آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی متوقع

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کے اعلان کے بعد ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جائے گا!

    بی بی سی اردو کی اس لائیو کوریج کو اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جائے گا۔

    تازہ خبروں کے لیے آپ ہمارے نئے لائیو پیج پر آسکتے ہیں۔

  2. پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی متوقع

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کے اعلان کے بعد ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کی رات ٹوئٹر پر لکھا کہ انھوں نے ’وزارت پٹرولیم اور وزارت خزانہ کو حکم دیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی کم ہوتی قیمت کا فائدہ عوام کو دیا جائے۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’عوام نے معاشی مشکلات برداشت کی ہیں اور اب یہ ریلیف ان کا حق ہے۔‘

    ادھر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پیٹرولیم ڈویشن سے سمری موصول ہونے کے بعد وزیر اعظم کو بھجوائی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ نئی قیمتوں کا اعلان بھی بدھ کو ہی کیا جا سکتا ہے۔

    اس سے قبل سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے منگل کی شب جلسے سے خطاب اور اس کے بعد ٹوئٹر پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’عالمی منڈی میں بڑی گراوٹ کے بعد قیمتوں میں اس کمی کا پورا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے۔‘

  3. لوگوں کو اٹھانے اور جیل میں ڈالے جانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں: عمران خان

    پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ہم امریکہ کی غلامی کریں گے۔

    صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر میں انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انھوں نے 26 سال جدوجہد کی ہے۔

    انھوں نے ایک بار پھر امریکی سازش کا ذکر کیا اور الزام عائد کیا کہ لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ان کو جیلوں میں ڈال دیا جائے گا۔

    انھوں نے اپنے خطاب میں ایاز امیر، صحافی عمران ریاض اور ارشد شریف کا ذکر کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران ریاض کو گرفتار کیا گیا انھیں ذہنی طور پر ٹارچر کیا گیا، صرف اس وجہ سے کیونکہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم انھیں تسلیم کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر 15 ایف آئی آر کاٹی گئی ہیں لیکن آپ سن لیں جنھوں نے بھی امریکہ کے ساتھ سازش کی `میری جان بھی قربان ہو جائے لیکن میں چوروں کو کبھی بھی تسلیم نہیں کروں گا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ہم ہندوؤں اور انگریزوں کی غلامی سے نکل کر امریکہ کی غلامی کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ 32 سال سے شریف خاندان اور زرداری خاندان حکومت کر رہا ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے آتے ساتھ ہی اپنا چوری کا 1100 ارب روپیہ معاف کروایا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت میں نیب نے 480 ارب روپے بازیاب کیا تھا ابھی گیارہ سو ارب رہتا تھا لیکن اس حکومت نے آتے ساتھ ہی وہ معاف کروا لیا۔

  4. مسلم لیگ کا مقابلہ عمران خان سے نہیں نااہلی اور مہنگائی سے ہے: مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی مریم نواز نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مہنگائی کم ہو، کسان ترقی کریں، گھروں میں خوشحالی آئے تو شیر کو ووٹ دیں۔

    جھنگ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا مقابلہ عمران خان سے نہیں نااہلی اور مہنگائی اور پنجاب دشمنی سے ہے۔

    کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب تک عوام کی قسمت نہیں بدلیں گے آرام سے نہیں بیھٹیں گے۔

    خیال رہے کہ 17 جولائی کو پنجاب اسمبلی میں ضمنی انتخابات کے سلسلے میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے رہنما 20 نشستوں کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کو پیپلز پارٹی سمیت تمام اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

  5. سندھ بھر میں مون سون بارشوں کے باعث 26 اموات

    قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی محکمے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سندھ میں بارشوں کے باعث 26 اموات ہوئی ہیں۔

    اس کے دیے گئے اعداد و شمار کے تحت کراچی میں 14، ٹھٹھہ میں نو، خیرپور میں دو جبکہ سکھر میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    سندھ میں صوبائی حکومت کے حکام سڑکوں پر کھڑے پانی کی نکاسی میں مصروف ہیں جبکہ کئی شہروں میں بجلی کی فراہمی کی معطلی سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

