سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے شریف خادان کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا رقم کی کسی بھی ترسیل سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے بقول جے آئی ٹی نے فلیٹس کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا۔
اس پر سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ اسمبلی کے فلور پر کیا بات کر رہے ہیں۔
شریف خاندان کے وکیل نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیا وزیرِاعظم اُن اثاثوں کے بھی ذمہ دار ہیں جو ان کے نام پر نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیرِاعظم کا فلیٹس کے ساتھ براہِ تعلق ہوتا تو انھیں ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا تھا۔
انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں فلیٹس سے متعلق تمام امور میاں شریف انجام دے رہے تھے۔