آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بالاکوٹ حملہ، پاکستانی جواب، انڈین طیارے کی تباہی، پائلٹ کی گرفتاری اور رہائی: کب کیا ہوا؟
پاکستانی حکام نے انڈین پائلٹ ابھینندن کو ابس ے کچھ دیر پہلے واہگہ بارڈر پر انڈین حکام کے حوالے کردیا ہے۔ ابھینندن کے استقبال کے لیے انڈین بارڈر پر عوام کی بڑی تعداد موجود ہے۔
لائیو کوریج
ذیشان حیدر، طاہر عمران، حسن زیدی شجاع ملک، حمیرا کنول
’اٹاری پر سینکڑوں لوگ ابھینندن کے منتظر‘, سربجیت سنگھ دھالیوال، بی بی سی، اٹاری
انڈیا پاکستان سرحد پر اٹاری کے مقام پر ونگ کمانڈر ابھینندن کی متوقع آمد کے سلسلے میں انڈین سائڈ پر سینکڑوں لوگ موجود ہیں۔
اٹاری کے مقام پر تقریباً دو سو لوگ اس وقت موجود ہیں اور بھاری سکیورٹی تعینات کی گئی ہے۔
وہاں انڈین باڈر سیکیورٹی کے علاوہ انڈین فضائیہ کی گاڑیاں بھی موجود ہیں۔
تاہم وہاں پر موجود لوگوں کے پاس ونگ کمانڈر ابھینندن کی آمد کے حوالے سے وقت یا دیگر خاص تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
انڈین وزیرِ خارجہ کا او آئی سی اجلاس سے خطاب
انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق سشما سوراج نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی مذہب کے خاف محاذ آرائی نہیں ہے۔
’اسلام کا مطلب امن ہے۔ اللہ کے 99 ناموں میں سے کسی کا بھی مطلب تشدد نہیں۔دنیا کا ہر مذہب امن، محبت اور بھائی چارے کے لیے کھڑا ہے۔‘
انڈیا کو پاکستانی فضائیہ کے بارے میں کیا جاننا ضروری ہے؟, جگل پروہت، بی بی سی، دہلی
رائل پاکستان ایئرفورس اپنی ابتدائی تاریخ کی تلخ یادوں کو کچھ اس طرح بیان کرتی ہے۔ 'انھوں (انڈیا) نے برطانیہ کے ملک سے جانے کے وقت ہمیں دفاعی سازو سامان، طیاروں اور اسلحے کے جس چھوٹے سے حصہ کا وعدہ کر رکھا تھا، ہمیں اس سے بھی محروم رکھا گیا۔‘
آخر میں ہمیں انڈیا سے ناکارہ پرزوں سے بھرے صندوق ملے، جن کا کوئی استعمال نہیں ہو سکتا تھا۔
اس نوزایدہ فضائیہ کے سفر کا آغاز اس وقت ہوا جب اس نے سنہ 1947 میں کشمیر میں انڈیا اور پاکستان کی لڑائی میں فوجیوں اور ان کے سازوسامان کو وہاں پہنچانا شروع کیا۔
پھر سنہ 1965 اور سنہ 1971 کی جنگوں میں انڈین ایئر فورس اور پاکستان ایئر فورس، دونوں نے بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ دونوں فضائیہ کے پرانے افسران اپنی اپنی بہادری اور مہارت کے جو قصے سناتے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کی فضائیہ نے ان جنگوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
آج پاکستان ایئر فورس کا سب سے کارآمد ہتھیار دو طیارے ہیں۔ امریکہ سے حاصل کردہ ایف سولہ اور کچھ عرصہ پہلے منظر عام پر آنے والا چینی مدد سے تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر۔ پاکستان ایک ففتھ جنریشن طیارہ بھی تیار کر رہا ہے لیکن اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔
فضائی حدود کی بندش تیسرے روز بھی جاری, طاہر عمران، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی فضائی حدود کی بندش تیسرے روز بھی جاری ہے اور سول ایوی ایشن حکام کے مطابق فضائی حدود کھلنے میں مزید کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
موجودہ نوٹیفیکیشن مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے تک کے لیے نافذالعمل ہے مگر متعدد ایئرلائنز نے اپنی پروازیں یا تو منسوخ کی ہیں یا ان کا وقتِ روانگی بڑھا دیا ہے۔
پاکستان کی نجی فضائی کمپنی سرین ایئر نے اپنے مسافروں کو پیغام دیا ہے کہ ’ہماری آج کی تمام پروازیں مزید تین گھنٹے کے لیے تاخیر کا شکار ہیں۔‘ تاہم حتمی وقت کے بارے میں ابھی بھی کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔
شاہ محمود قریشی او آئی سی میٹنگ میں کیوں نہیں شامل ہو رہے؟
’میڈیا کو آگے نہیں جانے دیا جا رہا‘
نامہ نگار موسیٰ یاوری کے مطابق واہگہ بارڈر چیک پوسٹ سے میڈیا کے نمائندوں کو آگے نہیں جانے دیا جا رہا۔
