آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان میں کوورنا کے متاثرین 9500 جبکہ ہلاکتیں 200 سے زیادہ

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 9590 سے بڑھ گئی ہے جبکہ اس وبا میں 201 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کرنے والے سماجی کارکن فیصل ایدھی کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد عمران خان کا بھی کورونا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. سندھ میں 21 سے 30 برس کے متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے: وزیرِ اعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں اب تک کل اموات 61 یعنی 2.2 فیصد ہوگئی ہیں۔

    آج سامنے آنے والے 227 نئے کیسز کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 65 کراچی کے ضلع جنوبی، 31 وسطی، 28 شرقی، 23 کورنگی، 5 غربی میں ہیں جبکہ خیرپور میں 35، جیکب آباد میں 8، ٹنڈومحمد خان 8 اور حیدرآباد میں 7، شہید بینظیرآباد 6، کشمور 4، میرپورخاص 2، لاڑکانہ 2، بدین ایک کیسز سامنے آئے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ آج 10 مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو چلے گئے ہیں جس کے بعد صوبہ بھر میں صحتیاب مریضوں کی تعداد 635 ہو گئی ہے۔

    انھوں نے بتاایا کہ تبلیغی جماعت کے 4955 لوگ تھے جن میں سے اب تک 4793 کے ٹیسٹ کے نتائج میں 658 مثبت آئے ہیں جبکہ 162 کے ٹیسٹ نتائج آنا باقی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ صوبے میں 2764 مریضوں میں مردوں کا 75 فیصد تناسب ہے جبکہ خواتین کی تعداد 699 ہے جو کل مریضوں کی تعداد کا 25 فیصد ہے۔

    مریضوں کی عمر کے حساب سے تفصیلات کچھ یوں ہیں۔

    • 10 سالوں سے کم عمر کے مریضوں کی تعداد 115 ہے۔
    • 11 تا 20 سال کے مریضوں کی تعداد 201 ہے
    • 21 تا 30 سال کے مریضوں کی تعداد 553 ہے
    • 31 تا 40 سال کے مریضوں کی تعداد 484 ہے
    • 41 تا 50 سال کے مریضوں کی تعداد 340 ہے
    • 51 تا 60 سال کے مریضوں کی تعداد 374 ہے
    • 61 تا 70 سال کے مریضوں کی تعداد 274 ہے
    • 71 تا 80 سال کے مریضوں کی تعداد 80 ہے
    • 81 تا 90 سال کے مریضوں کی تعداد 9 ہے
    • ایک مریض 91 تا 100 سال کی عمر کا بھی ہے
  2. ’پنجاب میں 105 ڈاکٹر، 60 نرسیں کورونا وائرس سے متاثر‘, محمد زبیر خان، صحافی

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے مطابق صوبہ پنجاب میں طبی عملے کے 165 اراکین کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    جس میں 105 ڈاکٹر اور 60 نیم طبی عملے کے اراکین اور نرسیں شامل ہیں۔ اس میں صرف ملتان میں 26 ڈاکٹر اور 19 پیرا میڈیکس سٹاف شامل ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن پنجاب کے پیٹرن ان چیف عاطف مجید چوہدری کے مطابق انھوں نے طبی عملے کے بڑے پیمانے پر متاثر ہونے اور اپنے مطالبات کے حق میں لاہور میں پانچ روز سے بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کررکھا ہے، جس کے تین اہم مطالبات حکومت کو پیش کر دیے گئے ہیں۔

    ڈاکٹر عاطف مجید چوہدری نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات میں سب سے پہلا یہ ہے کہ اس وقت تک پنجاب میں طبی عملے کو مکمل پی پی ای نہیں فراہم کیے گئے صرف آسولیشن وارڈز میں فرائض ادا کرنے والے طبی عملے کو فراہم کیے گئے ہیں حالانکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آئیسولیشن وارڈز میں فرائض انجام کرنے والے عملے کے کورونا سے متاثر ہونے کی تعداد کم ہے جبکہ وارڈز، ایمرجنسی، او پی ڈیز میں فرائض ادا کرنے والے طبی عملہ زیادہ متاثر ہورہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب ہسپتال میں بغیر معائنہ اور ٹیسٹ کے کسی کو کیا پتا کہ کون سے مریض میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ڈاکٹر عاطف مجید چوہدری کا کہنا تھا کہ اسی طرح ملتان میں 26 ڈاکٹر متاثر ہوئے ہیں۔ ان کو ڈیرہ غازی خان کی ایک پرانی سے عمارت میں آسولیشن میں رکھا گیا ہے۔ جہاں پر ایک ایک کمرے میں چار چار ڈاکٹر ہیں اور ایک ایک باتھ روم چھ چھ ڈاکٹر استعمال کررہے ہیں اور باہر پولیس کھڑی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’وہاں پر کوئی بھی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ اس طرف ہم نے بار بار توجہ دلائی مگر کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔‘

    ڈاکٹر عاطف مجید چوہدری کا کہنا تھا کہ گجرات میں آسولیشن وارڈ میں خدمات انجام دینے والی نرس ہلاک ہوئی ہے۔

    آسولیشن وارڈ میں خدمات کے دوران اس نے درخواست دی کہ میں بیمار ہوں مجھے چھٹی چاہیے اور جب وہ ہلاک ہو گئی تو اس کا کوئی بھی کورونا ٹیسٹ نہیں کروایا گیا۔

    جب ہم پوچھتے ہیں کہ ٹیسٹ کیوں نہیں کروایا تو کوئی بھی جواب نہیں دیتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے باوجود اس موقع پر ہڑتال نہیں کی گئی ہے۔ حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باوجود طبی عملہ اپنی جانوں پر کھیل کر خدمات دے رہا ہے مگر حکمران توجہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔

    ہم خبردار کررہے ہیں کہ اگر پنجاب میں تمام کے تمام طبی عملے کی سکریننگ نہ ہوئی تو پھر خدشہ ہے کہ حکومت کو پنجاب میں خدمات فراہم کرنے کے لیے طبی عملہ دستیاب نہیں ہو گا۔

    پنجاب حکومت کے ترجمان چوہدری عاطف کا کہنا تھا کہ حکومت طبی عملے کو تمام تر سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔ ان کے ساتھ کئی میٹنگز ہوچکی ہیں اور ان کے کئی مسائل حل ہوچکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کئی مسائل حل ہونے کے قریب ہیں۔ ’ہم طبی عملے کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان کو بھی چاہیے کہ اس موقع پر حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کے تمام جائز مطالبات کو پورا کیا جائے گا۔ گجرات عزیز بھٹی شہید ہسپتال کی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق نرس کی ہلاکت کی تحقیقات جاری ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے اس پر بات نہیں کی جاسکتی ہے۔

  3. کورونا از خود نوٹس: ’کسی نے بھی شفافیت پر مبنی رپورٹ نہیں جمع کروائی‘

  4. چین کی پاکستان کے لیے مزید امداد

  5. کراچی میں کورونا وائرس ٹیسٹنگ کے لیے ایک اور لیبارٹری قائم

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کے مطابق سندھ ٹیسٹنگ کی نئی لیبارٹری قائم کر دی گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ یہ لیب سندھ حکومت کی جانب سے بنائی گئی ہے اور یہاں آج نمونوں کی جانچ کی جائے گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ واضح ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے دعوے کھوکھلے ہیں جبکہ سندھ حکومت اپنے وعدوں پر پورا اترتی ہے۔

    ان کا اشارہ گورنر سندھ عمران اسماعیل کے مارچ میں کیے جانے والے اس دعوے کی جانب تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وفاق کی جانب سے کراچی میں دو نئی لیبارٹریز بنائی جائیں گی اور وہ ایک ہفتے میں فعال ہو جائیں گی۔

  6. یہ جمعہ یومِ توبہ و رحمت کے طور پر منایا جائے گا: نور الحق قادری

    وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے مطابق علما اورمشائخ نے کوروناوائرس کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان کی لاک ڈاون کی حکمت عملی کی بھرپور حمایت کی ہے۔

    علما و مشائخ کےایک وفد نے پیر کے روز اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور انھیں احتیاطی تدابیر کے حکومتی فیصلے پر عملدرآمد کےلیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    انھوں نے کہا کہ لاک ڈاون سے متعلق وزیراعظم کا موقف حقیقت پسندی پر مبنی اور زمینی حقائق کے عین مطابق ہے۔

    وفد میں پیر امین الحسنا ت شاہ، پیر شمس الامین، پیر نقب الرحمن، مولانا محمد حنیف جالندھری،مولانا طاہر محمود اشرفی، علامہ راجہ ناصر عباس اور دیگر شامل تھے۔

    تعلیم کے وفاقی وزیر شفقت محمود، مذہبی امور کے وزیر نور الحق قادری، اطلاعات کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز ودیگر بھی ملاقات میں موجود تھے۔

    سندھ کےگورنر عمران اسماعیل، مفتی منیب الرحمن، مفتی تقی عثمانی اور علامہ شہنشاہ حسین نقوی بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اس موقع پر موجود تھے۔

    وفاقی وزیرِ برائے مذہبی امور نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ اس جمعہ کو یومِ توبہ و رحمت کے طور پر منایا جائے گا۔

