوں کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ حکومت ان کو گرفتار کرنے کا پلان بنا رہی ہے تو انھوں نے کہا کہ ’وہ تو بہت دیر سے کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ان سے دو بار سوال کیا گیا کہ کیا آپ عدالت سے معافی مانگیں گے تو عمران خان خاموش رہے۔

    ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’میں جیل میں جا کر اور خطرناک ہو جاؤں گا۔‘

  3. توہین عدالت کیس: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے

    خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے لیے پہنچ چکے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس موقعے پر پولیس اور سکیورٹی کی اضافی نفری تعینات کی گئی جبکہ عمران خان سے اظہار یکجہتی کے وزیر اعلی پنجاب پرویز الہٰی کی قیادت میں پنجاب کی کابینہ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی۔

  4. مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست: لاہور ہائیکورٹ جج نے کیس سننے سے معذرت کر لی

    لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کے ایک رکن نے مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست سننے سے معذرت کر لی ہے۔

    مریم نواز کی جانب سے ان کا پاسپورٹ واپس کرنے کی درخواست جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس انوار الحق پنوں پر مشتمل بنچ کے پاس سماعت کے لیے مقرر تھی۔

    لیکن جمعرات کو جیسے ہی سماعت کا آغاز ہوا تو دو رکنی بنچ کے رکن جسٹس انوار الحق پنوں نے مریم نواز کا کیس سننے سے معذرت کر لی جس کے بعد نئے بنچ کی تشکیل کے لیے کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی گئی۔

    مریم نواز نے اپنے وکیل امجد پرویز کی وساطت سے درخواست دائر کی تھی کہ عدالتی حکم پر پاسپورٹ ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کے پاس ہے لیکن ابھی تک نیب چوہدری شوگر مل کا ریفرنس پیش نہیں کر سکا۔

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ کسی شخص کو اس کے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا لہذا عدالت پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دے۔

  5. اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو کنونشن سینٹر میں ورکرز کنونشن کی اجازت دے دی

    اسلام آباد انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو کنونشن سینٹر میں ورکرز کنونشن کی اجازت دیتے ہوئے این او سی جاری کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس کیس کی سماعت کی اور پی ٹی آئی کو این او سی ملنے پر درخواست نمٹا دی۔

    وکیل پی ٹی آئی نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں این او سی مل گیا ہے لیکن درخواست ہے کہ عدالت آئندہ کے لیے بھی احکامات دے۔

    جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’مستقل کے لیے ہم کوئی احکامات نہیں دے سکتے کیونکہ یہ انتظامیہ کا معاملہ ہے اور مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے، حالات کا پتا نہیں ہوتا۔‘

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ عدالت انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔

  6. لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کے مقدمات، عمران خان کی عبوری ضمانت میں 27 ستمبر تک توسیع

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ سیشن عدالت نے لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کے مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں 27 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔

    عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت سیشن جج کامران بشارت مفتی نے کی جبکہ وکیل بابر اعوان نے عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی۔

  7. عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا پانچ رکنی بینچ آج سماعت کرے گا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ آج (جمعرات) عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کرے گا۔

    اس سے قبل بدھ کو عمران خان نے جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں دوبارہ تحریری جواب جمع کروایا۔

    چیئرمین تحریک انصاف نے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں جج زیبا چوہدری سے متعلق کہے گئے الفاظ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں غیر ارادی طور پر منہ سے نکلے الفاظ پر گہرا افسوس ہے۔

    جواب میں عمران خان نے غیر مشروط معافی نہیں مانگی مگر کہا کہ وہ عدالت کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ آئندہ ایسے معاملات میں احتیاط سے کام لیں گے۔