پاناما فیصلے پر عملدرآمد کا معاملہ، سماعت کے تیسرے دن کب کیا ہوا؟
پاناما کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کے تیسرے دن کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی جلد نمبر چار میں موجود دستاویز شریف خاندان کے لیے کافی خطرناک ہیں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, ’قانونی دستاویزات نہیں تو موقف کی کوئی قانونی حیثیت نہیں‘
جسٹس اعجاز افضل خان کہتے ہیں کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ لندن فلیٹس شریف خاندان کی مشترکہ ملکیت ہیں لیکن اگر انھوں نے اس کی قانونی دستاویزات نہیں لگائیں تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
بریکنگ, ’رپورٹ کی جلد نمبر چار میں خطرناک دستاویز ہیں‘
جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی جلد نمبر چار میں موجود دستاویز شریف خاندان کے لیے کافی خطرناک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’رپورٹ کی جلد نمبر چار میں کافی خطرناک دستاویزات موجود ہیں'۔ انھوں نے کہا کہ 'میرا اشارہ ٹرسٹ ڈیڈ کے حوالے سے ہے'۔
،تصویر کا ذریعہAFP
بریکنگ, ’شریف خاندان نے مختلف مواقع پر مختلف ذرائع بتائے‘
جسٹس اعجاز الاحسن کے مطابق شریف خاندان نے مختلف مواقع پر مختلف ذرائع
بتائے ہیں۔ شریف خاندان نے ان فلیٹس کے بارے میں کبھی سعودی عرب کا نام
لیا تو کبھی قطر کا ذکر کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ باقی تمام سولات ثانوی
ہیں۔
’ فلیٹس کب خریدے گئے اور وسائل کہاں سے آئے یہ اصل سوال ہے‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ لندن فلیٹس کب خریدے گئے، کن ذرائع سے خریدے گئے اور ان کے لیے وسائل کہاں سے آئے؟؟؟ ان کا مزید کہنا تھا باقی تمام سوالات ثانوی ہیں تاہم یہ اصل سوال ہے۔
’حصص دینے کا فیصلہ میاں شریف کرتے تھے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جسٹس اعجاز افضل خان کا کہنا ہے کہ مریم نواز کا نام حدیبیہ پیپر ملز کے مالکان کی فہرست میں آیا تھا۔ اس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ میاں شریف یہ فیصلہ کرتے تھے کہ کمپنی میں حصص کسے ملیں گے
بریکنگ, ’جے آئی ٹی نے فلیٹس کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے شریف خادان کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا رقم کی کسی بھی ترسیل سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے بقول جے آئی ٹی نے فلیٹس کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا۔
اس پر سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ اسمبلی کے فلور پر کیا بات کر رہے ہیں۔
شریف خاندان کے وکیل نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیا وزیرِاعظم اُن اثاثوں کے بھی ذمہ دار ہیں جو ان کے نام پر نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیرِاعظم کا فلیٹس کے ساتھ براہِ تعلق ہوتا تو انھیں ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا تھا۔
انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں فلیٹس سے متعلق تمام امور میاں شریف انجام دے رہے تھے۔
’تعلق کو ثابت کرنے کے لیے شواہد ہونا ضروری‘
پاناما کیس کی سماعت کے موقع پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو کہا کہ جس کیس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ
کیس سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق
بے نامی دار جائیداد رکھنے والے شخص اور مالک کے درمیان تعلق ثابت کرنے کے
لیے شواہد کا ہونا ضروری ہے
بریکنگ, ’نواز شریف کے کوئی اثاثے نہیں ہیں‘
خواجہ حارث کے مطابق نواز شریف کے کوئی اثاثے نہیں ہیں۔ نیب کے قانون
فائیو اے کے مطابق جائیداد اسی کی ہوتی ہے جس کے نام سے منسوب ہوتی ہو۔ جس
کے جواب میں جسٹس عظمت سیعد نے کہا کہ قانون میں آمدن اور اثاثوں کے ذرائع
کا بھی ذکر ہے۔
’سیاست میں رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے‘
مسلم لیگ نون کے رہنما عابد شیر علی جب سپریم کورٹ کےاحاطے میں پہنچے تو
میڈیا کے نمائندوں نے انھیں بتایا کہ پیچھے پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل
چن بھی آ رہے ہیں تو اس پر عابد شیر علی نے ان کا انتظار کیا۔ اس موقع پر
بات کرتے ہوئے ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ سیاست میں رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے انھوں نے عابد شیر علی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’ہم سیاسی مخالف ہونے کے
باوجود ایک ساتھ آ رہے ہیں اور ہم عدلیہ کی تحفظ کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ‘ اس موقعے پر پیپلز پارٹی رہنما فیصل کریم کنڈی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
’حکومت کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے رہنا نعیم الحق نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے
کہا کہ جماعت کے سربراہ عمران خان اسلام آباد میں موجود ہیں او ر اپنی
مصروفیت کی وجہ سے عدالت نہیں آ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا مسلم لیگ ن کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور حکومت نے سپریم کورٹ میں جھوٹ بولا ہے۔
جمہوریت میں بال ٹمپرنگ کی اجازت نہیں ہوتی
مسلم لیگ نون کے رہنما عابد شیر علی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا ’عمران خان جو خود کو بہادر سمجھتے ہیں وہ سپریم کورٹ کیوں نہیں آتے؟ کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ انہیں گرفتار نہ کر لیا جائے۔ ‘ انھوں نے کہا کہ جمہوریت میں بال ٹمپرنگ کی اجازت نہیں ہوتی۔ عابد شیر علی کا کہنا تھا نواز شریف نے اپنے خاندان کے کاروبار کے ساتھ وابستگی ختم کرلی تھی اور خاندان کے سربراہ میاں محمد شریف تھے جنھوں نے اپنی جائیداد باقی خاندان میں تقسیم کی۔
سماعت کے آغاز کا انتظار
،تصویر کا ذریعہBB
سپریم کورٹ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار عابد حسین کے مطابق شیخ رشید، سراج الحق اور نعیم بخاری عدالت پہنچ چکے ہیں۔ عدالت میں لگ بھگ 80 افراد کے بیٹھنے کے گنجائش ہے تاہم اس وقت میڈیا کے نمائندوں سمیت سو افراد اندر موجود ہیں اور سماعت کے آغاز کا انتظار ہے۔
سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی
ناخوشگوار صورتحال پر قابو پایا جائے سکے کیونکہ منگل کو عدالت کے باہر
حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ایک
دوسرے کے سامنے آگئے تھے اور اُنھوں نے ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف شدید
نعرے بازی کی تاہم وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے بیچ بچاؤ کروایا۔
’میری لڑائی بیماری کے خلاف ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں حکمران خود کو احتساب سے بالا تر سمجھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’میری لڑائی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں بلکہ کرپشن کی بیماری کے ساتھ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ نسلوں کو کرپشن سے فری پاکستان ملے۔‘
’نواز شریف کے پاس استعفے کے سوا کوئی چارہ نہیں‘
پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس استعفیٰ دینے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ ان کا کہنا تھا نواز شریف ڈٹے رہنے کے باتیں چھوڑیں اور جانے کی بات کریں۔ بصورتِ دیگر آپ نا اہل ہو جائیں گے۔
سپریم کورٹ کے باہر کڑی سکیورٹی
،تصویر کا کیپشنپاناما کیس سے متعلق سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی اہلکار
جے آئی ٹی پر کیا اعتراضات ہیں؟, وزیراعظم نواز شریف کو جے آئی ٹی پر کیا اعتراضات ہیں؟
وزیراعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی اور اس کی تفتیش پر اعتراضات میں یہ بھی کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا نے برطانیہ میں باہمی قانونی معاونت کے لیے جس فرم کی خدمات حاصل کیں وہ ان کے رشتہ دار اختر راجا کی ہے جو برطانیہ میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ہیں۔
منگل کو پاناما کیس کی سماعت میں جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 'جے آئی ٹی نے برطانیہ کے متعلقہ اداروں کو ہی خط لکھا ہوگا۔ ملکہ کو تو چٹھی نہیں لکھی جا سکتی۔'