آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

فیصلوں پر سیاسی جماعتوں کے سخت ردعمل کے باوجود عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا: چیف جسٹس عمر عطا بندیال

گلگت بلتستان سپریم ایپلیٹ کورٹ کے سابق چیف جج رانا شمیم اپنے بیان حلفی سے منحرف ہو گئے اور انھوں نے اب اپنا نیا بیان حلفی جمع کروایا ہے، جس میں انھوں نے لکھا کہ پہلے بیان حلفی میں عدالت کے ایک جج کا نام غلط فہمی سے شامل ہو گیا تھا۔

لائیو کوریج

  1. ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کے کیسز کی سماعت 20 ستمبر تک ملتوی

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں منگل کے روز ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کے نوٹسز چیلنج کرنے کے یکجا کیسز پر سماعت ہوئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی اور عدالت نے آئندہ سماعت فریقین سے دائرہ اختیار پر دلائل طلب کر لیے ہیں۔

    درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان اور فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے جبکہ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں موجود تھے۔

    سماعت میں وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے ڈونر تفتیش میں شامل ہونے کے لیے تو ڈونیشن نہیں کرتے۔

    جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ دونوں درخواست گزاروں کا کیس ایک ہی ہے کہ ایف آئی اے کا دائرہ اختیار بنتا ہے یا نہیں۔

    کیس کی سماعت 20 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

  2. سپریم کورٹ میں اداروں کے خلاف توہین آمیز بیانات رکوانے کی درخواست دائر

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں اداروں کے خلاف توہین آمیز بیانات کا سلسلہ رکوانے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

    مشترکہ درخواست مخلتف شہروں کے چھ شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی

    درخواست میں پیمرا، الیکشن کمیشن اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ آرٹیکل 19 میں اظہار رائے کی آزادی لامحدود نہیں۔ آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے پر کچھ قدغنیں بھی ہیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کو توہین آمیز بیانات کا سلسلہ روکنے کیلئے کوڈ آف کنڈیکٹ تیار کرنے کا حکم دیا جائے۔ کوڈ آف کنڈیکٹ پر عمل کر کے اداروں کی تضحیک، سرکاری ملازمین کی تضحیک،سرکاری حکام سرکاری ملازمین کی تضحیک کا سلسلہ روکا جائے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کو موجودہ اظہار رائے کے قوانین پر نظر ثانی کرنے کا حکم دیا جائے۔ اور فریقین کو آرٹیکل 19 پر من و عن عمل در آمد یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔

  3. عمران خان منصوبے کے تحت آرمی چیف کی تعیناتی کے عمل کو متنازع بنا رہے ہیں: خواجہ آصف

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق ’گنجائش نکالنے‘ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آرمی چیف کی تعیناتی کے عمل کو متنازع بنا رہے ہیں۔

    جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جہاں تک آرمی چیف کی تعیناتی کا تعلق ہے تو اس معاملے پر اس وقت بات کرنا کافی قبل از وقت ہے کیونکہ موجودہ آرمی چیف کی مدت میں ابھی ڈھائی مہینے باقی ہیں۔ ’اس وقت اس پر بات کرنا نہ ملک کے مفاد میں ہے اور دفاع کے ضامن ادارے کے سربراہ کو سیاست میں گھسیٹنا ادارے کے مفاد میں بھی نہیں۔‘

    ’میں تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کروں گا کہ سیاسی لڑائیاں میں آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے کو متنازع نہ بنائیں۔ اگر ایک ادارہ بچا ہوا ہے تو اس کو متنازع نہ بنائیں۔‘

    خواجہ آصف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان یہ بات کر کے درحقیقت مسلم لیگ ن کی حکومت کے جائز ہونے کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ’عمران خان چاہتے ہیں کہ ایک ایسی حکومت جو ان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد قائم ہوئی اسے نومبر میں اس کی آئینی ذمہ داری (آرمی چیف کی تعیناتی) پورا کرنے سے روکا جائے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس پورے عمل کو متنازع بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل سما ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ ’پہلے وہ اسٹیبلشمنٹ کی تعریفیں کرتے تھے، مگر جب ان کے سر سے ہاتھ اٹھا تو اسٹیبلشمنٹ بُری ہو گئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے آئینی اور قانونی رویہ اپنایا ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کو اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’ایک طرف عمران خان اُن کو نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب ان سے بات چیت کے دروازے بھی کھولنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ہر صورت میں طاقت کے حصول کے خواہاں ہیں۔ یہ عمران خان کی ذہنی اور سیاسی پسماندگی کو ظاہر کرتا ہے۔‘

