خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے نومنتخب ارکان کا حلف
پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس میں قومی اسمبلی کے بعد اب صوبہ خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور اس وقت نومنتخب حلف اٹھا رہے ہیں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی کے علاوہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے حلف اٹھا لیا ہے جبکہ پنجاب میں یہ عمل 15 اگست کو ہوگا۔
پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس میں قومی اسمبلی کے بعد اب صوبہ خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور اس وقت نومنتخب حلف اٹھا رہے ہیں
قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ ملک میں تین صوبائی اسمبلیوں میں بھی ممبران آج اپنے حلف اٹھا رہے ہیں جن میں صوبہ خیبر پختونخواہ، صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان کی اسمبلیاں شامل ہیں۔
بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں اب تک جن 63 نشستوں پر انتخاب ہوا ہے ان میں سے 38 اراکین پہلی بار اسمبلی کا حصہ بنیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے رولز آف ممبرز رجسٹر پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس موقعے پر ایوان میں جیے بھٹو کے نعرے بھی لگائے گئے۔ بلاول بھٹو دستخط کرنے کے بعد اپنے والد آصف زرداری کی نشست پر گئے اور ان سے مصافحہ کیا۔
اس موقع پر بلاول بھٹو کی دونوں بہنیں آصفہ اور بختاور بھی مہمانوں کی گیلری میں موجود تھیں۔
اس وقت عمران خان قائد ایوان کے لیے مخصوص نشست کے ساتھ والی نشست پر براجمان ہیں جب کہ بلاول بھٹو زرداری نفیسہ شاہ کے ساتھ والی نشست پر موجود ہیں، سابق صدر آصف زرداری سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے ساتھ بیٹھے ہیں جب کہ شہبازشریف، احسن اقبال اور رانا تنویر ساتھ ساتھ بیٹھے ہیں۔
نومنتخب ار کان حلف لینے کے بعد فرداً فرداً سپیکر کی دعوت پر حروف تہجی کے اعتبار سے رول آف ممبرز پر دستخط کر رہے ہیں۔
پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری رول رجسٹر پر دستخط کرنے والے پہلے رکنِ قومی اسمبلی نے۔ انھوں نے قومی اسمبلی کے انتخابات میں این اے 213 میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کی 22 سال بعد اسمبلی میں واپسی ہوئی ہے
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نومنتخب اراکین قومی اسمبلی سے حلف لے رہے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ قومی اسمبلی کے فلور پر پہنچے تو تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے مسکراتے ہوئے ان سے طویل مصافحہ کیا۔ اس کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی بلاول بھٹو سے مصافحہ کیا۔
15ویں قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے آغاز پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے گیلریوں میں موجود مہمانوں سے کہا کہ اجلاس کے دوران نعرے بازی سے اجتناب کیا جائے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ سمیت تمام امور کے بارے میں فیصلے ہو گئے ہیں۔
انھوں نے کابینہ کے ارکان کے نام تو نہیں بتائے لیکن کہا کہ عمران خان کی ٹیم میں پیشہ ور اور تگڑے لوگ ہیں۔ انھوں نے اس موقع پر کہا کہ اپوزیشن کو حکومت کے ساتھ مل کر چلنا چاہیے
قومی اسمبلی میں موجود نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سابق صدر اور نو منتخب رکن اسمبلی آصف زرداری جب اسمبلی میں پہنچے تو عمران خان نے اپنی نشست سے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا اور تصویر کھنچوائی
پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری پہلی بار عام انتخابات میں منتخب ہو کر قومی اسمبلی پہنچے تو ان کے گرد سکیورٹی کا حصار تھا اور پارلیمان کی لابی میں داخل ہوئے تو ان کے ساتھ آنے والے کارکنوں نے جئے بھٹو کے نعرے لگائے۔ سرکاری ٹی وی کے نامہ نگار نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی تاہم وہ ہجوم کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔
پاکستان کے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے پارلیمان میں پہنچ گئے ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار آختر مینگل قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہلے تو سرکاری ٹی وی کے نامہ نگار نے ’ نئے پاکستان‘ میں انھیں خوش آمدید کہا تو انھوں نے اس پر مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ تو آگے چل کر معلوم ہو گا کہ یہ نیا پاکستان ہے کہ پرانا۔۔۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو پارلیمان پہنچ گئے ہیں۔
اس موقع پر پیپلزپارٹی کے ارکان نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔
سید خورشید شاہ، شیری رحمان، حنا ربانی کھر اور دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے۔
قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس سے ایک دن پہلے تحریک انصاف کے ایک وفد نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور انھیں اپنی جماعت کے نامزد وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برادری میں شرکت کی دعوت دی۔
تحریک انصاف کے وفد نے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور ان میں اطلاعات کے مطابق وفد نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت حزب اختلاف کی جماعتوں کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق تحفظات دور کرے گی۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج بھی کیا کیا گیا۔
حزب اختلاف کی جانب سے پہلے اطلاعات ملیں کہ وہ قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کر سکتی ہیں تاہم بعد میں اسمبلی میں جانے اور وہاں مبینہ دھاندلی کے بارے میں اپنی آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ حزب اختلاف کے اس فیصلے کا تحریک انصاف نے خیرمقدم کیا۔
قومی اسمبلی میں حلف برداری کی تقریب کے لیے نومنتخب اراکین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جن میں نئے اور پرانے چہرے شامل ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق کچھ ارکان پارلیمان کے اندر پہنچ چکے ہیں۔ پارلیمان میں جو ارکان پہنچے ہیں ان میں زیادہ تر کا تعلق پی ٹی آئی سے، جن میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک بھی شامل ہیں۔
نامہ نگار کے مطابق پارلیمان میں صحافیوں کے لیے مختص پریس گیلری میں کچھ مہمانوں میں گھسنے کی کوشش کی لیکن انھیں سکیورٹی نے باہر نکال دیا اور انھیں ہدایات کیں کہ وہ اسی جگہ پر بیٹھ سکتے ہیں جس جگہ کے لیے ان کے پاس جاری کی گئے ہیں۔