’آج فرد جرم عائد نہ کی جائے‘
مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے احتساب عدالت سے استدعا کی ہے کہ آج ان پر فرد جرم عائد نہ کی جائے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جمعرات کو سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر لندن میں فلیٹس کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔
مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے احتساب عدالت سے استدعا کی ہے کہ آج ان پر فرد جرم عائد نہ کی جائے۔
احتساب عدالت نے نیب ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دی ہے، جس کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز کیا جائے گا۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق احتساب عدالت کے باہرآج گذشتہ سماعت کی نسبت ماحول کافی پر سکون ہے۔ رینجرز سمیت سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے غیر متعلقہ افراد کو احاطہ عدالت کے اندر آنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگرچہ عدالت کے باہر مسلم لیگ ن کے کارکن موجود ہیں لیکن عدالت کے اندر صرف انہی لوگوں کو جانے دیا جا رہا ہے جن کے نام فراہم کردہ فہرستوں میں ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف اس سے پہلے دو اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے لیکن آئندہ سماعت پر انھوں نے اپنی اہلیہ کے علیل ہونے کے سبب عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی تھی۔ جسے ایک مرتبہ عدالت نے منظور کر لیا تھا۔
جس کے بعد نواز شریف کے وکلا نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ مقدمے کی سماعت پندرہ دن کے لیے ملتوی کر دی جائے، جسے عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔قانونی طور پر مقدمات میں عدالت کی جانب سے ملزم کی موجودگی میں فردِ جرم عائد کی جاتی ہے تاہم قانونی ماہرین کے مطابق عدالت مخصوص حالات میں ملزم کی عدم موجودگی میں بھی فردِ جرم عائد کر سکتی ہے۔

کیپٹن صفدر بھی عدالت پہنچ چکے ہیں، آج کی سماعت میں ان کے خلاف بھی ایک ریفرنس میں فردِ جرم عائد کی جانی ہے۔ ان کے علاوہ مسلم لیگ نون کے رہنما بھی احتساب عدالت پہنچے ہیں، جن میں مریم اورنگزیب، دانیال عزیز اور طارق فضل چوہدری شامل ہیں۔
مسلم لیگ ن کی وزیر مریم اورنگزیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کی بیماری کے باعث پیش نہیں ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل نواز شریف کو آئین اورعدالت نے جہاں بھی بلایا تو وہ ہر بار پیش ہوئے ہیں۔

گذشتہ پیشی کے دوران بد مزگی کے باعث اس بار احاطۂ عدالت میں پولیس کے ہمراہ ایف سی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے، جبکہ بی بی سی کے نامہ نگار شیراز حسن کے مطابق صحافیوں کو بھی عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
نیب ریفرنسز میں طلبی کے باوجود نواز شریف لندن سے ملک واپس نہیں آئے ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ کی علالت کے باعت لندن میں ہیں۔ وہ گذشتہ سماعت پر بھی پیش نہیں ہوئے تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہAFP
مریم نواز لاہور سے خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئی ہیں۔
احستاب عدالت میں اس بار مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی پیشی کے لیے سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں اور گذشتہ سماعت کی طرح آج بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ اور احتساب عدالت جانے والے راستوں پر معمول کی آمد و رفت معطل ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں امکان ہے کہ آج جمعرات کو سابق وزیر اعظم نواز شریف،ان کی بیٹی اور داماد پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔ اس سے پہلے 13 اکتوبر کو مقدمے کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دی گئی تھی۔ گذشتہ سماعت کے آغاز سے قبل ہی عدالت کے اندر وکلا کی بڑی تعداد نے احتجاج شروع کر دیا تھا جس کے فوری بعد مریم نواز واپس چلی گئیں۔