  4. ’الیکشن جیت کر آئیں اور اپنا آرمی چیف تعینات کریں‘: عمران خان

    انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ صرف اسی صورت نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہونی چاہیے جب یہ ’الیکشن جیت کر آئیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ آصف زرداری اور نواز شریف نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی اہلیت نہیں رکھتے اور وکلا کے مطابق ایسی پروویژن موجود ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل باوجوہ آئندہ الیکشن تک اپنے عہدے پر برقرار رہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستانی فوج نے تصدیق کی تھی کہ جنرل باجوہ رواں سال نومبر میں ریٹائر ہوں گے۔

    عمران خان نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ’دنیا میں وہ قومیں اوپر جاتی ہیں جن میں میرٹ ہوتا ہے۔ دنیا میں کسی بھی ادارے کی کامیابی کے لیے میرٹ اہم ہے۔‘

    ’اگر معاشرے میں میرٹ نہیں تو ہم دوسرے ملکوں سے مقابلہ نہیں کرسکتے۔ چین میں میرٹ کا نظام ہے۔ میں نے کہا تھا آرمی چیف کی پوزیشن اہم ہے، اسے میرٹ پر ہونا چاہیے۔ نہ آصف زرداری اور نہ نواز شریف میرٹ طے کرنے کے اہل ہیں۔ ان کی ترجیح میرٹ نہیں، اپنے پیسے بچانا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں پھر کہتا ہوں آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہونی چاہیے۔ وکلا نے بتایا کہ (جنرل باجوہ کی الیکشن تک تعیناتی کے لیے) گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’ملک غیر معمولی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس دور میں ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا کرنا چاہیے۔ میں بات کرنے کے لیے تیار ہوں، پہلے کوئی یہ بات کرے کہ الیکشن کروانے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’اگر فری اینڈ فیئر الیکشن کی بات کرنے کے لیے تیار ہیں تو میں ہمیشہ ان کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

    عمران خان نے مزید کہا کہ ’خدشہ ہے کہ یہ اپنے فیصلے کر ہی نہیں سکتے۔ انھیں الیکشن سے خوف آنا شروع ہوگیا ہے کہ انھوں نے ہار جانا ہے۔ فیصلہ ان کے ہاتھ میں نہیں۔ ہم پبلک پریشر ڈالیں گے، آئین کے اندر رہیں گے۔‘

  5. جب چاہوں عوام کو سڑکوں پر نکال سکتا ہوں: عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ’مجھے ڈر ہے یہ ملک کو اس طرف لے کر جا رہے ہیں جہاں یہ سب کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔۔۔ بہترین راستہ یہی ہے کہ الیکشن کروا کر سیاسی استحکام آئے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’تمام حکومتوں سے مستعفی ہونے کا بھی راستہ ہے۔۔۔ (مگر) پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت نے جس طرح خوف پھیلایا، ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا گیا، نیب کے کیسز ختم کیے گئے اور ہم چُپ کر کے بیٹھے رہیں کہ ملک مشکل میں ہے۔

    ’میں جب چاہوں عوام کو سڑکوں پر نکال سکتا ہوں۔ دو گھنٹوں کی کال دیتا ہوں لوگ سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ سری لنکا کی طرز پر لے جانا مشکل نہیں۔ ہمارے جلسے پُرامن ہیں۔۔۔ لیکن اسے موڑنا کوئی مشکل کام نہیں۔ لوگ تیار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امپائرز‘ نے ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے موجودہ چیف الیکشن کمشنر کا نام تجویز کیا۔ اسے انھوں نے اپنی غلطی قرار دیا ہے۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس کوئی آسان راستہ نہیں بچا اور ملک ڈیفالٹ کے قریب جا رہا ہے۔

    ’یہ نہیں کہہ رہا کہ میرے پاس سارے حل ہیں۔۔۔ پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ملک میں سیاسی استحکام کو، عوامی مینڈیٹ کے ساتھ ایک حکومت آئے۔۔۔ اگر سیاسی استحکام نہیں تو معاشی استحکام نہیں آسکتا۔‘

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سیاست کے 26 برسوں میں ’مشرف دور میں بھی ایسا فاشزم نہیں دیکھا۔۔۔ اس طرح کی سختی اور ظلم۔ میڈیا پر دباؤ۔ کل ہمارے ٹیلیتھون میں سیلاب کے لیے پیسے اکٹھے کر رہا تھا۔ کیبل آپریٹرز کو دھمکا کر ٹیلیتھون دکھانے نہ دیا گیا۔‘

  6. پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے اور موجودہ حالات میں قرضوں کی اقساط کی ادائیگی بہت مشکل نظر آ رہی ہے۔

    دنیا نیوز کے اینکر کامران خان کو دیے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں طاقت کے مرکز کو تنبیہ کیا تھا کہ توانائی اور دیگر اشیا کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اگر سیاسی عدم استحکام آیا تو کسی سے معیشت نہیں سنبھالی جائے گی۔‘

