پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ محترم سپریم کورٹ میں سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب صدر عارف علوی نے اعلیٰ عدلیہ کے پاس مراسلہ بھیجا تھا تو کیا سپریم کورٹ کو اس کی تفتیش نہیں کرنی چاہیے تھی۔
پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ سائفر (مراسلے) کے معاملے پر کوئی تفتیش نہیں کی گئی۔
’میں ادب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ سوموٹو لیتے ہیں، رات 12 بجے عدالتیں کھول لیتے ہیں، کیا یہ بڑا کام نہیں تھا جس کی تفتیش ہونی چاہیے تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میرا سوال ہے کہ کروڑ لوگوں کے لیے اس سے بڑی توہین کیا ہو سکتی ہے کہ ایک امریکی انڈر سیکرٹری لوگوں کے منتخب وزیر اعظم کو دھمکی دے رہا ہے کہ اگر اس کو نہیں ہٹواؤ گے میں نے پہلے کابینہ کے سامنے وہ مراسلہ رکھا جس کے میٹنگ منٹس موجود ہیں۔‘
’مراسلہ صرف عمران خان کی توہین نہیں تھی پوری قوم کی توہین تھی۔ میں اس مراسلے کو لے کر کابینہ گیا، قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمان کے سامنے رکھا۔ وہ مراسلہ چیف جسٹس کو بھجوایا گیا تاکہ انکوائری ہو۔ کمیشن بنایا مگر پھر ہماری حکومت چلی گئی۔ اس سے زیادہ میں کیا کر سکتا تھا؟‘
انھوں نے کہا کہ ’میں چاہتا تھا کہ آپ پتا لگاتے کہ ڈونلڈ لو نے کس کو پیغام دیا، کیونکہ سفارت کار تو میرے نیچے تھا، تو پیغام کس کو دیا گیا، اس کی تفتیش کروائیں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ اگر آپ اس کے اوپر انکوائری نہیں کروائیں گے تو آئندہ کوئی پاکستانی وزیر اعظم سٹینڈ نہیں لے گا، گھٹنوں کے بل امریکہ کے آگے بیٹھ جائے گا۔‘
انھوں نے چیف الیکشن کمشنر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’سکندر سلطان قوم آپ کو معاف نہیں کرے گی، آپ کس حیثیت میں ہفتے میں سے چار دن لاہور میں موجود رہتے ہیں۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے جس طرح صوبوں میں مقامی حکومتوں کا الیکشن کروایا اس میں ہر طرح کی دھاندلی ہوئی۔
’چیف الیکشن کمیشن کی ذمہ داری صاف اور شفاف الیکشن کروانا تھا مگر ہر جگہ انتظامیہ نے مداخلت کی۔‘
اپنے خطاب کے دوران سابق وزیر اعظم نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی قیادت پر بھی کڑی تنقید کی۔
اس موقعے پر انھوں نے کہا کہ مسٹر ایکس کو حکم ملا ہوا کہ کرپٹ جماعتوں کو الیکشن جتوانا ہے۔ ’مسٹر ایکس کون ہے یہ جلد پتا چل جائے گا۔‘