آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان میں خواتین کے عالمی دن پر عورت مارچ: کب کیا ہوا؟

خواتین کے عالمی دن پر پاکستان کے کئی شہروں میں عورت آزادی مارچ کے تحت اتوار کو ریلیاں نکالی گئیں۔ اسلام آباد میں حیا مارچ کے شرکا کی جانب سے عورت مارچ پر پتھراؤ کیا گیا تاہم پولیس نے صورتِحال پر قابو پا لیا۔

لائیو کوریج

منزہ انوار, کومل فاروق, کاشان اکمل and حسن بلال زیدی

  1. اسلام آباد: عورت مارچ اور حیا مارچ کے شرکا کو علیحدہ رکھنے کے لیے رکاوٹیں

    اسلام آباد میں جہاں ایک جانب عورت مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے وہیں نیشنل پریس کلب کے مقام پر ہی مذہبی جماعتوں کی جانب سے حیاء مارچ بھی جاری ہے۔

    انتظامیہ نے دونوں ریلیوں کے شرکا کو رکاوٹیں لگا کر تقسیم کیا ہے۔

  2. کراچی: فریئر ہال کے باہر عورت مارچ کی تقریب کا آغاز

  3. کوئٹہ: مردوں کا خواتین کے لیے مظاہرہ

    کوئٹہ میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے مردوں نے بھی ’مین فار ویمن مارچ‘ کے نام سے خواتین کی حمایت میں مارچ اور پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا۔

  4. بریکنگ, ’کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ خواتین کو بازاروں میں کام کی جگہوں اور سکولوں میں ہراساں کرے‘

    عورت مارچ کراچی کی آرگنائزنگ کمیٹی کی رکن قرت مرزا کہتی ہیں کہ پاکستان کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور وہ ملک کی معیشت اور سماج میں اس حصے کو اپنا آئینی اور قانونی حق سمجھتے ہوئے مانگنے نکلی ہیں۔

    بی بی سی کے نامہ نگار کریم الاسلام سے بات کرتے ہوئے قرت مرزا نے کہا کہ ’جب آئین اور قانون اس ملک میں بسنے والے تمام افراد کو برابر کا شہری مانتا ہے تو پھر کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ خواتین کو بازاروں میں کام کی جگہوں اور سکولوں میں ہراساں کرے‘

    قرت مرزا کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو ’میرا جسم میری مرضی‘ کے نعرے سے اختلاف ہے تو ہمیں کوئی اور نعرہ بتا دیں تاہم یہ ضرور سمجھ لیں کہ ہم بھی اُسی طرح محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جیسے کسی اور صنف کے لوگ۔

  5. پشاور: تاجر برادری کی جانب سے عورت مارچ کے خلاف مظاہرہ

  6. اسلام آباد: ’مرد زنانہ قبول، مرد زانی ناقبول‘

    عورت مارچ کے موقعے پر اسلام آباد میں نکالی جانے والی ریلی میں ایک انوکھا پوسٹر نظر آیا جس پر درج تھا ’مرد زنانہ قبول، مرد زانی نا قبول‘

    اس پوسٹر کی خالق ریم شریف نے بی بی سی نامہ نگار فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مارچ میں اپنی کمیونٹی کی ترجمانی کر رہی ہیں اور پاکستان کی سب ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی حمایت کے لیے اس پیغام کے ساتھ آئی ہیں کہ ’ریپ کرنے والے کو ہم کبھی قبول نہیں کریں گے۔‘

  7. اسلام آباد: عورت مارچ کے شرکا پریس کلب کے باہر اکٹھے ہوگئے

  8. بریکنگ, لاہور: ’اس بینر کو پڑھ کر معلوم ہوگا کہ جنسی استحصال کہاں کہاں ہو رہا ہے‘

    عورت مارچ لاہور کے سوشل میڈیا پر آج لال رنگ کے ایک بڑے بینر کی تصویریں شیئر کی گئیں اور بعدازاں یہی بینز ریلی میں بھی واضح رہا۔

    اس پر مختلف عبارتیں لکھی ہوئی تھیں جن میں مختلف خواتین نے اپنے عورت مارچ میں شامل ہونے کی وجوہات بیان کیں۔

    کہیں لکھا تھا کہ ’مجھے میرے باس نے کہا کہ اگر تم اپنی نوکری قائم رکھنا چاھتی ہو تو جنسی تعلقات قائم کرنا ہوں گے‘

    پھر ایک اور تصویر میں عبارت واضح نظر آرہی تھی کہ ’میں نے شادی سے انکار کیا تو میرے کزن نے میری عزت لوٹ لی اور خاندان میں بدنام ہوئی میں‘۔