    ’شوکت ترین کو بھی بھیجا۔۔۔ مگر ان کا پلان صرف اپنے کیسز سنبھالنا تھا۔ آئی ایم ایف نے زور لگایا تو قیمتیں بڑھا دیں۔ ساری کریڈٹ ایجنسیوں نے انھیں ڈاؤن گریڈ کر دیا ہے۔ پاکستان کو قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کی مد میں 30 ارب ڈالر درکار ہیں۔ آئی ایم ایف، ایشین ڈیویلپمنٹ اور ورلڈ بینک سمیت تمام جگہوں سے پیسے مل جائیں تو چھ سے سات ارب ڈالر بنتے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’کسی نے پاکستان کو پیسہ نہیں دینا۔ پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے۔‘

  7. توہین الیکشن کمیشن کے معاملے میں عمران خان 27 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب

    الیکشن کمیشن نے مبینہ توہین آمیز بیانات کے معاملے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر رہنماؤں کو 27 ستمبر کو ذاتی طور پر طلب کر لیا ہے۔

    ترجمان الیکشن کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ ادارے نے اسد عمر اور فواد چوہدری کے جوابات پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے انھیں بھی شوکاز نوٹس جاری کیے اور ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ عمران خان مقررہ وقت میں جواب جمع نہیں کرا سکے ہیں۔

  8. عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے دروازے کھولنا چاہتے ہیں: خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ جب سے اسٹیبلشمنٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے اوپر سے دست شفقت ہٹایا ہے تب سے وہ ان کے ساتھ گالم گلوچ کرتے ہیں اور غلط زبان استعمال کرتے ہیں۔

    سما ٹی وی کو دیے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ عمران خان ذہنی طور پر آمرانہ سوچ کے حامل ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان کی حمایت کرے۔

    وہ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ آئین و قانون کے ساتھ کھڑی ہے۔ ’ایک طرف انھیں (اسٹیبلشمنٹ کو) نشانہ بنا رہے ہیں اور دوسری طرف سے ان سے بات چیت کے دروازے کھولنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب دھمکی دے کر اپنی حکومت جائز یا ناجائز طریقے سے واپس لینا چاہتے ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ’اس ملک میں ریڈلائن ہمارا آئین و قانون ہے۔۔۔ عمران خان نے کئی بار یہ ریڈلائن عبور کی ہے۔‘

  9. ’یہ بتانا آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟‘ عمران خان

    ٹوئٹر پر پیغام میں عمران خان موجودہ حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ ’اگر آپ ہمارےآئینی حقوق غصب کرنے اور اظہار و صحافت کی آزادی کےحوالے سےعالمی وعدوں سے انحراف کے ذمہ دار نہیں تو قوم کو یہ بتانا آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہمیں معلوم ہےکہ آپ کے مجرم حواری اورانکے سرپرست تحریک انصاف کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔‘

  10. پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری پر الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن صرف ایک رکن کی حد تک معطل: عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے وضاحت کی ہے کہ پی ٹی آئی کے 11 ارکان کے استعفوں کی منظوری معطل نہیں کی بلکہ صرف ایک ممبر عبد الشکور شاد کی حد تک نوٹیفکیشن معطل ہے۔

    ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی ایم این اے عبد الشکور شاد کے استعفے کی منظوری کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

    ہائی کورٹ نے وضاحت کی کہ عبد الشکور شاد کی حد تک الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن معطل ہے۔ ’پٹشنر عبد الشکور شاد تھے اس لیے نوٹیفکیشن بھی ایک ممبر کی حد تک معطل ہے۔‘

    چیف جسٹس نے پٹشنر کے وکیل سے استفسار کیا کہ سب کی حد تک تو نوٹیفکیشن معطل نہیں تھا۔ وکیل عبد الشکور شاد نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے 11 ممبران کا اکٹھا نوٹیفکیشن کیا تھا۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اکٹھا ہے لیکن صرف ایک ممبر کی حد تک نوٹیفکشن معطل ہے۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی ہے۔

  11. سیاسی جماعتوں کے سخت ردعمل کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا گیا: چیف جسٹس عمر عطا بندیال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ بعض فیصلوں پر سیاسی جماعتوں کے سخت ردعمل کے باوجود ان کی عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

    نئے عدالتی سال کے آغاز پر چیف جسٹس آف پاکستان نے فل کورٹ سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ ’مارچ 2022 سے ہونے والے سیاسی ایونٹس کی وجہ سے سیاسی مقدمات نئی عدالتوں میں آئے ہیں۔

