’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. جلد بازی میں پنجاب اسمبلی کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دے سکتے: چیف جسٹس

    CJ

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court

    قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد مسترد کیے جانے کی رولنگ پر سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’کوشش کی ہے کہ روزمرہ کا کام متاثر نہ ہو ،کوشش کرتے ہیں کل 9:30 بجے سماعت شروع کریں۔ کیس نمٹانے کے لے کل صبح سے سماعت شروع کریں گے۔‘

    اس موقعے پر پنجاب اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور وزیر اعلی کے انتخاب کے حوالے سے درپیش حالات کا ذکر کرتے ہوئے سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا ’چودہ کروڑ کا صوبہ ہے اور تماشہ بنا ہوا ہے، اسمبلی میں کافی توڑ پھوڑ ہوئی تھی اس لیے اجلاس 16 اپریل تک ملتوی ہوا، آج صبح سے ڈپٹی سپیکر غائب ہیں ان سے رابطہ نہیں ہو رہا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’آج شام ہونے والا اجلاس کا نوٹیفکیشن جعلی ہے۔‘

    اس موقع پر چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ ’ہم کل آپ کی درخواست پر سماعت کریں گے، یہ صوبائی معاملہ ہے۔‘ دیکھیں گے کہ ہم نے درخواست سننی ہے یا ہائی کورٹ کو بھجوانی ہے۔‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا ’قومی اسمبلی کے ارکان کا کنڈکٹ بہت بہتر ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’سسٹم تعاون نہ کر رہا ہو تو آئینی عہدیدار اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر چاہیں تو اجلاس باغ جناح میں بھی بلا سکتے ہیں۔‘

    اس پر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا’حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے اس لیے الیکشن نہیں ہونے دیا جا رہا۔‘

    اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا ’کیا ڈپٹی سپیکر کے حکم میں مداخلت کر سکتے ہیں؟‘

    سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے وکیل کا کہنا تھا ’ڈپٹی سپیکر کا نوٹیفکیشن جعلی ہے۔‘

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ’لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟‘

    اس موقعے پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’جلد بازی میں پنجاب اسمبلی کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دے سکتے۔‘

    انھوں نے کہا ’پنجاب میں آئیڈیل حالات ہیں کہ عوام سے رجوع کیا جائے۔‘

  2. پاکستان مسلم لیگ ن کے وفد کو صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    PMLN

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    پاکستان مسلم لیگ ن کے وفد کو صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے جس کے بعد ن لیگی وفد نے اسمبلی گیٹ پر ہی دھرنا دے دیا ہے۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پولیس کی مزید نفری طلب کر لی ہے، اور پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر پولیس کی مزید بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

    دریں اثنا چوہدری پرویز الہی کے خلاف جمع تحریک عدم اعتماد کا متن سامنے آ گیا ہے۔ متن کے مطابق چوہدری پرویز الہی پر اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد نہیں رہا، قرارداد صوبہ پنجاب کے معاملات آئین پاکستان کے مطابق نہیں چلائے جا رہے ہیں۔

    punjab assembly
    Punjab police
  3. ’پارلیمان کی کارروائی میں مداخلت کی حد کی تشریح عدالت نے کرنی ہے‘

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد مسترد کیے جانے کی رولنگ پر سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت دوران صدر مملکت کے وکیل علی ظفر نے اپنے دلائل کے دوران کہا کہ سولہویں صدی میں ججز کو پارلیمانی کارروائی میں دخل اندازی پر گرفتار کیا گیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عدم اعتماد کی تحریک پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ نے نئی روایت قائم کی اور ایک نیا رستہ کھول دیا۔‘

    اس موقعے پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’ہم آج وکلا کے دلائل مکمل کرنا چاھتے ہیں ، اس لیے سماعت لمبی کرنا چاھتے ہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا ’ہم اٹارنی جنرل کو سننے کے منتظر ہیں اور ابھی نعیم بخاری کو بھی سنیں گے۔‘

