آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاناما کیس سماعت کا چوتھا روز: کب کیا ہوا

پاناما کیس سے متعلق جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے کہ بادی النظر میں عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کی گئیں اور اس جعلسازی کے بارے میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

لائیو کوریج

  1. جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دبئی سے ابوظہبی مشینری منتقلی کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ہے، اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یو اے ای کی ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقلی کا ریکارڈ ضروری نہیں ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ دبئی کسٹمز میں ریکارڈ نہیں ہے تو محکمہ کسٹمز کی ضرورت ہی کیا ہے، اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ کسٹمز دستاویزات یو اے ای سے باہر جانے کے لیے ضروری ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ حسین نواز سے جے آئی ٹی نے مشینری سے متعلق کوئی سوال ہی نہیں پوچھا تھا۔

  2. سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ان کے موکل حسین نواز کو مجرم گردانا گیا ہے اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ جے آئی ٹی نے آپ کے موکل کو نہیں سنا تو ہم اب آپ کو سن لیتے ہیں۔

  3. ’کیا آپ چاہتے ہیں کہ دستاویزات دوبارہ دبئی بھجوائیں‘

    سلمان اکرم راجہ کے گلف سٹیل مل کے معاملے پر دلائل کے دوران جسٹس عظمت سعید نے ان سے استفسار کیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ یہ دستاویزات دوبارہ دبئی بھجوائی جائیں

  4. ’جے آئی ٹی کے خطوط کو بھی دیکھ لیتے ہیں‘

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے گلف سٹیل مل کی فروخت اور مشینری کی دبئی سے جدہ منتقلی کے معاملے پر حسین نواز سے کوئی جرح نہیں کی جس پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ یو اے ای کے محکمۂ انصاف کو جو خط جے آئی ٹی نے لکھے ہیں انھیں بھی دیکھ لیتے ہیں۔

  5. بریکنگ, حمد بن جاسم الثانی کا ’نیا خط‘

    جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی کے نام پر چند دستاویزات ہمیں بھی ملی ہیں۔

    اس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک دستاویز قطری شہزادے کا خط ہے اور ایک دستاویز برٹش ورجن آئی لینڈ سے متعلق ہے اور یہ دونوں دستاویزات عدالت میں ہی کھولی جائیں گی۔

    خیال رہے کہ دستاویزات جے آئی ٹی کی جانب سے لکھے گئے خطوط کے جوابات ہیں جو رپورٹ پیش ہونے کے بعد موصول ہوئے ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے متعلقہ حکام سے ان دستاویزات کی تصدیق بھی کروائی تھی جبکہ مریم نواز کے وکیل نے ان دستاویزات سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا

  6. جج سلمان اکرم راجہ پر برہم

    عدالت نے دستاویزات سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے سے قبل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر برہمی کا اظہار کیا۔

    جسٹس عظمت سعید نے سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ تمام دستاویزات میڈیا پر زیرِ بحث ہیں اور آپ تو میڈیا کو بھی دلائل دے رہے ہیں۔

    جسٹس اعجاز کا کہنا تھا کہ بہتر ہے کہ آپ باہر میڈیا کے ڈائس پر جا کر ہی دلائل دیں۔ اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے میڈیا کو دستاویزات فراہم نہیں کی ہیں۔

  7. سماعت کے آغاز پر وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا نے مزید دستاویزات جمع کروائیں۔انھوں نے عدالت میں کہا ہے کہ وہ دستاویزات لے کر آئے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا

  8. بریکنگ, پاناما کیس کی سماعت شروع

    بی بی سی کی نامہ نگار تابندہ کوکب کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں پاناما کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے معاملے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کر دیا ہے۔

  9. ’عمران انتشار چاہتے ہیں‘

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں انتشار چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم انتشار نہیں پھیلنے دیں گے۔

    انھوں نے عمران خان کے بیرون ملک تعلیمی اخراجات کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔

    انھوں نے سابق کرکٹر کے والد کی آمدن کے ذریعے کو بھی کرپشن پر مبنی قرار دیا۔

  10. سازش کہاں ہو رہی ہے؟

    پاکستان کی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کی رہنما شیریں رحمان نے وزیراعظم نواز شریف ااور ان کے خاندان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی پراپرٹیز کے حوالے نئی دستاویز کو پرانا بنا کر پیش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں بھی بتایا جائے کہ وزیراغظم کے خلاف سازش کہاں ہو رہی ہے؟

  11. ’تماشہ لگانے والوں کو قوم پر رحم کرنا چاہیے‘

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترقی اور عوام کی خوشحالی پر تماشہ لگانے والوں کو قوم پر رحم کرنا چاہییے۔

    شہباز شریف جو وزیراعظم کے بھائی ہیں بھی شریف فیملی کے سامنے بیان دینے کے لیے پیش ہوئے تھے۔

  12. ’اگر کوئی اور کاغذ الماری میں ہے تو پیش کریں‘

    پاکستان کی سیاسی جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ سے کرپشن کا جنازہ نکلے۔ انھوں نے کہا عدالت نے شریف خاندان کو وقت دیا ہے کہ وہ مزید دستاویزات لائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مزید کوئی کاغذ الماری میں ہیں تو پیش کریں۔‘

  13. ’ حصہ وزیر اعظم نواز شریف کو بھی ملا ہوگا‘

    بدھ کو ہونے والی سماعت میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر لندن کے فلیٹس میاں شریف کی ملکیت تھے تو اس کا حصہ وزیر اعظم نواز شریف کو بھی ملا ہوگا۔ جس پر وزیر اعظنم کے وکیل نے کہا کہ اُن کے موکل نے تو قطر میں ہونے والی سرمایہ کاری سے بھی فائدہ نہیں اُٹھایا۔

  14. سکیورٹی سخت، وکلا اور میڈیا کے نمائندوں کی آمد

  15. پاناما لیکس مقدمے کی کوریج کتنا تھکا دینے والا کام ہے؟ سنیے ایک کیمرہ مین کی زبانی

  16. پاناما کیس کی کوریج اور میڈیا کی مشکلات

  17. سخت سکیورٹی

    جے آئی ٹی کی طرف سے سپریم کورٹ میں حتمی رپورٹ جمع کروانے کے بعد سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے سپریم کورٹ کی عمارت کے نہ صرف باہر بلکہ کمرہ عدالت کے باہر بھی درجنوں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے

  18. ’وکیل کب ہارتا ہے، ہارتا تو موکل ہے‘

  19. ’جلد نمبر چار شریف خاندان کے لیے خطرناک‘

    منگل کوسپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ کی جلد نمبر چار میں شریف خاندان کے بارے میں بڑی سنگین دستاویز لف کی گئی ہیں جنھیں کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