نواز، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی رہائی، کب کیا ہوا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اڈیالہ جیل سے رہا ہوگئے ہیں اور جلد لاہور روانہ ہو جائیں گے۔

لائیو کوریج

عابد حسین، حسن زیدی، طاہر عمران

  1. ’طویل قحط کے بعد کچھ قانون‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. سوالات ایک جیسے لیکن فیصلے مختلف؟

    صحافی جبران پیش امام نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’یہ اہم بات ہے کہ جو سوالات اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹھائے تھے، وہی سوالات نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے احتساب عدالت میں کیے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو قانونی نکتے احتساب عدالت نے رد کر دیے، ہائی کورٹ نے انھیں تسلیم کیا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. مسلم لیگ ن کے رہنما مجتبیٰ شجاع الرحمان کی ماڈل ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگو

    ،ویڈیو کیپشنمسلم لیگ ن کے رہنما مجتبیٰ شجاع الرحمان کی ماڈل ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگو
  4. ’بالآخر انصاف کا بول بالا‘

    پاکستان مسلم لیگ کے رہنما سینیٹر مشاہد حسین نے ٹویٹ میں کہا کہ ’بالآخر انصاف ہو گیا۔ احتساب عدالت کا فیصلہ کمزور اور غلط تھا۔ نواز شریف اور ان کے خاندان نے ان مشکلات کا ڈٹ کر سامنا کیا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. لیگی کارکنان میں فیصلے کے بعد خوشی کی لہر

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. ’عدلیہ نے اپنے مضبوط ہونے کا ثبوت دیا ہے‘

    تجزیہ کار مشرف زیدی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’احتساب عدالت کا سخت فیصلہ اب معطل ہو گیا ہے اور عدلیہ نے ثابت کر دیا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں وہ کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. چھ جولائی کو احتساب عدالت کا فیصلہ کیا تھا؟

    یاد رہے کہ 6 جولائی کو شریف خاندان کے خلاف نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد) اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ (30 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  8. ’سزا کی معطلی کا کیا مطلب ہے؟‘

    صحافی مہرین زہرا ملک نے ٹوئٹر پر سوال اٹھایا ہے کہ اس فیصلے کا کیا مطلب ہے اور کیا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا صرف ان کو 25 جولائی کے انتخابات سے دور رکھنے کے لیے تھی یا اس کا مقصد انھیں مستقل سیاست سے دور رکھنے کے لیے تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر نواز شریف کے حامیوں کا جشن

    ،ویڈیو کیپشناسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر نواز شریف کے حمایتیوں کا جشن
  10. ’حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے کے لیے ہی ہے‘

    پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے سزا کی معطلی کے فیصلے کے بعد اپنی ٹویٹ میں قرآن کی آیت کا حوالہ دیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. بریکنگ, ’اپیلوں پر فیصلہ آنے تک سزائیں معطل رہیں گی`

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست دہندگان کی اپیلوں پر فیصلہ آنے تک سزائیں معطل رہیں گی جبکہ سزا معطلی کی وجوہات تفصیلی فیصلے میں بتائی جائیں گی۔

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

  12. بریکنگ, نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔

    جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن پر مشتمل ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواست منظور کرتے ہوئے مختصر فیصلہ سنایا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست دہندگان کی اپیلوں پر فیصلہ آنے تک سزائیں معطل رہیں گی جبکہ سزا معطلی کی وجوہات تفصیلی فیصلے میں بتائی جائیں گی۔

    نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 5، 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا۔