    ’ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر ججز کی مشاورت سے از خود نوٹس لیا۔ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف پانچ دن میں سماعت کر کے رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کا فیصلہ بھی تین دن میں سنایا۔ دوست مزاری کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے پر سیاسی جماعتوں نے سخت ردعمل دیا۔ سیاسی جماعتوں کے سخت ردعمل کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ وہ آگاہ ہیں کہ ملک کو سنجیدہ معاشی بحران کا سامنا ہے۔ ’ملک میں اس وقت بدترین سیلاب کا بھی سامنا ہے۔ سیلاب متاثرین کے لیے ججز نے تین دن اور عدالتی ملازمین نے دو دن کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’چارج سنبھالا تو فوری فراہمی انصاف، زیر التوا مقدمات اور از خود نوٹس کے اختیارات کے استعمال جیسے چیلنجز درپیش تھے۔ خوشی ہے کہ زیر التوا مقدمات کی تعداد 54134 سے کم ہو کر 50265 تک پہنچ گئی ہے۔‘

    ’صرف جون سے ستمبر تک 6458 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی نے گذشتہ دس سالہ اضافے کے رحجان کو ختم کیا۔ معزز ججز صاحبان نے اپنی چھٹیوں کو قربان کیا۔ آئندہ چھ ماہ میں مقدمات کی تعداد 45 ہزار تک لے آئیں گے۔ فراہمی انصاف کے متبادل نظام سے یقین ہے کہ زیر التوا مقدمات میں 45 فیصد تک کمی آئے گی۔‘

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ججز تقرریوں کے سلسلے میں بار کی معاونت درکار ہے جبکہ آبادی میں اضافے سے متعلق کیس کو جلد سنا جائے گا۔

    انھوں نے وضاحت کی کہ ’پالیسی معاملات میں عمومی طور پر مداخلت نہیں کرتے۔ لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایسے مقامات بھی سننے پڑتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے پانچ اہل اور قابل ججوں کو نامزد کیا گیا تھا لیکن وفاقی حکومت نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق عدالتی فیصلے کا ردعمل جوڈیشل کمیشن میں دیا۔ ’کیا یہ ردعمل عدلیہ کی آزادی کے زمرے میں آتا ہے؟‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں موجود وفاق کے نمائندوں میں سے ایک نے نامزدگیوں کو مسترد اور ایک نے موٗخر کر دیا۔

    ’آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ آئین کے منافی ہے‘

    اس دوران سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون بنے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 12 ہے اور پانچ ججز کی تعیناتیاں نہ ہونے سے انصاف کی فراہمی کا عمل سست ہوا ہے۔ ’چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ مشاورت کے ساتھ تعیناتیوں کا میعار نوٹیفائی کیا جائے۔‘

    انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ’آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ آئین کے منافی ہے۔ آرٹیکل 63 اے فیصلے کے خلاف نظرثانی پر فل کورٹ تشکیل دے کر سماعت کی جائے۔‘

    ریفرنس سے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل، اور صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی خطاب کیا جبکہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی عدم موجودگی کے باعث ان کا تحریری خطاب ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے پڑھ کر سنایا۔

    اٹارنی جنرل کے خطاب میں کہا گیا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی وجوہات کا جو حل نکالا ہے اس سے دس سال میں پہلی مرتبہ زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی آئی ہے، تجویز ہے کہ عدالت عظمی صرف ان مقدمات کو پذیرائی دے جس میں کوئی ٹھوس قانونی سوال ہو۔ ’سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کا پوری ہونا ضروری ہے۔

    ’ججز کی تقرریوں کا طریقہ کار طے ہونا باقی ہے،تقرریوں کے طریقہ کار میں اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ جوڈیشل کمیشن میں ججز کی تقرری باہمی اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ قابل جج کو سپریم کورٹ لایا جائے۔‘

  12. اس عدالت پر جو اتنا بڑا الزام لگا اسے نظر انداز نہیں کر سکتے: اسلام آباد ہائیکورٹ

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ’اگر آپ بیان پر سٹینڈ بھی کرتے ہیں اور معافی بھی مانگتے ہیں تو پھر دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔‘

    رانا شمیم اپنے وکیل لطیف آفریدی کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ وکیل نے کہا کہ ’ہم نے غیر مشروط معافی عدالت کو جمع کرائی۔ ہم نے عدالت سے معافی قبول کرنے کی استدعا کی ہے۔‘

    اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ نے معافی کے ساتھ کوئی بیان حلفی جمع کرایا ہے؟‘ اس پر لطیف آفریدی نے جواب دیا کہ ’ہم نے معافی مانگ لی اور عدالت کے رحم و کرم پر خود کو چھوڑ دیا۔‘

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس ہائیکورٹ کی حد تک توہین عدالت کیس میں پرنسپل واضح ہے۔ ’غیر مشروط معافی عدالت سے متعلق نہیں بلکہ اپنے اقدام کا داغ دور کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی حقیقی معافی مانگے اور کنڈکٹ درست ہو تو عدالت کو معافی تسلیم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ رانا شمیم اگر اپنے بیان حلفی کے متن کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر بات تو برقرار ہے۔ چیف جسٹس پاکستان یا کوئی اور اسلام آباد ہائیکورٹ پر اثرانداز ہو سکتے ہیں یہ تاثر غلط ہے۔ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں جا سکتیں۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’اگر آپ کہتے ہیں کہ کوئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج پر اثرانداز ہوا، یہ عوام کا اعتماد اٹھانے کی کوشش ہے۔‘

    انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ ’معافی نامہ کسی عدالت سے متعلق نہیں بلکہ اس معاملے کو صاف کرنے کی حد تک ہوتا ہے۔ اگر کوئی حقیقت میں معافی مانگے اور غلطی پر پچھتاوا ہو تو معاف کرنے پر عدالت کو کوئی مسئلہ نہیں۔

    ’یہ اسلام آباد ہائیکورٹ ہے۔ اس ہائیکورٹ کو یہاں زیر سماعت کیسسز کی حد تک کنسرن ہے۔ اگر آپ بیان پر سٹینڈ بھی کرتے ہیں اور معافی بھی مانگتے ہیں تو پھر دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔‘

    اس دوران رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی نے معافی نامہ عدالت کو پڑھ کر سنایا۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ’جس جج کا بیان حلفی میں نام ہے وہ تو اُس وقت اِس کورٹ میں چوتھے نمبر پر تھے۔ آپ نے سینیئر پیونی جج کا لکھا، سینیئر پیونی جج کس کورٹ کا؟ یہ تو اب آپ معاملے کو اور متنازع بنا رہے ہیں۔‘

    وکیل لطیف آفریدی نے دلائل دیے کہ رانا شمیم کی بھابھی سمیت خاندان میں اموات ہوئیں تھیں اور رانا شمیم نے ذہنی تناؤ کی صورت حال میں بیان حلفی لکھا۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’عدالتیں توہین عدالت کی کارروائی میں ہمیشہ بڑے دل کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

    ’اگر رانا شمیم بیان حلفی کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس عدالت کو اپنے محاسبے کی ضرورت ہے۔ اتنے بڑے اخبار میں خبر لگی تھی اور آج کہہ رہے ہیں کہ میرا حافظہ کمزور ہو گیا تھا۔ یہ اس عدالت کے لیے بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ یہ عدالت کسی کو پریشرائز نہیں کرنا چاہتی۔ جو بھی سچ ہے وہ کہیں، یہ عدالت کسی بھی شخص کے لیے بڑے دل کا مظاہرہ کرتی ہے۔ 2018 کے بعد کوئی اس عدالت پر اثرانداز ہو سکتا ہے تو میں اور اس عدالت کے ججز قابل احتساب ہیں۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت اس بیان حلفی پر بھی کارروائی کر سکتی تھی لیکن نہیں کریں گے۔ ’غیرمشروط معافی عدالتی انا کے لیے نہیں، عدالت بڑے دل کا مظاہرہ کرتی ہے۔ کم از کم اپنی غلطی تو تسلیم کریں۔ انھوں نے آدھی غلطی تسلیم کی۔ اس عدالت پر بہت بڑا الزام لگا، جو بھی سینیئر پیونی جج تھا الزام اسی عدالت پر رہے گا۔

    ’اگر رانا شمیم کا بیان حلفی سچا ہے تو اس عدالت کے پاس کارروائی آگے بڑھائے بغیر کوئی راستہ نہیں۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت رانا شمیم صاحب کو بیان حلفی جمع کرانے کے لیے پھر وقت دے سکتی ہے۔ ’اس عدالت پر جو اتنا بڑا الزام لگایا گیا ہم اسے نظرانداز نہیں کر سکتے۔‘

    وکیل لطیف آفریدی نے کہا ’ہم خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں، عدالت جو بھی کہے مانیں گے۔‘

    اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت آپ کو کچھ نہیں کہے گی، ہماری طرف سے کوئی پریشر نہیں۔ ’یہ توہین عدالت کی کارروائی ہے، عدالت کسی کو نقصان نہیں دینا چاہتی۔ ایک ہفتے میں تسلی سے سوچ کر نیا بیان حلفی جمع کرائیں۔ اس عدالت نے آپ کو بڑی سادہ اور واضح بات بتا دی ہے۔‘

    رانا شمیم نے بیان دیا کہ ’میں آج ہی نیا بیان حلفی جمع کروا دیتا ہوں۔‘ اس پر وکیل لطیف آفریدی نے ٹوکتے ہوئے کہا ’نہیں نہیں، آج ہی نہیں، ابھی رہنے دیں۔‘

  13. رانا شمیم توہین عدالت کیس: سابق چیف جج گلگت بلتستان نے غیر مشروط معافی مانگ لی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے یہ کہتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگی ہے کہ ان سے ذہنی دباؤ میں غلطی ہوئی تھی۔

