آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مشال قتل کیس کا فیصلہ: کب کیا ہوا؟

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور کی جیل میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج نے مشال قتل کیس میں ایک مجرم عمران علی کو سزائے موت،پانچ مجرمان کو عمرقید جبکہ 25 کو چار برس قید کی سزا سنائی ہے اور 26 ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر، طاہر عمران، ذیشان ظفر شیراز حسن، ظفر سید

  1. جیل کے دروازے کے باہر فوجی چوکی

    نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق ہری پور جیل کے اردگرد پولیس اور ایلیٹ فورس کے 300 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ جیل کے مرکزی دروازے سے پہلے ایک فوجی چوکی بھی قائم کی گئی ہے

  2. مشال کے قاتلوں کو مثالی سزا نہ دی تو نظام کی ناکامی ہو گی

    مشال خان کے ساتھ جو بھی ہوا بہت برا تھا۔ یہ نظام کی ناکامی ہو گی اگر مشال خان کے قاتلوں کو مثالی سزا نہیں دی جائے گی۔

  3. مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے

    مشال خان کا ظالمانہ قتل یہ بات یاد دلاتا ہے کہ پاکستان میں کٹر متعصب لوگوں کی کمی نہیں جو مذہب کے نام پر قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ اب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم پاکستان کے اندر بڑھتی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔

  4. بریکنگ, ہری پور جیل کے باہر ملزمان کے والدین اور عزیز اقارب

  5. کاش اس فیصلے سے مشال کے خاندان کو حوصلہ ملے, مشال خان کے قتل میں ملوث مجرموں کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے

    آج تمام نظریں ہری پور میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت پر لگی ہیں جہاں مشال خان کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ وہ سب جو اس جرم میں ملوث ہیں انہیں عبرتناک سزا ملنی چاہیے اور اس بہادر خادان کو کاش اس فیصلے کے بعد کچھ حوصلہ ملے۔

  6. ملزمان کے والدین جیل کے باہر موجود

    نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ملزمان کے والدین اور عزیز جیل کے باہر موجود ہیں اور انھیں تاحال جیل کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

  7. سنٹرل جیل میں جج کی آمد کا انتظار

    ہری پور کی سنٹرل جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کی آمد کا تاحال انتظار ہو رہا ہے۔

  8. بریکنگ, ’مشال خان کا مقدمہ پاکستان کے عدالتی نظام کی آزمائش‘

    عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر نے کہا ہے کہ آج پاکستان کے عدالتی نظام کا امتحان ہے۔ مشال خان کا مقدمہ پاکستان کے عدالتی نظام کی آزمائش ہے۔ اگر مشال خان کے قاتلوں کو مثالی سزا نہ ملی تو یہ اس نظام کی ناکامی ہوگی۔

  9. ملزمان کے رشتہ دار پہنچنا شروع

    ہری پور جیل میں مقدمے کا فیصلہ سننے کے لیے ملزمان کے رشتہ دار پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

  10. ہری پور سینٹرل جیل کے باہر لگایا گیا نوٹس بورڈ جہاں پر فیصلہ آویزاں کیا جائے گا۔

  11. نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق جیل کے باہر ملزمان کے رشتہ داروں کے لیے کرسیاں لگائی گئی ہیں اس جگہ سے آگے کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔

  12. ہری پور میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

  13. بریکنگ, ہری پور میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

    ہری پور کی سنٹرل جیل میں مشال خان قتل کیس کے فیصلے کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ہری پور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کے ناکے لگائے گئے ہیں جبکہ جیل کی جانب جانے والے راستے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ جیل کی جانب صرف متعلقہ افراد کو جانے کی اجازت دی جا رہی ہے جس میں قتل کیس کے وکلا، صحافی اور دیگر عملہ شامل ہے۔ سنٹرل جیل میں قائم عدالت میں جانے کے لیے وکلا اور مخصوص افراد کو اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔

    نامہ نگار کے مطابق ابھی تک انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سنٹرل جیل میں نہیں پہنچے ہیں۔

    پولیس کی بھاری نفری سنٹرل جیل اور شہر کے حساس مقامات پر موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشال خان قتل کے فیصلے کے بعد کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کو چوکنا رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

  14. 57 ملزمان

    مشال خان کے قتل میں ملوث 57 ملزمان کے وکلا اس فیصلے کی سماعت کے لیے عدالت میں موجود ہوں گے جبکہ مشال خان کے والد ان دنوں لندن میں موجود ہیں اس لیے وہ اس فیصلے کے وقت عدالت میں موجود نہیں ہوں گے ۔ وکلا کے کہنا تھا کہ اس مقدمے میں نامزد تین سے چار ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔

  15. مقدمے کی سماعت ہری پور جیل میں

    اس مقدمے کی سماعت ابیبٹ آباد کے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ہری پور جیل میں کی جہاں اس مقدمے کے ملزمان کو رکھا گیا ہے۔ وکلا کے مطابق سنٹرل جیل ہری پور میں ہی اس مقدمے کا فیصلہ بدھ کی صبح دس بجے کے بعد سنایا جائے گا جس کے لیے ملزمان کے والدین اور قریبی رشتہ دار ہری پور پہنچیں گے تاہم مشال خان کے لواحقین اور وکلا ممکنہ طور پر اس موقع پر موجود نہیں ہوں گے

  16. منصوبہ بندی سے قتل کیا گیا: جے آئی ٹی رپورٹ

    مشال خان قتل کیس میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی یا جے آئی ٹی کی رپورٹ چار جون 2017 کو مکمل ہوئی جس میں کہا گیا کہ یہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور جس میں یونیورسٹی ملازمین بھی ملوث ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پی ایس ایف کے صدر اور یونیورسٹی کے ایک ملازم نے واقعے سے ایک ماہ قبل مشال خان کو ہٹانے کی بات کی تھی۔

    جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ تشدد اور فائرنگ کے بعد مشال خان سے آخری بار ہاسٹل وارڈن کی بات ہوئی جس میں مشال خان نے ان سے کہا کہ وہ مسلمان ہیں اور پھر انھیں کلمہ بھی پڑھ کر سنایا اور ان سے یہ التجا بھی کی کہ انھیں ہسپتال پہنچایا جائے۔

    رپورٹ میں مزید درج ہے کہ ایک مخصوص سیاسی گروہ کو مشال کی سرگرمیوں سے خطرہ تھا جبکہ مشال خان یونیورسٹی میں بے ضابطگيوں کے خلاف بھی کھل کر بات کرتے تھے جس سے یونیورسٹی انتظامیہ ان سے خوف زدہ تھی۔

    جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق مخصوص گروپ نے توہین رسالت کے نام پر لوگوں کو مشال خان کے خلاف اکسایا جبکہ رپورٹ میں مشال خان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف توہین رسالت یا مذہب کے کوئی ثبوت موجود نہیں۔

  17. ازخود نوٹس

    مشال خان کے قتل کے بعد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر اس بارے میں بحث شروع ہو گئی تھی جس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے 16 اپریل کو اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا سے 36 گھنٹوں کے اندر رپورٹ طلب کر لی تھی۔

  18. نمازِ جنازہ پڑھانے سے انکار

    مشال خان کے قتل کے بعد مقامی مسجد کے امام نے ان کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امامِ مسجد کے انکار کے بعد جس شخص نے نماز پڑھائی، اُس سے بھی بعد میں لوگوں نے نماز پڑھانے کے معاملے پر بحث و مباحثہ کیا تھا۔