ان کے مطابق رینجرز کے اہلکار نے صحافیوں کو ہدایت کی ہے کہ ’کیمرے بند کر کے گاڑیوں میں واپس رکھ دیں۔‘
انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کیسے کی جائے؟, منزہ انور، بی بی سی اردو، اسلام آباد
سنہ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران سینکڑوں انڈین فوجیوں کی ہلاکت کہ بعد حالات اتنے کیسے بدلے کہ محض دو سال بعد اُس وقت کے انڈین وزیرِاعظم پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو جنرل مشرف سے آگرہ میں مذاکرات پر رضامند ہوگئے؟
خورشید قصوری کہتے ہیں ’اس دفعہ پاکستان نے یہ شروع نہیں کیا۔‘
پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کی تاریخ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’انڈیا بہت عرصے سے ایک بڑی طاقت کے طور پر اپنی پوزیشن بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن چونکہ وہ مسئلہ کشمیر نہیں حل کر رہا اور پاکستان کے ساتھ اس کی جارحانہ پالیسی ہے تو وہ یہ کردار نہیں ادا کر پا رہا جب تک کہ وہ پاکستان سے نمٹ نہ لے یا مسئلہ کشمیر نہ حل کر لے۔‘
’انڈیا میں بہت سے لوگوں کو اندازہ ہو گیا ہے کہ یہ پالیسی کارآمد نہیں ہے، لیکن وزیرِاعظم مودی کے سر پر الیکشن سوار ہے اور گجرات سے ان کی یہی پالیسی رہی ہے کہ جتنی ہندو-مسلمان اور انڈیا-پاکستان دشمنی ہو گی، وہ اتنی آسانی سے اپنے ووٹ حاصل کرلیں گے۔ جیسے امریکہ کے صدر ٹرمپ کوشش کرتے ہیں کہ چاہے ساری دنیا ان کو برا بھلا کہتی رہے لیکن ان کا ووٹر ان کی بات سنتا ہے، تو مودی صاحب کا بھی یہ خیال ہے کہ اس قسم کے بیانات سے وہ آنے والے الیکشن میں اپنے ووٹ پختہ کرسکتے ہیں۔‘
خورشید قصوری کا خیال ہے کہ انڈیا نے وزیراعظم عمران خان کی تقریر کے بعد لائن آف کنٹرول عبور کر کے اور فضائی حملہ کر کے ایک نئی طرح کا خطرہ مول لیا ہے۔
یاد رہے گذشتہ ہفتے پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے انڈیا کو پلوامہ میں خودکش حملے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ اگر انڈیا نے پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی تو اس کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ابھینندن کی حوالگی کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست
انڈین ایئرفورس کے پائلٹ ابھینندن کی حوالگی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جناب جسٹس اطہر من اللہ بارہ بجے درخواست کی سماعت کریں گے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست گزار بیرسٹر شعیب رزاق نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ ابھینندن کو انڈیا کے حوالے کرنے سے فوری طور پر روکا جائے۔
درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ابھینندن کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اور اس میں وزیر اعظم، وزارت خارجہ، وزارت دفاع کو فریق بنایا گیا ہے۔
’پائلٹ کی انڈیا واپسی آج دوپہر ہوگی‘, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو، لاہور
پاکستان میں بدھ کے روز پکڑے جانے والے انڈین پائلٹ ابھینندن کو جمعہ کی دوپہر واہگہ بارڈر کے راستے انڈین حکام کے حوالے کیا جائے گا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران امن کے پیغام کے طور پر ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔
انڈین پائلٹ کو واہگہ بارڈر پر پاکستان میں موجود انڈین ہائی کمیشن کے حکام کی موجودگی میں انڈیا کے حوالے کیا جائے گا۔ پاکستانی حکام کی طرف سے سرکاری طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انڈین پائلٹ کو جمعہ کے روز کس وقت انڈین حکام کے حوالے کیا جائے گا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق ’انڈین پائلٹ کو آج واہگہ سے انڈین حکام کے حوالے کیا جائے گا۔‘ انھوں نے وقت نہیں بتایا تاہم ان کا کہنا تھا کہ انڈین پائلٹ ابھی نندن کو دوپہر میں کسی وقت انڈیا کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد واہگہ بارڈر پر موجود ہے تاہم انہیں مرکزی دراوزے سے اندر جانے کی تاحال اجازت نہیں دی گئی۔