    رانا شمیم کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے جانے والے تحریری جواب میں انھوں نے لکھا ہے کہ سینئر ترین جج کی جگہ جسٹس عامر فاروق کا نام بیان حلفی میں غلط فہمی کی بنا پر لکھ دیا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم پر عدلیہ کو بدنام کرنے کے معاملے میں فرد جرم عائد کی تھی جس کی وجہ ان کا وہ بیان حلفی بنا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ سنہ 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو حکم دیا تھا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج عامر فاروق سے ملاقات کریں اور ان سے کہیں کہ سنہ 2018 میں عام انتخابات سے قبل سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی احتساب کیسز میں ضمانت نہیں ہونی چاہیے۔

    آج رانا شمیم کی جانب سے جو جواب جمع کرایا گیا اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ لان میں چائے پر ثاقب نثار سے ملاقات کے دوران ان کی گفتگو سنی جس کے دوران سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے منھ سے سینئر پیونی جج کے الفاظ بار بار سنے۔

    انھوں نے لکھا کہ بیان حلفی تین سال بعد 72 سال کی عمر میں ذہنی دباؤ میں لکھا اور غلط فہمی کی بنا پر سینئر پیونی جج کی جگہ جسٹس عامر فاروق کا نام بیان حلفی میں لکھ دیا۔

    رانا شمیم نے اپنی غلطی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ کو اسکینڈلز کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور اپنی غلط فہمی پر اس عدالت کے تمام حاضر سروس ججز سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔

  14. میرے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ملک کی توہین ہے: عمران خان

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ بنا کر ناصرف پاکستان کا مذاق بنایا گیا بلکہ دہشت گردی سے متعلقہ قوانین کا بھی۔

    پیر کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ’حراست میں ملزم پر تشدد کیا جاتا ہے وہ بھی کسی قاتل یا دہشت گرد پر نہیں بلکہ یونیورسٹی پروفیسر پر۔۔۔ جیل سپروائزر بھی مانتا ہے کہ تشدد کیا گیا مگر پھر تشدد کا شکار بننے والے کو ریمانڈ پر واپس وہیں بھیج دیا گیا جہاں تشدد کیا گیا ناصرف جسمانی بلکہ جنسی تشدد بھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس پورے معاملے کے بعد اگر کوئی کہتا ہے کہ میں قانونی کارروائی کروں گا ان کے خلاف جنھوں نے تشدد کیا۔۔۔ تو اگر یہ کہنا دہشت گردی ہے تو آپ کسی کو بھی دہشت گرد بنا سکتے ہیں۔‘

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ساری دنیا کے اخباروں کے صفحہ اول پر یہ آیا کہ عمران خان پر دہشت گردی کی دفعہ لگائی ہے۔ ’یہ سب ہونے سے حراست میں ہونے والے تشدد کا معاملہ پیچھے رہ گیا۔ آج یہ جو دہشت گردی کا کیس ہے یہ ہمارے ملک کی توہین ہے۔‘

  15. خاتون جج کو دھکمی دینے کا کیس: عمران خان کی عبوری ضمانت میں 20 ستمبر تک توسیع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں چیئرمین عمران خان کے خلاف خاتون جج کو دھمکیاں دینے پر دہشت گردی مقدمے کی سماعت میں عدالت نے سابق وزیر اعظم کی عبوری ضمانت میں 20 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔

    مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا تو پراسیکیوٹر کی جانب سے دلائل دیے گئے۔

    پراسیکیوٹر کی جانب سے کہا گیا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے تین نوٹس جاری کیے گئے لیکن عمران خان شامل تفتیش نہیں ہوئے۔

    پولیس پراسیکیوٹر نے کہا کہ جے آئی ٹی عمران خان سے سوالات کرنا چاہتی ہے جس پر چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے جواب دیا کہ عمران خان کا بیان آچکا لیکن پولیس اس کو ریکارڈ پر نہیں لائی۔

    عدالت نے سوال کیا کہ عمران خان کی خود موجودگی کیسے ضروری ہے سیکشن دفعہ پڑھیں۔

    عدالت نے سپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی سے سوال کیا کہ حکومت آپ کو دو ہفتے کے بعد کیوں لاتی ہے؟ کیا حکومت پہلے سوچ رہی ہوتی ہے؟

    سپیشل پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ مجھے جیسے ہی کہا گیا میں عدالت حاضر ہو گیا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ وکیل بابر اعوان نے کہا ہے کہ چیف کمشنر آفس میں ان کاؤنٹر ہو جائے گا۔

    انھوں نے سوال کیا کہ کیا چیف کمشنر آفس ان کاؤنٹر کیلئے استعمال ہوا کبھی؟

    اس پر بابر اعوان نے کہا کہ اس سے پہلے کیا کبھی کسی لیڈر کی تقریر یوٹیوب پر بھی بند ہوئی تھی۔ یہ نہ کہیں کہ پہلے کیا کبھی نہیں ہوا تھا۔