  6. کراچی میں بارشوں سے کم از کم چھ افراد ہلاک، آج ملک میں مزید بارش کی پیشگوئی

    سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی کی پولیس کے مطابق عید کے دوسرے روز بارشوں اور سیلابی صورتحال سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس میں پانچ افراد کرنٹ لگنے سے اور ایک شخص دیوار گرنے سے ہلاک ہوا ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر کی کئی شاہراہوں پر بارش کا پانی کھڑا ہے اور بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

    ادھر محکمہ موسمیات نے منگل کے روز بالائی اور وسطی پنجاب، خیبر پختونخوا، مشرقی بلوچستان، کشمیر اور زیریں سندھ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

    جبکہ محکمے نے راولپنڈی، اسلام آباد، بالائی خیبر پختونخوا، بالائی پنجاب اور کشمیر میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ یہاں درجہ حرارت کم سے کم 25 ڈگری سیلسیئس اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سیلسیئس ہوسکتا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے بارشوں میں ہلاک شہریوں کے لواحقین کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    گذشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے سبب پیدا ہونے والی تباہ کن صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے شہری انتظامیہ کو تعاون کی پیشکش کی تھی۔ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے بات ہوئی اور کراچی میں موسلادھار بارشوں سے ہونے والے افسوسناک نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ مجھے یقین ہے حکومتِ سندھ اس موقع پر فوری حرکت میں آئے گی اور وزیراعلیٰ سندھ کی باصلاحیت قیادت میں زندگی کو معمول پر لے آئے گی، میں نے انھیں ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔‘

    دوسری طرف پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 13جون سے اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 64 ہوگئی ہے اور مجموعی طور پر 730 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

  7. کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ جاری، کراچی حیدرآباد موٹروے پر پانی کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ رات بھر تیز بارش سے شہر کے متعدد علاقے زیر آب آ چکے ہیں۔

    کراچی کے علاقوں آئی آئی چندریگر روڈ، کلفٹن، فیڈرل بی ایریا، پی ایچ اے، جیل روڈ، شیر شاہ سمیت مختلف علاقوں میں موسلادار بارش کئی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔

    کراچی میں جاری تیز بارش کے باعث کراچی حیدر آباد موٹروے پر پانی کا بڑا ریلا آ جانے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ رات گئے ہونے والی شدید بارش کے باعث چند گھنٹوں کے لیے ٹریفک کو معطل کرنا پڑا۔

    شاہراؤں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے کے بعد گاڑیاں، موٹر سائیکلز، آٹو رکشا وغیرہ پھنسے ہوئے ہیں۔ جبکہ نشیبی علاقوں سے رہائشیوں کی نقل مکانی جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں تیز اور موسلا دار بارش کا یہ سلسلہ آج شام تک جاری رہنے کی توقع ہے جبکہ آئندہ دو روز کے دوران کراچی میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابقاتوار اور پیر کی درمیانی شب سے شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ اگلے 24 گھنٹوں تک وقفے وقفے سے جاری رہنےکا امکان ہے۔

    چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہےکہ گذشتہ دنوں بارش کا سبب بننے والا ہوا کا کم دباؤ گوادر کے جنوب میں ہے، سسٹم کا پھیلاؤ کراچی اور زیریں سندھ پر اب بھی موجود ہے۔

    چیف میٹرولوجسٹ کے مطابق سسٹم کے تحت کبھی تیز اور کبھی معتدل بارش ہورہی ہے، پیر کو بھی دن بھر ہلکی اور معتدل بارش کا سلسہ جاری رہنے کاامکان ہے۔

    سردار سرفراز کا کہنا ہےکہ 14 جولائی کی شام سے بارش برسانے والا ایک اور سسٹم بھی آسکتا ہے،یہ سسٹم 18 جولائی تک اثر اندازرہےگا، پہلے سسٹم کی طرح دوسرا سسٹم بھی مضبوط ہوسکتا ہے،دوسرے سسٹم میں تیز اور موسلا دار بارش کا امکان ہے۔

