آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

بالاکوٹ حملہ، پاکستانی جواب، انڈین طیارے کی تباہی، پائلٹ کی گرفتاری اور رہائی: کب کیا ہوا؟

پاکستانی حکام نے انڈین پائلٹ ابھینندن کو ابس ے کچھ دیر پہلے واہگہ بارڈر پر انڈین حکام کے حوالے کردیا ہے۔ ابھینندن کے استقبال کے لیے انڈین بارڈر پر عوام کی بڑی تعداد موجود ہے۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر، طاہر عمران، حسن زیدی شجاع ملک، حمیرا کنول

  1. بریکنگ, انڈیا کی اپنا ایک طیارہ تباہ ہونے کی تصدیق, شکیل اختر، بی بی سی اردو نئی دہلی

    انڈیا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس کا ایک مگ 21 جنگی طیارہ پاکستانی طیاروں سے لڑائی میں گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کا پائلٹ تاحال لاپتہ ہے۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ پائلٹ اس کے زیرِ حراست ہے تاہم اس حوالے سے حقائق جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    انڈین حکام نے اس پائلٹ کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں تاہم پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں ایک انڈین پائلٹ اپنا نام ونگ کمانڈر ابھینندن بتاتا ہے۔

    انڈین حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے بدھ کو انڈین فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔

    انڈین حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس لڑائی میں ایک پاکستانی جنگی طیارہ بھی تباہ ہوا جس کو زمین پر موجود انڈین فوج نے پاکستانی حدود میں گرتے دیکھا۔

    وزارت خارجہ کی اس نیوز کانفرنس میں ان کے ساتھ ایئر وائس مارشل آر جی کے کپور بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ تاہم انھوں نے کوئی بات نہیں کی۔ رویش کمار نے صرف اپنا مختصر تحریری بیان پڑھا لیکن بیان کے بعد نامہ نگاروں کو سوال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

  2. انڈین پائلٹ کی ’فیک تصاویر‘, فیکٹ چیک ٹیم، بی بی سی نیوز

    پاکستان کی طرف سے انڈیا کی حدود میں فضائی کارروائی کی تصدیق کے بعد ملک میں اس واقعے سے منسلک متعدد ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے اور ساتھ ہی روایتی میڈیا میں بھی اس پر بھرپور کوریج شروع ہوگئی۔

    لیکن یہ خبر آتے ہی دونوں پلیٹ فام پر گرے ہوئے انڈین جہازوں کی غلط تصاویر گردش کرنے لگیں۔

    پاکستانی صارفین ایک ویڈیو کو ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ پاکستانی حکام کا انڈین پائلٹ کو حراست میں لینے والا دعویٰ درست ہے۔

    اس ویڈیو میں ایک زخمی پائلت کو زمیں پر لیٹا دیکھا جا سکتا ہے۔

    یہ ویڈیو واقعی ایک انڈین پائلٹ کی ہے، لیکن اس کا سیاق و سباق کچھ اور ہے۔

    19 فروری 2019 کو ونگ کمانڈر وجے شیلکے کا جہاز بنگلور میں گرا تھا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔

  3. بریکنگ, ابتدائی جوش اب فکر میں تبدیل, شکیل اختر، بی بی سی دلی

    پاکستان کی جانب سے انڈیا کے دو جنگی طیاروں کو مار گرانے اور کم از کم دو انڈین پائلٹوں کو زندہ پکڑ لینے کے دعوے کے بعد انڈیا میں جوش خروش کی جگہ اب فکر مندی نے لے لی ہے۔ انڈین فضائیہ کی طرف سے ابھی تک کسی طیارے کی تباہی یا پائلٹ کی گرفتاری کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سیمت سرحدی ریاستوں کے کئی ہوائی اڈے فوری طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔

    انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک اعلی اختیاراتی کمیٹی نے تیزی سے بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی صورتحال پر تبادلۂ خیال کے لیے دلی میں مل رہے ہیں۔

    انڈین فضائیہ کے حوالے سے بعض چینل یہ خبریں دکھا رہے تھے کہ اس کا کوئی بھی طیارہ تباہ نہیں ہوا اور سارے پائلٹ صحیح و سلامت ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے انڈین پائلٹ کی ویڈیو جاری کیے جانے کے بعد بالاکوٹ کے حملے کے بعد عوام میں جو جوش و خروش نظر آرہا تھا وہ اب فکر مندی میں بدل گیا ہے۔

