نواز شریف کو العزیزیہ ریفرینس میں سات برس قید: کب کیا ہوا؟

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل مل کیس میں سات برس قید اور تقریباً دو کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے مساوی جرمانے کی سزا سنائی ہے جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرینس میں انھیں بری کر دیا گیا ہے:بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔

لائیو کوریج

  1. العزیزیہ ریفرینس میں کب کیا ہوا؟, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    حسین نواز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنعدم حاضری پر حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیا گیا
    • العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کے ٹرائل کے دوران احتساب عدالت میں 22 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے
    • اس ریفرینس میں نواز شریف کی عدم موجودگی میں 19 اکتوبر کو ان کے نمائندے ذریعے ان پر فرد جرم عائد کی گئی اور ملزم کی طرف سے صحت جرم سے انکار کیا گیا۔
    • 8 نومبر کو نواز شریف کی پانچویں پیشی کے موقع پر دوبارہ ان کی موجودگی میں فرد جرم عائد کی گئی تاہم ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا۔
    • عدم حاضری پر حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیا گیا۔
    • فرد جرم کے مطابق نواز شریف کے اثاثے ظاہر کردہ آمدن سے زائد ہیں اور آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ گلف اسٹیل ملز کی فروخت کا معاہدہ درست نہیں، متحدہ عرب امارات سے نوٹرائزیشن کا ریکارڈ نہیں مل سکا ۔
    • حسن نواز 1994 سے 1999 تک برطانیہ میں طالبعلم اور زیر کفالت تھے جن کے کوئی ذرائع آمدن نہ تھے ۔ خاندان کے افراد کے درمیان بھاری رقوم کا بطور تحائف تبادلہ ہوا جو قابل جواز نہیں۔
  2. ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا کس بنیاد پر ہوئی؟, عابد حسین، بی بی سی اردو

    ،ویڈیو کیپشنلندن کے علاقے پارک لین میں واقع ایون فیلڈ فلیٹس کے بارے میں مزید جانیے۔

    نو ماہ اور 107 سماعتوں پر محیط احتساب عدالت میں جاری اس مقدمے کا فیصلہ اس سال چھ جولائی کو آیا جب نواز شریف اپنی بیمار اہلیہ کے ساتھ مریم نواز کے ہمراہ لندن میں مقیم تھے۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق نواز شریف پر یہ الزام ثابت نہ ہو سکا کہ انھوں نے دوران حکومت اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی رقم بنائی لیکن نیب قوانین کے تحت انھیں معلوم ذرائع سے زیادہ آمدن رکھنے کے جرم میں دس سال جیل ہوئی جبکہ ایک سال جیل نیب حکام سے تعاون نہ کرنے پر ہوئی۔ اس کے علاوہ ان پر اسی لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

  3. ان دونوں ریفرنسز اور ایون فیلڈ ریفرنس میں کیا فرق ہے؟, عابد حسین، بی بی سی اردو

    گذشتہ سال جولائی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپرز کے مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد قومی احتساب بیورو نے دو ماہ بعد ستمبر میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف کے خلاف تین ریفرنسز دائر کیے تھے۔

    ان تین میں سے پہلا کیس ایون فیلڈ ریفرنس تھا جس کا فیصلہ اس سال جولائی میں احتساب عدالت کی جانب سے آیا اور اس کے مطابق نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور ان کے داماد کیپٹین ریٹائرڈ صفدر کو قید اور جرمانے کی سزا دی تھی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ستمبر میں اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر قید سے باہر آ گئے۔

    اپریل 2016 میں پاناما پیپرز کی مدد سے سامنے آنے والی ایون فیلڈ پراپرٹی لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فئیر اور پارک لین کے نزدیک واقع چار اپارٹمنٹ ہیں جو کہ نوے کی دہائی سے شریف خاندان کے زیر استعمال ہے۔

    شریف خاندان پر الزام ہے کہ انھوں نے اس پراپرٹی کو غیر قانونی ذرائع کی مدد سے حاصل کی گئی رقم سے خریدا ہے۔

    لیکن شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ ایون فیلڈ پراپرٹی 1993 سے لے کر 2006 تک قطر کے شاہی خاندان کی ملکیت تھی لیکن شریفوں نے وہاں رہائش اختیار کی تھی جس کے لیے وہ وہاں کے کرائے اور دوسرے اخراجات خود اٹھاتے تھے۔

    خاندان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہیں کیونکہ یہ ایک غیر رسمی معاہدہ تھا جسے کرنے والے دونوں افراد، محمد شریف اور موجودہ قطری حکمران کے والد شیخ جاسم بن جبر الثانی فوت ہو چکے ہیں۔

    شریف خاندان کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں میں قطری شہزادے حماد کا خط بھی اسی بیان کی تصدیق کرتا ہے جس کے مطابق 2005 میں اسی لاکھ امریکی ڈالر کے عوض اس پراپرٹی کا معاہدے طے پا گیا تھا اور اس کی ملکیت شریف خاندان کے زیر انتظام چلائے جانے والے ٹرسٹ کے پاس چلی گئی تھی۔