پنجاب رینجرز کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ذرائع ابلاغ کو مدعو کرنے کے حوالے سے احکامات موصول نہیں ہوئے۔ پاکستان نے بدھ کے روز انڈیا کا طیارہ مار گرایا تھا جس کے پائلٹ ابھی نندن کو پاکستانی فوج نے کشمیر کے علاقے سے حراست میں لے لیا تھا۔
اس کے بعد ان کی تین ویڈیوز بھی سامنے آئیں تھیں۔ آخری ویڈیو میں انہیں چائے پیتے ہوئے پاکستانی فوج کے افسران کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ پاکستانی افواج کے حکام کا کہنا تھا کہ انڈین پائلٹ کے ساتھ عسکری اخلاقیات کے مطابق برتاؤ کیا جا رہا تھا۔
انڈین پائلٹ ابھینندن کے حراست میں لیے جانے کے بعد سے پاکستان میں چند عوامی حلقوں کی جانب سے انہیں رہا کرنے کے مطالبات سوشل میڈیا اور مختلف شہروں میں منعقد کی گئی امن ریلیوں کے دوران سامنے آ چکے ہیں۔ ان کی رہائی کے حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کرنے سے پاکستان کی جانب سے امن کا پیغام جائے گا۔‘
’او آئی سی اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا‘
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی میٹنگ کو بائیکاٹ کرنے کا اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا ہے۔
یکم مارچ سے 2 مارچ 2019 کو ابو ظہبی میں منعقد ہونے والی آرگنائیزیشن آف اسلامک کارپوریشن کے 46ویں سیشن کا افتتاح متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زاہد النیہان کریں گے۔ اس سال کی میٹنگ کا موضوع ہے اسلامی تعاون کے 50 سال۔
آئی او سی کی طرف سے اس میٹنگ میں انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سواراج کو مہمان خصوصی کے طور پر بلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
پاکستان اور انڈیا کے موجودہ حالات کے پیشِ نظر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 26 فروری کو او آئی سی کی میٹنگ میں ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سواراج کو بطور مہمان خصوصی مدعو کرنے پر خط لکھا تھا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انھوں نے متحدہ عرب امارات کو درخواست دی تھی کہ وہ انڈین وزیر خارجہ کو بلانے کے فیصلے پر نظرِثانی کرے۔ ’میں نے معزز ممبران پارلیمنٹ کے جذبات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انھیں دوبارہ لکھا کہ آپ انڈیا کا دعوت نامہ منسوخ کر دیں ورنہ میری شمولیت ممکن نہیں ہو گی۔‘
شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن النیہان نے ان سے کہا کہ انڈیا کو دعوت نامہ پلوامہ واقعے سے پہلے بھیجا گیا تھا اور اگر واقعہ اس وقت تک ہو چکا ہوتا تو سوچ کچھ اور ہوتی۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انھوں نے آئی او سی میٹنگ موخر کرنے کی بھی استدعا کی۔ ان کا مزید کہنا تھا `ہماری وہاں 19 قراردادیں ہیں وہاں ہمارے نمائندے موجود ہوں گے اگر انڈیا کو آبزرور کا سٹیٹس دینے کی کوشش کی گئی تو اس پر احتجاج کریں گے۔
عرب امارات کے ولی عہد کی عمران خان کو مبارکباد
متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فونک رابطے میں انھیں پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے کیے جانے والے خطاب پر مبارکباد دی۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق یو اے ای کی ولی عہد نے عمران خان کی جانب سے پرامن طریقے سے معاملے کے حل کی تعریف کی۔
بریکنگ, ہم نے بھی ایک پاکستانی ایف 16 طیارہ مار گرایا ہے: انڈین فضائیہ
انڈین فضائیہ کے ترجمان ایئر وائس مارشل کپور نے نئی دہلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کی صبح پاکستان کی جانب سے انڈین عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کے بعد ہونے والی لڑائی میں ایک پاکستانی ایف 16 طیارہ بھی گرایا گیا ہے۔
