آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاناما کیس سماعت کا چوتھا روز: کب کیا ہوا

پاناما کیس سے متعلق جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے کہ بادی النظر میں عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کی گئیں اور اس جعلسازی کے بارے میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

لائیو کوریج

  1. سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جے آئی ٹی نے خود ہی نتیجہ نکال لیا کہ حمد بن جاسم الثانی کے انٹرویو کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل کیے بغیر یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا جا سکتا ہے۔

  2. سپریم کورٹ نے سماعت کے دوبارہ آغاز کے بعد قطری خط اور برٹش ورجن آئی لینڈ کی دستاویزات کو کھول دیا ہے اور فریقین سے کہا ہے کہ وہ رجسٹرار آفس سے یہ دستاویزات حاصل کر سکتے ہیں۔

  3. سماعت کا دوبارہ آغاز

    سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے

  4. بریکنگ, ’مخالف فریق چاہتے ہیں کہ کیس ٹرائل میں جائے‘

    سماعت میں وقفے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز نے کہا ہے کہ مخالف فریق چاہتے ہیں کہ پاناما کیس ٹرائل کورٹ میں چلا جائے۔

    دانیال عزیز نے بتایا کہ لندن فلیٹس سے فریق نمبر ایک (وزیراعظم) کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں فریق نمبر چھ سات اور آٹھ ( وزیراعظم کے بچے مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز) پر بھی کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔

  5. ’سب سے بڑا جرم قوم کو بےوقوف سمجھنا ہے‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا جرم قوم کو بے وقوف سمجھنا ہے اور یہ سمجھنا کہ وہ ہر وقت پوری قوم کو بے وقوف بنا سکتے ہیں۔

  6. ’شریف خاندان کا ایک اور جرم منظرِ عام پر‘

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ ہے منی لانڈرنگ، کرپشن کے علاوہ شریف خاندان کا ایک اور جرم سامنے آرہا ہے کہ سپریم کورٹ میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جعلی دستاویزات پیش کرنا ہے۔

  7. سماعت میں وقفہ

    فی الوقت سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وقفہ ہے اور وقفے کے بعد بھی سلمان اکرم راجہ کے دلائل جاری رہیں گے

  8. بریکنگ, ’بچے رقم کا ذریعہ ثابت نہ کر سکے تو نتائج وزیراعظم پر مرتب ہوں گے‘

    جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ 1993 میں بچوں کی عمریں دیکھیں تو لگتا ہے کہ وہ فلیٹ نہیں خرید سکتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر آمدن کے ذرائع ثابت ہو گئے تو بچے اور وزیراعظم بچ جائیں گے تاہم اگر بچے لندن کے فلیٹ خریدنے کے لیے دی گئی رقم کا ذریعہ ثابت نہ کر سکے تو اس کے نتائج پبلک آفس ہولڈر(وزیراعظم نوازشریف) پر مرتب ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ الزام یہ ہے کہ فلیٹس وزیراعظم نے خریدے اور درخواست گزار کہتے ہیں کہ وزیراعظم اس کے لیے استعمال شدہ رقم کا ذریعہ بتائیں۔

  9. دیکھیں گے کہ مریم کے پاس فنڈز کہاں سے آئے؟

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ مونزیک فونسیکا کے مطابق ان فلیٹس کی مالک مریم نواز ہیں اگر ایسا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ ان کے پاس فنڈز کہاں سے آئے۔

  10. لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم پر الزام کیا ہے

    اس موقع پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم پر الزام کیا ہے، ہر کوئی اپنے مطلب کی بات نکالتا ہے۔

  11. سلمان اکرام راجہ نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ لندن کے فلیٹس 1993 اور 1995 کے درمیان خریدے گئے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ الزام تو یہ بھی ہے کہ یہ فلیٹس آف شور کمپنیوں کے ذریعے خریدے گئے ہیں۔

    بینچ کے سربراہ اعجاز افضل نے کہا کہ الزامات یہ بھی ہیں کہ جس وقت یہ فلیٹس خریدے گئے اس وقت حسن اور حسین نواز کی مالی حالت اچھی نہیں تھی اور درخواست گزار یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے یہ پیسے ادا کیے ہیں۔

