آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

وفاق اور تین صوبوں میں حکومت سازی کا پہلا مرحلہ مکمل

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی کے علاوہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے حلف اٹھا لیا ہے جبکہ پنجاب میں یہ عمل 15 اگست کو ہوگا۔

لائیو کوریج

  1. پنجاب کے علاوہ دیگر تین صوبوں میں حکومت سازی کا پہلا مرحلہ بھی آج

    پیر کو قومی اسمبلی کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ اسمبلی کا اجلاس بھی منعقد ہو رہا ہے جس میں نومنتخب صوبائی اسمبلیوں کے ارکان حلف اٹھائیں گے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف، سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی اور بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی ایوان میں سب سے بڑی جماعتوں کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

  2. اسمبلی کے اجلاس میں کیا ہو گا؟

    • قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں صبح دس بجے شروع ہو گا جس میں وہ نومنتخب ارکان اسمبلی سے حلف لیں گے۔ شیڈول کے مطابق حلف برادری کے بعد ارکان اسمبلی بار باری رولز آف ممبرز پر دستخط کریں گے اور اس کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا۔
    • نئے سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی 14 اگست تک سیکرٹری قومی اسمبلی کے دفتر میں جمع کرائے جا سکیں گے اور سپیکر و ڈپٹی سپیکر کا انتخاب 15 اگست کو کیا جائے گا۔
    • پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سپیکر کے عہدے کے لیے اسد قیصر کو نامزد کیا ہے جبکہ گرینڈ اپوزیشن الائنس نے خورشید شاہ کو سپیکر کا امیدوار بنایا ہے۔
    • وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی 16 اگست دن 2 بجے تک جمع کروائے جا سکیں گے جبکہ ملک کے نئے وزیراعظم کا انتخاب 17 اگست کو ہوگا اور وہ 18 اگست کو ایوانِ صدر میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے
  3. گرینڈ اپوزیشن الائنس

    انتخابات کے بعد حزبِ مخالف کی جماعتوں نے ایک گرینڈ اپوزیشن الائنس تشکیل دیا ہے جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں۔

    قومی اسمبلی میں اس اتحاد کے کل ارکان کی تعداد 152 ہے۔

    ان میں مسلم لیگ (ن) کے 82، پیپلز پارٹی کے 54، متحدہ مجلس عمل کے 15 اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔

  4. حزب اختلاف تحریک انصاف کے خلاف متحد

    عام انتخابات کے نتائج پر سابق حکمران جماعت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے مبینہ دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ حزب اختلاف کی ان جماعتوں نے قومی اسمبلی میں جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اسمبلی میں مبینہ دھاندلی کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے اور حکمران جماعت تحریک انصاف کے خلاف مضبوط اپوزیشن بنائیں گے

  5. حکومتی اتحاد

    عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریکِ انصاف قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور 342 اراکین کے ایوان میں اس کی نشستوں کی تعداد 158 ہے۔

    حکومت سازی کے لیے تحریکِ انصاف نے جن جماعتوں سے اتحاد کیا ہے ان میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (7)، پاکستان مسلم لیگ (ق) (5)، بلوچستان عوامی پارٹی (5) اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ (4) شامل ہیں جبکہ اسے سندھ کے اتحاد جی ڈی اے (3) کے علاوہ عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے ایک ایک رکن کی حمایت بھی حاصل ہے۔

    اس اتحاد کے نتیجے میں پاکستان تحریکِ انصاف اور اس کے اتحادیوں کی ایوانِ زیریں میں نشستوں کی تعداد 184 تک پہنچ چکی ہے۔

    تاہم تحریکِ انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی کی چھ نشستیں خالی کی گئی ہیں جن میں سے چار جماعت کے سربراہ عمران خان جبکہ ایک ایک غلام سرور خان اور میجر طاہر صادق نے چھوڑی ہے۔

    اس کے علاوہ تحریکِ انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے پرویز الہی نے بھی قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں خالی کر دی ہیں یوں ایوان میں فی الوقت تحریکِ انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد 176 ہے۔

  6. قومی اور تین صوبائی اسمبلیوں کا پہلا اجلاس

    پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے پہلے مرحلے میں پیر کو ملک کی 15ویں قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے۔ گذشتہ اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق ان ارکان سے حلف لیں گے۔

    قومی اسمبلی کے علاوہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس بھی پیر کو ہی بلائے گئے ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی کا افتتاحی اجلاس 15 اگست کو ہو گا۔