    تاہم ڈپٹی سپیکر کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا ’مجھے آج روزہ ہے، مجھ اجازت ہو تو میں کل دلائل دینا چاھتا ہوں، زیادہ دلائل کے لیے وقت نہیں لوں گا۔‘

    صدر مملکت کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا ’پارلیمان کو اپنے مسائل خود حل کرنے دینا چاہیے‘ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ’جو مسائل پارلیمان خود حل نہ کرسکے تو کیا ہوگا؟‘

    وکیل علی ظفر کا جواب تھا ’عدالت کو مداخلت کے بجائے معاملہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’این آر او کیس میں وزیراعظم کو سوئس حکام کو خط لکھنے کا حکم دیا گیا، خط نہ لکھنے پر سپیکر کے پاس ریفرنس آیا جو انھوں نے خارج کردیا، عدالت نے یہ قرار دیا کہ سپیکر کا کام فیصلے پر عمل کرنا تھا۔‘

    علی ظفر کا دلاعلی ظفر کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا ’سپیکر کا جو کام پارلیمانی کارروائی نہیں صرف اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی رکن اسمبلی کی اہلیت کا جائزہ عدالت لے سکتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا ’پارلیمان کی کارروائی میں مداخلت کی حد کی تشریح عدالت نے کرنی ہے۔‘

    مقدمے کی سماعت سماعت کل جمعرات ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی گئی ہے۔

  4. اگر آئین شکنی کرنے میں 30 سیکنڈ لگتے ہیں، تو اس غلط اقدام کو ٹھیک کرنے میں بھی 30 سیکنڈ لگنے چاہییں: بلاول بھٹو

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ’اگر آئین شکنی کرنے میں 30 سیکنڈ لگتے ہیں، تو اسے کالعدم قرار دینے میں بھی 30 سیکنڈ لگنے چاہییں۔

    انھوں نے کہا کہ ’انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج پنجاب کے ڈپٹی سپیکر کو اسمبلی سے باہر رکھا گیا جب وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب ہونا تھا۔ عوام کے ایوان کے گرد خاردار تاریں لگائی گئیں۔‘

  5. ہماری کوشش ہے معاملہ کو جلد مکمل کیا جائے: چیف جسٹس, عدالت نے سماعت کل 9:30 تک کے لیے ملتوی کر دی

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بظاہر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی تھی اور جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہے معاملہ کو جلد مکمل کیا جائے‘۔

  6. چیف جسٹس: ’آرٹیکل 69 اپنی جگہ لیکن جو ہوا اس کی کہیں مثال نہیں ملتی‘

    صدر مملکت کے وکیل علی ظفر کے دلائل کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ’آرٹیکل 69 اپنی جگہ لیکن جو ہوا اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ اگر ایسا ہونے دیا گیا تو اس کے بہت منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ یہ کیس آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہے اور جہاں آئین کی خلاف ورزی ہو سپریم کورٹ مداخلت کر سکتی ہے۔

    بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا آئین شکنی کو بھی پارلیمانی تحفظ حاصل ہے۔

    جسٹس جمال خان نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک اور منحرف ارکان سے متعلق کارروائی کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے۔

    ’آپ کی دلیل کے مطابق پارلیمان کی اکثریت ایک طرف اور سپیکر کی رولنگ ایک دوسری طرف ہے۔‘

    جسٹس جمال خان نے مزید کہا کہ ’وزیراعظم اکثریت کھونے کے بعد بھی کیا وزیراعظم رہ سکتے ہیں۔ کیا صدر مملکت وزیر اعظم سے اسمبلی تحلیل کرنے کی وجوہات پوچھ سکتے ہیں۔‘

    جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ ’صدر وزیراعظم کی سفارش کے پابند ہیں اور اسمبلی تحلیل کی سفارش میں وجوہات بتانا ضروری نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو کہا کہ آپ کا نکتہ دلچسپ ہے کہ سپیکر کی رولنگ غلط ہو تو بھی اسے استحقاق ہے۔

