آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کراچی طیارہ حادثہ: کب کیا ہوا؟

پی آئی اے کا لاہور سے کراچی جانے والا مسافر طیارہ لینڈنگ سے قبل حادثے کا شکار ہوا ہے۔ طیارے پر سوار 99 افراد میں سے 97 کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ دو مسافر حادثے میں زندہ بچ گئے ہیں۔ پی آئی اے کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ طیارہ تکینیکی لحاظ سے محفوظ تھا اور حادثے کی وجوہات کا تعین بلیک باکس اور وائس ریکارڈر کے تجزیے کے بعد ہو گا۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, کراچی طیارہ حادثہ: چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی

    وفاقی حکومت نے کراچی میں پی آئی اے کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی’ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹیگیشن بورڈ‘ کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کریں گے۔

    اس کے دیگر ارکان میں ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، گروپ کیپٹن توقیر اور ناصر مجید شامل ہیں۔

    تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تحقیقات مکمل کر کے ’جلد از جلد‘ اپنی رپورٹ جمع کروائے، تاہم کمیٹی کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ایک ماہ کے اندر اندر پیش کی جائے۔

  2. بریکنگ, طیارہ تیکنیکی لحاظ سے محفوظ تھا، حادثے کی انکوائری وزارتِ ہوا بازی کرے گی: ارشد ملک

    سی ای او پی آئی اے ارشد ملک نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعے کی دوپہر پیش آنے والے حادثے کی شفاف انکوائری ہو گی جس میں پی آئی اے یا سی اے اے کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ جہاز تیکنیکی لحاظ سے مکمل طور پر محفوظ تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ طیارہ محو پرواز تھا اور فائنل لینڈنگ کے لیے پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو اپروچ کیا اور آگاہ کیا کہ طیارہ لینڈنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    ’جہاز سے بتایا جاتا ہے کہ طیارہ لینڈنگ کے لیے تیار ہے۔ کنٹرول ٹاور سے اسے کلیئر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ لینڈ کر جائیں۔ مگر ایئر پورٹ پر آ کر طیارہ ’گو اراؤنڈ‘ کرتا ہے اور دوسری اپروچ کا فیصلہ کرتا ہے۔ طیارے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ دوسری مرتبہ اپروچ کرے گا۔‘

    ’اس دوران ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے۔ طیارے کے ساتھ کیا ہوا یہ تفصیلات آواز ریکارڈ کرنے والے آلے کی جانچ پڑتال پر ہی پتا چلے گا۔ آیا طیارے کو کوئی تیکنیکی مسئلہ ہوا یا کوئی پرندہ جہاز سے ٹکرایا یہ تب ہی پتا چل سکے گا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ جب جہاز نچلی پرواز کرتا ہے تو پائلٹ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو انھوں نے کہا جی میرے ساتھ مسئلہ ہے۔ اس کے بعد رابطہ ختم ہو جاتا ہے اور پھر طیارہ حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا وہ لواحقین جو کراچی آنا چاہتے ہیں ان کی رہائش کا انتظام کراچی ایئرپورٹ کے ہوٹل کر کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس رہائشی علاقے میں جہاز گرا وہاں سے ابھی تک کسی رہائشی کی میت نہیں آئی ہے۔

    ارشد ملک کے مطابق جائے حادثہ پر امدادی کام مکمل ہونے میں دو سے تین دن درکار ہوں گے۔

  3. حادثے کا شکار طیارہ سنہ 2014 میں پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں شامل ہوا تھا

    کراچی میں آج حادثے کا شکار ہونے والی ایئر بس اے 320 جہاز کو سنہ 2014 میں پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سول ایوی ایشن کے ’ایئر وردینیس ڈیپارٹمنٹ‘ نے اس دورانیے میں جہاز کی چھ مرتبہ انسپیکشن (جانچ پڑتال) کی۔

