ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے مطابق صوبہ پنجاب میں طبی عملے کے 165 اراکین کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
جس میں 105 ڈاکٹر اور 60 نیم طبی عملے کے اراکین اور نرسیں شامل ہیں۔ اس میں صرف ملتان میں 26 ڈاکٹر اور 19 پیرا میڈیکس سٹاف شامل ہے۔
ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن پنجاب کے پیٹرن ان چیف عاطف مجید چوہدری کے مطابق انھوں نے طبی عملے کے بڑے پیمانے پر متاثر ہونے اور اپنے مطالبات کے حق میں لاہور میں پانچ روز سے بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کررکھا ہے، جس کے تین اہم مطالبات حکومت کو پیش کر دیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر عاطف مجید چوہدری نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات میں سب سے پہلا یہ ہے کہ اس وقت تک پنجاب میں طبی عملے کو مکمل پی پی ای نہیں فراہم کیے گئے صرف آسولیشن وارڈز میں فرائض ادا کرنے والے طبی عملے کو فراہم کیے گئے ہیں حالانکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آئیسولیشن وارڈز میں فرائض انجام کرنے والے عملے کے کورونا سے متاثر ہونے کی تعداد کم ہے جبکہ وارڈز، ایمرجنسی، او پی ڈیز میں فرائض ادا کرنے والے طبی عملہ زیادہ متاثر ہورہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ہسپتال میں بغیر معائنہ اور ٹیسٹ کے کسی کو کیا پتا کہ کون سے مریض میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ڈاکٹر عاطف مجید چوہدری کا کہنا تھا کہ اسی طرح ملتان میں 26 ڈاکٹر متاثر ہوئے ہیں۔ ان کو ڈیرہ غازی خان کی ایک پرانی سے عمارت میں آسولیشن میں رکھا گیا ہے۔ جہاں پر ایک ایک کمرے میں چار چار ڈاکٹر ہیں اور ایک ایک باتھ روم چھ چھ ڈاکٹر استعمال کررہے ہیں اور باہر پولیس کھڑی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’وہاں پر کوئی بھی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
اس طرف ہم نے بار بار توجہ دلائی مگر کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔‘
ڈاکٹر عاطف مجید چوہدری کا کہنا تھا کہ گجرات میں آسولیشن وارڈ میں خدمات انجام دینے والی نرس ہلاک ہوئی ہے۔
آسولیشن وارڈ میں خدمات کے دوران اس نے درخواست دی کہ میں بیمار ہوں مجھے چھٹی چاہیے اور جب وہ ہلاک ہو گئی تو اس کا کوئی بھی کورونا ٹیسٹ نہیں کروایا گیا۔
جب ہم پوچھتے ہیں کہ ٹیسٹ کیوں نہیں کروایا تو کوئی بھی جواب نہیں دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے باوجود اس موقع پر ہڑتال نہیں کی گئی ہے۔ حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باوجود طبی عملہ اپنی جانوں پر کھیل کر خدمات دے رہا ہے مگر حکمران توجہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔
ہم خبردار کررہے ہیں کہ اگر پنجاب میں تمام کے تمام طبی عملے کی سکریننگ نہ ہوئی تو پھر خدشہ ہے کہ حکومت کو پنجاب میں خدمات فراہم کرنے کے لیے طبی عملہ دستیاب نہیں ہو گا۔
پنجاب حکومت کے ترجمان چوہدری عاطف کا کہنا تھا کہ حکومت طبی عملے کو تمام تر سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔ ان کے ساتھ کئی میٹنگز ہوچکی ہیں اور ان کے کئی مسائل حل ہوچکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کئی مسائل حل ہونے کے قریب ہیں۔ ’ہم طبی عملے کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان کو بھی چاہیے کہ اس موقع پر حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کے تمام جائز مطالبات کو پورا کیا جائے گا۔ گجرات عزیز بھٹی شہید ہسپتال کی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق نرس کی ہلاکت کی تحقیقات جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے اس پر بات نہیں کی جاسکتی ہے۔