    ’رولنگ کے بعد اسمبلی تحلیل کر کے انتخابات کا اعلان کیا گیا، عوام کے پاس جانے کا اعلان کیا گیا ہے، ن لیگ کے وکیل سے پوچھیں گے کہ عوام کے پاس جانے میں کیا مسئلہ ہے؟‘

    اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ ’الیکشن میں جانے سے کسی کے حقوق کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟‘

  7. مسلم لیگ نواز کا سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروانے کا فیصلہ

    حکومت کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز نے پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مسلم لیگ کے رہنما عطا اللہ تارڑ کے مطابق سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو آج ہی جمع کروایا جائے گا۔

  8. بیرسٹر علی ظفر: ’اگر سپریم کورٹ فیصلہ دے گی تو پارلیمان کا ہر عمل عدالت میں آ جائے گا‘

    صدر مملکت کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، اگر سپریم کورٹ فیصلہ دے گی تو پارلیمان کا ہر عمل عدالت میں آ جائے گا۔

    جس پر جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ پارلیمان اگر ایسا فیصلہ دے جس کے اثرات باہر ہوں تو پھر آپ کیا کہتے ہیں؟

    اس کے جواب میں علی ظفر نے کہا کہ ’عدالت پارلیمان کے فیصلے کا جائزہ نہیں لے سکتی لیکن عدالت پارلیمان کے باہر ہونے والے اثرات کا جائزہ لے سکتی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزاروں کے مطابق آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

    ’عدالت اختیارات کی آئینی تقسیم کا مکمل احترام کرتی ہے لیکن درخواست گزار کہتے ہیں کہ آئین کی خلاف ورزی پر پارلیمانی کارروائی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔‘

    جس پر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ ’چیئرمین سینیٹ کا الیکشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج ہوا تھا، ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ایوان کے آئینی انتخاب کو بھی استحقاق حاصل ہے، عدالت قرار دے کہ تحریک عدم اعتماد پارلیمانی کارروائی نہیں تو ہی جائزہ لے سکتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ووٹ کم ہوں اور سپیکر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا اعلان کرے تو کیا ہو گا؟‘

    جسٹس منیب اختر نے صدر مملکت کے وکیل سے پوچھا کہ کیا وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہوتا ہے؟

    جس پر علی ظفر نے انھیں بتایا کہ آرٹیکل 91 کے تحت وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہے۔

  9. حمزہ شہباز: پرویز الہی اقتدار کی لالچ میں اندھے ہو گئے ہیں

    مسلم لیگ نواز کے رہنما حمزہ شہباز نے مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الہیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا عمران نیازی نے آئین سے جو کھلواڑ کیا وہ کم تھا کہ پرویز بھی اسی نقشِ قدم پر چل پڑے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کو بغیر کیس قانونی وجہ کے سیل کردیا گیا۔

    انھوں نے پرویز الہی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقتدار کی لالچ میں اندھے ہو گئے ہیں اور تمام قانونی آئینی تقاضوں کو پیروں تلے روند ڈالا ہے۔

    انھوں نے سپریم کورٹ سے سوال کیا کہ ملک میں یہ ہیجانی کیفیت کب تک جاری رہے گی، ڈالر کی قیمیت اتنی بڑھ گئی ہے، ہر چیز کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔۔۔اور ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ہم سب کو تشویش ہے کہ اس صورتحال کی سنگینی ہر گھنٹے بڑھتی جا رہی ہے۔

  10. پرویز الہیٰ قیامت تک وزیِر اعلیٰ نہیں بن سکتے، عطا اللہ تارڑ

    مسلم لیگ کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے پنجاب اسمبلی کی صورتحال کے حوالے سے ق لیگ کے رہنما پرویز الہیٰ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہماری تعداد کل بھی 200 تھی جس میں ہمارے ساتھ جہانگیر ترین، علیم خان اور اسد کھرل وغیرہ شامل ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’پرویز الہیٰ کا دل ہے کہ جب تک میں وزیرِاعلیٰ نہیں بن جاتا تب تک اجلاس نہ ہو، ایسا تو قیامت تک نہیں ہو سکتا۔۔ آپ قیامت تک وزیرِ اعلیٰ نہیں بن سکتے۔‘