    جہاز کی آخری انسپیکشن گذشتہ برس چھ نومبر کو ہوئی تھی۔ چھ نومبر کو ہونے والی انسپیکشن رواں برس پانچ نومبر تک مؤثر تھی۔

    پی ائی اے ک چیف انجینیئر کراچی ایئرپورٹ نے اس طیارے کو رواں برس 28 اپریل کو مینٹیننس اینڈ ریویو سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا۔ یہ سرٹیفیکیٹ رواں سال 25 نومبر تک موثر تھا۔

  4. کراچی فضائی حادثے پر نواز شریف کا تعزیتی پیغام

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے والد کی جانب سے کراچی فضائی حادثے پر تعزیتی پیغام جاری کیا ہے۔

    مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے نواز شریف کا یہ پیغام شیئر کیا ہے۔ ’میرا دل آج کے سانحے پر بہت غمگین ہے۔جمعتہ الوداع کے دن اس حادثے میں شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہوں۔اپنوں کو کھو دینے والوں کا دکھ بہت بڑا ہے، اللہ تعالی ان کو اس مشکل گھڑی میں صبر عطا کرے, میں ان کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔‘

    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’جن کو اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے بچا لیا ہے ان کو اللہ تعالی جلد صحت یاب فرمائے۔ اس موقعے پر پی آئی اے کے عملے کے افراد جو اس جہاز میں موجود تھے ان کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جو آخری دم تک اپنا فرض ادا کرتے رہے۔‘

  5. حقائق جاننے کے لیے انکوائری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں: غلام سرور خان

    پاکستان میں شعبہ ہوا بازی کے نگران ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کراچی حادثے پر اپنا پہلا ردعمل دیتے ہوئے اس واقعے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    ایوی ایشن کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے بھی اس واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے ساتھ اظہار تعزیت کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس واقعے کی انکوائری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ ان عوامل کا پتا چلایا جا سکے جن کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔

  6. بریکنگ, کراچی طیارہ حادثہ: 54 افراد کی ہلاکت کی تصدیق

    کراچی میں جمعہ کی دوپہر پیش آنے والے فضائی حادثے میں حکام کی جانب سے 54 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    جناح ہسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق جناح ہسپتال میں اب تک 35 لاشیں لائی گئی ہیں جبکہ سول ہسپتال کے حکام کے مطابق وہاں 19 لاشیں موجود ہیں۔

    اس حادثے میں کم از کم تین مسافر زندہ بھی بچ گئے ہیں جن کا علاج مختلف ہسپتالوں میں جاری ہے۔

    حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں عملے کے اراکین سمیت 99 افراد سوار تھے۔

  7. طیارے پر سوار ایک اور مسافر خاتون حادثے میں بچ گئیں: محکمہ صحت سندھ

    ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے پر سوار ایک اور مسافر خاتون اس حادثے میں محفوظ رہی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق طاہرہ محمود نامی خاتون اس وقت سی ایم ایچ ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    یاد رہے کہ طاہرہ محمود طیارے پر سوار ایسی تیسری مسافر ہیں جن کے بچ جانے کی تصدیق اب تک حکام کر چکے ہیں۔

  8. کور کمانڈر کراچی کا جائے حادثہ کا دورہ

    کور کمانڈر کراچی لیفٹینینٹ جنرل ہمایوں عزیز نے کراچی میں جائے حادثہ کا دورہ کر کے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے۔

    ایک اعلامیے کے مطابق آرمی چیف کی ہدایت پر فوج اور رینجرز کے دستے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

  9. سندھ حکومت کی جانب سے اہلخانہ کے لیے قائم کردہ ہاٹ لائن نمبر

    کراچی میں طیارہ حادثے اور مسافروں کی تفصیلات جاننے کے لیے اہلخانہ مندرجہ ذیل نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    021-99242284، 02199043766، 02199043833