    اس کی مد میں رقم شریف خاندان نے 2006 میں سعودی عرب میں اپنی پیپر مل کی فروخت کی مدد سے حاصل کی تھی۔

    اس ریفرنس میں خاص بات یہ سامنے آتی ہے کہ تمام اثاثوں کی خرید و فروخت اور لین دین میں نواز شریف کا نام خود کسی بھی حیثیت میں نہیں آیا۔

    لیکن جے آئی ٹی اور نیب حکام دونوں نے اپنی تفتیش میں اس بات پر زور دیا کہ نواز شریف کے دونوں صاحبزادے، حسین اور حسن نواز کم عمر تھے اس لیے نواز شریف نے ہی انھیں کاروبار کے لیے رقم فراہم کی تھی۔

    جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کیونکہ نواز شریف کا اپنے دورہ لندن کے دوران ایون فیلڈ اپارٹمنٹ استعمال کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ان کی ملکیت ہے۔

  4. فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کیا ہے؟, عابد حسین، بی بی سی اردو

    العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس سے ملتا جلتا دوسرا ریفرنس فیلگ شپ انویسٹمنٹ کا ہے جو کہ محمد نواز شریف کے چھوٹے بیٹے حسن نواز نے برطانیہ میں سنہ 2001 میں قائم کی تھی۔

    نواز شریف اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے بیٹے کے کاروبار سے کسی قسم کا کوئی لینا دینا رکھا تھا لیکن نیب کا کہنا ہے کہ وہ اس کمپنی کے بورڈ کے چیئرمین رہے ہیں۔

    فلیگ شپ انویسٹمنٹ سمیت حسن نواز نے دس اور کمپنیاں قائم کی ہوئی تھیں جن کے پاس لندن کے چند مہنگی ترین جائیدادیں تھیں جن میں سے ایک ’ون ہائیڈ پارک پلیس‘ شامل ہے، جس کی مالیت تقریباً پانچ کروڑ برطانوی پاؤنڈ لگائی گئی ہے۔

    احتساب عدالت کو اس ریفرنس میں یہ معلوم کرنا تھا کہ حسن نواز کے پاس اس کمپنی کو قائم کرنے کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا اور نواز شریف کے اس میں کیا کردار ہے۔

    واضح رہے کہ نواز شریف کی جانب سے متعین کیے گئے مرکزی وکیل خواجہ حارث نے ان سماعتوں کے دوران مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ان تینوں ریفرنس میں تقریباً 60 فیصد گواہان اور شواہد ایک ہی ہیں اس لیے ان کو ایک ساتھ سنا جائے لیکن عدالت نے ایسا نہیں کیا۔

    البتہ ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے بعد باقی دونوں ریفرنسز کو یکجا کر دیا گیا۔

  5. العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس کیا ہے؟, عابد حسین، بی بی سی اردو

    مقدمے کی تفصیلات میں جائیں تو بظاہر العزیزیہ سٹیل ملز نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے 2001 میں سعودی عرب میں قائم کی تھی جس کے انتظامی امور نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز چلا رہے تھے۔

    شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ سٹیل مل لگانے کے لیے کچھ سرمایہ سعودی حکومت سے لیا گیا تھا۔

    البتہ نیب کے وکلا کا کہنا ہے کہ شریفوں کے دعوے کسی بھی دستاویزی ثبوت سے بغیر ہیں اور یہ علم نہیں کہ اس مل کے لیے رقم کہاں سے آئی۔ ان کا دعوی ہے کہ شریف خاندان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقم حاصل کر کے اس مل کے لیے سرمایہ لگایا۔

    حسین نواز کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے دادا سے پچاس لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم دی گئی تھی جس کی مدد سے انھوں نے العزیزیہ سٹیل ملز قائم کی۔ ان کے مطابق اس مل کے لیے زیادہ تر سرمایہ قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے محمد شریف کی درخواست پر دیا گیا تھا۔

    اس ریفرنس کی تفتیش کرنے کے لیے قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز کے اصل مالک نواز شریف خود ہیں۔

    نیب حکام کا نواز شریف کے خلاف دعویٰ ہے کہ انھوں نے حسین نواز کی کمپنیوں سے بڑا منافع حاصل کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مالک وہ ہیں، نہ کہ ان کے بیٹے۔

    واضح رہے کہ اس ریفرنس کی سماعتوں کے دوران نیب کے حکام اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

  6. ریفرینس کن کن کے خلاف ہے؟

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ان دونوں ریفرینسز میں نواز شریف کے علاوہ ان کے دونوں بیٹے حسن اور حسین نواز بھی ملزمان ہیں۔ حسن اور حسین نواز دونوں اس وقت پاکستان سے باہر ہیں جبکہ نواز شریف ایون فیلڈ ریفرینس میں سزا کی معطلی کے بعد فی الحال جیل سے باہر ہیں

  7. العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرینسز کا فیصلہ آج

    اسلام آباد کی احتساب عدالت قومی احتساب بیورو کی جانب سے گذشتہ سال ستمبر میں ملک کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف دائر کیے گئے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس اور فیلگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسزکا فیصلہ 24 دسمبرکو سنا رہی ہے۔