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ تفتیش کے لیے تھانے میں جانا ضروری ہے۔

    جج جواد عباسی نے ریمارکس دیے کہ عمران خان جہاں چاہتے ہیں تفتیش میں شامل ہوں، ہم کوئی آرڈر یا ڈائریکشن جاری نہیں کر رہے۔

  16. جج کو دھمکی: عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر سماعت آج ہو گی

    ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت آج ہو گی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس سماعت کریں گے۔

    عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں آج 12 ستمبر تک توسیع کی تھی۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان ڈاکٹر بابر اعوان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوں گے۔

    عدالت نے آج فریقین سے حتمی دلائل طلب کر رکھے ہیں جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو مقدمے کا چالان جمع کروانے سے روک رکھا ہے۔

    عمران خان کی پیشی سے قبل جوڈیشل کمپلیکس اور اطراف میں انتہائی سخت حفاظتی اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف کو پولیس نے خاردار تاریں لگا کر سیل کر دیا ہے جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت کا عملہ عدالت پہنچ گیا ہے۔

  17. اداروں کے ساتھ ایک پیج پر رہنا چاہتے ہیں، غیر منتخب ادارے عوام کے نمائندہ نہیں: فواد چوہدری

    تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف چاہتی ہے کہ اداروں کے ساتھ ایک پیج پر رہے لیکن غیر منتخب ادارے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ملک فوج یا عدالتی نظام کے بغیر نہیں چل سکتا، ہم ایک پیج پر رہنا چاہتے ہیں لیکن غیر منتخب ادارے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے اور اُنھیں سیاسی لیڈر شپ کے کردار کا احترام کرنا چاہیے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ڈرائنگ روم مِیں بیٹھ کر سیاسی جماعتوں کو اوپر نیچے کرنے کی سوچ بدلنی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے ایک پیج پر نہ ہوں تو ملک نہیں چل سکتا۔

    ’ہماری گزارش ہے کہ حتمی فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ عوام کو کرنے چاہییں۔ بند کمروں میں ہونے والوں فیصلوں کا کوئی معیار نہیں ہوتا۔‘

    الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں انتظامی بحران ہے جو چیف الیکشن کشمر اور ان کی ٹیم کی وجہ سے پیدا ہوا۔

    ’حلقہ بندیوں میں سنگین غلطیاں کی گئیں، الیکشن کا اعلان کیا گیا اور دو دن پہلے منسوخ کر دیے گئے۔ آٹھ مہینے ہو گئے، ہمارا سندھ کے الیکشن کمیشن کے ممبر کے خلاف کیس نہیں سنا جا رہا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پر فرد جرم لگنی تھی، اب تک نو مہینے ہو چکے ہیں، نہیں لگ سکی۔

    ’ہمارے عدالتی نظام کی سنجیدگی آپ کے سامنے ہے۔ جب بات کریں تو کہا جاتا ہے کہ توہین ہو گئی ہے۔‘

  18. ’ملک نیچے جاتا رہا تو قوم آپ کو قصوروار ٹھہرائے گی‘، عمران خان کا ’اسٹیبلشمنٹ‘ کو پیغام

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ملک اسی طرح نیچے جاتا رہا تو قوم اسٹیبلشمنٹ کو قصوروار ٹھہرائے گی ’جو خود کو نیوٹرل کہتے ہیں۔‘

    گوجرانوالہ میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’میرا سوال ہے کہ جن لوگوں نے سازش کر کے ان لوگوں کو ہم پر مسلط کیا، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو پاکستان کی فکر نہیں۔

    ’کیا آپ کو خوف نہیں آ رہا کہ ملک کدھر جا رہا ہے۔ جب تک ملک میں صاف و شفاف الیکشن نہیں ہوتے۔ سیاسی استحکام نہیں آتا تو معیشت ایسے ہی نیچے جاتی رہے گی۔ ساری قوم کو پیغام دینے آیا ہوں کہ گوجرانوالہ جلسے میں قوم کو کال دوں گا۔ قوم کو تیار کروں گا کہ ہم ان سے اپنے آپ کو ان سے حقیقی طور پر آزاد کرائیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے تمام ضلعی تنظیموں کو خط لکھا ہے کہ تیار ہو جاؤں اور جب میں کال دوں گا سب نے تیار ہونا ہے۔۔۔ میں اپنی تیاری کر رہا ہوں۔ لوگ تیار ہیں کہ اگر انتخابات نہیں کروائیں گے تو لوگ تیار ہیں کہ سڑکوں پر آ کر پُرامن احتجاج کر کے زبردستی الیکشن کروائیں گے۔ کیونکہ ہمیں نظر آ رہا ہے کہ یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔ ہم نے انھیں الیکشن میں لے کر آنا ہے۔ ساری پارٹی تیار ہو جاؤ۔‘

