سی ای او پی آئی اے ارشد ملک نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعے کی دوپہر پیش آنے والے حادثے کی شفاف انکوائری ہو گی جس میں پی آئی اے یا سی اے اے کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ جہاز تیکنیکی لحاظ سے مکمل طور پر محفوظ تھا۔
انھوں نے بتایا کہ طیارہ محو پرواز تھا اور فائنل لینڈنگ کے لیے پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو اپروچ کیا اور آگاہ کیا کہ طیارہ لینڈنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
’جہاز سے بتایا جاتا ہے کہ طیارہ لینڈنگ کے لیے تیار ہے۔ کنٹرول ٹاور سے اسے کلیئر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ لینڈ کر جائیں۔ مگر ایئر پورٹ پر آ کر طیارہ ’گو اراؤنڈ‘ کرتا ہے اور دوسری اپروچ کا فیصلہ کرتا ہے۔ طیارے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ دوسری مرتبہ اپروچ کرے گا۔‘
’اس دوران ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے۔ طیارے کے ساتھ کیا ہوا یہ تفصیلات آواز ریکارڈ کرنے والے آلے کی جانچ پڑتال پر ہی پتا چلے گا۔ آیا طیارے کو کوئی تیکنیکی مسئلہ ہوا یا کوئی پرندہ جہاز سے ٹکرایا یہ تب ہی پتا چل سکے گا۔‘
انھوں نے بتایا کہ جب جہاز نچلی پرواز کرتا ہے تو پائلٹ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو انھوں نے کہا جی میرے ساتھ مسئلہ ہے۔ اس کے بعد رابطہ ختم ہو جاتا ہے اور پھر طیارہ حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔
انھوں نے کہا وہ لواحقین جو کراچی آنا چاہتے ہیں ان کی رہائش کا انتظام کراچی ایئرپورٹ کے ہوٹل کر کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس رہائشی علاقے میں جہاز گرا وہاں سے ابھی تک کسی رہائشی کی میت نہیں آئی ہے۔
ارشد ملک کے مطابق جائے حادثہ پر امدادی کام مکمل ہونے میں دو سے تین دن درکار ہوں گے۔