    اس طرح کی درجنوں تحریریں اس لال کپڑے پر درج تھیں۔

    اس مہم کو شروع کرنے والی عورت مارچ کی رضاکار فاطمہ رزاق کہتی ہیں کہ گذشتہ کئی دنوں سے متعدد خواتین نے اپنے ہاتھ سے اس کپڑے پر خود کے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی کے تکلیف دہ تجربوں کی کہانیاں مختصراً بیان کی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خود بول نہیں سکتے۔

    فاطمہ کہتی ہیں کہ اس بینر کو پڑھنے سے ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ جنسی استحصال کہاں کہاں ہو رہا ہے۔

  9. لاہور میں عورت مارچ کا اختتام

  10. لاہور: خواتین پر بڑھتے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے گائے جانے والے ترانے ’ریپسٹ ہو تم‘ کی گونج

  11. کراچی: عورت مارچ کے شرکا فریئر ہال کے باہر جمع ہو رہے ہیں

  12. سوشل میڈیا پر عورت مارچ کے بینرز، پوسٹرز کی بھر مار

  13. پاکستان میں نسوانی حقوق کی تحریک کتنی پرانی ہے؟

  14. بریکنگ, خیبر پختونخوا میں عورت مارچ کیوں نہیں ہو رہا؟

    جہاں پاکستان کے کئی شہروں میں خواتین سڑکوں پر اپنے حقوق کے لیے عورت مارچ کر رہی ہیں وہیں خیبر پختونخوا کے کسی شہر میں عورت مارچ کی ریلیاں دیکھنے میں نہیں آ رہیں۔

    اس بارے میں مردان سے تعلق رکھنے والی عوامی ووکرز پارٹی کی ویمن سیکرٹری ریحانہ شکیل نے ہمارے ساتھی بلال احمد سے بات کرتے ہوئے کہا: ’چاہتے تو ہم بھی تھے کہ یہاں پر بھی عورت آزادی مارچ ہوتا لیکن خیبر پختونخوا ایک ایسا صوبہ ہے جہاں پر پختون لوگ نہیں چاہتے کہ ان کی عورتیں سڑکوں پر نکلیں اور آزادی مارچ کریں۔ لیکن اگلے سال ہماری کوشش ہوگی کہ ہم بھی عورت آزادی مارچ کریں۔‘

  15. لاہور: عورت مارچ کا سٹیج ایوان اقبال کے سامنے سج گیا

    مارچ کے منتظمین اور خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی اہم شخصیات خطاب کر رہی ہیں۔

    وہاں موجود ہمارے ساتھی فرقان الٰہی کے مطابق شرکا میں مارچ کا منشور بھی تقسیم کیا گیا۔

  16. کوئٹہ میں بھی عورت مارچ

    عورت مارچ کی مناسبت سے صوبہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بھی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں سماجی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے عہدیداران اور کارکنان شرکت کر رہے ہیں۔

    سیاسی کارکن رافعہ ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں اور بلوچستان میں خواتین کی مجموعی صورتحال بہت مختلف اور مسائل بہت پیچیدہ ہیں۔

  17. سکھر میں بھی عورت مارچ کی ریلی

    صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں عوررت مارچ میں شرکت کے لیے خواتین مہران فیملی پارک میں جمع ہوئیں۔ یہاں پہنچنے والی خواتین ریلی کی صورت میں ’عورت مارچ‘ کے نعرے دوہراتی ہوئی آئیں جن میں پسند کی شادی، تعلیم اورصحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے مطالبات شامل تھے۔

    ریلی میں شریک بچیوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں جن پر ’ہمارا جسم حیا کا سرٹیفیکیٹ نہیں‘ ’عورت آزاد معاشرہ آزاد‘ اور پارلیمنٹ میں ’مخصوص نشتیں نہیں بلکہ برابر حقوق چاہیں‘ جیسے نعرے درج ہیں۔

  18. اسلام آباد: مذہبی تنظیموں کی جانب سے ’حیا واک‘

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کلب پر دوپہر سوا 3 بجے منعقد ہونے والے عورت مارچ سے قبل جامعہ حفصہ کی طالبات، منہاج القرآن ویمن لیگ اور دیگر خواتین کے گروہوں نے حیا مارچ کیا جس کے شرکا نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ’مجھے آزادی نہیں تحفظ چاہیے‘ اور ’جسم بھی اللہ کا روح بھی اللہ کی ۔۔۔ حکم بھی اللہ کا مرضی بھی اللہ کی‘ جیسے نعرے درج تھے۔

  19. عورت مارچ کی مخالفت: ملک کے کئی حصوں میں مذہبی تنظیموں کے مظاہرے

    جہاں پاکستان کے کئی شہروں میں عورت مارچ منعقد ہو رہا ہے تو وہیں اس مارچ کے نقاد بھی اپنے طور پر ریلیاں نکال رہے ہیں۔

  20. خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر گورنر پنجاب، چودھری محمد سرور کا پیغام