    چیئرمین تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا کہ ’آخر میں اسٹیبلشمنت سے سوال کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ مجھے پتا ہے آپ کہتے ہیں آپ نیوٹرل ہیں۔ لیکن قوم آپ کو ذمہ دار ٹھہرائے گی اگر یہ ملک اسی طرح نیچے جاتا رہا۔

    ’قوم آپ کو ذمہ دار ٹھہرائے گی کہ آپ ملک کو دلدل میں پھنسنے سے روک سکتے تھے۔ اور آپ نے کچھ نہیں کیا۔ معیشت نیچے گئی تو قوم آپ کو قصور وار ٹھہرائے گی۔ وہ ہماری قومی سلامتی پر اثر انداز ہوگی۔۔۔ ابھی بھی وقت ہے ملک کو نیچے جانے سے بچائیں۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف کہہ رہا ہے معیشت سکڑتی جا رہی ہے اور پاکستان سری لنکا کی طرف جا رہا ہے، سڑکوں پر انتشار ہونے جا رہا ہے۔

    ’یہ میں نہیں آئی ایم ایف کہہ رہا ہے۔ صنعتیں نیچے جا رہی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے پکڑنے آ رہے تھے، جیل میں ڈالنے آ رہے تھے۔ میں جیل کے لیے تیار تھا، بیگ پیک کیا ہوا تھا۔‘

    ’شہباز گل کو کہا گیا کہ عمران خان کے خلاف بیان دو۔‘

  19. لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اٹارنی جنرل کی عدالت کو وقت فراہم کرنے کی درخواست

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران لاپتہ شہری مدثر نارو کی والدہ نے وزیر داخلہ سے ملاقات کی۔

    خاتون نے عدالت کو بتایا کہ `ہم فروری 2019 میں دھرنے پر بیٹھے تھے، ہمارے ساتھ وعدے کیے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ `ہم آرمی کی عزت کرتے ہیں، چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بھی عزت ہی کریں۔‘

    اس موقع پر عدالت نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہو کر کہا کہ `اگر معاملہ حل نہیں ہوتا تو اس عدالت کے پاس کوئی آپشن نہیں رہے گی، جو اس کام میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔‘

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ `اس معاملے پر میں نے سب سے بات کی، میں نے اسد عمر سے بات کی انھوں نے لبیک کہا، میں نے مشاہد حسین سید سے بات کی میں نے ناصر کھوسہ سے بات کی ۔

    ان کا کہنا تھا کہ`مجھے کہا گیا اس معاملے میں سنجیدگی نہیں میں نے کہا میں سنجیدہ ہوں۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ آپ وقت دیں ہم کر کے دکھائیں گے۔‘

  20. لاپتہ افراد کمیٹی کے ہر اجلاس کی نگرانی کروں گا: وزیراعظم شہباز شریف

    لاپتہ افراد کیس میں وزیراعظم کی پیشی کے موقعے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے کہا کہ آپ اس مسلے کا حل بتائیں کہ یہ عدالت کیا کرے؟

    عدالت نے سوال کیا کہ بلوچ طلبا کی لسانی پروفائلنگ کیوں کی جا رہی ہے؟

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس عدالت میں لاپتہ افراد کا کوئی نیا کیس نہیں آنا چاہئے، جسٹس جو پرانے کیسز ہیں انہیں بھی آپ حل کریں۔

    تاہم چیف جسٹس نے وزیراعظم کو مخاطب کر کے کہا کہ`لیکن پرائم منسٹر صاحب، ابھی بھی کمپلینٹس آ رہی ہیں۔‘

    وزیراعظم نے لاپتہ شہری مدثر نارو کے بیٹے سچل سے ملاقات کا تذکرہ کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ `چھوٹے بچے نے کہا وزیر اعظم مجھے میرے ابو سے ملا دیں۔

    چھوٹے بچے کا سوال روزانہ مجھے تکلیف دیتا ہے، میں یقین دہانی کراتا ہوں لاپتہ افراد کو اہلخانہ سے ملاؤں گا۔

    ومیراعظم نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ میں لاپتہ افراد کیسز کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی عوام اور اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہوں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ `لاپتہ افراد کمیٹی چھ اجلاس کرچکی، لاپتہ افراد کمیٹی کے ہر اجلاس کی نگرانی کروں گا اور عدالت میں رپورٹ پیش کروں گا۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ کوئی کہانی نہیں ہوگی، بلکہ حقائق پر مبنی ہوگی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جس نے لوگوں کو لاپتہ کرنا شروع کیا وہ آمر تھا۔

    اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ `اگر حکومت کا اپنے ماتحت اداروں پر کنٹرول نہیں ہے تو پھر سب کو گھر چلے جانا چاہیے۔‘