رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ توہین عدالت کے مقدمے میں عمران خان کو معافی نہیں مانگنی چاہیے کیونکہ ’یہ بہت افسوس ناک ہوگا۔‘
مقامی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے شو ’آن دی فرنٹ‘ پر گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہم (اپنے دور میں) کہہ رہے تھے کہ اداروں کی مداخلت کم ہونی چاہیے۔ سیاستدانوں آپس میں بیٹھیں۔ عدالتی اصلاحات ہونی چاہیے۔۔۔ گذشتہ چار، پانچ ماہ میں بحث کا رُخ بدل گیا ہے۔ ہم شمالی کوریا اور برما بنتے جا رہے ہیں۔ سارے ٹی وی بند کر دیے، لوگوں پر چھاپے مارے گئے، لوگوں کو اٹھا اٹھا کر مار رہے ہیں۔۔۔ سیاسی کارکنان کے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا ہے۔‘
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو توہین عدالت کے مقدمے میں 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ عمران خان کو ایک ’خاتون جج کے خلاف تقریر‘ پر مقدمے کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کو اتنا بڑا ریورس گیئر لگا ہے۔‘
جب اینکر کامران شاہد نے کہا کہ عمران خان خود کہتے ہیں کہ ہم اتحادی حکومت میں اداروں سے کہہ کہہ کر ایم این ایز کو بلاتے تھے، تو فواد چوہدری نے جواب دیا کہ ’عمران خان سے یہ توقع نہ کریں کہ وہ جھوٹ بولیں گے۔ یہ کوئی راز تھوڑی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی لوگوں کو احمق سمجھتے ہیں جبکہ ’سب کو پتا ہے کون سا فیصلہ کہاں ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا۔۔۔ پر کہاں چیزیں چھپتی ہیں۔‘
’چاہے عدالتیں ہوں، چاہے اسٹیبلشمنٹ ہو، ان سب کو قانون کے نیچے نہیں لائیں گے تو رول آف لا نہیں آئے گا۔‘
سابق وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ شہباز گل کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا اور ان پر تشدد کی تحقیقات بھی آئی جی اسلام آباد نے کروائی۔ ’شہباز گل کو اٹھایا، رات کو ننگا کر کے مارا۔۔۔ جب اس نے قمیز اتار کر دکھائی تو مجسٹریٹ وہیں رک گیا اور کہا میں نہیں دوں گا جسمانی ریمانڈ۔‘
’فیصلوں سے (ججز کی) عزت ہوتی ہے، تقریروں سے نہیں۔‘ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا مقابلہ کریں گے اور توہین عدالت میں ’معافی مانگنی ہی نہیں چاہیے۔‘
’عمران خان کو معافی کیوں مانگنی چاہیے؟ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہوتا تو معافی مانگتا کہ میں نے تشدد کو نظر انداز کیا، مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ سنگین الزام ہے تشدد کا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس میں ’توہین عدالت والی کون سی بات ہے۔ یہ ان کا فیصلہ ہے۔‘
فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ جج کے فیصلے کی وجہ سے شہباز گل کو حساس اعضا پر کرنٹ لگایا گیا۔ ’اس میں پھر پارٹنر کون ہے؟ کس نے انھیں حوالہ کیا؟‘