  7. کورونا وائرس دنیا کی ثقافتوں کے متعلق کیا بتاتا ہے؟

    کہا جاتا ہے کہ انسان کا صحیح کردار کسی بحران کے دوران کھل کر سامنے آتا ہے۔ اگر کورونا وائرس کی وبا نے ہمیں ابھی تک کچھ سکھایا ہے تو یہی بات کسی ملک کے متعلق بھی کہی جا سکتی ہے، یعنی کسی ملک کا کردار بھی بحران کے دوران ہی کھل کر سامنے آتا ہے۔

    جیسے جیسے دنیا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے گھروں تک محدود ہوتی جا رہی ہے، اس دوران سامنے آنے والی سب سے دلچسپ چیز یہ ہے کس طرح مختلف شہر اور ملک اس وبا کا سامنا کرنے کے لیے نت نئے تخلیقی، نرالے اور متاثر کُن طریقے استعمال کرتے ہوئے اپنا اپنا ’کوارنٹائن کلچر‘ (الگ تھلگ ہونے کی ثقافت) پیش کر رہے ہیں۔

  8. بریکنگ, سندھ میں 227 نئے متاثرین، اموات کی کل تعداد 61 ہو گئی, صوبہ سندھ میں کل متاثرین: 2767 | اموات: 61 | صحتیاب: 635

  9. بلوچستان میں کورونا وائرس کی مقامی منتقلی سے متاثر اضلاع کی تعداد 10 ہو گئی

    بلوچستان میں کورونا کے کیسز کی مقامی منتقلی سے متائثر ہونے والے اضلاع کی تعداد آٹھ سے بڑھ کر 10 ہو گئی ہے۔

    جن دو نئے اضلاع سے مقامی منتقلی کے کیسز سامنے آئے ہیں ان میں قلعہ عبد اللہ اور سبی شامل ہیں۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان اضلاع میں سے قلعہ عبد اللہ سے پانچ اور سبی سے ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

    19 اپریل تک جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مجموعی طور پر 432 متاثرین میں مقامی منتقلی کے کیسز کی تعداد 284 تھی جو کہ مجموعی کیسز کی 65 فیصد بنتی ہے۔

    ان میں سے سب سے زیادہ کیسز کوئٹہ شہر سے رپورٹ ہوئے ہیں جن کی تعداد 223ہے ۔ کوئٹہ شہر میں 50 سے زائد علاقوں سے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں تاہم سب سے زیادہ کیسز سریاب، فقیر آباد اور عالمو چوک سے سامنے آئے ہیں جن کی تعداد بالترتیب 17،14اور11 ہے۔

    باقی جن علاقوں سے مقامی منتقلی کے زیادہ مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ان میں معصوم شاہ سٹریٹ، علمدار روڈ، سروے روڈ اور جناح روڈ شامل ہیں۔

    بلوچستان کے دیگر 8اضلاع میں سے چاغی سے 11، لورالائی سے چھ، جعفرآباد سے 16، مستونگ سے 10، پشین سے 8، خاران سے دو اور خضدار اور ہرنائی سے ایک ایک مثبت کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔

  10. کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جاری

  11. علما و مشائخ کے وفد کی وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات

    وزیر اعظم عمران خان نے ممتاز علما کرام کے وفد سے ملاقات کی اور لاک ڈاؤن کے حوالے سے بات چیت کی۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق علمائے کرام کی جانب سے وزیر اعظم کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی۔

  12. گذشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس ٹیسٹنگ کی شرح میں 55 فیصد اضافہ, پاکستان میں مجموعی کورونا وائرس ٹیسٹ: 104302

    پاکستان میں کورونا وائرس ٹیسٹنگ کی بڑھتی ہوئی شرح، ملک میں گذشتہ ہفتے کے دوران 37377 ٹیسٹ کیے گئے جو کہ مجموعی ٹیسٹنگ کا 35 فیصد ہے۔

    یہ پاکستان میں ٹیسٹنگ کی شرح میں 55 فیصد اضافہ ہے۔

    گذشتہ ہفتے سب سے زیادہ 16805 ٹیسٹ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہوئے، جس کے بعد صوبہ سندھ میں یہ تعداد 11149 رہی۔

    اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کل 104302 ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔

    ہر دس لاکھ افراد میں ٹیسٹنگ کے تناسب کا جائزہ لیا جائے تو صوبہ خیبر پختونخوا میں تاحال سبے سے کم 197 ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

    اس حوالے سے صوبہ پنجاب بستور سب سے آگے ہے جہاں 10 لاکھ میں سے 502 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جس کے بعد سندھ میں تعداد 479 ہے۔

  13. کورونا وائرس کے خدشے کے پیشِ نظر سینیٹ کا اجلاس قومی اسمبلی ہال میں کرانے کی گزارش

    چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے درخواست کی ہے کہ قومی اسمبلی ہال کو سینیٹ اجلاس منعقد کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

    انھوں نے ایک خط میں لکھا کہ کورونا وائرس نے دنیا کے پارلیمان کے لیے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں اس لیے سینیٹ ہال میں سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے اجلاس منعقد کرنا ممکن نہیں ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹ میں ممبران کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ممکن نہیں کہ سینیٹ ہال میں اجلاس منعقد کیا جا سکے۔

    انھوں نے مثال دی کہ سنہ 1993 میں بھی قومی اسمبلی میں آتشزدگی کے وقت اسمبلی کا اجلاس سینیٹ چیمبر میں منعقد ہوتے تھے آج بھی غیر معمولی صورت حال کا سامنا ہے کہ سینیٹ کا اجلاس اپنے ایوان میں منعقد نہیں ہو سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی روایات کو دیکھتے ہوئے سینیٹ کا اجلاس قومی اسمبلی ہال میں منعقد کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ سینیٹ اپنا آئینی کردار ادا کر سکے۔

  14. بریکنگ, دارالحکومت اسلام آباد میں مزید ایک ہلاکت کی تصدیق, اسلام آباد میں کل متاثرین: 181 | اموات: 4 | صحتیاب: 20

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مزید ایک ہلاکت کی تصدیق کے بعد شہر میں کل ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

    ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایک 82 سالہ مریض جن کا تعلق ترلائی سے تھا اور وہ اس سے قبل گردوں کے عارضے میں بھی مبتلا تھے آج اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ہلاک ہو گئے۔

    ان کے مطابق اب تک شہر کے مرکزی ہسپتال میں سات مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ اب تک 20 افراد صحت یاب ہو کر گھر کو روانہ ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ پمز ہسپتال 1127 افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 111 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    سرکاری اعددوشمار کےمطابق آسلام آباد میں اب کورونا وائرس سے 181 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

  15. راولپنڈی میں مختلف مقامات پر جراثیم کش سپرے، دلچسپ مناظر

  16. کراچی: کورنگی میں حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر ایک فیکٹری سیل

    ڈپٹی کمشنر کورنگی کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ کی کورنگی صنعتی ایریا میں کارروائی کی گئی اور کورونا وائرس سے متعلق جاری کردہ قواعد و ضوابط پر عمل نہ کرنے والی دو ادویہ ساز کمپنیوں کو سربمہر کردیا گیا۔

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کے مطابق دونوں ادویہ ساز اور چائے بنانے والی کمپنوں نے ایس او پی کےتحت ملازمین کےلیےٹرانسپورٹ کا غلط استعمال کیا۔

    ایس او پی کےتحت صنعتی ورکرز کی گاڑیوں میں سماجی فاصلہ اختیار کرنا لازمی ہے۔ جبکہ ان کمپنیوں نے ملازمین کی بڑی تعداد کو بس میں سوار کیا تھا۔

  17. بریکنگ, پاکستان میں گدشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 17 ہلاکتیں, پاکستان میں کل متاثرین: 8425 | اموات: 176 | صحتیاب: 1970

    تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 17 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی کل تعداد 176 سے ہو گئی ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل 15 اپریل کو بھی ملک میں 17 اموات ہوئی تھیں جو کہ اب تک ملک میں ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔

    اب تک ملک میں 8425 متاثرین ہیں جبکہ 1970 صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

  18. کیا حکومت مذہبی رہنماؤں سے کچھ منوا بھی سکی ہے یا نہیں؟

    آج وزیرِ اعظم عمران خان اور صدر عارف علوی دونوں نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے بیانات دیے ہیں جہاں صدر عارف علوی نے ماہِ رمضان میں تراویح اور اجتماعات کے حوالے سے بات کی، وہیں عمران خان نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے بارے میں وضاحتیں دیں۔

    صدر عارف علوی نے ملک بھر کے مختلف مکاتبِ فکر کے علما اور مشائخ کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے مشاورتی اجلاس کی صدارت کی جس کے بعد 20 نکاتی تجاویز کا اعلان بھی کیا تھا۔

  19. ’کورونا وارڈ میں ڈیوٹی لگی تو تھوڑا گھبرائی، لیکن اب کوئی ڈر نہیں‘

  20. نیو جرسی میں لاک ڈاؤن کی کہانی ایک پاکستانی کی زبانی

    امریکہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

    امریکہ کے شہر نیو جرسی میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد رہائش پزیر ہے۔لاک ڈاؤن سے ان کی زندگی پر کیا اثر پڑا ہے، یہ بتا رہی ہیں صباحت زکریا اس ویڈیو میں۔