آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاناما کیس: سپریم کورٹ کا مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم

پاناما دستاویزات کے بارے میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سمیت چھ افراد کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔

لائیو کوریج

  1. اب التوا نہیں ہو گا

    چار جنوری کو سپریم کورٹ کے اندر سماعت اور باہر دوبارہ میلا سجا۔ نئے بینچ نے سماعت کے پہلے دن ایک تو یہ فیصلہ سنایا کہ اب مقدمے کو روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے گا اور دوسرا اس نے وزیراعظم کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ قطری شہزادے کے خط کے بارے میں کہا کہ عدالت کو دیکھنا ہوگا کہ کیا سعودی عرب یا دبئی سے قطر بھیجی گئی رقم پر پاکستان کے قوانین لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔

  2. نیا سال نیا بینچ اور نئے وکیل

    یکم جنوری کو پاناما لیکس کا معاملہ نئے سال میں داخل ہوا اور سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کے لیے سینیئر جج آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔ کیس کی ازسرنو سماعت سے ایک دن پہلے شریف خاندان نے اپنے وکلا بھی تبدیل کر دیے۔

  3. پہلا راؤنڈ بغیر کسی نتیجے کے ختم

    تحریک انصاف کے اس جواب پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے دسمبر میں درخواستوں کی سماعت جنوری 2017 کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا جائے گا کیونکہ 31 دسمبر کو اُن کی مدتِ ملازمت مکمل ہو رہی ہے۔

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاناما لیکس کے مقدمات کی اب تک کی سماعت کو 'سنا ہوا مقدمہ' تصور نہ کیا جائے۔

    اس التوا کے بعد تحریک انصاف جس نے ستمبر سے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر رکھا تھا، 14 دسمبر کو پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کر کے ایوان میں آئی اور وزیراعظم کے خلاف نیا محاذ کھول لیا۔

  4. عمران خان کا کمیشن کی تجویز قبول کرنے سے انکار

    اگلے ہی دن وزیرِ اعظم نواز شریف کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کی جانب سے اٹھائے گئِے سوالات کے جوابات دیے جبکہ سماعت میں عدالت نے تحریک انصاف کی استدعا پر تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل پر مشاورت کے لیے وقت دیتے ہوئے سماعت نو دسمبر تک ملتوی کر دی۔

    لیکن عمران خان نے جو 19 نومبر کو اعلان کر چکے تھے کہ عدالت کے ہر فیصلے کا احترام کریں گے، کمیشن کی تشکیل کی تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا۔

    اس موقع پر ان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ اُن کے مؤکل تحقیقاتی کمیشن نہیں چاہتے اور اگر یہ کمیشن بنا تو تحریکِ انصاف اُس کا بائیکاٹ کرے گی۔

  5. آرٹیکل 62/63

    نومبر کی آخری سماعت میں ایک نیا پہلو سامنے آیا جب سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے ريمارکس ميں کہا کہ تحريری جواب اور وزيراعظم کی قومی اسمبلی میں تقاریر میں تضاد ہے جبکہ اگلی سماعت میں عدالت نے وزیراعظم پر الزامات کا تعین کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریروں کے دوران سچ سے کام نہیں لیا لہٰذا وہ آئین کے آرٹیکل 62/63 کی زد میں آسکتے ہیں۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں وضاحت ضروری ہے۔

  6. بارِ ثبوت تحریک انصاف پر نہیں وزیراعظم پر ہے

    سماعت کے دوران تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے یہ بیان بھی دیا کہ پاناما لیکس کے مقدمے میں سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ اسے قبول کریں گے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ عدالت میں ثبوت پیش کرنا ان کا کام نہیں بلکہ ثبوت تو نواز شریف نے پیش کرنے ہیں۔

    اس بیان کو حکومتی حلقوں نے خوب اچھالا اور کہا 'ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کا کام صرف بے بنیاد الزامات لگانا ہے۔'