    انھوں نے پرویز الہیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب اگر رور کر، لیٹ کر چیخیں مار کر یہ کام کرنا ہے تو بہتر ہے کچھ اور کر لیں کیونکہ سیاست آپ کے بس کی بات نہیں۔

  11. پرویز الٰہی کو عمران خان کے جرائم کا حصہ دار نہیں بننا چاہیے: مریم نواز

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. سیاسی بحران: سٹاک مارکیٹ میں تقریباً دو سال کی کم ترین سطح پر حصص کا کاروبار, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں بدھ کو صرف ایک کروڑ 43 لاکھ حصص کا کاروبار ہوا جو 22 ماہ کی سب سے کم سطح رہی۔ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کار اس وقت محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور مارکیٹ میں مزید سرمایہ کاری کے لیے سیاسی بحران کے خاتمے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل سٹاک مارکیٹ میں 19 جون 2020 کو کم ترین سطح پر حصص کا کاروبار ہوا تھا جب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت کاروبار اور معمولات زندگی متاثر ہوئے تھے۔

    عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس کے مطابق رمضان کے ساتھ غیر یقینی سیاسی صورتحال نے مارکیٹ میں کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے آج حصص کا کاروبار تقریباً دو سال کی نچلی سطح پر پہنچ گیا۔

  13. بیرسٹرعلی ظفر: ’یہ مقدمہ پارلیمان کے استحقاق میں مداخلت ہے‘

    صدر مملکت کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ در حقیقت پارلیمان کے استحقاق میں مداخلت ہے۔

    انھوں نے کہا ’سپریم کورٹ پارلیمان کے بنائے قانون کو پرکھ سکتی ہے لیکن مداخلت نہیں کر سکتی۔ اگر پارلیمان میں 10 بندوں کو ووٹ نہ ڈالنے دیا جائے اور انھیں باہر نکال دیا جائے تو اسے بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ نیا سپیکر آئے اور دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے۔ کیا سپیکر پورے پارلیمنٹ کو بھی ختم کر سکتا ہے۔‘

    جس کے جواب میں علی ظفر نے کہا کہ ’سپیکر ایسا کر سکتے ہیں لیکن رولنگ واپس نہیں ہو سکتی۔

    چیف جسٹس صدر مملکت کے وکیل علی ظفر کے دلائل سن کر مسکراتے رہے۔

  14. ڈونلڈ لو: حکومتِ پاکستان کو ملنے والی ’دھمکی‘ کا اہم کردار کون ہے؟

  15. نئیر حسین بخاری:’عمران خان آئین توڑنے والے مجرمان کے سرغنہ اور سرپرست ہیں‘

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نئیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ عمران خان آئین توڑنے والے مجرمان کے سرغنہ اور سرپرست ہیں۔

    اپنے بیان میں نئیر حسین بخاری نے کہا کہ آئین توڑنے والے اور مددگاروں کی سزا آئین میں واضح ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی عمارت کی تالہ بندی اور خاردار تاریں لگانا شرمناک اقدام ہے۔

    ’پنجاب اسمبلی کے گیٹ اور دروازوں کو نو گو ایریا بنانا نازی ازم ذہنیت کا ثبوت ہے۔ جمہوریت کے لبادے میں آئین سے کھلواڑ کے خطرناک ترین رجحان کی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘

    نئیر حسین بخاری نے یہ بھی کہا کہ آئین کا راستہ روکنے والے اپنی قبریں خود کھود رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یو ٹرن ماسٹر کو عوام سیاسی میدان میں شکست فاش دیں گے۔‘

  16. عدالت کو سپیکر کی رولنگ کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں: بیرسٹر علی ظفر

    syedalizafar1

    ،تصویر کا ذریعہ@syedalizafar1

    علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو سپیکر کی رولنگ کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں ہے۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم کی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس کا جائزہ لے سکتے ہیں؟

    اس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس رولنگ کے نتیجہ میں ہے تو جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔

  17. قومی کے بعد پنجاب اسمبلی میں بھی آئین کو یرغمال بنایا گیا ہے، حسن مرتضیٰ

    پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی کا کہنا ہے کہ کسی مائی کے لال کو پنجاب اسمبلی یرغمال بنانے نہیں دیں گے۔

    حسن مرتضی کا کہنا ہے کہ ق لیگ ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے پیچھے چھپ رہی ہے اور اب قومی کے بعد پنجاب اسمبلی میں بھی آئین کو یرغمال بنایا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سونامی ٹولہ اور اس کے حواری اقتدار جاتا دیکھ کر بوکھلا گئے ہیں۔

    انھوں نے تنبیہ کی کہ اسمبلی سٹاف ایک سیاسی جماعت کی ذاتی ملازمت سے باز رہے اور ماورائے آئین اقدامات میں ملوث سرکاری ملازمین احتساب کے لیے تیار رہیں۔

    حسن مرتضی نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ہر جمہوریت دشمن اقدام کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ انھوں نے لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا کہ پنجاب اسمبلی پر غیر آئینی حملے کا ازخود نوٹس لیں۔

  18. بیرسٹر علی ظفر:’ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف عدالت سے رجوع پارلیمنٹ میں مداخلت ہے‘

    صدر مملکت کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر عدالت میں ایک کیس چل رہا ہو تو پارلیمنٹ اس پر تبصرہ نہیں کرتی، اسی طرح عدالت بھی پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرتی۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنا پارلیمنٹ میں مداخلت ہے اور عدالت کی طرف سے کوئی بھی ڈائریکشن دائرہ اختیار سے تجاوز ہو گا۔

    انھوں نے مزید کہا ’سپیکر کو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دینا ہو گا جو کہ غیرآئینی ہے۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’اگر آئین کی خلاف ورزی کی جائے تو کیا تب بھی عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔‘

    جس کے جواب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ’کیا غیر آئینی ہے اور کیا نہیں اس پر بعد میں دلائل دوں گا۔‘

    انھوں نے کہا ’جسٹس مقبول باقر نے اپنی ریٹائرمنٹ پر اداروں میں توازن کی بات کی تھی اور باہمی احترام سے ہی اداروں میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے۔‘

  19. پنجاب اسمبلی کے آج کے اجلاس میں پی ٹی آئی ممبران شرکت نہیں کریں گے: شہباز گل

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے آج کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے ممبران شرکت نہیں کریں گے بلکہ وہ 16 اپریل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    ٹویٹر پر اس بارے میں اطلاع دیتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ قانونی طور پر اجلاس کا نوٹیفکیشن 16 اپریل کا ہی ہوا ہے۔

    ’رات کی تاریکی میں ایک ٹی وی چینل پرسادہ پرچی نشر کرنے پر ہمارے اراکین اسمبلی نہیں جائیں گے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ’تاریخیں بھی خریدی جا رہی ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. عثمان بزدار: عمران خان کی ایمانداری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا

    پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار نے مسلم لیگ نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہے ’ن لیگ اور اس کے حواری ساڑھے تین سال میں مجھ پر یا میری کابینہ پر کرپشن کا ایک بھی سکینڈل سامنے نہیں لا سکے۔‘

    ’نہ کوئی ٹھیکہ، نہ کوئی کیلبری خط، نہ کوئی جعلی ٹرسٹ ڈیڈ، نہ کوئی مقصود چپڑاسی نہ میرے کوئی مے فئیر کے فلیٹ سامنے آئے۔‘

    ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے مسلم لیگ ن کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ اگر آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے تو ضرور سامنے لائیں۔

    عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ اپنےساڑھے تین سال میں پنجاب میں ایمانداری سےڈیلیور کیا۔

    انھوں نے مسلیم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہ بغیر کسی ثبوت کے آپ گھریلو خواتین خاتون اول ہوں یا فرح خان، ان پر الزامات لگاتے ہیں۔ مقصد صرف ایک کہ کسی طرح سےعمران خان پر تنقید کر سکیں- آپ ناکام ہوں گے کیونکہ عمران خان کی ایمانداری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام