گذشتہ
سال جولائی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپرز کے مقدمے کا فیصلہ
سنائے جانے کے بعد قومی احتساب بیورو نے دو ماہ بعد ستمبر میں سابق
وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف کے خلاف تین ریفرنسز دائر کیے تھے۔
ان تین
میں سے پہلا کیس ایون فیلڈ ریفرنس تھا جس کا فیصلہ اس سال جولائی میں احتساب عدالت
کی جانب سے آیا اور اس کے مطابق نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور ان کے داماد کیپٹین
ریٹائرڈ صفدر کو قید اور جرمانے کی سزا دی تھی۔
اسلام
آباد ہائی کورٹ نے ستمبر میں اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد نواز شریف،
مریم نواز اور کیپٹن صفدر قید سے باہر آ گئے۔
اپریل
2016 میں پاناما پیپرز کی مدد سے سامنے آنے والی ایون فیلڈ پراپرٹی لندن کے مہنگے
ترین علاقے مے فئیر اور پارک لین کے نزدیک واقع چار اپارٹمنٹ ہیں جو کہ نوے
کی دہائی سے شریف خاندان کے زیر استعمال ہے۔
شریف
خاندان پر الزام ہے کہ انھوں نے اس پراپرٹی کو غیر قانونی ذرائع کی مدد سے حاصل کی
گئی رقم سے خریدا ہے۔
لیکن شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ ایون
فیلڈ پراپرٹی 1993 سے لے کر 2006 تک قطر کے شاہی خاندان کی ملکیت تھی لیکن شریفوں
نے وہاں رہائش اختیار کی تھی جس کے لیے وہ وہاں کے کرائے اور دوسرے اخراجات خود
اٹھاتے تھے۔
خاندان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں
ہیں کیونکہ یہ ایک غیر رسمی معاہدہ تھا جسے کرنے والے دونوں افراد، محمد شریف اور
موجودہ قطری حکمران کے والد شیخ جاسم بن جبر الثانی فوت ہو چکے ہیں۔
شریف خاندان کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں میں قطری شہزادے
حماد کا خط بھی اسی بیان کی تصدیق کرتا ہے جس کے مطابق 2005 میں اسی لاکھ امریکی
ڈالر کے عوض اس پراپرٹی کا معاہدے طے پا گیا تھا اور اس کی ملکیت شریف خاندان کے
زیر انتظام چلائے جانے والے ٹرسٹ کے پاس چلی گئی تھی۔
اس کی مد
میں رقم شریف خاندان نے 2006 میں سعودی عرب میں اپنی پیپر مل کی فروخت کی مدد سے
حاصل کی تھی۔
اس
ریفرنس میں خاص بات یہ سامنے آتی ہے کہ تمام اثاثوں کی خرید و فروخت اور لین دین
میں نواز شریف کا نام خود کسی بھی حیثیت میں نہیں آیا۔
لیکن جے
آئی ٹی اور نیب حکام دونوں نے اپنی تفتیش میں اس بات پر زور دیا کہ نواز شریف کے
دونوں صاحبزادے، حسین اور حسن نواز کم عمر تھے اس لیے نواز شریف نے ہی انھیں
کاروبار کے لیے رقم فراہم کی تھی۔
جے آئی
ٹی رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کیونکہ نواز شریف کا اپنے دورہ لندن کے دوران
ایون فیلڈ اپارٹمنٹ استعمال کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ان کی ملکیت ہے۔