آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کراچی طیارہ حادثہ: کب کیا ہوا؟

پی آئی اے کا لاہور سے کراچی جانے والا مسافر طیارہ لینڈنگ سے قبل حادثے کا شکار ہوا ہے۔ طیارے پر سوار 99 افراد میں سے 97 کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ دو مسافر حادثے میں زندہ بچ گئے ہیں۔ پی آئی اے کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ طیارہ تکینیکی لحاظ سے محفوظ تھا اور حادثے کی وجوہات کا تعین بلیک باکس اور وائس ریکارڈر کے تجزیے کے بعد ہو گا۔

لائیو کوریج

  1. ڈاکٹر سیمی جمالی: ’اب تک آٹھ لاشیں جناح ہسپتال لائی گئی ہیں‘

    کراچی کے جناح ہسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب تک ان کے ہسپتال میں آٹھ لاشیں لائی جا چکی ہیں جن میں دو خواتین اور چھ مرد ہیں۔

    اس کے علاوہ انھوں نے بتایا کہ اب تک چھ زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے جن میں دو خواتین اور چار مرد ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ زخمیوں میں زیادہ تعداد جل کر متاثر ہونے والوں کی ہے جنھیں ابتدائی طبی امداد اسی ہسپتال میں دی جائے گی جس کے بعد انھیں کہیں اور منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کچھ افراد کو ان کے ہسپتال لانے کے بجائے دوسرے ہسپتالوں تک لے جایا جائے۔

  2. کراچی طیارہ حادثہ: جائے وقوعہ کے مناظر

  3. چیئرمین پی آئی اے کراچی روانہ، تمام آپریشنل ملازمین ڈیوٹی پر طلب

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے ترجمان مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک فوری طور پر فضائیہ کے طیارے سے کراچی روانہ ہو گئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق پی آئی اے کے آپریشنل ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے اور پی آئی اے کا ایمرجنسی کال سینٹر فعال کر دیا گیا ہے۔

  4. وزیرِ اعظم عمران خان کا حادثے کی تحقیقات کا حکم

    وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں پی آئی اے مسافر طیارے کے حادثے کے نتیجے میں قیمتی جانی نقصان پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ریلیف، ریسکیو اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کی ہدایت کر دی ہے۔

    وزیرِ اعظم عمران خان نے طیارہ حادثے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

  5. طیارے کی مبینہ ’مے ڈے کال کی آڈیو‘ میں کیا سنا جا سکتا ہے؟

    مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ایک آڈیو کلپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان گفتگو کی ہے۔

    اس کال میں پائلٹ کو مے ڈے کال دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

    کلپ کے شروع میں بظاہر پائلٹ کی آواز آتی ہے کہ ان کے جہاز کے تمام انجن ناکارہ ہو چکے ہیں۔

    اس کے بعد ٹاور ان سے معلوم کرتا ہے کہ آیا وہ بیلی لینڈنگ کرنے والے ہیں، اور پھر انھیں بتاتا ہے کہ ان کے لیے دونوں رن وے دستیاب ہیں۔

    اس کے کچھ لمحوں بعد جہاز کا پائلٹ ’مے ڈے‘ کال دیتا ہے، جس کے بعد خاموشی ہو جاتی ہے۔

    خیال رہے کہ تاحال حکام نے اس کال کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے

  6. وفاقی وزیرِ داخلہ کا کراچی میں طیارہ حادثے پر اظہارِ افسوس

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے لاہور سے کراچی جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 کو حادثے پر اظہار افسوس کیا ہے۔

    اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ وہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ انھوں نے کہا کہ رہائشی علاقے میں بھی نقصان کی اطلاع پریشان کن ہے-

    اعجاز شاہ نے امید ظاہر کی کہ امدادی کارروائی بروقت ہوگی-

  7. پاکستان فوج کی جانب سے کوئک ری ایکشن فورس اور رینجرز کو جائے مقام پر پہنچنے کی ہدایات

    پاکستانی فوجی کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے بتایا گیا کہ کراچی میں پی آئی اے کے جہاز گر جانے کے بعد آرمی کے کوئک ری ایکشن فورس اور سندھ رینجرز کے اہلکاروں کو موقع پر پہنچنے کا حکم دیا ہے۔

    اس کے علاوہ پاکستانی آرمی کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹروں کو بھی امدادی کارروائیوں کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور وہ موقع پر موجود عملے کی مدد کر رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ طیارہ گرنے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے پاک بحریہ نے چار فائر ٹینڈرزجائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دیے ہیں۔

  8. کراچی کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پی آئی اے طیارے کے حادثے کے بعد کراچی کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

    ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعلی نے ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں میں فوری طور پر خون کا بندوبست کیا جائے اور سینئر ڈاکٹرز کو فوراً ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر کراچی اور ڈی آئی جی کو حادثے کی جائے وقوعہ پر پہنچنے کا حکم دیا اور متاثرہ افراد کی فوری مدد کرنے کی ہدایت کی۔

    سید مراد علی شاہ نے ڈی سی ملیر اور کورنگی کو بھی رہائشی علاقوں میں لوگوں کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے اور ایمبولنس سروس کو ایئرپورٹ اور اسپتال کے درمیان متحرک رہنے کا کہا ہے۔

  9. حادثے کی جگہ پر کئی لوگ زخمی حالت میں موجود

    کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جس جگہ پر یہ جہاز گرا ہے وہاں کافی تعداد میں لوگ زخمی ہیں جنھیں ایمبولینس میں لے کر جایا جا رہا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ وہاں جو لاشیں موجود ہیں ان کی تعداد کافی خستہ ہے، تاہم اب تک ہلاک شدگان کی تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

  10. وزیر اعلی سندھ کا حکام کو جائے مقام پر پہنچنے کا فوری حکم

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے طیارے کے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کمشنر کراچی اور پولیس حکام کو جائے مقام پر فوری پہنچنے کا حکم دیا ہے۔

    طیارے میں کل 99 افراد سوار تھے۔

  11. ’طیارے کا لینڈنگ گیئر نہیں کھل سکا‘

    پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بظاہر طیارے کا لینڈنگ گیئر نہیں کھل سکا اور وہ اوپر اٹھتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا لیکن حادثے کی حتمی وجہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔

  12. طیارہ ماڈل کالونی کے قریب جناح گارڈن نامی آبادی پر گرا

    پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق طیارہ ماڈل کالونی کے قریب جناح گارڈن نامی آبادی پر گرا اور اس حادثے میں متعدد مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    طیارہ گرنے کے بعد اس میں اور اس کی زد میں آنے والی گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔

    ٹی وی پر دکھائی دینے والی فوٹیج میں بھی جائے حادثہ سے دھوئیں کے کالے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جائے حادثہ سے دور رہیں تاکہ امدادی کارروائیوں میں خلل پیدا نہ ہو۔

  13. بریکنگ, 91 مسافر اور عملے کے 8 ارکان طیارے پر سوار تھے

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہوائی اڈے کے قریب ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے اور اس حادثے میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

    سول ایوی ایشن کے ترجمان کے مطابق یہ ایئر بس اے 320 طیارہ ملک کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کا تھا اور لاہور سے کراچی آ رہا تھا کہ لینڈنگ سے قبل حادثے کا شکار ہو گیا۔

    ترجمان نے بتایا ہے کہ پی آئی اے کی یہ پرواز پی کے 8303 دوپہر ایک بجے لاہور سے روانہ ہوئی تھی۔

    حکام کے مطابق طیارے پر 99 افراد سوار تھے جن میں عملے کے آٹھ ارکان اور 91 مسافر شامل ہیں۔

    مسافروں میں 51 مرد، 31 خواتین اور نو بچے شامل ہیں۔

    پاکستان میں کوورنا کی وبا پھیلنے کے بعد اندرونِ ملک پروازوں کا سلسلہ دو ماہ تک معطل رہنے کے بعد حال ہی میں شروع ہوا ہے۔

  14. پی آئی اے طیارہ حادثہ: بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا آغاز

    کراچی میں پاکستان کی قومی ایئر لائن کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی حوالے سے بی بی سی اردو کی لائیو کوریج شروع ہوگئی ہے۔

    اس صفحے پر آپ کو جمعہ کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے جڑی تمام خبریں اور لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس مل سکیں گی۔