عورت مارچ لاہور کے سوشل میڈیا پر
آج لال رنگ کے ایک بڑے بینر کی تصویریں شیئر کی گئیں اور بعدازاں یہی بینز ریلی میں
بھی واضح رہا۔
اس پر مختلف عبارتیں لکھی ہوئی تھیں جن میں مختلف خواتین نے اپنے عورت مارچ میں شامل ہونے کی وجوہات بیان کیں۔
کہیں لکھا تھا کہ ’مجھے میرے باس نے کہا کہ اگر تم اپنی نوکری قائم رکھنا چاھتی ہو تو جنسی تعلقات قائم کرنا ہوں گے‘
پھر ایک اور تصویر میں عبارت واضح نظر آرہی تھی کہ ’میں نے شادی سے انکار کیا تو میرے کزن نے میری عزت لوٹ لی اور خاندان میں بدنام ہوئی میں‘۔
اس طرح کی درجنوں تحریریں اس لال کپڑے پر درج تھیں۔
اس مہم کو شروع کرنے والی عورت مارچ کی رضاکار فاطمہ رزاق کہتی ہیں کہ گذشتہ کئی دنوں سے متعدد خواتین نے اپنے ہاتھ سے اس کپڑے پر خود کے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی کے تکلیف دہ تجربوں کی کہانیاں مختصراً بیان کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خود بول نہیں سکتے۔
فاطمہ کہتی ہیں کہ اس بینر کو پڑھنے سے ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ جنسی استحصال کہاں کہاں ہو رہا ہے۔