ایئر وائس مارشل کپور کے مطابق یہ طیارہ ایل او سی کے پار پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حدود میں گرا تھا۔
فائرنگ سے چار شہری ہلاک، دو زخمی
پاکستان کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ انڈین فائرنگ سے چار عام شہری ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باعث پاکستانی فوج ایل او سی پر ہائی الرٹ پر ہے اور وہ کسی بھی انڈین جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے دی گئی اپ ڈیٹ کے مطابق گذشتہ 48 گھنٹوں میں انڈین فوجیوں نے ایل او سی پر کوٹلی، کھوئی رتا اور تتا پانی سیکٹرز میں فائرنگ کی جس کا پاکستانی فوج نے مؤثر جواب دیا ہے۔
’جنگ جواب نہیں‘
لاہور کے علاوہ کراچی میں بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالات کی کشیدگی کو ختم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے ریلی نکالی گئی۔ جس میں ایک پیغام یہ بھی تھا کہ جنگ جواب نہیں ہے۔
’مجھے انڈیا سے نہیں جنگ سے نفرت ہے‘
لاہور میں سول سوسائٹی کی جانب سے جنگ کے خلاف اور امن کے حق میں ریلی نکالی گئی۔ دیکھیے تصویری جھلکیاں۔
’آپ کی مہربانی ہو گی ہمیں پیدل ہی انڈیا جانے دیں‘
پاکستان میں آئے ہوئے سمجھوتہ ایکپریس کے مسافر واپسی کے منتظر ہیں۔ لاہور سے ہمارے ساتھی فرقان الہیٰ نے کچھ مسافروں سے بات کی۔
’پاکستان میں کیمپوں کے دعوے بے بنیاد ہیں‘
پاکستان میں قائدحزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں آخر کار فریقین کو صلح کرنا پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر بھارتی الزامات مودی کے انتخابی ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ کل پاکستان فضائیہ کے شاہینوں نے 1965 کی جنگ کی یاد تازہ کر دی۔ ہماری مسلح افواج عوام کے تحسین کے حقدار ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ انڈیا کشمیریوں کا خون پانی کی طرح بہا رہا ہے۔ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
بریکنگ, انڈین پائلٹ کی رہائی کا اعلان
پاکستان کے وزیراعظم نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں انڈیا کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو کل یعنی جمعے کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے ایوان کو بتایا کہ ’آج انڈیا نے پلوامہ کے بارے میں ڈویزئیر بھیجا ہے مگر اس سے پہلے انھوں نے حملہ کیا۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ہم تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہمیں حملے کا پتا چلا مگر چونکہ ہمیں علم نہیں تھا کہ کتنا نقصان ہوا ہے تو ذمہ دار ریاست کا ثبوت دیتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا کہ انتظار کیا جائے اگرچہ ہمیں پتا تھا کہ عوام کا دباؤ ہو گا۔ ہماری کوشش ہے کہ جاری کشیدگی کو کم کیا جائے۔ ان کو سمجھنا چاہیے کہ کیا ظلم کے ذریعے وہ کشمیر کو قابو میں رکھ لیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’20 سال پہلے کشمیری لیڈر علیحدگی نہیں چاہتے تھے مگر اب کشمیری آزادی کے علاوہ کچھ اور نہیں چاہتے۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ کیوں ایک 19 سال کے نوجوان کو موت کا خوف ختم ہوا۔ انڈیا میں کشمیر کے معاملے پر بات چیت کی ضرورت ہے۔ کیا آپ ہمیشہ پاکستان پر انگلیاں اٹھائیں گے؟ جس طرح کے ہتھکنڈے موجودہ حکومت استعمال کر رہی الیکشن کے لیے انڈیا کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کے اس خطے میں امن ہو۔ جنگ نہ پاکستان کو فائدہ دیتی ہے نہ انڈیا کو۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’میں نے کل بھی مودی سے بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس عمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ میں انڈیا کو کہنا چاہتا ہوں کے آپ مزید کوئی کارروائی نہ کریں کیونکہ ایسی صورت میں ہم بھی کارروائی پر مجبور ہوں گے۔‘