آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مشال قتل کیس کا فیصلہ: کب کیا ہوا؟

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور کی جیل میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج نے مشال قتل کیس میں ایک مجرم عمران علی کو سزائے موت،پانچ مجرمان کو عمرقید جبکہ 25 کو چار برس قید کی سزا سنائی ہے اور 26 ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر، طاہر عمران، ذیشان ظفر شیراز حسن، ظفر سید

  1. لاش کو جلانے کی کوشش

    مردان پولیس کے افسر عالم شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ہجوم نے مشال کی لاش کو جلانے کی کوشش کی تھی۔ 'جب ہم یونیورسٹی داخل ہوئے تو اس وقت تک مشعل خان کو قتل کیا جا چکا تھا اور ہجوم اس کی لاش کو جلانے کی کوششیں کر رہا تھا۔‘

  2. مشال قتل: پاکستانی پارلیمان توہینِ رسالت کے قانون کا غلط استعمال روکنے کے لیے پرعزم

  3. توہین کا کوئی ثبوت نہیں ملا

    مشال خان کے ایک دوست نے ان کے قتل کے چند دن کے بعد بی بی سی کو بتایا تھا کہ مشال ایک متجسس طبیعت رکھنے والے طالبعلم تھے، جنھوں نے ہمیشہ اسلام سے اپنی محبت کا اظہار کیا لیکن ساتھ ساتھ وہ سوالات بھی اٹھاتے تھے۔

    مشال خان کے ایک استاد نے بتایا کہ ’وہ ہمیشہ کھل کے بات کرتے تھے لیکن انھیں احساس نہیں تھا کہ وہ کیسے ماحول میں رہ رہے ہیں۔‘

    مشال خان کے ہوسٹل میں کام کرنے والے عزیز الرحمان جس نے مشال کی ساتھی طلبہ کے ساتھ بحث دیکھی تھی، کہا کہ وہ ہمیشہ پیچیدہ اور مختلف نوع کے موضوعات پر بات کرتا تھا۔

    پولیس کی تفتیش کے مطابق انھیں ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جن سے ظاہر ہو کہ مشال نے توہین مذہب کی ہو۔

  4. مشتعل ہجوم

    توہینِ رسالت کے الزام کا سنتے ہی مشتعل ہجوم نے پہلے تو مشال کے دوستوں کو مارنا شروع کیا تاہم وہاں موجود چند لوگوں نے جب انھیں بتایا کہ ان میں سے کوئی بھی مشال نہیں تو ان افراد نے ان دو طالب علموں کو شدید زخمی کرنے کے بعد چھوڑ دیا۔

    اطلاعات کے مطابق بعد میں چند طالب علموں نے مشال کو ڈھونڈ کر پہلے تو مبینہ طور پر گولیاں ماریں اور پھر مبینہ طور پر ان کی لاش کو گھسیٹے ہوئے لے کر آئے۔

  5. توہینِ رسالت کا الزام

    گذشتہ برس 13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبہ نے توہین رسالت کے الزام پر یونیورسٹی میں شعبۂ صحافت کے طالب علم مشال خان کو تشدد کرکے ہلاک کر دیا تھا۔

    یہ جھگڑا مبینہ گستاخانہ گفتگو کی بنیاد پر شروع ہوا جس پر کچھ طالب علم مشتعل ہو گئے۔ جس کے نتیجے میں مشال خان ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

    یونیورسٹی انتظامیہ نے اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا تھا۔

    ,

  6. مشال خان قتل کیس کا فیصلہ

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخو کے ضلع ایبٹ آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج مشال خان قتل کے مقدمے کا فیصلہ بدھ کو سنٹرل جیل ہری پور میں سنائیں گے جس کے لیے انتظامیہ نے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