جیل کے دروازے کے باہر فوجی چوکی
نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق ہری پور جیل کے اردگرد پولیس اور ایلیٹ فورس کے 300 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ جیل کے مرکزی دروازے سے پہلے ایک فوجی چوکی بھی قائم کی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور کی جیل میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج نے مشال قتل کیس میں ایک مجرم عمران علی کو سزائے موت،پانچ مجرمان کو عمرقید جبکہ 25 کو چار برس قید کی سزا سنائی ہے اور 26 ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔
ذیشان حیدر، طاہر عمران، ذیشان ظفر شیراز حسن، ظفر سید
نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق ہری پور جیل کے اردگرد پولیس اور ایلیٹ فورس کے 300 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ جیل کے مرکزی دروازے سے پہلے ایک فوجی چوکی بھی قائم کی گئی ہے

مشال خان کے ساتھ جو بھی ہوا بہت برا تھا۔ یہ نظام کی ناکامی ہو گی اگر مشال خان کے قاتلوں کو مثالی سزا نہیں دی جائے گی۔
مشال خان کا ظالمانہ قتل یہ بات یاد دلاتا ہے کہ پاکستان میں کٹر متعصب لوگوں کی کمی نہیں جو مذہب کے نام پر قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ اب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم پاکستان کے اندر بڑھتی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
آج تمام نظریں ہری پور میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت پر لگی ہیں جہاں مشال خان کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ وہ سب جو اس جرم میں ملوث ہیں انہیں عبرتناک سزا ملنی چاہیے اور اس بہادر خادان کو کاش اس فیصلے کے بعد کچھ حوصلہ ملے۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ملزمان کے والدین اور عزیز جیل کے باہر موجود ہیں اور انھیں تاحال جیل کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
ہری پور کی سنٹرل جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کی آمد کا تاحال انتظار ہو رہا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر نے کہا ہے کہ آج پاکستان کے عدالتی نظام کا امتحان ہے۔ مشال خان کا مقدمہ پاکستان کے عدالتی نظام کی آزمائش ہے۔ اگر مشال خان کے قاتلوں کو مثالی سزا نہ ملی تو یہ اس نظام کی ناکامی ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہtwitter
ہری پور جیل میں مقدمے کا فیصلہ سننے کے لیے ملزمان کے رشتہ دار پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

ہری پور سینٹرل جیل کے باہر لگایا گیا نوٹس بورڈ جہاں پر فیصلہ آویزاں کیا جائے گا۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق جیل کے باہر ملزمان کے رشتہ داروں کے لیے کرسیاں لگائی گئی ہیں اس جگہ سے آگے کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔


ہری پور کی سنٹرل جیل میں مشال خان قتل کیس کے فیصلے کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ہری پور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کے ناکے لگائے گئے ہیں جبکہ جیل کی جانب جانے والے راستے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
انھوں نے بتایا کہ جیل کی جانب صرف متعلقہ افراد کو جانے کی اجازت دی جا رہی ہے جس میں قتل کیس کے وکلا، صحافی اور دیگر عملہ شامل ہے۔ سنٹرل جیل میں قائم عدالت میں جانے کے لیے وکلا اور مخصوص افراد کو اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔
نامہ نگار کے مطابق ابھی تک انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سنٹرل جیل میں نہیں پہنچے ہیں۔
پولیس کی بھاری نفری سنٹرل جیل اور شہر کے حساس مقامات پر موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشال خان قتل کے فیصلے کے بعد کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کو چوکنا رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
مشال خان کے قتل میں ملوث 57 ملزمان کے وکلا اس فیصلے کی سماعت کے لیے عدالت میں موجود ہوں گے جبکہ مشال خان کے والد ان دنوں لندن میں موجود ہیں اس لیے وہ اس فیصلے کے وقت عدالت میں موجود نہیں ہوں گے ۔ وکلا کے کہنا تھا کہ اس مقدمے میں نامزد تین سے چار ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔
اس مقدمے کی سماعت ابیبٹ آباد کے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ہری پور جیل میں کی جہاں اس مقدمے کے ملزمان کو رکھا گیا ہے۔ وکلا کے مطابق سنٹرل جیل ہری پور میں ہی اس مقدمے کا فیصلہ بدھ کی صبح دس بجے کے بعد سنایا جائے گا جس کے لیے ملزمان کے والدین اور قریبی رشتہ دار ہری پور پہنچیں گے تاہم مشال خان کے لواحقین اور وکلا ممکنہ طور پر اس موقع پر موجود نہیں ہوں گے

مشال خان قتل کیس میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی یا جے آئی ٹی کی رپورٹ چار جون 2017 کو مکمل ہوئی جس میں کہا گیا کہ یہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور جس میں یونیورسٹی ملازمین بھی ملوث ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پی ایس ایف کے صدر اور یونیورسٹی کے ایک ملازم نے واقعے سے ایک ماہ قبل مشال خان کو ہٹانے کی بات کی تھی۔
جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ تشدد اور فائرنگ کے بعد مشال خان سے آخری بار ہاسٹل وارڈن کی بات ہوئی جس میں مشال خان نے ان سے کہا کہ وہ مسلمان ہیں اور پھر انھیں کلمہ بھی پڑھ کر سنایا اور ان سے یہ التجا بھی کی کہ انھیں ہسپتال پہنچایا جائے۔
رپورٹ میں مزید درج ہے کہ ایک مخصوص سیاسی گروہ کو مشال کی سرگرمیوں سے خطرہ تھا جبکہ مشال خان یونیورسٹی میں بے ضابطگيوں کے خلاف بھی کھل کر بات کرتے تھے جس سے یونیورسٹی انتظامیہ ان سے خوف زدہ تھی۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق مخصوص گروپ نے توہین رسالت کے نام پر لوگوں کو مشال خان کے خلاف اکسایا جبکہ رپورٹ میں مشال خان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف توہین رسالت یا مذہب کے کوئی ثبوت موجود نہیں۔
مشال خان کے قتل کے بعد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر اس بارے میں بحث شروع ہو گئی تھی جس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے 16 اپریل کو اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا سے 36 گھنٹوں کے اندر رپورٹ طلب کر لی تھی۔
مشال خان کے قتل کے بعد مقامی مسجد کے امام نے ان کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امامِ مسجد کے انکار کے بعد جس شخص نے نماز پڑھائی، اُس سے بھی بعد میں لوگوں نے نماز پڑھانے کے معاملے پر بحث و مباحثہ کیا تھا۔