    کراچی میں تھدو ندی میں سیلابی پانی کی آمد اور طغیانی کی وجہ سے گڈاپ سٹی کے دیہات کا رابطہ منقطع ہوگیا، طغیانی کی وجہ سے اطراف کی آبادیوں کو بھی خطرہ ہے۔

  8. ایاز صادق اور سلمان رفیق اپنی وزارتوں سے مستعفی

    سردار ایاز صادق اور سلمان رفیق نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما سرادرایاز صادق کے پاس وفاقی وزیر برائے امور کے عہدے سے استعفیٰ دے یا ہے۔ انھوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اس عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔

    دوسری جانب پنجاب کے صوبائی وزیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ دونوں وزرا نے الیکشن ضابطے کی پاسداری میں استعفیٰ دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہے ایاز صادق اور سلمان رفیق کے حلقے میں انتخاب ہورہا ہے دونوں راہنماﺅں نے وزارتوں سے استعفے دیے تاکہ الیکشن مہم میں حصہ لے سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما انتخابات کے بعد وہ اپنی وزارت کی ذمہ داریاں پھر سے سنبھال لیں گے۔

  9. حکومت صحافیوں اور مخالفین پر پکڑ دھکڑ کا خوف مسلط کر رہی ہے: عمران خان

    عمران خان کا کہنا تھا کے ضمنی انتخاب کے نتائج آئیں گے تو حمزہ شہباز واپس جائیں گے۔

    خوشاب میں جلسے سے خطاب میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا ہمارا ملک پہلے بھی ٹوٹا، اگر ملک کامیاب ہوتے ہیں تو کئی اصول ہوتے ہیں جن میں سب سے بڑا اصول انصاف ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ انسان خوف کی وجہ سے غلام بن جاتا ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت صحافیوں اور مخالفین پر پکڑ دھکڑ کا خوف مسلط کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا ’ہم کبھی انہیں تسلیم نہیں کریں گے۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت انتخابات میں دھاندلی کا ارادہ رکھتی ہے۔

    انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ ہر پولنگ سٹیشن پر پہرہ دیں۔

    انھوں نے کہا ’وزیر اعلی آئین کے مطابق نہیں ہیں۔ اس لیے جیت ہماری ہو گی۔‘

  10. زرمبادلہ ذخائر دس ارب ڈالر کی سطح سے نیچے گر گئے, تنویر ملک ، صحافی

    ملک میں درآمدات اور بیرونی قرضے کے لیے کی جانے والی ادائیگیوں کی وجہ سے اس ہفتے سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر دس ارب ڈالر کی سطح سے نیچے گر گئے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے چینی بینکوں کی جانب سے 2.3 ارب ڈالر کے قرضے کی وصولی کے بعد سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر دس ارب ڈالر کی سطح عبور کر گئے تھے تاہم درآمدات اور بیرونی قرضے کی ادائیگی کی وجہ سے اس ہفتے سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ ذخائر 9.8 ارب ڈالر کی سطح تک گر گئے۔

    ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر بھی 16 ارب ڈالر کی سطح سے گر کر 15.7 ارب ڈالر تک آ چکے ہیں۔

    تجارتی بینکوں کے پاس زرمبادلہ ذخائر میں چار کروڑ ڈالر کے اضافے سے ان کے پاس موجود ذخائر کی مالیت 5.9 ارب ڈالر ہوگئی۔

  11. خدشہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی شفاف الیکشن نہیں چاہتی، عمران خان

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ صاف اور شفاف انتخابات نہیں چاہتی۔

    ٹوئٹر پر بیان میں عمران خان نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے خدشہ ہے کہ پی ڈی ایم، جس نے دھاندلی کا فن سیکھ لیا ہے، کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ بھی صاف اور شفاف انتخابات نہیں چاہتی۔‘

    عمران خان نے جس رپورٹ کا حوالہ دیا اس میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ میشن کے ذریعے الیکشن میں دھاندلی میں کمی ہو سکتی ہے۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دو سیاسی جماعتوں اور کنٹرولڈ الیکشن کمیشن نے کیوں ای وی ایم کی مخالفت کی۔