    اسی وجہ سے ممکنہ طور پر 30 نومبر کی سماعت میں تحریکِ انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کے سامنے مریم نواز اور حسن نواز کے ٹی وی انٹرویوز کا حوالہ پیش کیا تو جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اخباری تراشوں کو لا کر سونے میں کھوٹ کیوں ڈال رہے ہیں؟ کچی دیواروں پر پیرنہ جمائیں۔

  7. تحریک انصاف کی سینکڑوں دستاویزات

    ایک جانب تو وزیراعظم کے خاندان کی جانب سے عدالت میں قطری شیخ کا خط سامنے آیا تو دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے سینکڑوں دستاویزات عدالت میں جمع کرائی گئیں جس پر عدالت نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اخبار کے تراشے شواہد نہیں ہوتے۔

  8. قطری شہزادے کی انٹری

    پندرہ نومبر کو سماعت نے ایک نیا موڑ لیا جس میں وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے قطر کے شاہی خاندان کے رکن حمد جاسم کی جانب سے پانچ نومبر کو تحریر کردہ ایک خط عدالت میں پیش کیا جس کے مطابق شریف خاندان نے 1980 میں الثانی گروپ میں ریئل اسٹیٹ میں جو سرمایہ کاری کی تھی بعد میں اس سے لندن میں چار فلیٹ خریدے گئے تھے۔

    ججوں نے اس پر سوال اٹھانا شروع کر دیے کہ آیا قطر کی یہ شخصیت بطور گواہ عدالت میں پیش ہو سکے گی؟ اس کے علاوہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خط پڑھتے ہی پوچھا کہ 'اس میں تو ساری سنی سنائی باتیں ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس کیا کچھ نہیں؟ آپ کا منی ٹریل کہاں ہے؟'

  9. کیا عدالت سے کچھ چھپایا جا رہا تھا؟

    نومبر میں ہونے والی ابتدائی سماعتوں میں ایک بار جب بینچ نے وزیراعظم کے وکیل سلمان بٹ سے پوچھا کے ان کے موکل کے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں متعلقہ دستاویزات جمع نہیں کرائی گئیں تو انھوں نے کہا کہ مجوزہ کمیشن میں تمام دستاویزات فراہم کرائی جا سکتی ہیں۔ اس پر جسٹس آصف نے ریمارکس میں کہا کہ اگر آپ خدانخواستہ ایسا نہیں کر سکے تو مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے آپ کچھ چھپا رہے ہیں۔

  10. ضوابطِ کار اور کمیشن کا فیصلہ

    تین نومبر کو پاناما لیکس میں سامنے آنے والے الزامات کی باقاعدہ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ تحقیقاتی کمیشن کا کسی جماعت کے ضوابطِ کار پر متفق ہونا ضروری نہیں جبکہ آئندہ سماعت میں یہ واضح کر دیا کہ ان فی الحال ان کی ترجیح وزیر اعظم کے خلاف الزامات کو ہی دیکھنا اور متعلقہ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے یا نہیں۔

  11. ضوابطِ کار کا معاملہ کسی نتیجے پر نہ پہنچا

    ضوابطِ کار کا معاملہ کسی نتیجے پر نہ پہنچنے پر حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف سڑکوں پر نکل آئی اور دو نومبر کو اسلام آباد کو بند کرنے کا کال سے پہلے پکڑ دھکڑ اور پرتشدد جھڑپوں کے دوران یکم نومبر کو سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے پاناما لیکس کے تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے پر اتفاق کر لیا۔

  12. پاناما لیکس میں وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام

    پاکستان میں تقریباً ایک برس قبل پاناما لیکس میں وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام سامنے آئے اور اس وقت سے یہ معاملہ ملک کے سیاسی منظر نامے میں چھایا رہا۔

    پاناما لیکس پر حزب اختلاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ سامنے آیا لیکن انھوں نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔  

    تاہم سپریم کورٹ نے اس وقت اس سے معذرت کر لی اور بعد میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحقیقاتی کمیشن کے ضوابطِ کار کی تشکیل کے لیے بھی طویل نشستیں ہوئیں لیکن کوئی حل نہ نکل سکا۔