  12. بریکنگ, اخبار میں اشتہار دیں پھر آپ جواب دیں گے؟

    جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم نے جو آپ سے سوال پوچھنے ہیں کیا پہلے اخبار میں اشتہار دیں پھر آپ جواب دیں گے۔

  13. بریکنگ,

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا آپ کے موکل کے پاس مختارنامہ ہے کہ دو حصہ داروں کی رقم ادا کر دی گئی ہے۔

    سلمان اکرم راجہ کا جواب تھا کہ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اگر کوئی عدالت میں نہیں گیا تو بادی النظر میں یہ بات طے ہے کہ ادائیگیاں کر دی گئی ہوں گی۔ اگر یہ حصہ دار چاہیں تو عدالت میں اپنا موقف دے سکتے ہیں۔

  14. جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہ ڈاکومنٹس دکھائیں کہ جن میں باقی دو حصے داروں کے شیئرز حسین نواز نے خرید لیے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ 65 ملین حسین نواز کو ملے اور وہ اسے استعمال کرنے کے مجاز تھے۔

  15. بریکنگ, ’جے آئی ٹی اسی لیے بنائی گئی تھی‘

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سلمان اکرام راجہ سے سوال کیا کہ وہ دستاویزات دکھائیں کہ آپ نے باقی دو حصے داروں کی ادائیگیاں بھی کر دی ہیں۔

    اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ دستاویزات جیب میں موجود نہیں کہ نکال کر دکھا دوں۔

    ان کے اس جواب پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے ہی جے آئی ٹی بنائی گئی تھی۔

  16. ’عزیزیہ مل کے واجبات کسی خفیہ شخص نے ادا کیے‘

    بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عزیزیہ مل کے واجبات کسی خفیہ شخص نے ادا کیے ہیں۔

    اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں معلوم کروں گا کہ یہ واجبات کس نے ادا کیے ہیں۔

  17. بریکنگ, ’ لکھ کر دے دیتے ہیں کہ فیصلہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز پر نہیں کرنا‘

    بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ حتمی نہیں ہے۔جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ہم یہ لکھ کر دے دیتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز پر نہیں کرنا۔

  18. بریکنگ, ’آپ یہ بھی لکھوا سکتے ہیں کہ مشینری ٹائٹینک سے گئی تھی‘

    جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ جو دستاویزات آپ دکھا رہے ہیں وہ نجی دستاویزات ہیں اور ان میں آپ یہ بھی لکھوا سکتے ہیں یہ مشینری ٹائٹینک کے ذریعے جدہ بھجوائی گئی۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کیا یہ درست نہیں ہے کہ عزیزیہ سٹیل مل کے واجبات 21 ملین تھے جبکہ 53 ملین حسین نواز کو دیے گئے۔

    اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے اپنی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حسین نواز کو 63 ملین کے بجائے 42 ملین ملے اور 63 ملین کی رقم عزیزیہ سٹیل مل کے اکاؤنٹ میں موجود ہے۔

  19. کیا عدالت آپ کی کارروائی کا انتظار کرے؟

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں ان میں حسین نواز کے بارے میں یو اے ای کے محکمہ انصاف نے غلط بیانی کی اس لیے ہم محکمہ انصاف کے خلاف قانونی کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔

    اس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ عدالت اس وقت تک آپ کے جواب کا انتظار کرے جب تک آپ یو اے ای کے محکمہ انصاف کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کر لیتے۔

    جواب میں سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مقدمے کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہے۔

  20. ’جو دستاویزات آپ آج دے رہے ہیں وہ پہلے کیوں نہیں دیں‘

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ جو دستاویزات آپ آج دے رہے ہیں وہ پہلے کیوں نہیں دیں، جب بھی کوئی سوال اٹھایا جاتا ہے تو آپ کوئی نہ کوئی دستاویزات لے کر آجاتے ہیں۔