اسلام
آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے
خلاف توہین عدالت کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
پیر
کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے
ساتھ درخواست پر سماعت کی۔
سماعت
میں درخواست گذار ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ
نواز شریف بیماری کی غرض سےلاہور ہائی کورٹ
کی اجازت سے بیرون ملک گئے تھے، نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے شہباز شریف
نے بیان حلفی جمع کرایا، نواز شریف مختلف عدالتوں سے اشتہاری ہیں۔
درخواست
گذار نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف
کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔
درخواست
میں کہا گیا کہ عدالت نواز شریف کی واپسی کے لیے احکامات جاری کرے۔
جس
پر چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا نام وفاقی
کابینہ نے ای سی ایل سے نکالا، کسی عدالت نے نہیں۔
ظفر
علی شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت نے نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے شورٹی جمع
کرانے کا کہا تھا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے اس عدالت سے رجوع ہی نہیں کیا
جہاں اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
جس
پر درخواست گزار نے کہا کہ حکومت نے ایک مرتبہ نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے رقم
جمع کرانے کی شرط رکھی تھی، لاہور ہائیکورٹ میں رٹ فائل ہوئی جس پر ایک آرڈر ہوتا
ہے،اُس عدالتی کارروائی میں نواز شریف اور شہباز شریف نے انڈر ٹیکنگ دی۔
چیف
جسٹس نے استفسار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر عبوری حکم تھا یا حتمی فیصلہ سنایا
گیا تھا؟
جس
پر ظفر علی شاہ نے عدالت سے کہا کہ ایک عبوری حکم جاری ہوا، اس کے بعد درخواست
تاحال زیر التوا ہے، کیا حکومت نے اس حکم کو چیلنج کیا؟
عبوری
حکم کو چیلنج نہ کر کے حکومت نے اس آرڈر کو تسلیم کیا،جس پٹیشن میں عبوری حکم آیا
وہ بھی تاحال لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
ظفر
علی شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ فریقین کے خلاف توہین عدالت کی
کارروائی کی جائے۔
چیف
جسٹس نے کہا کہ جس پٹیشن پر ابھی فیصلہ نہیں آیا اور عبوری حکم بھی چیلنج نہیں کیا
گیا اس پر ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں؟
کیا
یہ عدالت کسی اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت معاملے پر کارروائی کا اختیار رکھتی ہے؟
چیف
جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم اس درخواست کو مثالی جرمانے کے ساتھ خارج کرتے لیکن آپ سینئر
وکیل ہیں اس لیے اس طرف نہیں جارہے۔
عدالت
نے استفسار کیا کہ آپ پٹیشن واپس لینا چاہتے ہیں یا اس پر آرڈر پاس کریں ؟
اس
پر وکیل نے کہا کہ اگر آپ نے درخواست مسترد کرنی ہے تو میں واپس لیتا ہوں، میں
لاہور ہائیکورٹ جانے کے لیے درخواست واپس لے سکتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ
آپ کہیں بھی جانے کے لیے آزاد ہوں گے، ہم آبزرویشن نہیں دیں گے،ہم اس درخواست پر
مناسب حکمنامہ جاری کریں گے۔
عدالت
نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