  10. انڈین پنجاب کے وزیر اعلی کراچی طیارہ حادثے پر غمگین

    انڈین پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن ریٹائرڈ امریندر سنگھ نے کراچی میں پیش آئے حادثے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    انھوں نے دعا کی ہے کہ خدا غمزدہ اہلخانہ کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی ہمت دے۔

  11. طیارہ حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 37 ہو گئی

    کراچی سے نمائندہ بی بی سی ریاض سہیل کے مطابق کراچی حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 37 ہو گئی ہے۔

    سندھ کے محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق جناح ہسپتال میں اب تک 19 جبکہ سول ہسپتال میں 18 لاشیں پہنچائی گئی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے اب تک صرف تین افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔ ناقابل شناخت میتوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔

  12. کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا طیارہ حادثے پر اظہار تعزیت

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پاکستان کے شہر کراچی میں پیش آنے والے فضائی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ’آج پاکستان سے آنے والی خبر تباہ کن ہے۔ میری ہمدردیاں ان تمام افراد کے اہلخانہ اور دوست احباب کے ساتھ ہیں جنھوں نے اس حادثے میں اپنے پیاروں کو کھو دیا۔‘

  13. افطار کے بعد امدادی آپریشن دوبارہ شروع

    کراچی میں جائے حادثہ پر افطار اور نماز کے وقفے کے بعد امدادی آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

    نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق حادثے کے بعد کے الیکٹرک نے بجلی منقطع کر دی تھی اور اب جائے حادثہ پر روشنی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

  14. ’لوگوں نے شور مچایا کہ جہاز آ رہا ہے، اس میں سے دھواں نکل رہا ہے‘

  15. کراچی طیارہ حادثہ: کمشنر لاہور ڈویژن فوکل پرسن تعینات

    وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے کراچی طیارہ حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے مسافروں کے اہلخانہ کی رہنمائی کے لیے کمشنر لاہور ڈویژن کو فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق عثمان بزدار نے اس واقعے پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت دکھ کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    وزیراعلیٰ نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے-

    کمشنر لاہور ڈویژن ایئر پورٹ انتظامیہ اور سول ایوی ایشن حکام سے قریبی رابطہ رکھیں گے- کمشنر لاہورڈویژن مسافروں کے اہلخانہ کوحادثے کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کریں گے اور اس ضمن میں متعلقہ خاندانوں کی رہنمائی کی جائے گی -

  16. طیارے پر سوار دو مسافروں کے زندہ بچ جانے کی تصدیق کر سکتا ہوں: ترجمان سندھ حکومت

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ وہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں موجود دو مسافروں کے زندہ ہونے کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ دونوں مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے ہیں اور زخمی ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    انھوں نے دونوں افراد کی شناخت محمد زبیر اور ظفر مسعود کے نام سے کی ہے۔

  17. آگ، تباہی اور لاشیں: طیارے کے حادثے کے بعد کے مناظر

  18. آرمی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم راولپنڈی سے کراچی روانہ: آئی ایس پی آر

    افواجِ پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق امدادی کوششوں کو تیز کرنے کی غرض سے آرمی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم خصوصی آلات اور امدادی ماہرین کے ساتھ راولپنڈی سے کراچی روانہ ہو گئی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جائے وقوعہ پر 10 فائر ٹینڈرز نے آگ پر قابو پا لیا ہے۔ فوجی ایمبولینسز زخمیوں کو بچانے اور طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

  19. ’جن کے گھر تباہ ہوئے ہیں انھیں پی آئی اے ہوٹل میں ٹھہرائے گی‘

    صوبہ سندھ کے گورنر عرمان اسماعیل نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ جناح کالونی کے وہ رہائشی جن کے گھر طیارہ حادثے میں متاثر یا تباہ ہوئے ہیں انھیں قومی ایئر لائن ہوٹلوں میں ٹھہرائے گی۔

    گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے پی آئی اے کو متاثرین کی فوری طور پر مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  20. طیارے کے حادثے کے عینی شاہد نے کیا دیکھا