  4. کشمیر پر پہلی جنگ سے ’سرجیکل سٹرائیک ٹُو‘ تک

    کہا جا رہا ہے کہ سنہ 1971 کی پاکستان انڈیا جنگ کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک میں سے کوئی ایک دوسرے کی فضائی حدود کے اندر داخل ہوا ہے اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ان دو ممالک میں کشیدگی میں اتنا زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم دوسری جانب ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان امن کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں۔

    سنہ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے براہ راست تصادم اور امن کوششوں کی ایک مختصر تاریخ یہاں ملاحظہ کیجیے۔

  5. بریکنگ, انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کا بیرونی دنیا سے رابطہ معطل, ریاض مسرور، نامہ نگار سری نگر

    پاکستان کی طرف سے انڈین ایئر فورس کا طیارہ گرانے اور دو پائلٹس کو گرفتار کرنے کے دعوے کے بعد سرینگر کے ہوائی اڈے کو سول پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ پر پروازیں معطل ہونے سے کشمیر کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہو گیا ہے۔

    خیال رہے کہ کشمیر کو بیرونی دنیا سے ملانی والی واحد شاہراہ خراب موسم کی وجہ سے پہلے سے ہی کئی روز سے بند ہے۔

    اُدھر راجوری اور پونچھ کے سرحدی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی بھی کر رہے ہیں۔

  6. انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی بریفنگ کچھ دیر میں

    پاکستان کی جانب سے دو انڈین طیارے مار گرائے جانے اور دو انڈین پائلٹس کے حراست میں لیے جانے کے دعووں اور ایک پائلٹ کی تصاویر جاری کیے جانے کے باوجود انڈین حکام تاحال اس معاملے پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔

    تاہم انڈین صحافی رضا الحسن کے مطابق انڈیا کے سیکریٹری خارجہ مقامی وقت کے مطابق سوا تین بجے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی تازہ صورتِحال پر صحافیوں سے بات کریں گے۔

  7. پاکستان کی فضائی حدود مکمل طور پر بند, طاہر عمران، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان نے اپنی فضائی حدود کمرشل پروازوں کے لیے بند کر دی ہیں جس کے بعد کمرشل اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک پروازیں نہیں اڑ سکیں گی۔

    دوسری جانب انڈیا سے مشرق وسطیٰ اور دوسری جانب جانے والے طیارے سرحد سے ہٹ کر گزر رہے ہیں جبکہ لیہے، جموں، سرینگر اور پٹھان کوٹ کی فضائی حدود کمرشل پروازوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے کئی کمرشل پروازیں رکی ہوئی ہیں یا واپس جارہی ہیں۔

  8. ’انڈیا نہیں چاہتا کہ پاکستان کے ساتھ حالات مزید خراب ہوں‘

    انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ ان کا ملک نہیں چاہتا کہ پاکستان کے ساتھ حالات مزید خراب ہوں۔

    سشما سوراج روس، چین اور انڈیا کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے چین گئی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔

  9. وزیراعظم عمران خان کا خطاب متوقع

  10. بریکنگ, ’انڈین قیادت حماقت پر مزید حماقت کی غلطی نہ کرے‘

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور ایوانِ زیریں میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کو اس کی جارحیت کا جواب مل گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے کہ نریندر مودی دانشمندی کی راہ اپنائیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سالمیت اور عزت و وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ و جدل مسائل کا حل نہیں ابھی بھی وقت ہے کہ بھارتی قیادت ہوش کے ناخن لے اور امن و مذاکرات کی راہ اپنائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انڈین قیادت حماقت پر مزید حماقت کی غلطی نہ کرے۔

  11. نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس کی اہمیت کیا ہے؟, عابد حسین، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں اس وقت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے۔

    یہ ادارہ کیا ہے، اس میں کون لوگ شامل ہیں اور اس کی اتنی کیا اہمیت ہے کہ سخت کشیدگی کی حالات میں وزیر اعظم نے اس کا اجلاس طلب کیا ہے؟

