بجٹ 2020-21 میں نیا کیا ہے: بی بی سی اردو کا خصوصی زوم لائیو

پاکستان کے مالی سال 2020-2021 کے بجٹ میں کیا نیا ہے؟ یقیناً آپ کے ذہن میں ایسے بہت سے سوال ہوں گے۔ اس ہی لئے بی بی سی اردو پیش کر رہا ہے یہ خصوصی زوم لائیو، جس میں ہمارے ساتھی ماہرین کی آرا کی روشنی میں آپ کے سوالوں کے جواب دیں گے۔

لائیو کوریج

عابد حسین, بلال کریم مغل and حسن بلال زیدی

  1. مجموعی قومی پیداوار‘ منفی ہونے سے عام پاکستانی کو کیا فرق پڑے گا؟

    isb

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    جمعرات کو اسلام آباد میں اقتصادی مالی سروے 2019-20 پیش کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ کورونا کی وبا سے قبل معاشی ترقی کی شرح تین فیصد سے بڑھنے کی امید تھی تاہم مالی سال 20-2019 میں جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 2.67 فیصد رہی جبکہ صنعتی شعبہ متاثر ہوا اور اس میں ترقی کی شرح منفی 2.64 رہی ہے جبکہ خدمات کے شعبے میں یہ شرح منفی 3.4 فیصد ہے۔

    70 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب ملک کی مجموعی قومی پیداوار منفی رہے گی۔ آخری بار قیامِ پاکستان کے چند سالوں بعد مالی سال 1951-52 میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح منفی ایک فیصد رہی تھی۔

    اس بارے میں تفصیل جاننے کے لیے تنویر ملک کا یہ مضمون پڑھیے۔

  2. مالی سال 20-2019 میں جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی، تین ہزار ارب کا نقصان پہنچا

    hafeez

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ہر سال کی طرح روایت ہے کہ مالی بجٹ پیش کرنے سے قبل اقتصادی سروے پیش کیا جاتا ہے جس کے مطابق پاکستان میں پہلی بار مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو منفی میں رہی۔

    وزیر اعظم عمران خان کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کورونا کی وبا سے قبل معاشی ترقی کی شرح تین فیصد سے بڑھنے کی امید تھی تاہم مالی سال 20-2019 میں جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 2.67 فیصد رہی جبکہ صنعتی شعبہ متاثر ہوا اور اس میں ترقی کی شرح منفی 2.64 رہی ہے جبکہ خدمات کے شعبے میں یہ شرح منفی 3.4 فیصد ہے۔

    اسلام آباد میں اقتصادی مالی سروے 20-2019 پیش کرتے ہوئےمشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو معاشی بحران ورثے میں ملا۔

    مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی پریس کانفرنس اور اقتصادی سروے کے بارے میں ہماری رپورٹ پڑھنے کے لیے ادھر کلک کریں۔

  3. پاکستان کے آئندہ سال کے وفاقی بجٹ میں کیا تھا؟

    NA

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy National Assembly

    پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جو کہ 34 کھرب 37 ارب خسارے کا ہے۔

    اس بجٹ میں پینشن کی مد میں 470 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جو گذشتہ برس پیش کیے جانے والے ترمیمی بجٹ میں رکھی گئی رقم میں ایک اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہے۔

    گذشتہ سال کے مقابلے رواں مالی سال دفاعی بجٹ میں 11 اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جو کہ اب دس کھرب 12 ارب روپے ہوگا۔

    ملک میں ترقیاتی مقاصد کے لیے مختص پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    اس بجٹ کا کل تخمینہ 65 کھرب 73 ارب روپے ہے جس میں سے ایف بی آر ریوینیو 49 کھرب 63 ارب روپے ہے جبکہ غیر ٹیکس شدہ ریوینیو 16 کھرب 10 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ گذشتہ سال بجٹ میں احساس پروگرام کے لیے 187 ارب روپے رکھے گئے تھے جسے بڑھا کر 208 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس میں سماجی تحفظ کے دیگر پروگرام جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاکستان بیت المال اور دیگر محکمے شامل ہیں۔

    کورونا اور دیگر آفات کی وجہ سے انسانی زندگی پر ہونے والے منفی اثرات کو زائل کرنے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے جس کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    اس سال ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 49 کھرب 63 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    بجٹ کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہماری رپورٹ پڑھیے۔

  4. بی بی سی اردو کا مالی سال 2021-2020 کے وفاقی بجٹ پر خصوصی زوم لائیو

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    ہر سال جون کے مہینے میں لوگوں کو بجٹ کا انتظار رہتا ہے۔ کاروباری طبقے اور صنعتکاروں سے لے کر عام لوگوں تک کو یہ جاننے میں دلچسپی رہتی ہے کہ اس بجٹ میں اُن کے لیے کیا ہے۔

    رواں سال کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کی طرح پاکستان کی معیشت بھی دباؤ کی شکار ہے اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں لوگوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

    بلاشبہ یہ ایک مشکل وقت ہے اور اسی لیے موجودہ بجٹ کے بارے میں آپ لوگوں کی جانب سے ہم سے کئی سوالات پوچھے گئے، مثلاً کس چیز پر ٹیکس رہے گا اور کس پر نہیں، یا تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کیا رد و بدل کیا گیا ہے۔

    ان سب سوالات کے جواب دینے کے لیے ہمارے ساتھ آج موجود ہیں آصف فاروقی، شجاع ملک اور سارہ عتیق، جو بجٹ کے بارے میں آپ کے سوالات پر گفتگو کریں گے اور آسان الفاظ میں یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ آخر اس بجٹ میں عوام کے لیے کیا ہے۔