  12. غداری کے فتوے بانٹنے سے کوئی ادارہ غدار نہیں ہو جاتا، الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ ’غداری کے فتوے بانٹنے سے کوئی ادارہ غدار نہیں ہو جاتا۔‘

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کے بیان پر ردعمل دیا گیا۔

    ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف چیئرمین نے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں جن کی مذمت کی جاتی ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’الیکشن کمیشن کسی اشتعال میں آئے بغیر اپنے تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کرتا رہے گا اور کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔‘

  13. ’جو لوگ پیچھے بیٹھ کر الیکشن کنٹرول کرنا چاہتے ہیں انھوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی مخالفت کی‘

    صوبائی دارالحکومت لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو لوگ پیچھے بیٹھ کر الیکشن کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں انھوں نے انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی مخالفت کی۔

    ’ہم نے ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کے لیے ای وی ایم مشینوں کے استعمال کے لیے پورا زور لگایا مگر الیکشن کمیشن نے پوری کوشش کی اس معاملے کو سبوتاژ کیا جائے اور سیاستدان ان کے ساتھ مل گئے۔ جو لوگ پیچھے بیٹھ کر الیکشن کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں انھوں نے یہ مشین نہیں آنی دی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ’ہم نے پیسے کی بت کی پوجا کرنے والوں کو شکست دینی ہے۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے ہوتے ہوئے اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں، ان غداروں اور میر جعفروں اور میر صادقوں کا مقابلہ کرنا ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سیاست نہیں جہاد کر رہی ہے، جہاں ہمارا مقابلہ سیاستدانوں کے علاوہ انتظامیہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے بھی ہے۔

    ’یہ ہمیں ایمپائرز کو ملا کر شکست دینے کی کوشش کریں گے کیونکہ نیوٹرل ایمپائر کے ساتھ ہمیں ہرانا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔‘

  14. علی وزیر نے اتنا بڑا جرم نہیں کیا جتنا عمران خان نے عوام کے ساتھ کیا ہے:عائشہ گلالئی

    سابق رکن اسمبلی عائشہ گلالئی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف بغاوت کے مقدمہ کی درخواست دے دی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہونے والی عائشہ گلالئی نے اسلام آباد تھانہ سیکرٹریٹ میں عمران خان کے خلاف بغاوت کے مقدمہ کے اندراج کی درخواست دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی حدود کے محافظوں کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان بیرونی ایجنڈے پر پاکستان فوج کے خلاف پروپیگنڈا کررہے ہیں جبکہ پاک فوج اس ملک کے خلاف ہونے سی سازشوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔

    عائشہ گلالئی نے کہا کہ ’میں اپنے سر پر کفن باندھ کر پاکستان کیلئے نکلی ہوں، میرا گھر پشاور ہے اور وہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔‘

    ’انھوں نے مجھ پر حملہ کیا یہ سیاسی جماعت نہیں بلکہ مافیا ہے، میرا سوال ہے کہ جب الطاف حسین پر پابندی لگ سکتی ہے تو پی ٹی آئی پر کیوں نہیں۔‘

    سابق رکن اسمبلی نے کہا کہ ’عمران خان لوگوں کو اکسا رہے ہیں کہ فوج کے ساتھ دست و گربیان ہوجائیں، خدانخواستہ فوج کمزور ہوگئی تو ملک کو ٹکڑوں ہونے سے کون بچائے گا۔ عمران خان کا کل اثاثہ جو اس کے بچے ہیں وہ باہر ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ حالات بہت سنجیدہ ہو رہے ہیں وہ معاملات کا نوٹس لیں، سپریم کورٹ سے کہتی ہوں علی وزیر نے اتنا بڑا جرم نہیں کیا جتنا عمران خان نے عوام کے ساتھ کیا ہے۔‘

  15. ہم بھی امریکہ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن غلامی نہیں چاہتے: عمران خان

    شیخوپورہ میں جلسے سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب کبھی نہیں جیت سکتے۔

    عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنے خارجہ تعلقات اور ترجیحات پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا ’ہم بھی چاہتے ہیں کہ امریکہ سے دوستی ہو، ہم بھی امریکہ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن ہم امریکہ کی غلامی نہیں چاہتے۔‘

    انھوں نے انڈیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’میں بھی ہندوستان سے دوستی چاہتا ہوں۔ ہندوستان نے جتنی مجھے عزت دی شاید ہی کسی پاکستانی کو دی ہو۔ لیکن میں کشیمیریوں کی قرباینوں پر ہندوستان سے دوستی نہیں کر سکتا۔ میں ہندوستان سے دوستی نہیں کر سکتا ایسے میں جب وہاں کشمیریوں پر ظلم ہو رہا ہو۔‘

  16. جلد ہی بجلی کی پیداوار بڑھے گی اور آٹے، گھی کی قیمتیں کم ہوں گی: مفتاح اسماعیل

    پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں گندم اور کھانے کے تیل اور گھی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اس لیے امید ہے کہ جلد ہی پاکستان میں آٹے اور تیل کی قیمتوں میں کمی ہوگی۔

    بجلی کی فراہمی میں کمی سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پی ٹی آئی کی حکومت کی نسبت زیادہ بجلی بنا رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کوئلہ بھی منگوا رہےہیں۔ افغانستان، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور دیگر جگہوں سے کوئلہ منگوا رہے ہیں۔ بجلی کی ڈیمانڈ زیادہ ہے اور بنانے کی اہلیت کم ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ایک پلانٹ اور بن جائے گا تو بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا صرف 100 یونٹ جو پروٹیکٹڈ ہیں ان پر سبسڈی دی جائے گی۔ تاکہ غریب طبقے کو سہولت ملے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سمجھ سے باہر ہے کہ حمزہ شہباز کے احسن اقدام کو عمران خان روکنا چاہ رہے ہیں۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ حکومت پر الزام لگایا گیا کہ لنگر خانے بند کیے یا کامیاب جوان پروگرام بند کیا گیا تو ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔

    انھوں نے بتایا کہ لنگر خانے بھی نجی فلاحی ادارے پہلے بھی چلاتے تھے اور وہ اب بھی چل رہے ہیں جبکہ کامیاب جوان پرگرام کے تحت قرضے دینے کا پروگرام اب بھی چل رہا ہے تاہم وہ اسے از سر نو تشکیل دے رہے ہیں۔

  17. ضمنی انتخابات پر مشاورت کے لیے پی ٹی آئی کا پارٹی اجلاس جاری

    پاکستان تحریک انصاف کی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کے پارٹی رہنماؤں کا اجلاس لاہور میں جاری ہے۔

    عمران خان کی لاہور کی رہائش گاہ زمان پارک میں جاری اجلاس میں حماد اظہر، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، فرخ حبیب، میاں محمود الرشید سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔

    اجلاس میں پنجاب کے ضمنی انتخابات پر مشاورت کی جا رہی ہے اور ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس حوالے سے موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔

    عمران خان اجلاس کے بعد بھی پارٹی رہنما اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔

  18. پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، چیئر مین نور عالم خان اور پی ٹی آئی سینیٹر شبلی فراز میں سخت جملوں کا تبادلہ

    قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں چیئر مین نور عالم خان اور پی ٹی آئی سینیٹر شبلی فراز میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

    سینیٹر حلال کی جانب سے گذشتہ دور حکومت میں کرپشن کا معاملہ کمیٹی میں اٹھایا گیا جس پی ٹی آئی کے سنیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر بحث سے پہلے ہمیں پڑھنے کے لیے دیا جائے۔

    جس پر چیئرمین پی اے سی کا کہنا تھا کہ رولز کے مطابق میں پبلک پٹیشن کو ڈسکشن میں شامل کر سکتا ہوں۔ اس پر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ سینیٹر حلال پبلک نہیں وہ ایک سینیٹر ہیں۔ اس پر نور عالم خان چیئرمین پی اے سی کا کہنا تھا کہ سینیٹر حلال عوام کے نمائندے ہیں اور وہ عوام کا مسئلہ کمیٹی میں اٹھا سکتے ہیں۔