  12. بریکنگ, فوجی نقل و حرکت کی ویڈیوز شیئر نہ کریں

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان کی وزارت داخلہ نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ آبادی والے علاقوں میں رہنے والے افراد کو متنبہ کیا ہے کہ موجودہ صورت حال میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی نقل حرکت سے متعلق کوئی ویڈیو یا تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں۔

    وزارت داخلہ کی طرف سے سیالکوٹ ، پسرور اور ناروال کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں جاری کیے گئے احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں بھی ایسی ہی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی نقل وحرکت کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے دشمن کو ان کی کارروائیوں کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں۔

  13. انڈیا کو جواب، پاکستان کے آپشنز کیا ہیں؟, عاصمہ شیرازی، صحافی

    14 فروری سے لے کر 25 فروری، پلوامہ واقعے سے بالاکوٹ حملے تک انڈیا نے ایک فضا بنائی، اندرونی اور بیرونی رائے عامہ ہموار کی اور سفارتی گھنٹیاں بجائیں۔

    یہاں تک کہ سعودی شہزادے کے دورے کے دوران پاکستان کے بہترین دوست سے پاکستان مخالف بیان دلوانے کی بھرپور مہم چلائی گئی اور میڈیا اور عوام کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا مگر خاطر خواہ کامیابی نا ملی۔ انڈیا کی سفارتی سطح پر واویلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کرنے کے باوجود دہلی میں موجود کم و بیش 150 سے زائد سفارتی مشنز کے نمائندوں اور سربراہ کو ہنگامی طور پر بلا کر بریفنگ دی گئی۔

  14. بریکنگ, زیرِ حراست انڈین پائلٹ کی تصاویر جاری

    پاکستانی فوج نے حراست میں لیے گئے انڈین پائلٹ کی تصاویر جاری کی ہیں

  15. بریکنگ, فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس

  16. ’جنگ مسائل کا حل نہیں‘

    میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں۔ ان کے مطابق ہماری کارروائی کا مقصد انڈیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ انڈیا کو ٹھنڈے دل سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرف جانا چاہتا ہے۔ ہم کسی صورت دونوں ممالک اور اس خطے کو جنگ کی طرف لے کر نہیں جانا چاہتے۔

  17. بریکنگ, پاکستان نے ایف 16 طیارے استعمال ہی نہیں کیے

    فوجی ترجمان نے اس انڈین دعوے کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان کا ایک ایف 16 طیارہ انڈیا نے مار گرایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس کارروائی میں کوئی ایف 16 استعمال نہیں کیا اور نہ ہی کوئی ایف 16 گرنے کی اطلاع ہے

  18. بریکنگ, دو انڈین پائلٹس زیرِ حراست

    پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق دو انڈین پائلٹس کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے ایک زخمی ہے جسے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ دوسرا تحویل میں ہے۔

  19. انڈین طیارے پاکستانی طیاروں سے کیسے بچ گئے؟, حسین عسکری، بی بی سی اردو سروس، لندن

    منگل کو پاکستانی فوج نے تصدیق کی کہ انڈیا کے جنگی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستانی طیاروں کے فضا میں آنے کے بعد وہ جلدبازی میں اپنے بم گرا کر واپس چلے گئے۔

    دوسری جانب انڈیا نے کہا کہ اس نے اپنی ایک فضائی کارروائی میں بالاکوٹ کے علاقے میں کالعدم شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔

    اِسی تناظر میں ہم نے کچھ بنیادی سوالات کے جوابات کے لیے پاکستانی ایئرفورس کے سابق اہلکار ایئر مارشل مسعود اختر سے بات کی۔

  20. بتانا مقصود تھا کہ پاکستان کے پاس صلاحیت ہے مگر ہم جنگ نہیں چاہتے

    میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے محفوظ فاصلے سے بھمبر، ناریان سیکٹر میں چھ انڈین اہداف کو لاک کیا لیکن انھیں نشانہ نہیں بنایا بلکہ کھلی جگہوں پر بمباری کی۔

    ان کے مطابق یہ بتانا مقصود تھا کہ پاکستان کے پاس صلاحیت ہے مگر ہم جنگ نہیں چاہتے۔

    آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستانی کارروائی کے بعد انڈین فضائیہ کے دو جہاز ایک مرتبہ پھر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے جنھیں لڑائی کے بعد مار گرایا گیا۔