پاکستان میں
معیشت کے ماہرین اور تجزیہ کار آئی ایم ایف معاہدے سے معیشت کو لاحق مسائل کے حل
ہونے کے بارے میں ُپرامید ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ روپے کی گرتی ہوئی قدر اور
ڈالر کی قیمت میں ہونے والا پے پناہ اضافہ ہے۔
پاکستان میں
اس سال 11 اپریل سے لے کر جون کے تیسرے ہفتے تک روپے کے مقابلے میں ایک ڈالر کی قیمت میں
ساڑھے اٹھائیس روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔
صرف چالیس دن میں روپے کے مقابلے میں
امریکی ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اس اس بے پناہ اضافے نے ملک کے ذمے واجب الادا قرضوں میں 3600 ارب کا اضافہ کر دیا۔
ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اضافے نے مقامی
صارفین کے لیے تیل، گیس اور کھانے پینے کی اشیا کو مہنگا کر دیا کیونکہ پاکستان ان
چیزوں کی مقامی سطح پر ضرورت پورا کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
ڈالر کی
قیمت میں ہونے والے اضافے کی سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم
ایف) سے معاہدہ ہونے میں تاخیر کو قرار دیا جاتا ہے جس نے پاکستان کے لیے بیرونی
فنڈنگ کو روک رکھا ہے۔
معاشی امور کے صحافی اور پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کی رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی شہباز رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہونے سے سب سے بڑا فائدہ غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کی صورت میں نکلے گا جو پاکستان میں معاشی اشاریوں میں گراوٹ پیدا کر رہا ہے۔‘
شہباز رانا نے کہا کہ ’سب سے بڑا فائدہ تو روپے کو حاصل ہو گا اور اس کی گرتی ہوئی قدر کو اس سے سہارا ملے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کو اگلے مالی سال 41 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ چاہیے جس میں قرضوں کی ادائیگی، جاری کھاتوں کے خسارے وغیرہ کو پورا کرنا ہے۔
’آئی ایم ایف پروگرام سے دوسرے عالمی مالیاتی اداروں اور ملکوں سے فنڈنگ کا راستہ کھل جائے گا۔‘
ان کے مطابق اگر 41 ارب ڈالر کی مکمل نہیں تو بڑی حد تک فنانسنگ حاصل ہو سکتی ہے۔
ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ’آئی ایم ایف معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا ہے۔ اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہوتا تو پاکستان کے تیس جون 2022 تک ڈیفالٹ کر جاتا۔‘