آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران نااہلی سے بچ گئے، جہانگیر نااہل: کب کیا ہوا؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کر دیا ہے۔ تاہم عدالت نے عمران خان کو نااہل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. جہانگیر ترین کی لندن کی پراپرٹی

    حنیف عباسی نے اپنی دائر کی گئی پٹیشن میں جہانگیر ترین کی برطانیہ میں موجود 12 ایکڑ کی زمین کے بارے میں سوال اٹھایا جو کہ شائنی ویو نامی آف شور کمپنی کی ملکیت میں ہے۔

    اس کے بارے میں جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ یہ ڈسکریشنری فنڈ کے تحت ای ایف جی ٹرسٹ کے کنٹرول میں ہے لیکن بعد میں بی بی سی کی جانب سے کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جہانگیر ترین اور ان کی اہلیہ ہی اس ٹرسٹ کے بینیفیشری ہیں، نہ کہ ان کے بچے۔

  2. جہانگیر ترین کے جواب میں بھی تضاد

    پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ لندن میں واقع جائیداد کے بارے میں پیش کی گئی ٹرسٹ ڈیڈ اور جہانگیر ترین کی طرف سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں تضاد پایا جاتا ہے۔

  3. ’آف شور کمپنی کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنا ایک غلطی تھی‘

    پاکستان تحر یک انصاف کے سربراہ کی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نے تسلیم کیا تھا کہ اُن کے موکل کی طرف سے آف شور کمپنی نیازی سروسز کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنا ایک غلطی تھی تاہم ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔

  4. ٹرسٹ کا مالک نہیں، میں تو اس کا تاحیات بینیفیشل اونر ہوں!

    جہانگیر ترین کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ وہ ٹرسٹ کے مالک نہیں ہیں جبکہ ٹرسٹ ڈیڈ میں یہ واضح طور لکھا ہے کہ جہانگیر ترین اس کے تاحیات بینیفیشل اونر ہیں۔

  5. بنی گالہ کی رہائش گاہ کا معاملہ

    گذشتہ سال عمران خان نے اپنے جمع کرائے گئے گوشواروں میں کہا تھا کہ زمین انھیں جمائما خان نے تحفتاً دی ہے لیکن بعد میں انھوں نے موقف اختیار کیا کہ زمین انھوں نے خود خریدی ہے۔ اس کے بعد عمران خان نے کہا کہ انھوں نے 300 ایکڑ پر محیط زمین خریدنے کے لیے اپنی بیوی سے پیسے قرض کے طور پر لیے تھے جس کے پیسے انھوں نے لندن فلیٹ کی فروخت کے بعد واپس کر دیے تھے۔

  6. الزامات پر عمران خان کا جواب

    عمران خان نے لگائے گئے الزامات کے بارے میں کہا ہے کہ ان کا آف شور کمپنی نیازی سروس لمیٹیڈ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ کمپنی صرف ان کے لندن فلیٹ سے متعلق تھی۔ عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ فلیٹ کی فروخت کے بعد اس کمپنی سے ان کا تعلق ختم ہو گیا تھا۔ساتھ ساتھ لندن میں ہونے کی وجہ سے اس فلیٹ پر لگائئے گئے ٹیکس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