    جس پر مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ سینیٹر حلال کو معاملہ کمیٹی میں بیان کرنے کا موقع دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ چیئر مین کمیٹی اپنے اختیار استعمال کر کے کسی کو بھی بولنے کا موقع دے سکتا ہے۔ جس کے بعد روحیل اصغر اورشبلی فراز کےدرمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    جس پر شبلی فراز نے سوال کیا کے چیئرمین کون ہے، اس کے جواب میں نور عالم خان کا کہنا تھا کہ ’میں چیئرمین ہؤں مجھ سےبات کریں۔‘

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے دوران اس وقت بھی بدمزگی کا ماحول بنا جب کمیٹی رکن احمد حسین نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی، اور افسوس یہ ہے کہ اگر اس کرپشن کو پکڑنے یا روکنے کی بات ہو تو اس میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔

    اس پر پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز نے احتجاج کیا تو چیئرمین پی اے سی نور عالم نے ان سے کہا کہ ’شبلی فرازآپ باربارماحول خراب کر رہے یہ سڑک نہیں۔‘

    جس کے جواب میں شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’میں نے رولز کا پوچھا ہے اس میں کیا غلط ہے۔‘ نور عالم خان نے ان سے کہا کہ آپ ماحول خراب نہ کریں مجھے پھر اپنا اختیار استعمال کرنا پڑےگا۔

    اس کے جواب میں شبلی فراز نے کہا کہ آپ اختیار استعمال کریں اور مجھے نکال دیں۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گذشتہ دور حکومت میں ایس جی ڈی فنڈز میں اربوں روپے کی کرپشن سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کمیٹی نے ایک ماہ میں رپورٹ مکمل کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ پی اے سی کا کہنا تھا کہ نیب ،ایف آئی اے اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان اس معاملے کی تحقیقات کریں گے۔اور جو جو ادارہ ملوث ہے اسے کٹہرے میں لایا جائے۔

  19. وفاقی حکومت پر قرضوں کا بوجھ 44638 ارب روپے تک پہنچ گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی وفاقی حکومت کے ذمے واجب الادہ قرضے مئی 2022 کے اختتام پر 44638 ارب روپے کی بلند سطح پر پہنچ گئے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال اپریل کے مہینے کے اختتام پر ان قرضوں کا حجم 43704 ارب روپے تھے جن میں ایک مہینے میں 934 ارب روپے کا اضافہ ہوا جو 2.1 فیصد سے زیادہ تھے۔

    واضح رہے کہ اپریل کے مہینے میں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی ملک پر قرض کے بوجھ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    گزشتہ سال مئی کے مہینے کے اختتام پر حکومت کے ذمے واجب الادہ قرضے 38000 ارب تھے جن میں ایک سال میں 17.5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    وفاقی حکومت پر واجب الادہ قرضے میں بیرونی ذرائع یعنی عالمی مالیاتی اداروں اور دوسرے ممالک سے حاصل ہونے والے قرضوں کے ساتھ اندرون ملک کمرشل بینکوں سے حاصل ہونا والا قرض بھی شامل ہے جو بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے لیا جاتا ہے۔

  20. پی ٹی آئی کے پانچ ارکان نے پنجاب اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر حلف اٹھا لیا

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے پانچ اراکین اسمبلی نے مخصوص نشستوں پر حلف اٹھا لیا ہے۔

    خواتین کی محضوص نشستوں پر بتول زین، سائرہ رضا اور فوزیہ عباس نے رکن اسمبلی کا حلف اٹھایا جبکہ اقلیتی نشستوں پر حبکوک رفیق اور سیموئیل یعقوب نے حلف اٹھایا۔

    ان ارکان سے سپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے حلف لیا

    پانچ مخصوص نشستوں پر حلف اٹھانے کے بعد پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں کی تعداد 173 ہوگئی ہے۔